خصوصیسیاست

چائے سے اپواس تک پاکھنڈ ہی پاکھنڈ ؟

ڈاکٹر سلیم خان

پانچ سال قبل چائے پر چرچا کے دوران پتہ چلا کہ مودی جی کسی زمانے میں چائے بیچا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچپن میں سنگھ پریوار کو ایسی  کڑک چائے پلائی کہ اس نے انہیں گجرات کا وزیراعلیٰ بنا دیا۔ عوام نے سوچا  کہ اگر ہم جیسا  ایک چائے والا وزیراعلیٰ بن سکتا ہے تو وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتا؟  اس کا وزیراعظم بن جانا گویا ہمارا پردھامن منتری بن جانا ہےاور یہ شخص  اگر وزیراعظم بن جائے تو کم ازکم  ہماراچائے بسکٹ پر  گزارہ ہوجائے گا۔ اسی  امید کی کرن نے ان کو  وزیراعظم بنا دیا۔ مودی جی کو  بھی جب اندازہ ہوگیا کہ اب تو لوگ وزیراعظم بناہی دیں گے اور سوا سو کروڈ لوگوں  کو دن میں  کم از کم دو کے حساب سے پانچ سالوں میں  ۴۵۶  ہزارکروڈ چائے پلانا بہت مشکل کام ہے تو انہوں نے پینترا بدل کر اعلان فرما دیا   ’ نہ کھاوں  کھانے دوں گا‘۔ لوگ سمجھے مودی جی دل لگی کررہے ہیں۔ وہ  اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے کہ یہ تو رشوت کھانے  کی بات ہورہی ہے ۔ بھولے بھالے لوگ  نہیں جانتے تھے کہ مودی جی  وقتاً فوقتاً مختلف طرح کے اپواس (روزے) رکھتے ہیں۔

مودی جی کےچند اپواس بہت مشہور ہیں مثلاً؁۲۰۱۱ میں انہوں نے اپنے صوبہ  گجرات میں امن، سلامتی اور بھائی چارہ کے لیے سدبھاونا اپواس رکھا اور ڈھائی دن تک کھانا پینا ترک کردیا۔ یہ عجیب معاملہ تھا کہ جس شخص نے فسادات کروا کر ریاست کے امن و سلامتی کی دھجیاں اڑا دیں اور نفرت و عناد کے شعلوں کو اس قدر ہوا دی کہ دوستی و بھائی چارہ اس میں جل کر خاک  ہوگیا وہی اس کے قیام کی خاطر اپواس پر بیٹھ گیا۔ ارے بھائی اگر یہ چیز اتنی ہی ضروری تھی تو اس کا جنازہ کیوں اٹھایا تھا ؟ اور اگر ضروری نہیں ہے تو اس کے لیے یہ تماشہ کیوں کیا جارہا ہے؟ عوام تو دور   بڑے دانشور اس معمہ  کو  حل نہیں کر سکے لیکن مودی جی جانتے تھے  کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر جمے رہنے کے لیے فسادات لازمی ہیں اور وزیراعظم کا امیدوار بننے کی خاطر سدبھاونا (خیر سگالی ) ضروری ہے۔ انہوں نے  حسب ضرورت دونوں کا بڑی مہارت سے  استعمال کیا  اور وزیراعظم بن گئے۔

وزیراعظم بنتے ہی دو لوگوں نے مودی جی کو  مبارکباد کے ساتھ اپنے ملک میں آنے کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک تو نواز شریف تھے جن سے ملنے  کے لیے مودی جی بن بلائے پہنچ گئے۔ نہ جانے ان کو کیسے پتہ چل گیا کہ نواز شریف تھوڑے  دنوں کے مہمان ہیں اس  لیے جلد ہی ان سے مل لیا جائے۔ امریکہ کے صدر اوبامہ دوسرے سربراہِ مملکت  تھے جنہوں نے دعوت  تو دی لیکن قصر ابیض کے ترجمان کو  اعلان کرنا پڑا  کہ ان  پرلگی  ۱۲ سال پرانی پابندی اب  ختم کردی گئی ہے اور انہیں ویزہ مل سکتا ہے۔ اس  کے ساتھ مودی جی  کا چنچل من امریکہ جانے کے لیے  ویاکل (بے چین )  ہوگیا مگر نیویارک  کے میڈیسن اسکوائر میں ناچ رنگ کے ساتھ فتح کا جشن  منانے کے لیے دس کروڈ روپیہ اور دوماہ کا وقت درکار تھا۔ شاہ جی کے ہوتے دھن دولت کی کمی نہیں تھی لیکن وقت کا کیا کرتے  اس لیے ستمبر  میں  اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس تک صبر کرلیا۔

اقوام متحدہ سے فارغ ہوکر مودی جی براک اوبامہ  سےملاقات کے لیے قصر ابیض پہنچے تو ان کو اپواس یاد آگیا۔ اسی کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں ان کا   نوراتری اپواس چرچا کا موضوع بن گیا۔ گجرات کے لوگوں کو ۱۲ سال بعد پتہ چلا کہ ان کا سابق وزیراعلیٰ  ہر سال جہاں کہیں بھی ہو تاپابندی کے ساتھ  یہ اپواس رکھتاتھا۔ اس دوران پردھان سیوک قوم کے غم میں  سیال غذا پر گزارہ کرتے ہیں۔ دن بھر میں کبھی لیموں کا رس پی لیا  تو کبھی  شہد اور چائے کی ایک پیالی پر اکتفاء  کرلیتے ہیں۔ یہ ایک  دانو کو دیوتا بنانے کی سعی تھی۔  لوگوں کو بتایاجارہا تھا  کہ اپواس  کے باوجود چاک وہ چوبند رہتے ہیں۔ بغیر تھکے  بلا توقف کام کرتے رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس دوران  کسی نے نہیں  پوچھا کہ آخر وہ کیا کام کرتے ہیں؟ اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟  یعنی اس سے  کیافائدہ ہوتا ہے؟  یہ عجیب تماشہ ہے کہ پانچ سالوں سے ایک آدمی عوام کی فلاح بہبود کے لیے دن رات کام کررہا ہے لیکن ان کے اچھے آکر نہیں دیتے۔

امریکہ سے لوٹنے کے بعد  مودی جی کے اپواس  کی جگہ ان کے   یوگا  زیر بحث آگیا لیکن اچانک پچھلے سال   وزیراعظم کو احساس ہوا کہ ایوان پارلیمان کا پورا سیشن ہنگاموں کی نذر ہوگیا ۔ اس دوران  کوئی کام نہیں ہوا۔ اس خسارے   کی بھرپائی کے لیے انہوں نے اپواس رکھنے کا اعلان کیا اور پوری  بی جے پی نے ان کی اتباع کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حزب اختلاف پر  ایوان میں وقت ضائع کرنے کا الزام لگانے کے بعدوہ  خود اس کا کفارہ ادا کرنے لگے۔ اصول  تو یہ ہے کہ جو پاپ کرتا ہے وہی پرایشچت بھی کرتا ہے لیکن یہاں گناہ کسی اور کا  تھا نیز کفارہ کوئی اور ہی ادا کررہا تھا۔ شاید  یہ اس احساس کے جرم کے تحت کیا جانے والا ڈرامہ تھا کہ ایوان کی کارروائی کو بخیر و خوبی چلانا حزب اقتدار کی ذمہ داری ہے اور مودی یگ میں انہیں کے حواری  ہنگامہ آرائی  کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کو اعتماد لے کر کام کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتی۔ ا س عیب کی پردہ داری کے لیے اپواس کا ناٹک کیا گیا۔ خیر اب  ایک سیشن  کاکیا رونا کہ   پورے پانچ سالوں کی اس مدت کار ضائع ہوگئی ہوچکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پر وہ کون سا اپواس رکھیں گے ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close