خصوصی

’’چ ‘‘سے چوہان ’’چ‘‘ سے چیلنج

اسی کا شہر، وہی مدعی، وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

حفیظ نعمانی

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ چوہان 2014میں بھی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر بھائی مودی سے مقابلہ کرچکے ہیں۔ اس وقت ان کی پشت پر ایڈوانی جی کا بھی ہاتھ تھا لیکن فیصلہ دہلی کا نہیںناگپور کا تھا۔ اس لیے اس پر غور بھی نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسری اور بھی بہت سی باتیں تھیں جن کی بنا پر ایک اور شاستری سائزوزیر اعظم بنانے کے حق میں کوئی نہیں تھا۔ یہ اپنے اپنے سوچنے کا انداز ہے جس کی وجہ سے چوہان نام کے وزیر اعلیٰ ڈھائی برس سے انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں آٹھ بندیوں کا جیل سے فرا رایک معمہ بنا ہوا ہے اور پھر جیل سے12 کلومیٹر دور ان سب کا قتل اس سے بڑا معمہ بن گیا ہے۔ اب تک جو کچھ بتایا گیا ہے کہ وہ الگ الگ بیرکوں میں تھے اور رات کو12 -اور 2 بجے کے درمیان وہ لکڑی کی چابی یا چمچ کی چابی سے جیل کے تالے کھول کر بھاگ گئے تھے۔ اور تسلہ یا کٹوری کو پھاڑ کر اور اس پر دھار رکھ کر انھوں نے چھرا بنالیا تھا جس سے یادو نام کے سپاہی کو قتل کرکے وہ چادروں کی رسی بنا کر ہر دیوار کو پھلانگتے ہوئے جیل سے باہر آگئے اور دو گھنٹے کے بعد الارم بجا۔
ہم اپنے جیل کے تجربہ کی بنیاد پر شری چوہان کو چیلنج کرتے ہیں کہ جیل میں حوالاتی ہوں یا قیدی جو نمبری بدمعاش چھٹے ہوئے ڈاکو اور قاتل ہوا جو تین ہزار بندیوں میں سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہوں ان میں ۸۷ کو چھانٹ لیں اور بھری ہوئی بیرک میںتسلہ پھاڑ کر اور اس پر دھار رکھ کر خنجر بنوا لیں اور لکڑی یا چمچہ کی گھس گھس کر چابیاں بنوا لیں اور بیرک میں رہنے والے ساتھیوں کو خبرنہ ہو اور جس کو ہر رات میں جاگ کر ڈیوٹی دینا ہوتی ہے کہ وہ گن کر رپورٹ دے کہ 2-4-6-8-10 سے 108 تک گن کر آواز لگائے کہ108 حوالاتی بند، تالا، جنگلا، بتی سب ٹھیک ہے، 8نمبر -اور وہ نہ صرف گنتی آواز سے کرے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ کون کیا کررہا ہے؟ اس کے باوجود خنجر پر دھار بھی رکھ لی جائے اور چابیاں بھی گھس گھس کر بنا لی جائیں اور نہ اندر کسی کو خبر ہو نہ باہر۔ جبکہ ہر بیرک کا دروازہ سرکل میں کھلتا ہے اور سرکل میں ایک ہیڈ کانسٹبل اور دو سپاہی ہر وقت رہتے ہیں۔ ان سب کی نگاہوں سے بچ کر تین مختلف بیرکوں سے ا یک ہی وقت میں نکل کر دکھادیں تو ہم چوہان کے لیے خطِ غلامی لکھا دیںگے اور انھیں وزیر اعظم بنوانے میں سب سے آگے ہوںگے ۔
سیمی کے لڑکوں کے بارے میں جتنا ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ ہیں وہ جب خطرناک بدمعاش نہ ہوتے ہوئے یہ سب کرتے ہیں تو جو واقعی خطرناک بدمعاش ہیں ان سے یہ کام کرادیں کہ ۸ چادروں اور ۸ کمبلوں کی رسی بنا کر وہ دیواروں پر چڑھتے اور اترتے،کرتے ہوئے سب بھاگ کر دکھا دیں؟ تو ان کو ایک ایک لاکھ روپیہ میں انعام دلا دوںگا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں ایک بار سونیا جی نے کہا تھاکہ ان کے گھر میں نوٹ گننے کی مشینیں لگی ہیں۔اور یہ فخر بھی مدھیہ پردیش کو حاصل ہے کہ ریاست کے گورنر جب بدعنوانی میں پھنسے تو بیٹے نے خودکشی کرلی۔ اور بدعنوانی کی جیسی بھیانک حرکتیں شری چوہان کے دور میں ہوئی ہیں اس کا جواب کوئی ریاست نہیں دے سکتی۔ ان سب کے باوجود حیرت میں ڈال دینے کا یہ اعلان کہ ۸ بھاگے ہوئے بندیوں کو جن پولیس والوں نے قتل کیا ہے ان کو دو دو لاکھ روپے چوہان دیںگے اور اس اعلان کے ساتھ ہی انھوں نے سب کے گلے میں چادریں ڈالیں۔ لیکن اس وقت ان کا چ سے چہرہ کیسا ہورہا تھا ہم سے لکھا نہیں جارہا ہے۔
تازہ خبروں کے مطابق اس حادثہ کی تحقیقات ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کریںگے۔ اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ گئی بھینس پانی میں۔ 1993میں بمبئی میں دو ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے، ہزاروں زخمی ہوئے تھے اور سیکڑوں کروڑوں کا کاروبار یا لٹ گیا تھا یا جلا دیا تھا۔ بے ایمان کانگریس حکومت نے ایک ریٹائرڈ جج کو تحقیقات سپرد کردی۔ انھوں نے لکھاکہ ۹ سو سے زیادہ مسلمان قتل ہوئے اور2 سو کروڑ سے زیادہ کے کاروبار تباہ کردئے گئے۔ اور یہ سب بی جے پی، شیو سینا، بجرنگ دل،وشوہندو پریشد اور پولیس کے جوانوں نے کئے۔ وہ رپورٹ ممبئی میں ردی کی دکانوں پر مل سکتی ہے۔ اور جسٹس شاہ اپنا سر پکڑ کر رورہے ہیں۔ اس کے بعد سیکڑوں تحقیقاتی رپورٹوں میں ایک کا اور اضافہ ہوجائے گا اور بس۔ اگر کوئی تنظیم اسے مقدمہ بنا کر لڑے تو اس بیان سے پورا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ اے ٹی ایس کے آئی جی سنجیو شمی نے اعتراف کیا ہے کہ ان آٹھوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ جب جب ٹی وی پر زمین کا وہ ٹکڑا دکھایا جاتا ہے جہاں مقتولوں کی لاشیں پڑی ہیں تو وہاں دو کارتوس اور ایک کٹا 12 بوس کا بھی دکھایا جاسکتا ہے جو پولیس کی ذلیل فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اترپردیش کے ہر تھانے اور ہر کوتوالی میں پرانے زنگ آلود چاقو، چھوٹے موٹے ڈکیتوں سے چھینے ہوئے کٹے، چھرے، چھینی ہتھوڑیاں اور وہ سب سامان جو مارنے اور چوری ڈکیتی کی واردات کا الزام لگانے کے لیے ضروری ہو وہ سب محافظ خانہ میں رکھا جاتا ہے اور جس پر جو الزام لگانا ہو اس کے پاس سے برآمد دکھادیا جاتا ہے۔ اے ٹی ایس سب سے خطرناک اور مسلم دشمن فورس ہے۔ اس کا آئی جی جب کہے کہ ہتھیار نہیں تھے تو پھر الزام لگانے اور ہتھیار دکھانے والے سب جھوٹے ہیں۔
ایک بات جس کو ہم چیلنج کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ انھوں نے اوزار اور نقلی چابیاں بنالیں اور ا پنی چادر اور کمبل کو رسی بنا دیا اس کے لیے ہر بازی لگائی جاسکتی ہے کہ کسی بھی مشین آری ریتی اور سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہ چیزیں بنائی گئیں۔ لیکن اسے تسلیم کرسکتے ہیں کہ دیوالی کی رات میں بری طرح شراب پی کر سب نشہ میں دھت پڑے ہوں اور دروازے بند کرنے اور ڈیوٹی دینے کا ہوش ہی نہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو جیل میں اس رات جس جس کی جو ڈیوٹی تھی اے ٹی ایس کے اس آئی جی کی سرپرستی میں اس کی تحقیق کرائی جائے۔
ہم کو یکم اگست 1965کو جیل میں داخل کیا گیا تھا۔ تین مہینے کے بعد نومبر کی کسی تاریخ کو دیوالی تھی۔ تین مہینے میں ہم جیل سے اور جیل کے تمام بڑے چھوٹے افسر ہم سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ دیوالی میں ہر طرف شراب چل رہی تھی اندر اور باہر جو ابھی ہورہا تھا جو پیسوں سے تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ ہار جیت سے سال بھر کا شگن لیا جاتا ہے۔ ہمارا سب لحاظ کرنے لگے تھے۔ اس لیے ہر کام ہم سے ہٹ کر ہورہا تھا۔ لیکن اتنی نہیںپی گئی کہ بیرک کا تالا بند نہ کیا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ بھوپال کی سینٹر ل جیل میں کچھ زیادہ دوست مند بندی آگئے ہوں اور انھوں نے ا گر پانچ بوتلیں اپنے لئے منگوائی ہوںتو افسروں ا ور پہرے داروں کو بھی شرابور کردیا ہو۔ اور وہ ہ ع مفت کی پیتے تھے ہم اورکہتے جاتے تھے کہ ہاں۔
لکھنؤ میں مارچ 66ء میں جب ہولی آئی تو اس دن دوپہر میں کسی بیرک کا تالا بند نہیں ہوا۔ ڈپٹی جیلر تواری جی جو سب سے زیادہ مکروہ افسر تھے، اس دن انھوں نے ہر پابندی کو ختم کردیا تھا اور اعلان تھا جس جس چیز کی ضرورت ہو وہ ہم منگواکر دیںگے۔ جیل سے بنگلہ بازار شراب کی دوکان ایک کلومیٹر تھی۔ اس زمانہ میں ہولی میں شراب کی دکانیں بند نہیں ہوتی تھیں۔اس لیے ہولی دیوالی سے کہیں زیادہ نشہ میں چور تھی۔ ہوسکتا ہے بھوپال میں دیوالی میں زیادہ زور ہوتا ہو اور سب نشہ میں دھت ہو کر بھول گئے ہوں کہ یہ جیل ہے۔بہرحال کچھ بھی ہو وہ نہیں ہوسکتا جو بتایا جارہا ہے اور اگر کچھ بھی یعنی ایک فیصدی صرف وہ ہوسکتا ہے جو ہم نے لکھا ہے۔ اسی لیے ہم پھر چیلنج کرتے ہیں کہ جو بتایا جارہا ہے وہ چھٹے ہوئے بدمعاشوں سے کراکے دکھایا جائے کہ کسی مشین کے بغیر تسلہ پھاڑ کر خنجر بنایا جائے ا ور ریتی اور آری کے بغیر لکڑی کی ایسی چابی بنا کر دکھائی جائے جس سے تالے کھل جائیں اور ۸ کمبلوں اور ۸ چادروں کی رسی بنا کر چھوٹی دیوار ہی بھاندکر دکھا دی جائے۔35 فٹ کی آخری تو دور کی بات۔ اور کودتے ہی ان کو چار بندوقیں دے دی جائیں ا ور وہ جن کی جان کے دشمن سامنے ہوں وہ چار بندوقوں کے ہوتے ایک کو بھی نہ مار سکیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close