خصوصیسیاست

پانچواں اور آخری پڑاؤ

ویسے مودی جی تو چلے جائیں گے لیکن ان کی ڈرامہ بازی، کذب گوئی، زباندانی کا علم  اور تاریخ دانی  میں مہارت ہندوستانی سیاست  کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور اس کے لیے وہ ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔

ڈاکٹر سلیم خان

لمبی دوڑ کے کھلاڑی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ابتداء میں اپنی ساری  توانائی کھپا دیتے ہیں اور آخر میں تھک کر ہانپنے لگتے ہیں اور دوسرے شروعات میں دھیمی رفتار سے دوڑتے ہیں تاکہ   اختتامی اور فیصلہ کن مرحلے کے لیے اپنی  محفوظ شدہ توانائی کو بروئے کار لا سکیں۔ ہندوستانی سیاست کی ابجد سے واقف طالب علم بھی جانتا ہے کہ مودی جی کس طرح  کے کھلاڑی ہیں اور راہل گاندھی  کا شمار کون سی قسم میں ہوتا ہے؟   ہندوستان کی سیاست سے نابلد شخص بھی جانتا ہے کہ کس طرح کے کھلاڑی کامیاب ہوتے ہیں اور کن کے مقدر میں شکست فاش لکھی ہوتی ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں تو راہل گاندھی کی مقبولت ابھی  سےنریندر مودی کے برابر ہوچکی ہے جبکہ ایک سال باقی ہے۔ قومی سیاست کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے دیکھنا یہ ہے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

اس موقع پر ٹائمز آف انڈیا نے ایک کھلا جائزہ لیا جس میں ہر کوئی حصہ لے سکتا تھا اس لیے بھکتوں کی جانب سے اس کے نتائج کو متاثر کرنے کی  بھر پورکوشش ہوئی اس کے باوجود صرف ۵۵ فیصد نے کہا کہ وہ این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ۴۵ فیصد اس کے پھر سے اقتدار آنے کے خلاف ہیں۔ سی ایس ڈی ایس نے اپنے جائزے میں  یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگریس بی جے پی سے آگے چل رہی ہے۔ جہاں تک راجستھان کا سوال ہے اس میں کانگریس بی جے پی سے ۵ فیصد اور مدھیہ پردیش میں تو ۱۵ فیصد آگے چل رہی ہے۔ ویسے کرناٹک میں بھی کانگریس کو بی جے پی سے ۲ فیصد زیادہ ووٹ ملے۔یہ نتائج اگر کانگریس کے حق میں آگئے تو ۵۵ کی جگہ ۴۵ اور ۴۵ کے مقام پر ۵۵ آئے گا۔

بی جے پی کے ووٹ میں گراوٹ اتر پردیش کے اندر بھی دیکھی گئی ہے۔ اس کا ثبوت گورکھپور اور پھولپور کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو ملے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور راجستھان  سے کل ۱۳۴ ارکان پارلیمان منتخب ہوتے ہیں۔ ۲۰۱۴؁ کے اندر ان متخبہ ارکان میں سے  ۱۲۵ کا تعلق بی جے پی سے تھا۔  اب اگر ان صوبوں میں بی جے پی پچھڑتی ہے اور حزب اختلاف متحد ہوجاتا ہے تو سال بھر بعدکمل کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان کے اندر کانگریس کی صوبائی حکومتیں نہ صرف عوام  کے رحجان کو متاثر کریں گی بلکہ اسے  انتظامیہ کا تعاون بھی حاصل ہوجائے گا جس  کا استعمال فی الحال بی جے پی دل کھول کر رہی ہے۔ ویسے بھی  ۲۰۱۴؁ کے بعد منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات کے نتائج  شاہد ہیں کہ کانگریس کے ووٹ میں ۱۱ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

ٹائمز کے عوامی سروے میں مودی بھکتوں نے  نریندر مودی کی ذاتی مقبولیت کے اعدادو شمار کو آسمان پر پہنچا دیا۔  اس کے برعکس  سی ایس ڈی ایس اور لوک نیتی نے جو جائزہ لیا اس کے مطابق راہل اور مودی کی مقبولت برابر  یعنی ۴۳ فیصد پر ہے۔ اس سے قبل جو ۲۵ فیصد لوگ مودی جی کو ناپسند کرتے تھے وہ اب انہیں پسند کرنے لگے ہیں لیکن جو ۲۹ فیصد لوگ راہل گاندھی کو پسند نہیں کرتے تھے اب ان کے مداح بن چکے ہیں اس طرح اپنے مخالفین کا دل جیتنے میں راہل گاندھی نے مودی جی کو پچھاڑ دیا ہے۔ مودی جی کو اصل خطرہ ان کے بھکتوں سے ہے  جس میں ۳۵ فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ یہ عدد راہل گاندھی کے لیے صرف ۲۲ فیصد ہے۔ یہ اعدادو شمار یقیناً ہوا کے رخ کی تبدیلی کا اشارہ کرتے ہیں۔

سی ایس ڈی ایس اور لوک نیتی کے سروے کے مطابق ایک سال قبل  مئی ۲۰۱۷    ؁ میں این ڈی اے کے حق میں  ۴۵ فیصد رحجان تھا جبکہ یوپی اے کی طرف صرف ۲۷ فیصد لوگ مائل تھے۔ یہ جائزہ اتر پردیش انتخاب کے بعد کا تھا جس میں بی جے پی نے زبردست کامیابی درج کرائی   تھی لیکن جنوری ۲۰۱۸؁ میں یہ فرق کم ہوگیا این ڈی اے گھٹ کر ۴۰ فیصد پر اور یو پی اے بڑھ کر ۳۰ فیصد پر پہنچ گئی۔ یہ سروے گجرات الیکشن کے بعد کیا گیا جس میں  مودی جی کو پسینہ چھوٹ گیا۔ مزید پانچ ماہ بعد یعنی کرناٹک انتخاب سے قبل  این ڈی اے ۳ فیصد گھٹ کر ۳۷ پر آگیا اور یو پی اے ۳۱ فیصد تک جاپہنچی گویا ایک سال میں ان دونوں کا فرق ۱۸ فیصد سے گھٹ کر صرف ۶ فیصد رہ گیا ہے کوئی بعد نہیں کہ ۶ ماہ بعد دونوں برابر ہوجائیں اور انتخاب آتے آتے یوپی اے ۳۷ پر جاپہنچے اور این ڈی اے ۳۱ پر آجائے۔ یہ ہندوستانی سیاست ہے اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

اس سال کے شروعات میں ۳۴فیصد رائے دہندگان بی جے پی کو ووٹ دینا چاہتے تھے لیکن اب ان میں سے ۲ فیصد نہیں دینا چاہتے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ سال تک یہ تناسب  کہاں پہنچے گا یہ کہنا بہت آسان  ہے ویسے مودی جی نے چار سال پورے کرلیے یہی بہت ہے۔ وہ مرتے پڑتے ایک اور سال نکا ل لیں گے اس لیے کہ  ہندوستان کا میڈیا  بک چکا ہے اور عوام بے حس ہیں ورنہ تو ڈھائی سال بعد نوٹ بندی کے نتیجے میں ان کی چھٹی ہوجانی چاہیے تھی۔ اکتوبر ۲۰۱۶ ؁ کے بعد سے مودی جی کی مدت کار دراصل بونس ہے۔ ویسے مودی جی تو چلے جائیں گے لیکن ان کی ڈرامہ بازی، کذب گوئی، زباندانی کا علم  اور تاریخ دانی  میں مہارت ہندوستانی سیاست  کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور اس کے لیے وہ ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close