خصوصیسیاست

چنار کی بہار، کمل ذلیل و خوار 

ڈاکٹر سلیم خان

یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے وزیراعظم نے نریندر مودی نے ایک ایسی بات کہی جس کو کشمیر کے سارے رہنماوں نے اپنے اپنے انداز میں سراہا۔ وہ بیان تھا ’ گولیوں اور گالیوں سے کشمیر کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ عوام کو شفقت اور محبت سے گلے لگانے کی ضرورت ہے‘۔ اس پر جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی  نے کہا تھا کہ ان کو  یقین  ہے کہ مسائل کا حل تشدد سے نہیں بلکہ  صرف بات چیت اور پر امن ذرائع سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنی  پارٹی کا۱۵سال پرانا نعرہ یاد دلایا ’ بندوق سے نہ گولی سے بات بنے گی بولی سے‘۔ میر واعظ نے کہا کہ اگر گالیوں اور گولیوں کے بجائے انسانیت اور عدل و انصاف کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کیا جائے تو بلا شبہ یہ حقیقت بن سکتا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیان کا ہر کشمیری نے خیر مقدم کیا ہے لیکن سب کے کان یہ سن سن کر پک چکے ہیں کیونکہ ان پر عمل نہیں ہوتا۔ کشمیر کی صوبائی اسمبلی تحلیل کو جس  پھوہڑ انداز میں تحلیل کیا گیا اس سے عمر عبداللہ کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔

گزشتہ چار سالوں کے کشمیر کے حالات بتدریج خراب ہوتے چلے گئے۔ پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی مقبولیت میں بھی کمی ا ٓتی رہی تھی اس لیے اس نے ماہِ  جون میں اچانک محبوبہ مفتی کی حکومت تو گرادی مگر اسمبلی کو معلق رکھا۔ اس امید کہ شاید آئندہ لوک سبھا انتخاب سے قبل اپنی سرکار بن جائے۔ مسلح تشدد، فوجی آپریشن، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کی اس  بحرانی صورتحال میں  اچانک آئین کی دفعہ ۳۵ اے  کو منسوخ کرنے کی درخواست نے زلزلہ پیدا کردیا۔  عدالت عظمیٰ کے اندر اس مقدمہ کے  زیر سماعت آتے ہی  وادی میں آگ لگ گئی۔ اس کو بجھانے کی خاطر وادی کشمیر کے اندر تقسیم در تقسیم کا شکار ہونے والی قیادت کو متحد ہوگئی۔ آئین کی یہ دفعہ غیرکشمیریوں کو کشمیر میں جائیداد خریدنے، نوکریاں حاصل کرنے سے روکتی ہے۔ کشمیریوں کاموقف ہے کہ اگر یہ شق ختم ہوگئی باہر سے لوگ آکر کشمیر میں بس جائیں گے اس  کا مسلم اکثریتی چہرہ مسخ ہو جائے گا۔ اس کے خلاف  ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔عدالت عظمیٰ نے معاملہ کی نزاکت کے پیش نظراگلی سماعت جنوری  ۲۰۱۹ ؁ تک ملتوی کردی۔

فی زمانہ سنگھ نواز دانشور یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی منہ بھرائی کے لیے رکھی گئی ایک کانگریسی شق ہے جس کی بناء پر  کشمیر کو ایک امتیاز حاصل ہوگیا ہے۔ اس سے  علیحدگی کے رحجان کو فروغ ملتاہے۔ جو لوگ اس کا پس منظر نہیں جانتے وہ اس پروپگنڈہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں  کشمیر ہندو  ڈوگرہ راج  کے زیر اقتدار تھا۔ ۱۹۲۰ ؁  کی دہائی میں جموں کے  ہندو اور کشمیر ی پنڈتوں نے مہاراجہ ہری سنگھ سے شکایت کی کہ  پنجاب اور دوسری شمالی ریاستوں سے لوگ کشمیر میں آباد ہو کر سرکاری نوکریاں حاصل کر رہے ہیں جس کی وجہ مقامی باشندوں میں  بے روزگاری پھیل رہی ہے۔ ۱۹۲۷ ؁  میں مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں کشمیر شہریت قانون پاس کیا جس کی رْو سے غیر کشمیریوں کا وہاں جائیداد کا مالک  بننے  پر روک لگا دی گئی اورسرکاری نوکری حاصل کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ۱۹۵۲ ؁ میں اسی پرانے قانون کی ریاستی اسمبلی نے توثیق کردی۔

کشمیر کے  سابق گورنر این این ووہرا جہاندیدہ انسان تھے۔ اپنے  دس سالہ مدت کار میں   انھوں نے کشمیر کی سیاسی حالات کو معمول پر رکھنے کی اپنی سی کوشش کی اور امرناتھ یاترا کے نظام کو فعال بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آئین کی دفعہ ۳۵ اے پر  انھوں نے مودی حکومت کو لکھا کہ  اس معاملہ کو کشمیر میں کسی منتخب حکومت کی تشکیل تک ٹال دیا جائے۔ یہ بات غالباً مرکزی حکومت کو گراں گزری اور اس نے جس طرح آناً فاناً محبوبہ مفتی کی حکومت گرائی تھی اسی طرح یکلخت  ووہرا کی چھٹی کرکے  ان کی جگہ ستیہ پال ملک کا گورنر بنا دیا۔ ملک صاحب کو بہار میں سیاسی کرتب گری کا اچھا خاصہ  تجربہ تھا  اوروہ  نتیش کمار کو این ڈی اے میں  لاکروزیراعلیٰ بنانے کی ذمہ داری وہ بخیر خوبی  ادا کرچکے تھے  اس لیے  ممکن ہےکشمیر میں بی جے پی نواز حکومت کے قیام   کامشکل کام ان کے سپرد کیا گیا۔

ستیہ پال ملک  ۱۹۸۹ ؁ میں جنتا دل  سے رکن پارلیمان بنے۔ مفتی محمد سعید اسی زمانے میں وزیر داخلہ بنائے گئے تھے۔ انہوں ۱۹۹۶  ؁ میں سماجوادی پارٹی سے بھی الیکشن لڑا ہے لیکن کامیاب نہ ہوسکے تو  پھر کمل کا پھول تھام لیا۔  کشمیر میں جب ملک صاحب  حق و انصاف کے دو بول بولے تو ایک اچھا تاثر قائم ہوا۔ انہوں نے دفعہ۳۷۰اوردفعہ۳۵اے کیساتھ کسی چھیڑچھاڑکوخارج ازامکان قراردیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کی پابندی توہماچل پردیش اورشمال مشرقی ریاستوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ گورنرستیہ پال ملک نے روزنامہ انڈین ایکسپریس کودئیے گئے انٹرویومیں کہا کہ  میں یہ بات مانتاہوں کہ ہم (بھارت)سے کشمیرکی صورتحال سے نمٹنے میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنی غلطیوں سے اپنے آپ کوکشمیراورکشمیریو ں میں بیگانہ بنادیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ کشمیرمیں جوکچھ ہواہے، اس تناظرمیں بھارت کو ایک قابض قوت کے بطورپیش کیاجاسکتاہے لیکن کاایک مقبوضہ علاقہ نہیں ہے کیونکہ کشمیری اپنی مرضی سے بھارت کےساتھ آئے ہیں۔ ووہرا کی طرح ملک صاحب نے بھی  ریاست میں نئی منتخب سرکاربننے تک دفعہ۳۵ اےکے مقدمہ کومؤخرکرنے کی تائید کی  اور اس مسئلہ کواچھالنا سیاستکاری قرار دیا۔

اس سے آگے بڑھ کر گورنر ملک   نے کہاکہ وه جنگجوؤں کومارنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وه جنگجوئیت  کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ گورنرستیہ پال ملک کو اس سے کوئی  پریشانی لاحق نہیں کہ ایک جنگجو کے مارے جانے پرپانچ نئے نوجوان جنگجو بنیں  گے بلکہ یہ فکرہے کہ عام لوگ ملی ٹنسی کوضروری نہ سمجھیں اوراس  کاساتھ نہ دیں۔ انہوں نے علٰحیدگی پسندوں سے مکالمہ قائم کرتے ہوئے کہامیں عزت واحترام کیساتھ جنگجوؤں سے کہناچاہتاہوں کہ پچھلے ۱۵ یا ۲۰برسوں سے جوخواب انہیں دکھائے گئے ہیں، وه غیرحقیقت پسندانہ  تھے۔ سری لنکا کےتمل ٹائیگرس کیساتھ موازنہ کرکے گورنر  نے کشمیرکے  عسکریت  پسندوں  کو باز رہنے کی تلقین کی۔  مودی جی کی سرکار کے چلتے ایک گورنر کے ان بیانات کو حیرت انگیز اچھا شگون گردانہ گیا۔

جموں کشمیر کے گورنر عام طور پر اعلیٰ سرکاری افسران اورسفارتکار ہوتے تھے یا فوج سے آتے تھے۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے لیکن ملک صاحب سیاستدانوں کی مانند متضاد بیانات دینے لگے۔ ستیہ پال ملک نے اپنے انٹرویو کے چند دن بعد   محکمہ سیاحت کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں  نامہ نگاروں کے درمیان ایک نیا راگ چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا’’ جب تک حریت لیڈران پاکستان پاکستان کہتے رہیں گے تب تک اُن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا کوئی فریق نہیں ہے ‘‘۔ حریت پر سخت تنقید  کے بعد انہوں نے پینترا بدل کرپھر سے اعتراف کرلیا کہ  ’’کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ پرانے زمانے کی سرکاروں کی دین ہے۔میں یہ ایمانداری سے کہتا ہوں کہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران دلی سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے کشمیر میں اجنبیت کا احساس پیدا ہوگیا۔‘‘

اس بیان کو کانگریس کے سابق وزیرداخلہ ؍ وزیر خزانہ پی چدمبرم نے انگریزوں کےوایسرائے سے مشابہ قراردیا۔ گورنر صاحب کا یہ بیان سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’’ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کے دائرے میں بات چیت کی  تیاری کے خلاف ہے۔  حریت کی بابت ان کا ایک نہایت دلچسپ تبصرہ یہ تھا کہ ’ ’ اگر میں نے صدفیصد سچ بولوں گا تو حریت ہوجاؤں گا۔‘‘ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ صد فیصد سچ کہنے سے دامن بچا رہے ہیں۔  گورنر صاحب کا نام  ستیہ پال یعنی سچائی کا محافظ ہے اور ملک بادشاہ کو کہتے ہیں اس لیے یہ  بیجا احتیاط  ان کے نام اور عہدے کو زیب نہیں دیتا۔ نصف سچائی پر اکتفاء  کرنے کے بجائے   صد فیصد حقیقت کو تسلیم  کیے بغیر مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار   حل  نا ممکن ہے۔ ان بڑی بڑی باتوں کے بعد گورنر ملک کا یہ انکشاف کردینا کہ  ارکان  اسمبلی  کی خرید و فروخت ہورہی تھی اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جوڑ توڑ سے سرکار بنےاس لیے صوبائی  آئین کے مطابق ریاستی مفاد میں  اسمبلی کا تحلیل کردیا جانا حیرت کا اور بھی بڑا جھٹکا تھا۔

جموں کشمیر کے اندر جوڑ توڑ کا کام تو ستیہ پال ملک کے تقرر سے قبل شروع ہوچکا تھا۔   جون کے اندر کشمیر کی تحلیل شدہ مجلس قانون ساز میں بی جے پی کے نائب وزیراعلیٰ  اورکھٹوعہ سانحہ کو معمولی واقعہ قرار دینے والے کویندر گپتا  نے اخباری کانفرنس میں  یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بی جے پی باغی ارکان اسمبلی کے رابطے میں ہے اعتراف کرلیا تھا کہ  "یہ لوگ پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور ایک نیا مورچہ بنانے کے لئے ساتھ آ سکتے ہیں۔” گپتا کا بیان ایک ایسےوقت میں آیا تھا کہ  جب بی جے پی  کےجنرل سکریٹری اور جموں کشمیر کےنگراں  رام مادھو نے اپنے حلیف  پیپلس  کانفرنس  کے سجاد لون سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد پی ڈی پی  کے باغی رکن اسمبلی اور سابق وزیر عمران انصاری نے کہا تھا کہ بہت جلد ریاست میں نئے سیاسی محاذ کی تشکیل عمل میں آئے گی جو کشمیریوں  کو جذباتی اور مرکزی حکومت کو سیاسی طو ر پر بلیک میل نہیں کرے گا۔ انصاری نے  کھلے عام  تسلیم کیا تھا کہ مذکورہ محاذ ’’ گھریلو باغیوں‘‘ کی بہار ثابت ہوگا۔

ان  حقائق کے باوجود ۵ ماہ کا انتظار کیوں کیا گیا ؟ اور اچانک عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ساتھ آتے ہی اسمبلی کیوں تحلیل کی گئی ؟ گورنر کی زبانی  ان سوالات کے دلچسپ جوابات بھی ملا حظہ فرمائیں ۔ نامہ نگاروں  نے جب  پوچھا کہ راج بھون میں پی ڈی پی کی  حکومت سازی  سے متعلق دعویٰ کی درخواست کو لینے کیلئے فیکس مشین کیوں نہیں چل رہی تھی ؟ تو،انہوں نے کہا ”کل عید (میلاد)تھی۔پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور این سی کے عمر عبد اللہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دفتر میں اُس وقت کوئی نہیں تھا”۔ سوشیل میڈیا کے اس جدید دور میں کیا یہ عذر لنگ مضحکہ خیز نہیں ہے؟  دفتر اگر بند ہو تب بھی وہاں چوکیدار موجود ہوتا ہے اور فیکس مشین ۲۴ گھنٹے چلتی ہے۔ ایک چپراسی بھی فیکس وصول  کرکے گورنر صاحب کی خدمت میں حاضر کرسکتا ہے۔  کرناٹک اسمبلی کا معاملہ رات دس بجے سپریم کورٹ میں پیش ہوتا ہے اور رات دو بجے اس کی سماعت ہوسکتی ہے تو گورنر تعطیل کے دن فیکس کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ دراصل نظر کمزور ہوتو عینک کام آسکتی ہے مگر ٓنکھیں موند لی جائیں  تو رشنی  بھی فائدہ  نہیں پہنچاتی اور عینک بھی کام نہیں آتی۔

 کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ ارکان اسمبلی کی  خریدو فروخت  کو روکنے کے لیے  نہیں بلکہ اس کوشش میں ناکامی کے سبب  کیا گیا ہے۔  بی جے پی کے بغل بچہ سجاد لون کا جادو جب  پی ڈی پی  رکن پارلیمان اور تاسیسی رکن  مظفر حسین بیگ  پر چل گیا  تو اس میں  بغاوت کے امکان روشن ہو گئے اورپیپلز کانفرنس کے  بلال لون نے بی جے پی کے علاوہ ۱۸ باغی   ارکان اسمبلی کی حمایت سے حکومت سازی کا دعویٰ کردیا۔ اتفاق سے یہ تعداد ٹھیک نصف سے ایک زیادہ یعنی ۴۵ بنتی ہے۔ اس کی سچائی کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ویسے بھی سیاستدانوں کو سچ سے پرہیز ہے نیز اگر وہ کمل دھاری ہوں تو اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اس نہلے پر نیشنل کانفرنس   نے دہلا مارا اور الطاف بخاری کی قیادت میں پی ڈی پی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اس طرح  بی جے پی کا داوں الٹ گیا اور اسمبلی تحلیل کرنے کی نوبت آگئی۔

اس اقدام سے بوکھلائےبی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نےپی ڈی پی، کانگریس اور این سی کا گٹھ بندھن  کوپاکستان سے جوڑ دیا۔ کسی بچے کو جیسے مصیبت میں ماں یاد آتی ہے ویسے ہی  بی جے پی کو ہرمشکل پاکستان یاد آجاتا ہے۔ گپتا نے کہا بی جے پی ریاست کی فلاح بہبود کا کام کرنے والی جماعت ہے جبکہ پی ڈی پی، این سی اور کانگریس اقتدار کے بھوکےہیں اور وہ حکومت کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ اقتدار کا بھوکا کون ہے یہ اس وقت پتہ چل گیا جب بی جے پی نے علٰحیدگی پسندوں کی ہمدرد پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرلیا     اور  وہ کس حدتک جاسکتی ہے اس کا مظاہرہ اس وقت ہوا جب پھر انہوں نے پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں کے  ‘ غیر مطمئن باغی  ارکان اسمبلی’ پر ڈورے ڈالنا شروع کیے لیکن جب کوئی مچھلی ہاتھ نہیں لگی تو انگور کھٹے ہوگئے۔

کویندر گپتا تو خیر بی جے پی کا ایک ٹٹ پونجیا رہنما  ہے لیکن آر ایس ایس سے بی جے پی میں آنے والے جنرل سکریٹری و جموں کشمیر کےنگراں نے بھی اس موقع پر اپنے چہرے سے نقاب نوچ کر پھینک دی۔ اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد مادھو نے الزام لگایا  کہ اتحاد کرنے والی تینوں پارٹیوں نے سرحد پار سے ملی ہدایت پر گذشتہ ماہ کے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس بار بھی شاید انہیں پاکستان نے ہی ہدایت کی ہے کہ اتحاد کر کے حکومت بنائیں۔ان کی اس حرکت نے گورنرکو اس معاملہ میں مداخلت کرنے پر مجبو رکر دیا۔ برسرِ اقتدار جماعت کے ایک رہنما کی زبان سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان مودی یگ میں ہی ممکن ہے۔ اس بیان  پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رام مادھو کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے پاس موجود تما م تفتیشی ایجنسیوں کی مدد سے  اس الزام کو ثابت کریں یاپھر اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگیں  نیز مارو اور چھپ جاؤ کی سیاست نہ کریں۔

اس چیلنج کے بعد رام مادھو کو اپنے الفاظ واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔وہ بولے تبصرہ سیاسی تھا ذاتی تھا۔ وہ نہ تو عمر عبداللہ کی حب الوطنی پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں اور نہ ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔ پی ڈی پی اور این سی کے درمیان اچانک راہ و رسم بڑھنے اور حکومت سازی میں عجلت اس بیان کا سبب ہے۔ یہ عجیب منطق ہے کہ پی ڈی پی اور این سی اگر بی جے پی کے ساتھ آئین تو دیش بھکتی اور ایک دوسرے کے ساتھ جائیں تو دیش دروہ۔ ذاتی اور سیاسی کا فرق اور حب الوطنی کی لیپا پوتی  فریب ہےاور کیے دھرے پر پانی پھر جانے کا اعتراف ہے۔جب  سنگھ کی شہ کواین سی نے  مات دے کر زعفرانی رام مادھو  کو اس کے اپنے اکھاڑے میں دھول چٹا دی  تو وہ اول فول بکنے لگا۔ بی جے پی کی بوکھلاہٹ نے این سی اور پی ڈی پی کو ساتھ میں حکومت کے دوران ناچاقی  کا شکار ہونے سے بچا لیا، پی ڈی پی کو سر پر لٹکنے والی بغاوت  کی تلوار سے نجات دےدی اورازخود مہا گٹھ بندھن کی راہ ہموار کرکے کانگریس  کا بھلا کردیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close