خصوصینظریات

پوسٹ ماڈرنزم: روایت شکنی یا خودکش بمباری

ادریس آزاد

’’کلاسیکی‘‘ کے متضاد’’ماڈرن‘‘ ہے۔ دَور ہمیشہ دو ہی ہوتے ہیں۔ ایک کلاسیکی اور دوسرا ماڈرن۔ یہ جو ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ ہے، یہ دور نہیں ہے، یہ ایک تحریک ہے۔اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ خود بھی کسی دَور کے حساب سے ماڈرن، تو کسی اور دَور کے حساب سے کلاسیکی تحریک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرنزم کے بعد ’’پوسٹ پوسٹ ماڈرنزم‘‘، ’’پوسٹ میلینیم ازم‘‘، ’’ڈگی ماڈرنزم‘‘ جیسی مزید ماڈرن تحریکیں متعارف ہوچکی ہیں۔ فلہذا ہمیں ایک ضروری کام یہ کرنا ہے کہ پہلے تو تحریکوں اور ادوار کو اپنے ذہنوں میں الگ الگ جگہ دینی ہے۔ کلاسیکی ہمیشہ کلاسیکی رہیگا اور ماڈرن ہمیشہ ماڈرن رہیگا۔ پوسٹ ماڈرنزم  کی تحریک، تاریخ میں  اب چونکہ بہت پیچھے رہ گئی ہے اِس لیے خود کلاسیکی بن چکی ہے اور اس کے بعد والی تحریک یعنی’’پوسٹ پوسٹ ماڈرنزم‘‘  اُس کے لحاذ سے ماڈرن بن چکی ہے۔

لیکن اس سے پہلے کہ ’’ان تحریکوں میں ہوتا کیا ہے؟‘‘ کی تفصیل جانی جائے۔ کلاسیکی اور ماڈرن کیا ہوتاہے، اس کی تفصیل جاننا ضروری ہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کلاسیکی اور ماڈرن کا فرق واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً عمارتوں کی تعمیر یا دکان سجانے کے کام میں، یا ٹِیچنگ (Teaching)  یا  کھیل کے میدان میں، مصوری،  اداکاری، موسیقی، رقص، شاعری وغیرہ میں تو بہت ہی لازمی طور پر،  اِسی طرح لباس ، زبان اور اندازِ گفتگو تک ماڈرن اورکلاسیکی ہوتے ہیں۔ کلاسیکی اور ماڈرن کا فرق اصل میں دونسلوں کا فرق ہوتاہے۔ پرانی نسل کی ہرشئے  قائدہ کی رُو سےکلاسیکی کہلاتی ہے اور نئی نسل کی ہرشئے ماڈرن کہلاتی ہے۔ یہ بھی آفاقی اصول کی طرح ہی سچ ہے کہ نئی نسل، ہمیشہ پرانی نسل کی کسی نہ کسی حد تک باغی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی بغاوت کلاسیکی فنون کو ماڈرن فنون سے جُدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور اِسی بغاوت کی بنا پر جدید فنون معرضِ وجود میں آتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کام ہے بہت نازک۔ نازک اس لیے کہ دونوں نسلوں کے درمیان موجود کشاکش کے دوران ایک خاص قسم کے توازن کی  ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے بالفاظ ِ دگر کلاسیکی اور  ماڈرن کے مابین ایک خاص قسم کے توازن کی ناگزیر ضرورت موجود رہتی ہے۔ بصورت ِ دگر نسل ہی باقی نہیں رہتی۔ یہ توازن  کیسے قائم رہ سکتاہے؟

یہ توازن قائم رکھنے کے لیے ہردور میں موجود  بااثر افرادسب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر بااثر افراد، جو کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے ہوسکتے ہیں، دیانتدار اور غیرجانبدار ہیں تو توازن قائم رہتاہے اور اگر وہ دونوں میں سے کسی ایک نسل کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں تو  توازن بگڑجاتاہے اور عہد ہی سرے سے ختم ہوجاتاہے۔ تب ایک نیا عہد شروع ہوتاہے جو بالکل ہی مختلف ہوتاہے۔ کلاسیکی اور ماڈرن کا یہ فرق اور توازن کا یہ قدرتی عمل جاری رہے تو اقوام نشوونما پاتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ گزشتہ عشروں میں جس ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ کا خصوصاً فنونِ لطیفہ میں شور رہا ہے یہ انسانوں کی اُس ’’نئی نسل‘‘ کا کارنامہ ہے جس زمانے کے بااثر افراد دیانتدار نہ تھے،  جانبدار تھے اور اُن کا زیادہ جھکاؤ اُس عہد کی نئی نسل کی طرف تھا۔ روایت کا بُت توڑنے کی بجائے انہوں نے روایت پر خودکش حملہ کردیا اور نتیجہ انسان کی حقیقی متاع کے خاتمے کی صورت برآمدہوا۔ متاعِ غرورکے خاتمے کی صورت۔ وہ متاعِ غرور جو اس کے ایک ایک کردار سے عیاں تھی بایں ہمہ اس کے لٹریچر، اس کے فنون لطیفہ، آرٹ اور کلا اور ہرشئے سے ہمہ وقت جھلکتی تھی۔ جبکہ ان کے دیانتدار نہ ہونے کے پیچھے پھر خود ان کی نئی خودکش فکر کھڑی تھی۔ ہم تھوڑا آگے چل کر اس کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔

روایت کی بغاوت تو ہزاروں سال کا وظیفہ ہے۔ پوسٹ ماڈرنزم فقط روایت کی بغاوت نہیں تھی۔ پوسٹ ماڈرنزم کچھ اور تھی۔

دیکھیں! کلاسیکی کیا ہے؟ مثلاً ہم اداکاری کے میدان کو لیتے ہیں کیونکہ فنونِ لطیفہ میں ڈرامہ یا ناٹک  اُن چیزوں میں سے ہے جو سب سے قدیم ہیں۔ یونان میں فلسفیوں  کی آمد سے بھی  صدیوں پہلے ڈرامہ یعنی ناٹک موجود تھا۔ ہندوستان میں تو غالباً یونان سے بھی بہت پہلے موجود تھا۔ چنانچہ اگر ہم اداکاری کو لیں اور ٹانک کی ساری تاریخ پر نظردوڑائیں تو ہم ہر صدی میں ’’اداکاری ‘‘ کے فن میں تبدیلی ہوتی ہوئی دیکھیں گے۔ یہی تبدیلی کلاسیکی سے ماڈرن کی طرف سفر کرتی ہوئی تبدیلی ہے جو دراصل نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان موجود کشاکش کی وجہ سے رُونما ہوتی ہے۔ چنانچہ جب ہم ایک ایک صدی کا جائزہ لیں گے تو ہمیں نظر آئے گاکہ ان تمام صدیوں میں اگرچہ ادکاری کچھ سے کچھ ہوگئی اور یکسر ہی تبدیل ہوکر رہ گئی لیکن ان تمام صدیوں میں ہمیشہ ایک شئے  مشترک رہی اور وہ ہے، اداکاری کا اداکاری ہونا۔ اگر ادکاری اداکاری نہ رہے گی تو ہم اسے اداکاری کا فن نہیں کہہ سکیں گے۔

ایسی صورت میں  ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ میدان میں اُتر آتی ہے اور ہم سے سوال کرتی ہے کہ، ’’اداکاری کی تعریف کریں‘‘۔ ہم جواب میں کہیں گے،

’’اداکاری سے مُراد ہے، کوئی ایسا کردار بن کرخود کو پیش کرنا جو آپ کا اپنا کردار نہ ہو‘‘

تب   ہم سے پوچھا جاسکتاہے،

’’کوئی شخص آپ کے دروازے پر آئے اور خود کو کچھ اور ظاہر کرتے ہوئے آپ کودھوکا دے جائے تو کیا وہ اداکاری کررہاہوگا؟‘‘

ہم جواب میں کہیں گے۔

’’نہیں وہ تو ’نوسرباز‘ کہلائےگا لیکن اُس نے جو کام کیا یہ وہی کام ہے جو اداکار کرتے ہیں۔ تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے کہے گی، ’’تو گویا نوسرباز اور اداکار ایک جیسا کام کرتے ہیں؟‘‘۔ تب ہم جواب دیں گے، ’’نہیں نوسرباز لوگوں کو نقصان پہچانے کے لیے کسی اور کردار کا رُوپ دھار لیتےہیں جبکہ اداکار  اپنے ناظرین کی   تفریح ِ طبع کا سامان کرتے ہیں‘‘۔ یوں ہم دو مختلف تعریفوں کو ملا کر ایک نئی تعریف کی تخلیق پر مجبور ہوجائیں گے۔

’’اداکار ی وہ فن ہے جس میں اداکار کوئی ایسا کردار بن کر خود کو پیش کرتاہے جو اُس کا اپنا نہیں ہوتا اور اداکار لازمی طور پر اپنے ناظرین کی تفریح ِ طبع کا سامان کرتاہے‘‘

تب  ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،

’’اِس کا مطلب ہوا کہ اگر کوئی  کمرے میں بالکل اکیلا ہے اور جان ریمبو کی نقل اُتاررہاہے تو وہ اداکاری نہیں کررہا؟‘‘

تب ہم جواب میں کہیں گے،

’’نہیں وہ ادکاری کی مشق کررہاہے‘‘

ڈی کنسٹرکشن ہم سے پوچھے گی،

’’گویا مشق کے دوران کی جانے والی اداکاری ، اداکاری کہلانے کی حقدار نہیں؟‘‘

تب ہم کہیں گے،

’’یقیناً ! کیونکہ جب تک وہ اداکاری کی مشق ہے وہ اداکاری نہیں ہے، بلکہ ادکاری کی مشق ہے۔ اداکاری الگ اصطلاح ہے اور اداکاری کی مشق الگ اصطلاح ہے‘‘

تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،

’’فرض کریں کہ اس شخص  کے علم میں لائے بغیر کسی نے اس کی مشق کی ویڈیو بنالی ہے۔ اور ویڈیو لاکھوں لوگوں کے لیے تفریحِ طبع کا سامان لائی ہے۔ کیا ایسی صورت میں اس کی مشق، یکایک اصل اداکاری میں تبدیل ہوجائے گی؟‘‘

تب ہم کہیں گے،

’’ایسی صورت میں اس کی مشق  یقیناً اصل اداکاری میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ اب اُسے ناظرین میسر آگئے ہیں‘‘

ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،

’’عمل تو ایک ہی تھا۔ ایک وقت میں اس کا نام ’’اداکاری کی مشق‘‘ تھا اور دوسرے وقت میں اس کا نام ’’اصل ادکاری‘‘ تھا۔ کیا اس طرح ادکاری کی تعریف پر حرف نہیں آتا؟‘‘

تب ہم کہیں گے،

’’اداکاری وہ فن ہے جس میں اداکار کوئی ایسا کردار بن کر خود کو پیش کرتاہے جو اس کا اپنا نہ ہو اور جس میں کسی ذی رُوح کو دھوکا نہ دیا جائے‘‘

ہم نے اب اداکاری کی تعریف میں سے ، ’’لوگوں کی تفریحِ طبع‘‘ کا عنصر نکال دیا۔

تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی ،

’’ تو کیا اگر کوئی ڈرامہ نگار کسی ادکار کے لیے ایسا کردار لکھے جو اُس کا اپنا ہو تو ہم اس کی اداکاری کو اداکاری نہیں کہہ سکتے؟‘‘

تب ہم کہیں گے،

’’کوئی ایسا کردار جو اس کا اپنا ہو بطور اداکاری کے کیسے ممکن ہے؟ اپنا کردار تو وہی ہے جو لمحہ ٔ موجود میں کسی شخص پر طاری ہے۔ اس کے ماضی کا کردار تو اس کا نہیں۔ وہ تو اس کے ماضی کا کردار ہے‘‘

تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوا ل کرے گی،

’’تو کیا کسی بھی انسان کا ماضی اس کے اپنے کردار کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا؟‘‘

’’کیا جاسکتاہےلیکن وہ کردار بطور کردار ، ایک  بالکل الگ کردار ہوگا۔ اور جو اداکار اُس کردار کو پیش کررہاہے وہ حال میں موجود ایک نیا کردار ہے‘‘

تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،

’’تو کیا اِس سے اداکاری کی تعریف پر حرف نہیں آتا؟ کیونکہ جو اداکار کردار کررہاہے یہ اُس کے اپنے ماضی کا کردار ہے جبکہ اداکاری کی تعریف بتارہی ہے کہ وہ کردار اُس کا اپنا نہ ہو؟‘‘

تب ہم اداکاری کی تعریف کو ایک بار پھر تشکیل دیں گے،

’’اداکاری وہ فن ہے جس میں کوئی شخص   اپنے لمحۂ موجود میں  کوئی ایسا کردار بن کر خود کوپیش کرے جو لمحہ ٔ موجود میں اُس کا اپنا کردار نہیں ہے‘‘

ہم اگر غور کریں تو ڈی کنسٹرکشن جس قدر بھی معنی کو تباہ کرتی چلے جائے گی فی الاصل وہ خودبخود ایک نیا معنی تشکیل بھی دیتی چلی جائے گی۔غرض  ڈی کنسٹرکشن اور ری کنسٹرکشن کا یہ عمل مسلسل اور متواتر جاری رہے تو اجزائے کائنات کے لیے ’’تقریباً مطلق‘‘ (Approximately Absolute) معنی تک پہنچا جاسکتاہے۔

خیر تو جب اداکاری کی ایک تعریف ’’تقریباً مطلق‘‘ تعریف کے طور پر تسلیم کرلی جائے گی تو ہم اُس تعریف کی روشنی مین اداکاری کے فن اور اس کی تاریخ کا از سرِ نو جائزہ لیں گے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے ناٹک کی تاریخ میں اداکاری کے فن کا طرح طرح سے مظاہرہ کیا لیکن  وہ ہمیشہ اداکاری کی تعریف کے ایک مخصوص دائرے میں رہا۔ اگر وہ اس دائرے  سے نکلا تو وہ  کچھ  اور کہلایا اداکار نہ کہلایا۔ تب ہم واپس آتے ہیں اور کلاسیکی اور ماڈرن کے فرق کی روشنی میں آخری عہد کی اداکاری پر غور کرتے ہیں،

ہم دیکھتےہیں کہ ادکاری ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ سے پہلے پہلے کے تمام ادوار تک    اپنی نئی نئی جہات کا مظاہرہ کرنے کے لیے پرانی نسل کے ساتھ بغاوت تو ضرور کرتی آئی ہے لیکن  پوسٹ ماڈرنزم کی تحریک نے جس شئے کو بغاوت کے نام سے بیچا وہ بغاوت کم اور غداری یا اُسی فن کی خودکُشی زیادہ ہے۔ پوسٹ ماڈرن عہد تک ہر کلاسیکی کے مقابلے میں ایک ماڈرن موجود تھا جو کلاسیکی کے اُستوار کیے ہوئے توازن کو قائم رکھتا تھا گویا نئی نسل بھی ایک حد تک روایت کی پاسدار بن کر رہتی ہے تب ہی معاشرہ بچ پاتاہے۔ لیکن پوسٹ ماڈرن نے کہا کہ اس  توازن کی ہی سرے سے ضرورت نہیں ہے۔

کلاسیکی کے استوار کیے ہوئے کسی فن کو نئے نئے طریقوں اور ایسے طریقوں سے جو روایت شکن ہوں، بدلنا اور مسلسل بدلتے رہنا مزید اُستواری اور تعمیر ہی کی ایک قسم ہے لیکن اُس تعمیر شدہ اور استوارشدہ کو سرے سے گِرا دینا  بالکل اور طرح کی چیز ہے۔ پوسٹ ماڈرن تخلیقات کی مثال خودکش بمباروں جیسی ہے جو خود اپنی جان لے لیتے ہیں۔ پوسٹ ماڈرن تخلیقات خود اپنے ہی فن کی جان لے لیتی ہیں۔ پوسٹ ماڈرن فنون اپنی ہی جان لے لینے کی حد تک بغاوت کی رسم کا اجرأ چاہتے ہیں۔ ایک ہوتاہے روایت کو توڑنا اور ایک ہوتاہے روایت پر خودکش حملہ کرنا۔ پوسٹ ماڈرنزم نے روایت پر خود کش حملہ کیا ہے۔

اداکاری کی بات ہورہی ہے تو مثال بھی ادکاری کی ہی لیتے ہیں تاکہ بات مزید اچھی طرح سے سمجھ آجائے۔ جن لوگوں نے ’’ایڈم سینڈلر‘‘ یا ’’جِم کیری‘‘ کی فلمیں دیکھ رکھی  ہیں اُن کے سامنے پوسٹ ماڈرن اداکاری کی نہایت قیمتی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً جِم کیری کو لیتےہیں۔ اب ذرا غور کیجے گا! کلاسیکی سے ماڈرن کس طرح پیدا ہوتاہے اور  ان کے مقابلے میں پوسٹ ماڈرن کس طرح جنم لیتاہے۔

فرض کریں ایک کردار ہے جو شیکسپئر کے دور سے ہی ڈراموں میں بار بار لکھا جارہاہے۔ فرض کریں یہ ایک بادشاہ کا کردار ہے۔ فرض کریں یہ مزاحیہ کردار بھی نہیں ہے اور سنجیدہ کردار ہے۔ تو ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کوئی بھی اداکار کسی بادشاہ کا کردار مجموعی طور پر کس طرح ادا کریگا۔ ہم کسی ایک اداکار کے کردار کو کسی دوسرے سے اچھا، جدید اوربہترین تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں نے بادشاہ کا کردار نہیں کیا۔ چونکہ ہم پہلے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بادشاہ کا کردار کیسے ہوگا؟ چنانچہ یہ کردار  اپنی حرکات و سکنات کے اعتبار سے ’’پری ڈِکٹِو‘‘(Predictive) ہوگا اور اس کا یہی پری ڈِکٹِو ہونا ہی ثابت کررہا ہے کہ یہ پوسٹ ماڈرنزم کے دائرے میں نہیں آتا۔ اب یہی کردار آپ جِم کیری کو دے دیں۔ جم کیری کیا کرے گا؟ وہ بادشاہ کا لباس پہن کر کبھی ناک میں اُنگلی مارے گا تو کبھی  بار بار زبان باہر نکال کر اپنے وزیروں اور مشیروں کو چِڑانے لگے گا۔ وہ کبھی کسی درباری کی ناک پر اپنی زبان سے چاٹنے لگے گا اور کبھی کسی قیدی کی زنجیر اپنی گردن میں پھنسا بیٹھے گا۔ یاد رہے کہ جِم کیری اُس وقت یہ کردار بطور مزاحیہ کردار کے نہ کررہاہوگا۔ اس کی کتنی ہی سنجیدہ فلموں کو اس بات کے ثبوت کے لیے دیکھا جاسکتاہے۔ خیر! تو ہم کیا کہیں گے؟ ہمیں اُصولاً یہ کہنا چاہیے کہ جِم کیری نے سب کچھ کیا لیکن بادشاہ کا کردار نہیں کیا۔ کیونکہ بادشاہ کا کردار بادشاہ کا کردار ہے۔ ایسا کوئی بادشاہ کبھی نہیں گزرا جیسا جِم کیری نے کرکے دکھایا ۔ لیکن نقاد کیالکھے گا؟ نقاد لکھے گا کہ جِم کیری پوسٹ ماڈرن عہد کا سب سے بڑا ادکار ہے جس نے بغاوت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور روایت کو اُڑا کر رکھ دیا۔ کلیشے کا خاتمہ کردیا اور بالکل ایک نئی طرز کا بادشاہ بن کر دکھایا۔

اب ذرا آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ ’’ایڈم سلینڈر‘‘ یا ’’جِم کیری‘‘  کوئی کردار ہی نہیں کررہے۔ وہ صرف خودکش بمبار ہیں۔ جو کلیشے اور روایت پسندی کے خلاف جنگ کا نعرہ مار کر دراصل یہ جنگ ، فن کے انہدام کی صورت میں انجام دینا چاہتے ہیں۔

یہ اتنی لمبی مثال میں نے اداکاری کے فن سے دی۔ ایسی لاکھوں مثال ہر فن سے دی جاسکتی ہیں۔ چونکہ ہمارا واسطہ زیادہ تر لٹریچر کے ساتھ رہتاہے اس لیے ہم لٹریچر سے بھی ایک مثال دیکھ لیتےہیں،

میں کسی اور کے شعر کا کباڑا کرنے کی ہمّت نہیں رکھتا۔ اس لیے میں اس مثال میں اپنے ہی شعر کے ساتھ خود کش کارروائی کرکے یہ دکھانا چاہونگا کہ ماڈرن اور پوسٹ ماڈرن کا فرق کیا ہے۔

فرض کریں کہ میرا ایک شعر ہے اور وہ کلاسیکی روایت میں ہے،

مری سُونی پڑی تھی دِل کی بستی
کہ دریا تھا مگر سُوکھا ہوا تھا

اب فرض کریں میں اسے ماڈرن روایت میں دوبارہ کہنے کی کوشش کی ہے،

مری سُونی پڑی تھی دِل کی بستی
کہ کوئی ہاکڑہ سُوکھا ہوا تھا

یاد رہے کہ ہاکڑہ ایک دریا کا نام ہے جو ’’سرائیکی تھر‘‘  میں واقع ہے۔ یہ ایک سُوکھاہوا دریا ہے۔ ریت کی بناوٹ سے دریا کا نقشہ کہیں کہیں واضح ہوتاہے اور ایک دو جگہ ایسے بُرج بنے ہوئے ہیں جیسے دریاؤں کے پُلوں پر محصول چونگی کے لیے بنے ہوتے ہیں۔

خیر! تو میں نے اپنے تئیں ماڈرن روایت قائم کی۔ یعنی کلاسیکی روایت جو پہلے سے اُستوار تھی اور خوب اُستوار تھی، اسے کماحقہُ داد دیتے ہوئے بغاوت کی اور دریا کی بجائے صرف ’’ہاکٹرہ‘‘ کا لفظ لگایا۔ اب ہم ایک پوسٹ ماڈرن شعر کہتے ہیں،

مرا سُوجا ہوا تھا چہرۂ دِل
کہ دریا پیڑ بن کر دوڑتاتھا

اول تو پوسٹ ماڈرن شاعری بحر اور زمین کی ہی اجازت نہ دے گی۔ یہ بھی کلیشے ہے۔ بہرحال پہلے مصرع میں دل کا چہرہ سُوجا ہوا ہے اور دوسرے مصرعے میں دریا ا ور پیڑ کے تصور ات کو توڑ کر نئے تصورات قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ دریا زمین پر بہتاہے اور پیڑ آسمان کی طرف اُٹھتاہے۔ لیکن یہ چونکہ روایت ہے اور روایت شکنی کرنا بھی مقصود ہے اور پوسٹ ماڈرن بھی رہنا ہے تو ایک ہی حل ہے کہ ہم تصورات کو ہی تباہ کردیں۔

نوم چومسکی کے ’’جنریٹوزم‘‘ نے اسی قباحت کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم تصورات کو تباہ کرنے کی بجائے اُن کی نئی تشکیل کرسکتے ہیں۔ شاعرانہ زبان میں کہا جائے تو دریا کو پیڑ کی طرح سے آسمان کی طرف اُٹھتاہوا دیکھنا ایک نئی امیجری کہلائے گی لیکن کیا دریا کا تصور تباہ نہیں ہوجائے گا؟ لیکن نوم چومسکی کہے گا کہ اس تصور کی  نئی تشکیل کی  جاسکتی تھی۔ ایسی کہ جس میں یکسانیت کا نظم ، تخلیقیت، انسلاک، تکرار اور قابلیت جیسے عناصر ضرور پائے جاتے ہوں۔کچھ اس طرح کہ،

مرا سُوکھا ہوا تھا چہرۂ دِل
کہ دریا خشک پتہ بن گیا تھا

یہ کوئی اچھی مثالیں نہیں ہیں۔ یہ بری مثالیں ہیں۔ کیونکہ میں خود گھڑ رہاہوں۔ یقیناً  پڑھنے والے اس سے اچھی مثالیں خود سے بنا کر دیکھیں گے۔ جہاں تک پوسٹ ماڈرنزم کے یہ طعنے ہیں کہ فلاں خیال، یا فلاں شئے یا فلاں لفظ ’’کلیشے‘‘ ہے اور اس لیے بُرا ہے تو یہ بات تقریباً بجا ہے۔ شمع اور پروانے کے روایتی استعمال کو جب تک نہ توڑا جائے گا  یہ کلیشے ہی رہیگا۔ شمع کی جگہ بلب لانے سے کلیشے ختم نہ ہوگا۔ شمع ہی کو کچھ ایسے رنگ میں بیان کرنا ہوگا کہ کلیشے ٹوٹ جائے۔ کلیشے توڑنا ہی تو وہی بغاوت ہے جس کا میں مسلسل اِس مضمون میں ذکر کررہاہوں کہ نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان ایک نتازعہ سا رہتاہے اور نئی نسل ہمیشہ تھوڑی سی باغی ہوتی ہے اور یہ بغاوت ایک خاص تناسب اور توازن سے رہے تو معاشرہ قائم رہتاہے۔ اس تناسب اور توازن کی ذمہ داری ہمیشہ معاشرے میں موجود بااثر افراد پر عائد ہوتی ہے اور چونکہ گزشتہ صدی میں پوسٹ ماڈرنزم نے اپنا عروج دیکھا ہے سو یہی وہ صدی ہے جس میں بغاوت کی بجائے خودکشی کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس دور کی نئی نسل  خود کش نسل تھی۔ البتہ’’ پوسٹ پوسٹ ماڈرن‘‘ فکر نے اس تباہی کا کسی حدتک راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔

بااثر افراد کس طرح اس توازن کی دیکھ بھال کرتے ہیں؟ اس کا تفصیلی تذکرہ میں اس سے پچھلے مضمون، ’’ارتقأ کا اگلا قدم انسان کا اخلاقی طور پر بہترہوجاناہوگا‘‘  میں کرچکاہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close