خصوصیماحولیات

چار دریاؤں کا تحفہ

سید شجاعت حسینی

مراٹھواڑہ کے بیڑ ضلع کے حوالے سے ایک ویڈیو خبر زیر گردش ہے بورویل کی گہری ڈریلنگ نے پانی کے بجائے آگ اگلنی شروع کردی  جو کسی اکیسٹنگیشر سے کنٹرول نہ ہوئی اور دیو ہیکل ڈریلنگ مشین کو آنا ً فاناًجلا کر کوئلہ بنا دیا۔ ضلع ایڈمنسٹریشن نے اس واقعہ کی تردید کی  کہ آگ بورویل  کی گہرائی سے نہیں  بھڑکی  بلکہ ہائی پاور کیبل ٹوٹ گرا جس نے چٹانوں کو جلادیا۔ کسی نے  سرے سے انکار کردیا کہ یہ واقعہ  مراٹھواڑہ کا نہیں کسی اور مقام کا ہے۔

 اس   توجہیہ  پر یقین مشکل ہے اس لئیے کہ پاور کیبل ٹو ٹ کر گرنے سے عین ڈریلنگ بور کے اندرون سے آگ کیسے بھڑک اٹھی-  حادثہ کی تحقیق موضوع نہیں اور نہ ہی  بورویل کی گہرائی سے بھڑکنے والا یہ واقعہ اتنا انہونا ہے ، راجستھان کے دولر گاؤں، اور مدھیہ پردیش کے و دیشہ  میں بھی آگ اگلتی بورویلس نے دو سال قبل  ملک کو چونکا دیا تھا  جسکی تفصیلی رپورٹنگ  چند قومی چینلس نے نشر کی تھی۔ (2) (1)

 واقعہ جو بھی ہو  اس توجہیہ  نے مضبوط ڈھال کا کام کیا اور  کم ازکم ایک فائدہ یہ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ  اور حکومتیں کئی تیکھے سوالات سے بچ گئیں کہ  قدم قدم پر زمین کو چھلنی کررہے  گہرے بورویلس  کیا اجازت یافتہ ہیں َ ؟ اگر ہیں تو ایسے بورویلس کی اجازت کے کیا پیمانے ہیں ؟    کس پیمانے کے تحت بیڑ کا ایک متمول  کسان  اپنے  کھیت میں 48 بورویل کھدواکر آس پاس کی بڑی زمین کی بوند بوند خشک  فرماتا ہے ؟ کیا بورویل کی کھدائی سے پہلے بنیادی سائنسی  اور ارضیاتی ( جیولو جیکل ) تحقیق کی کوئی  پریکٹیس کہیں پائی جاتی ہے ؟  زیر زمین ایکویفیرس  کے سوکھتے سوتوں کا  کوئی حل حکومتوں کی ترجیحات میں کہیں درج ہے ؟  ہماری ندیاں کیوں سوکھ رہی  ہیں اور ڈیمس کبڈی کے میدان کیوں بن رہے ہیں ؟ وغیرہ  وغیرہ

مراٹھواڑہ اور اسکی خشک سالی ملک کے بیشتر علاقوں کے لئیے الارم کا درجہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ  یہ اس علاقہ کی کیفیت ہے جہاں جنوبی ہندکی سب سے بڑی ندی ( گوداوری ) کا 40 فیصد سے زائد حصہ بہتا ہے۔

ناندیڑ گوداوری کے کنارے ایک بڑا شہر ہے۔  کسی وقت گوداوری نے اس شہر کو اتنا سیراب کررکھا تھا کہ پانی کی قلت کیا  چیز ہوتی ہے ہم ناندیڑباسی  بالکل نہیں جانتے تھے۔  آج ناندیڑ گوداوری سے لپٹ لپٹ  کر بھی خشکی  کی  مار جھیل رہا ہے۔ اور قریبی اضلاع بیڑ اور لاتور کی زمین   صرف پانی ہی نہیں رہی سہی نمی بھی کھورہی ہے۔

اسباب سے پہلے کچھ  چونکانے والے حقائق  پر بات ہوجائے۔ مراٹھواڑہ اور مہاراشٹر کے کچھ اور علاقوں  کی خشک سالی  دیکھ کر سرسری طور پر عموما یہ سمجھ لیا جاتا ہے  کہ  شائد یہ قدرتی نوازش سے  محروم ایک لاچار  خطہ ہے ۔  لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر جنوبی ہند کی چار سب سے بڑی ندیوں کا گہوارہ ہے۔ مصر اگر نیل کا تحفہ ہے تو مہاراشٹر، گوداوری، تاپتی، نرمدا  اور کرشنا کا، جنکی وادیاں 92 فیصد مہاراشٹڑ کو  فیضیاب کرتی ہیں  ( 15)۔ جن  کے  بالترتیب 48.6، 4، 80اور 26 فیصدحصہ سے قدرت نے  مہاراشٹر کو نواز رکھا ہے۔ انڈیا واٹر پورٹل کے مطابق  ہندوستان کے جملہ بڑے ڈیمس کی  35فیصد تعداد مہاراشٹر میں ہے۔ ( گراف ملاحظہ فرمائیں۔ بحوالہ انڈیا واٹر پورٹل) (3)۔

مختصر یہ کہ آبی   وسائل کے حوالے سے مہاراشٹر  قدرت کی خصوصی عنایات سے مالا مال ہے۔ لیکن۔ ۔ !!

سوال یہ ہے کہ ان خاص نوازشوں کے باوجود  یہاں کی پھٹتی تڑختی زمین اب لُو اور آگ کیوں اگلنے لگی۔ مختصر ترین جواب  یہ کہ۔

ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس

نمایاں اسباب پر آئیے غور کریں:

شراب  :   بدقسمتی سے گوداوری  ندی کے سرچشمے  ، ناسک ضلع کے  ساقیوں  ( وائنریز) کی قید میں جکڑے جارہے  ہیں۔ ناسک ہندوستان کا وائین کیپیٹل کہلاتا ہے۔ 1996 میں اسٹنفورڈ یونیورسٹی کے ایک گریجویٹ نے اس  وائرس کو  پروفیشنل صلاحیتوں کے بل پر یہاں پھیلایا اور آج  وائنریز کی وبا نے ناسک کو وائین کیپیٹل بنوادیا۔ ناسک کی 2 لاکھ ہیکٹرس پر پھیلی انگور کی کاشت 90 فیصد ڈیمس کی نہروں پر منحصر ہیں اور یہاں کی طاقتور شراب لابی، اپ اسٹریم ڈیمس کے ذریعہ گوداوری کے بڑے حصہ کو ر وک لینے کی کاوشوں میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ یہ کام زبردست  سیاسی توڑ جوڑ کے سہارے انجام پاتا ہے۔  نتیجہ یہ ہے کہ اورنگ آباد میں واقع  مراٹھواڑہ کا سب سے بڑا ڈیم جائیکواڑی  جو کبھی لبریز ہو اکرتا تھا  اور علاقہ کے اکثر اضلاع کو سیراب کرتا تھا، اب بمشکل  40 فیصد سیر ہوتا ہے۔ بیڑ ضلع میں واقع ماجل گاؤں کا ڈیم جو جائیکواڑی کے اضافی اسٹوریج ( جائیکواڑی –اسٹیج 2)   کے طور پر  تعمیر کیا گیا  تھا، بمشکل پانی سمیٹتا ہے ۔   (4)

دوسری طرف حال یہ ہے کہ حکومت اور شراب کے صنعتکار اس بات پر بڑے خوش ہیں کہ پچھلے پانچ سال میں  شراب کے پروڈکشن نےریاست ہی نہیں ملک میں  تاریخ درج کروائی۔  مہاراشٹر  کی سابق حکومت نے اپنے صنعتی ادارے ایم آئی ڈی سی کو "وائین پارکس”کے تیز قیام کے لئیے نوڈل ایجنسی نامزد کیا تھا، جسکے  نشیلے نتیجے تیزی سے سامنے آرہے ہیں ۔ (5)  آج ہندوستان کی 95 وائنریز میں سے 77 مہاراشٹر میں غضب ڈھارہی  ہیں۔ صرف  پچھلے دوسالوں میں  شراب کی 30 انڈسٹریز یہاں قائم ہوئیں۔ (6) شراب  کی صنعت حکومتی خزانوں میں 20 تا 25 فیصد حصہ ادا کرتی ہے ۔ آمدنی کے اس ڈھیر کو ٹھکرانا ان حکومتوں کے بس کی بات نہیں جنھیں عوامی صحت اور ملکی ترقی کے مقابل  ریوینو اور خزانوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف سائنس اینڈکوالیٹیٹیو انالیسس کی ایک رپورٹ کے مطابق الکحل اور شراب سے کمائے جانیوالے ایک روپئیے کے مقابل حکومتیں ہیلتھ کئیر اخراجات اور پروڈکٹیویٹی کے نقصانات کی صورت میں دو روپئیے کھوتی ہیں۔ (7)

ناسک کے اطراف   انگور کے لہلہاتے کھیت دیکھ کر بظاہر بڑا سکون ہو، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ  ایک بڑے علاقہ کو   بوند بوند کے لئیے ترسا کر  ان سبز و شاداب کھلیانوں میں مئے خواری  کے بیج بوئے جاتے ہیں اور  بدمستی کی ٖفصل کاٹی جاتی ہے۔

شکر :  خشک سالی کے مجرمین کی فہرست میں یہ میٹھا نام شائد چونکادے، لیکن سچ یہ ہے کہ شکر کا انبار  خشک سالی کا سب سے بڑا "سفید پوش مجرم ” ہے۔ ایک کلو گرام شکر  کی تیاری کے لئیے 2515 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ (7)۔یہ اتنا ہی پانی ہے جس کا دسواں حصہ پانے کے لئیے  پمپل گاؤں کی پچاسی سالہ مجبور دکھیاری دروپدا درگا، 40 ڈگری جھلسانے والی دھوپ میں کانپتی ٹانگوں کے سہارے  کئی کلومیٹر چلتی ہے  اور 15 فٹ گہرے کنویں میں اتر کربوند بوند سمیٹتی ہے۔ بالآخر اس کی یہ کربناک محنت اسے اتنا ہی پانی دلواتی ہے جتنا 100 گرام شکر کی پیداوار پی جاتی  ہے ۔

195 کارخانوں  اور  1072 لاکھ کوئنٹل پیداوار کے ساتھ شکر کی پیداوار میں مہاراشٹر  کا ملک میں دوسرا بلند ترین مقام ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ریاست کے 1845 ڈیمس کا 71.5 فیصد پانی گنے کے  کھیت پی جاتے ہیں۔ (8)  صحت بخش غذاؤں  کی کاشت، دیگر انسانی ضروریات  اور چرند پرند  کی زندگی کے لئیے   پانی کا   اتنا ہی  معمولی حصہ بچتا ہے جو شکر مافیا کی نظر  کرم سے بچ گیا ۔ ریاست کے  کوآپریٹیو شکر کارخانوں   پر سیاست دانوں کی ملکیت قائم ہے۔ شکر کی  آسان رسائی اور وسیع سپلائی کے ذریعے عوام میں میٹھی لت بنائے رکھنا، کسانوں کو دیگر ضرور ی غذائی ضروریات کے بجائے گنے کی کاشت میں الجھا نا، اور سیاسی توڑ جوڑ کے ذریعے  دریاؤں کےتقریبا  72فیصد پانی پر قبضہ جمانا ، ریاست کی شکرمافیا کا پرانہ حربہ ہے، جس نے صوبہ کے بڑے حصہ کو سوکھے کی آگ میں جھونک دیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سوگر کین ریسرچ لکھنو کے مطابق مہاراشٹر ملک بھر میں، گنے کے لئیے سب سے زیادہ پانی استعمال کرنیوالا صوبہ ہے۔ (9)

شکر(گنا)  بڑے بڑے دریاؤں کو پی جانیوالی وہ عجیب پیداوار ہے جسکی اضافی  حاجت نہ ہمارے جسم کو ہے  نہ سماج کو۔  ملاحظہ فرمائیں، گنے کی فصل  اور  پانی کا چونکانے والا رشتہ !  ( بشکریہ سچن دت : اسسٹنٹ ڈائریکٹر واٹر اینڈ لینڈ مینیجمنٹ ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ) (10)

ہمارے  آبا و اجداد کے وہم و گمان میں بھی شائد یہ بات  نہ تھی کہ انکی نسلیں  چائے نامی  مشروب کے ذریعے  روزانہ ہزارہا  ٹن  شکر گھول کر پیٹ میں انڈیل لیں گی۔  ا ن کے لئیے  مٹھاس کی سالانہ چند چٹکیاں کافی تھیں جن سے عید و تیو ہار کی  میٹھی یادیں وابستہ ہوجاتیں۔ یہی ان کا سال بھر کا مکمل  صحتمند کوٹا ہوتا ۔ ہم نے اس فطری پیٹرن کو تلپٹ کردیا  اور خود پر ہی نہیں بے شمار مجبوروں پر ظلم کا سبب بن گئے۔ یہ یقین کرنا بھی شائد مشکل ہے کہ ایک غیر فطری چٹورے پن نے کئی  دکھیاروں کی زندگی جہنم بنادی، لہلہاتے  کھیت چٹیل میدان بن گئے،  بنیادی غذائی ضرورت ( دالیں وغیرہ ) اس چٹورے پن ( شکر ) کے مقابل تین گنا مہنگی ٹھہریں۔ زیر زمین واٹر ٹیبل روٹھ کر ہزاروں  فٹ گہرائی میں چلا گیا۔ نتیجتا پیڑ سوکھ گئے اور مویشی بے موت مرگئے۔ اللہ رحم کرے۔

شکر کا سب سے زیادہ   استعمال چائے نوشی میں ہوتا ہے۔ دی اینڈیپنڈینٹ، ( لندن ) میں شائع یونیورسٹی آف لیڈس کی ایک دلچسپ تحقیق کے مطابق، چائے اور شکر  کا بے جوڑ میل ایک  بالکل اضافی (ریلیٹیو) کیفیت ہے۔ میٹھی چائے کے شوقین  64 افراد پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق کچھ ہی دنوں بعد  انھیں سادہ چائے زیادہ پرلطف محسوس ہونے لگی۔ (11)

 بات شائد حیرت انگیز لگے لیکن حقیقت ہے  کہ  اگر ہم بھی یہ طئے کرلیں کہ  دنیا کے بیشتر ممالک  کی مانند چائے میں شکر کا استعمال نہ کریں گے تو شائد دریاؤں کے آدھے پانی کو بچاکر انکے حقداروں تک پہنچا سکیں گے  !

بورویلس : بچپن میں  ایک لالچی بڑھیا کی کہانی پڑھی تھی جس نے اپنی  عقل کے زور پر یہ فیصلہ کیا  کہ   روز سونے کا  ایک انڈہ  پانے سے  بہتر ہے کہ مرغی کاٹ کر سونے کا انبار ایک ساتھ جٹا لیا جائے۔  ہر چند فیٹ کی دوری پر بورویلس کی کھدائی بھی ایسی ہی پراسرار عقل کا کرشمہ ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جہاں بورویلس کی کھدائی مشکل ترین پراسس ہے وہیں ہمارے ملک میں یہ ایک ٹیلی فون کال کا مرحلہ ہے۔ محض  ایک کال پر زمین پھاڑنے والا بیڑہ آٹھ دس عدد سورماؤں کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے۔  اب آپ کی مرضی، آپ چاہیں تو آگ اگلنے تک چھید کاری جاری رکھیں۔ اس کیفییت کی ہولناکی کو دو سال قبل مدراس ہائیکورٹ نے نوٹ کیا اور حکم دیا کہ  اس سے پہلے کہ  گراؤنڈ واٹر  ماضی کی داستان بن جائے، حکومت واضح قوانین ترتیب دے اور انکے نفاذ کو یقینی بنائے۔ (12)

بورویلس  زیرزمین نہروں میں پیوست ہوکر اسٹرا کی مانند راست پانی کھینچنا شروع کردیتی ہیں۔ نتیجتا  ان نہروں سے سیراب ہونے والےایکویفیرس بتدریج سوکھتے جاتے ہیں۔ جب ایک سوتہ سوکھتا ہے تو یہی عقل زیادہ گہری ڈریلنگ کے لئیے اکساتی ہے۔ اور پھر وہی ہوتا ہے جسکا خدشہ ہائیکورٹ نے ظاہر کیا۔

تاملناڈو کا شہر تروچنگوڑ  بورویل انڈسٹری کا مرکز ہے۔ یہاں بورویل ڈریلنگ کے  4000  بیڑے ( رِگس )  موجود ہیں جو ملک بھر گھوم گھوم  کر زمین چھلنی کرتے ہیں۔ اور ہر سال ان میں 500 تا 1000 رِگس کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک  کروڑروپیوں کا ڈریلنگ ٹرک(رِگ)  3 تا 4 سال میں قیمت وصول کرلیتا ہے اور پھر دس سال تک نفع بخش رہتاہے۔   ایک رِگ مشین دیگر ریاستوں میں اوسطا 200 ڈرل کرتی ہے۔ لیکن مہاراشٹر میں یہ اوسط 500 ہے ۔ (13) اکنامک ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق مراٹھواڑہ میں ہر ماہ دس ہزار بورویل کھودی جاتی ہیں۔ (14)

بورویلس اور انکی ماحولیاتی تباہ کاریوں کے متعلق بیداری ، واضح قوانین، کنٹرول اور انکا نفاذ بہت ضروری ہے۔   آج بھی  بورویل کی کھدائی ثواب جاریہ کا سب سے بڑا سوتہ مانا جاتا ہے۔  اور ” اہل خیر ” کا یہ اصرار بھی ہم نے دیکھا کہ مسجد میں ایک فنکشنل بور ضرور ہے لیکن میری خواہش ہے کہ مزیدایک دو  ڈرل کرواؤں۔  یہ بات سچ ہے کہ اجتماعی فیصلہ کے بغیر انفرادی سطح پر بورویلس سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔ لیکن  کیرالا کے چند علاقوں کی مانند عوامی شعور کی بنیاد پر اگر اجتماعی فیصلہ ہو تو بورویلس کے  ماحولیاتی مسئلہ سے نجات  پانا عین ممکن ہے۔

شعور کا فقدان : ان کے علاوہ اور بھی کئی  دیگر چھوٹی بڑی وجوہات  ہیں جن  پر بالعموم لکھا اور کہا جاتا ہے،  لیکن  ان تمام اسباب سے کہیں اہم سبب ہمارے اجتماعی شعور کا زوال ہے۔ سیکڑوں سال پہلے  اس وقت جب دریاؤں اور نہروں  کی ایسی   بے بسی   اور کسمپرسی سوچی بھی نہیں جاسکتی تھی  ،   اجتماعی شعور و بیداری کی یہ مضبوط و مدلل ترین  آواز  کتنی حیرت انگیز تھی کہ۔ ۔

’’ اے سعدؓ! یہ کیا اسراف ہے (یہ کیسی زیادتی ہے)؟

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف (کا اندیشہ )ہے؟  اِس پرآپﷺنے فرمایا

’’ ہاں! اگرچہ تم بہنے والی نہر پرہی (کیوں نہ بیٹھے وضو کر رہے) ہو۔‘‘(مسند احمد بن حنبل، ابن ماجہ)۔

ادھر المیہ دیکھئے کہ اس نصیحت پر ایمان رکھنے والی ملت کے بشمول ایک جمہوری ملک کی  پڑھی لکھی  آبادی کا بڑا حصہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسکے ساتھ اور اسکے اجتماعی وسائل کے ساتھ  کیا برا ہورہا ہے۔ گودی میڈیا  کےمکر جال اور فرقہ پرستی کے مصنوعی دنگل   نے عقلوں کو یرغمال بنالیا۔ کیرالا میں سولیڈاریٹی یوتھ مومنٹ کی پلاچی ماڑہ تحریک زندہ و  بیدار معاشرہ کی  نمائندہ تمثیل ہے۔ کوکا کولا نے حسب معمول جب اپنے پلانٹ کی زمین کو  بے تاج جاگیر مان کر  بورویل ڈرلنگ کی سیریز  شروع کی تو  بیدار ذہن لوگوں نے آواز اٹھائی،  اس آواز کو عوامی آواز بننے دیر نہ لگی۔ پھر تحریک نے ایسی جڑ پکڑی کہ  بی بی سی کے فیس دی فیکٹس کا موضوع بن گئی۔  آبی وسائل اور عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے کی شکایت لیکر عوام نے پلانٹ کا راستہ خودہی  بند کردیا۔  یہ تحریک اتنی بڑھی کہ  دنیا کے کئی ممالک سے لوگ اس کے سپورٹ میں آگے آئے۔  سہ روزہ پلاچی ماڑہ  انٹرنیشنل واٹر کانفرنس ہوئی، جس کا واضح عوامی  فیصلہ (ڈکلیریشن)  جاری ہوا کہ۔ ۔

 "Water is not a private property, not a commodity” but a common resource and a fundamental right.

یہی نہیں بلکہ یہاں ایک بڑے علاقے میں  عوام  کا یہ اجتماعی فیصلہ ہے کہ کوئی  بورویل نہیں کھودا جائیگا  بلکہ  پانی کی ضرورت کنووں سے تکمیل پائے گی۔ بورویل کے مقابل کنووں  کو  ترجیح دینا  اجتماعی دانش کی علامت ہے۔ جسکے کئی فائدے ہیں۔

ممبئی کے  بزرگ شہری عابد سورتی نے تنہا  شعور بیداری کا کام کیا۔ آج اس علاقہ کی ہوٹلیں، اپارٹمنٹس،  مسجد اور دفاتر بوند بوند بچانا جانتے ہیں۔

مہاراشٹر کامیاب سیاسی و سماجی تحریکات کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی تحریکات قومی  سطح پر تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں۔ ایک نہیں کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔ مصنوعی خشک سالی  کے سوتوں کے خلاف بھی عوامی شعور اور تحریک یہاں کی اہم ضرورت ہے۔ ریاستی  عوام نے چند سال قبل پانی کے مسئلہ پر آئی پی ایل جیسی طاقتور لابی کے خلاف عوامی عدالت تا عدالت عظمی ( سپریم کورٹ )  ہر سطح پر کامیابی درج کروائی تھی اور آئی پی ایل سورماؤں کو  عوامی شعور کے آگے جھکایا تھا۔ عین  خشک سالی کے دوران  لاکھوں لیٹر پانی ضائع    کرکے آئی پی ایل کا تماشہ رچانے کی تیاری کرنیوالوں کو مہاراشٹر سے آئی پی ایل سمیت بھگا یا گیا تھا۔  جب آئی پی ایل کے دھنوان   عوامی اور دستوری طاقت کے بل پر جھکائے جاسکتے ہیں تو پھر الکحل، شراب اور شکر لابیاں کونسی حیثیت رکھتی ہیں۔

پلاچی ماڑہ تحریک نے بھی بالآخر حکومت کو مجبور کیا تھا کہ  کوک جیسی  طاقتور کمپنی کے پلانٹ کا لائسنس منسوخ  کردے اور  پھر یہ بھی ہوا کہ آبی وسائل  سے کھلواڑ کرنیوالے  پلانٹ نے اپنا بوریہ یہاں سے لپیٹ دیا۔

دوسری طرف ہر سال ہزاروں کسانوں کی خودکشیاں، لاکھوں مجبوروں  کی دربدری و  ہجرت اور بوند بوند کی خاطر بدترین کسمپرسی بھی  کیا اس سوال کا محرک نہیں بن سکتیں   کہ آخر حکمرانوں کو ہمارے خون سے  شراب کشید کرنےکا حق  کس قانون نے دیا۔ ۔   امسال عالمی یوم ماحولیات  ( 5 جون) کے موقع پر  اگر یہ شعور و تحریک بیدار ہوجائے  تو عین ممکن ہے  بہت جلد مہاراشٹر بھی "چار دریاؤں کا تحفہ” کہلائے۔

مزید دکھائیں

سید شجاعت حسینی

مضمون نگار سافٹ ویئر انجینئر اور معروف قلم کار ہیں۔ آپ مختلف تخلیقی فورم پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ جدید ٹکنالوجی اور سماجی و تعلیمی مسائل آپ کے خاص موضوعات ہیں۔ ان دنوں موصوف حیدرآباد میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Close