خصوصیسیاست

ڈاکٹر کفیل احمد: سچے کا بول بالا اور جھوٹے کا منہ کالا

ڈاکٹر سلیم خان

2 اکتوبرایک زمانے تک گاندھی اور شاستری  جینتی کے طور پر مشہور تھا لیکن  اب سوچھتا ّ د یو س  یا صحت عامہ  کا دن کہلاتا ہے۔ اس سال یوم صحت کے موقع پر  اچانکاتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو  اپنا پرانا پاپ یاد آگیا۔ اپنے احساس جرم پر قابو پا نے کے لیے انہوں نے  پچھلی حکومتوں کو موردِ الزام  ٹھہراتے ہوے فرمادیا  کہ ریاست میں 1977 سے 2017 تک جن پارٹیوں کی حکومت رہی، ان لوگوں نے انسفلائٹس پر روک لگانے کے لئے کچھ نہیں کیا، نتیجتاً پچھلے 40 سال میں  تقریباً 50 ہزار بچوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ اس دورانیہ میں    دس سال تو کانگریس نے حکومت کی اور تیس سال غیر کانگریسی وزیر اعلیٰ رہے۔ اس طرح اگر یوگی جی  کی اس غلط بات کو صحیح  بھی  مان  لیا جائے تو کانگریس صرف بارہ ہزار پانچ سو بچوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ وہ بھول گئے کہ  2019 تک   یوگی جی کے ڈھائی سال ملا لیے جائیں تو  اس بیچ ساڑھے سات سال بی جے پی نے بھی حکومت کی ہے۔ اس طرح  تقریباً 10 ہزار بچوں کی ہلاکت کے لیے خود  ان کی اپنی پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ کسی نے کچھ نہیں اس بات کو اگر درست مان بھی لیا جائے تو جو ناروا سلوک  سچ  یوگی سرکار نے بچوں کےمسیحا  (ڈاکٹر کفیل احمد  )کے ساتھ کیا تھا وہ تو کسی حکومت نے چار ہزار سالوں میں نہیں کیا ہوگا۔

19 مارچ 2017سخت گیر ہندو نظریات کے حامل ناتجربہ کار یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کی کمان سونپ دی گئی۔ ان کےساتھ کیشو پرساد موریہ اور دنیش شرما  جیسے نااہل لوگوں کو نائب وزرا اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اس طرح ووٹ بنک کے پیش نظر   اہلیت اور صلاحیت کے بجائے ذات پات کی بنیاد پر ایک  راجپوت (یوگی)، برہمن (دنیش) اور او بی سی (کیشو) صوبے  کی اہم ترین ذمہ داریوں  کو تقسیم کیا گیا۔ ان لوگوں کے پہلے پانچ ماہ تو اوٹ پٹانگ اعلانات میں گزر گئے اور پہلا امتحان اس وقت آیا جب 10 اگست کی شب وزیر اعلیٰ کے شہرگورکھپور کے بی آرڈی کالج میں دماغی بخار  سے 72 بچوں کی موت ہوگئی۔ 10اگست کی رات 2بجے  ڈاکٹر کفیل کو اسپتال کے ملازمین نے آکسیجن کی کمی کے سلسلے میں فون کیا تو وہ رات بھر  میں  انہوں نے  شہر کا چکر کاٹ کر نجی اسپتالوں کے اپنے دوست ڈاکٹروں کی مدد سے انہوں نے 12آکسیجن سلنڈرز کا انتظام کیا۔ ان سلنڈروں کی ادائیگی کفیل نے اپنی جیب سے کی۔ اس طرح وہ راتوں  رات کو ہیرو کے طور پر ابھرے اور بچوں کے والدین سے لے کر  سیکورٹی فورسز تک سبھی ان کی تعریف میں رطب اللسان  ہوگئے۔

اس بیش بہا خدمت کا انعام  یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ دیا کہ  اسپتال کے پيڈياٹرك ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر اور انسیفلائٹس وارڈ کے سربراہ ڈاکٹر کفیل احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ان پر  الزام  لگایا کہ انہوں نے سلنڈر اپنے پرائیویٹ اسپتال سے اکٹھا کئے تھے۔ طبی ایجوکیشن کے ڈی جی کےکے گپتا  نے ڈاکٹر احمد کے پرائیویٹ پریکٹس کی طرف بھی اشارہ کیا۔ اس کے برعکس  مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی کے افسر تعلقات عامہ اوپی ساہو نے بتایا کہ  ’10 اگست کی رات کو بی آر ڈی کالج میں انتہائی خوفناک صورتحال تھی۔ ڈاکٹر احمد نے ایس ایس بی کے ڈی آئی جی سے ایک ٹرک کا انتظام کرنے کیلئے کہا تھا تاکہ مختلف جگہوں سے آکسیجن سلنڈر جمع کر کے میڈیکل کالج لے جایا جا سکے۔ اس پر ڈی آئی جی نے میڈیکل ونگ کے 11 جوانوں کو بھی مدد کے لئے میڈیکل کالج بھیجا۔ گھنٹوں تک ٹرک سے مختلف جگہوں سے سلنڈر جمع کئے گئے تاکہ معصوم بچوں کا علاج کیا جاسکے۔ ڈاکٹر احمد پر لگایا جانے والا عصمت دری  کا الزام ذرائع ابلاغ میں آیا جبکہ  یہ الزام 2015 میں جھوٹا ثابت ہوچکا  تھا۔

یہ سارا ناٹک نفسِ مسئلہ  سے توجہ ہٹانے کے لئے کیا گیا تھا ؟ اس کے باوجود بغض و عناد کے شکار یوگی  نے 2 ستمبریعنی عیدالاضحی کے دنڈاکٹر کفیل احمد کو  لاپروائی کے الزام میں گرفتار کروادیا۔ اس  معاملے میں میڈیکل کالج کے پرنسپل کے علاوہ دیگر   9 افراد کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ظلم و جبر کے خلاف سب سے پہلے ڈاکٹر کفیل احمد نے صدائے احتجاج بلند کرنے کی جرأت کی اور سب سے پہلے ان کو ضمانت پر رہائی بھی ملی۔ اس کامیابی کے9 ماہ بعد جون 2018 میں   ڈاکٹر کفیل کو ہراساں کرنے کے لیے یوگی ادیتیہ ناتھ کے مندر کے سامنے ان کے بھائی کاشف جمیل  پر جان لیوا حملہ ہوا۔ کاشف پر تین گولیا چلائی کئیں مگر وہ بال بال بچ گئے۔ اس جبرو استبداد کے باوجود ڈاکٹر کفیل نہ ڈرے اور نہ جھکے بلکہ سارے ملک کا دورہ کرکے یوگی ادیتیہ ناتھ کے خلاف  محاذ کھول دیا۔ اس دلیری  کی قدر دانی کرتے ہوئے 21 دسمبر2018 کو  لدھیانہ میں  ہیومن رائٹس پرٹییکشن کونسل  کی جانب سے  انسانی حقوق کا دن مناتے ہوئے ڈاکٹر کفیل احمد کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس ضمن میں منعقد ہونے والی تقریب  میں ملک کے مختلف حصوں سے حقوق انسانی پر کام کرنے والے کارکنان نے حصہ لیا۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس کونسل پنجاب کے تمام عہدیدران بھی  موجود تھے۔

11مئی 2019  کو مفاد عامہ میں داخل کی گئی ایک  عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ مقرر وقت پر جانچ مکمل کرکےڈاکٹر کفیل احمد خاں کی تنخواہ  بحال کرے۔ جسٹس کشن کول او رجسٹس اندرا بنرجی والی دو رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران  ڈاکٹر کفیل نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچو ں کے وراڈ میں ان کی ڈیوٹی نہیں تھی لیکن انہوں  نے انسانیت کے ناطے آکسیجن کا انتظام کیا تھا۔ اس کے باوجود  دوسرو ں کی غلطی کی انہیں سزا دے کر خدمات سے معطل کردیاگیا۔ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ  چل رہا ہے مگرریاستی حکومت تعاون نہیں کررہی ہے۔ عدالتِ عظمی ٰ  نے اترپردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ7/ جون 2019ء تک ڈاکٹر کفیل احمد کی جانچ مکمل کرلیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ  حکم  بھی دیا کہ کفیل احمد کی تنخواہ  بحال کردی جائے۔ یہ دراصل یوگی سرکار کی گال پر ایک زناّٹے دار طمانچہ تھا۔

یوگی سرکار کا دوسرا گال اس وقت لال ہوگیا جب ایک بےبنیاد الزام میں 9 ماہ جیل کے اندر  گزارنے والے ڈاکٹر کفیل احمد  کو بے قصور قرار دے کر تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ یوگی  حکومت کی  محکمہ جاتی جانچ  نے یہ تسلیم کرلیا  ہےکہ اسپتال میں بچوں کی موت کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ 15 صفحاتی  رپورٹ میں انہیں نہ صرف  لاپروائی کے الزام سے بری کیا گیا بلکہ  بچوں کا مسیحا کہا گیا ہے۔ الزامات کو مسترد کرنے والی رپورٹ  کی کاپی تو انہیں بھیج دی گئی ہے لیکن ہنوز  معطلی کو ختم نہیں کیا گیا ہے۔ اس  طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا لیکن اس دودھ میں پانی ملانے والی سرکار اور زہر ملانے والے ذرائع ابلاغ کو بھی قرار واقعی سزا ملنی چاہیے جس نے راتوں رات  ایک ہیرو کو  ولن بنا دیا تھا۔ یوگی حکومت نے اپنی اس  رسوائی کا اعتراف کرنے کے بجائے انتقام کے جذبے سے معطل ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف بدنظمی، بد عنوانی اور فرض کی ادائیگی میں شدید لاپروائی کے الزامات پر نئی جانچ  کا حکم دے دیا ہے۔ اس بابت  چیف سکریٹری(طبی تعلیم)رجنیش دوبے نے کہا  کہ ڈاکٹر کفیل کو کسی نے کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ابھی کسی بھی شعبہ جاتی کارروائی میں آخری فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ  بھی ہے کہ  اس جبر کے خلاف کشمکش کرنے والے کفیل احمد سےتو ساری دنیا واقف  ہے لیکن چپ چاپ ظلم سہنے والے ڈاکٹروں کا نام اور حال کوئی نہیں  جانتا۔ ویسے امید ہے کہ جب  بھی آخری فیصلہ آئے گا تویوگی سرکار پھر ذلیل وخوار  ہو گی۔ سچے کا بول بالا ہوگا اور جھوٹے کا منہ کالا ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close