خصوصیہندوستان

کسے کہیں ہم اپنا اور جائیں کدھر؟

ملک میں موجود ساری مذہبی اور سیاسی قیادتوں نے آج تک بھگتی کو بڑھاوا دینے سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔

رمیض احمد تقی

ہندوستان کے موجودہ سیاسی و مذہبی پس منظر میں ہم کسے اپنا کہیں اور کب کوئی اپنا ہی پشت میں خنجر میں ڈال دے، یہ طے کرنا اب تقریباً ناممکن سا لگتا ہے۔ ہمیں اپنوں نے؛ بلکہ جن کے سروں پر ہم نے اپنے محافظ اور قائد و رہنما کا تاج سجایا تھا، سماجی ومعاشی، سیاسی اور مذہبی سطح پر جتنا ان لوگوں نے ہمیں دِق پہنچایا ہے، اتنا اغیار کو بھی ہمارے قریب پھٹکنے کی جرات نہیں ہوئی۔ آج ہمارا پورا معاشرہ جن نا مساعد حالات سے دوچار ہے، ان کے پس پردہ انہی عاقبت نا اندیشوں اور سیاست کم فہموں کی نا اہلی اور بددیانتی کارفرما رہی ہیں۔ ایک بار نہیں، ہر بار یہ اور ان کے نام نہاد بھگتوں نے شریعت کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو رسوا و بدنام کیا ہے؛بلکہ اُن بھگتوں نے اپنے قائدین کی بے جا حمایت میں خلافت و ملوکیت میں انھیں سکندرِ اعظم، حسن و کمال میں جمال یوسفی کا حامل اور حسب و نسب میں انھیں انبیا کے قائم مقام بنا دیا۔ تاریخ انسانی میں بھی انسانی اقدار کی پامالی میں اُن بھگتوں کا رول ہر دور اور ہر مذہب و فکر میں یکساں ہلاکت خیز اور تباہ کن رہا ہے۔ بھگتی دراصل وہ زہریلا اور مسموم لفط ہے، کہ جس پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے، نہ صرف یہ کہ وہ اس کو تباہ و برباد کردیتا ہے، بلکہ اس قوم سے سچ سننے اور جھوٹ کو رد کرنے کی قوتِ فہم اور منکر و معروف کے ادراک کے احساس کو سلب کردیتا ہے، اور ہمارے یہ قائدین ِمذہب و سیاست نے رجال کار کے ذریعے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی بجائے اب تک صرف اور صرف بھگتوں کو پیدا کیا ہے،جنہوں نے نہ صرف یہ کہ مسلم قوم کی صحیح اور سچی تصویر کو مسخ کیا،بلکہ معمولی فکری اختلاف کی بنیاد پر اپنوں کا گلہ گھونٹ دیا!

    آج پورے ملک میں مسلمان جن سیاسی وسماجی اور مذہبی بحران کے شکار ہیں،اس زبوں حالی کے ییچھے بھی دراصل انہی جاہل اور بد باطن بھگتوں کے دوش پر استوار نام نہاد مسلم قیادتیں رہی ہیں، اور میں پورے دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ملک میں موجود ساری مذہبی اور سیاسی قیادتوں نے آج تک بھگتی کو بڑھاوا دینے سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ یہ جو رفاہی اور ملی خدمات کے نام پر کچھ شور و غوغا سنائی دیتے ہیں، تو وہ دراصل انھی بھگتوں کے گیت ہیں، جن میں حقیقت معمولی اور حددرجہ کی احمقانہ عقیدت مندی ہے۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے کیا کم سیاسی اور سماجی مسائل ہیں، جو ان بھگتوں نے اپنے قائدین کی بے جا حمایت میں مسلمانوں کو مزید دوسرے باہمی سنگین مسائل میں الجھنے پر مجبور کردیا۔ صد افسوس قوم و ملت کے ان ٹھیکہ داروں پر،جنھیں اپنے بھگتوں کی جھوٹی تعریف کے سوا امت کے صحیح احوال و اخبار کا احساس نہیں ہوتا. بہت دکھ ہوتا ہے اور بڑی گھٹن محسوس ہوتی ہے، جب مذہبی و سیاسی کوئی بڑا قدآور رہنما ایسی ویسی بات کہہ دیتا ہے، جس سے امت کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا!

     اولا تو ہمیں ہمیشہ ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کی قیادت کی کمی کا شدت سے احساس رہا ہے، مگر جب بھی کوئی اس احساس کو لے کر کھڑا ہوا تو ہمارے انہی سیاسی بصیرت نہ رکھنے والے قائدین اس کے راستہ کا کانٹا بنے۔ اِس وقت ملک میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی کل گیارہ سیاسی پارٹیاں ہیں، جن میں انڈین یونین مسلم لیگ کیرلہ، مجلس اتحاد المسلمین آندھراپردیش اور آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام تین انتہائی مشہور مسلم سیاسی پارٹیاں ہیں،مگر اس کو ہماری ستم ظریفی ہی کہیے کہ کبھی تو ہم نے خود ملک کی مسلم دشمن سیکولر اور غیر سیکولر سیاسی پارٹیوں کی حمایت میں ان مسلم سیاسی جماعتوں کا راستہ روکا،تو کبھی ہمارے نام نہاد مذہبی قائدین پوری شدت سے ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صدا لگائی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جمعیت علمائے ہند (الف) کے ذمہ داروں نے آسام کے اسمبلی الیکشن میں وہاں کی مشہور مسلم سیاسی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کو سیاسی سطح پر کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں رکھا، اور ابھی حالیہ چند دنوں پہلے کی بات ہے کہ جمعیت علمائے ہند (م) کے جنرل سیکرٹری مولانا محمود مدنی صاحب نے مسلمانوں کی مشہور سیاسی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے قائد بیرسٹر اسد الدین ویسی کے خلاف یہ بیان دیا کہ وہ ان کو ہندوستانی مسلمانوں کے قائد نہیں بننے دیں گے، وہ حیدرآباد تک خود کو محدود رکھیں۔ ممکن ہے مولانا اپنے دیگر رفاہی اور ملی کاموں میں مخلص ہوں، مگر یہاں ان کے اس بیان سے ان کا اخلاص یقیناً مشکوک نظر آتا ہے۔ نیز ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ اسد صاحب امت کے بہت بڑے خیر خواہ ہیں؛ کیوں کہ بہار کے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں مسلم اکثریت علاقوں میں اپنے امیدوار کھڑا کراکر جہاں انھوں نے بی جے پی کے لیے راستے ہموار کیے،تو وہیں ہیرہ گولڈ کمپنی کی مالکن نوہیرہ شیخ کو عرش سے فرش پر دے مارنے اور ان کی اسیری تک کی ساری کہانیاں بھی خود مسٹر بیرسٹر کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں۔اس کے باوجود ان کے بارے میں مولانا مدنی کا مذکورہ بیان ان کی سیاست کم فہمی اور قوم و ملت کے تئیں ان کے اخلاص کو آئینہ دیکھاتا ہے،اور آزاد ہندوستان کی ستر سالہ تاریخ میں یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے، جب قائدین باہم دست و گریباں ہوئے ہیں، بلکہ ان کی انھی حرکتوں سے اغیار کو شہ ملا اور انھوں نے ہر مجال میں مسلم بستیوں پر شب خوں مارا۔

     اسی طرح گزشتہ چند سالوں سے مولانا سعد صاحب کے بھگتوں نے جس طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ہے اور جس طرح مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو پاش پاش کرنے کی شرمناک حرکت کی ہے، بلاشبہ اس سے مولانا سعد صاحب کا اصل کردار بھی ابھر کر عوام کے سامنے آتا ہے،کہ ان کے پیش نظر سب سے زیادہ اہم فریضۂ دعوت و تبلیغ ہے یا امارت۔لاریب اس دعوت و تبلیغ کی محنت سے پوری دنیا میں لاکھوں کروڑوں انسان نے اپنا خرمنِ دل روشن کیا،ہزاروں گم گشتہ رہوں کو صراط مستقیم پر چل کر منزلِ مقصود کا پتہ ملا اور سیکڑوں نفوس فوز و فلاح کی معراج تک پہنچیں،مگر صرف ایک شخص کی ہٹ دھرمی اور بے جا اصرار سے پوری دنیا میں اس کو رسوا و بدنام بھی ہونا پڑا. مجھے یہ کامل یقین ہے کہ آج مولانا سعد صاحب اپنے جن شر پسند بھگتوں کے دوش پر سوار ہوکر ان کی فتنہ پردازیوں سے بے خبر اپنی زندگی میں مست ومگن ہیں، اللہ عزوجل کے دربار میں وہ اپنی اس عمداً یا سہواً حرکت شنیعہ کے ضرور جواب دہ ہوں گے۔

    یہاں کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات ضرورآسکتی ہے کہ ان اکابرین کی شان میں اس طرح کی سخت کلامی ان کی گستاخی اور توہین ہے، تو معاف کیجیے گا، یہ گستاخی نہیں ہے، بلکہ زندہ قوموں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے قائدین کا شدید محاسبہ کریں، اور ایسے رہنماؤں کو پوری طرح رد کریں جنہوں نے کم عقلی، یا بد دیانتی اور سیاسی غیر شعوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ کسی موقع پر ایک شخص نے حضرت عمر فاروق کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ اے عمر اللہ سے ڈر!‘ حاضرین میں سے ایک نے اس کو ٹوکا کہ بہت ہوا، بس اب رہنے بھی دے، تو میرے ماں باپ حضرت عمر فاروق پر قربان جائیں،کہنے لگے کہ اس کو مت روکو اس کو جو کہنا ہے کہہ لینے دو،اگر یہ لوگ نہ کہیں تو بے مصرف ہیں،اور ہم لوگ نہ مانیں تو ہم بے مصرف ہیں ۔ نیز حضرت عمر ہی کا ایک دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ انھوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے لوگوں جب تم میرے اندر کوئی غلطی دیکھو تو اس کی اصلاح کر دینا۔اُس وقت حاضرین میں سے کسی نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم تلوار کی نوک پر تمہاری اصلاح کریں گے،تواس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسی امت میں پیدا فرمایا، جو عمر کی غلطیوں کی نشاندہی اپنی تلوار سے کرے۔ ہرچند کہ اخیرالذکر واقعہ روایتاً ضعیف ہے،تاہم اس حقیقت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں کہ قائدین کے تعلق سے ہماری اسی بے باکی اور جرات مندی کی ہماری تاریخ رہی ہے. نیز اپنے قائدین و رہنماؤں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے رہنا خود ان پر ہمارا احسان اور ان کے تئیں ہماری محبت اور اظہارِ ہمدردی ہے،نہ کہ محض نکتہ چینی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close