خصوصیسیاست

کشمیر تو اور میں ہوں گجراتی

جموں کے رائے دہندگان نے اگر عقل کا استعمال کیا تو بی جے پی اس  کی بڑی قیمت چکا نی پڑے گی۔

ڈاکٹر سلیم خان

شاہ رخ کی آخری سپر ہٹ چنائی ایکسپریس  اور شاہ جی کی پہلی سپر فلاپ ہِمساگر ایکسپریس میں کشمیر مشترک ہے۔ اس سے پہلے کہ سرینگر سے نکل   احمد آباد ہوتے ہوئے ہِمساگر ایکسپریس  کنیا کماری پہنچتی تروپتی میں چندرابابو نائیڈو نے اس کو پنکچر کردیا  اور کمل کو اپنے گھر سے نکال دیا۔( بی جے پی نے کشمیر کے معاملات آندھرا کے رہنے والے رام مادھو کے حوالے کررکھے ہیں۔ اس کے بجائے اگر انہیں آندھرا پردیش کی ذمہ داری سونپی جاتی تو شاید آندھرا میں بھگوا پرچم نذرِ آتش نہ ہوتا)۔ شاہ جی نے گاڑی کا رخ کرناٹک کی جانب موڑا تو وہاں کمار سوامی نے سرخ اشارہ دے دیا۔  ناکام و نامرادہِمساگر ایکسپریس  سمندر کو چھو کر ہمالیہ کے پاس پہنچی تو سرینگرمیں  ہڑتال تھی اس لیے کہ مودی جی دورہ فرمانے والے تھے۔ کشمیر سے واپس آنے کے بعد مودی جی نے اپنی پتنی  جسودھا بین کی طرح  محبوبہ  مفتی سے بھی رشتہ توڑ لیا۔ اس طرح   کشمیر اورگجرات  کے درمیان پروان چڑھنے والی داستان عشق  نے دم توڑ دیا  اور چنئی ایکسپریس کے نغمہ کو دوبارہ لکھنے کی نوبت آگئی۔’ کشمیر تو، اورمیں ہوں گجراتی،  بی جے پی نےپی ڈی پی کوترشول دےماری‘۔ اور اسی کے ساتھ  امیتابھ  بھٹاچاریہ کی سطریں اس موقع پرستانہ ٹھگ بندھن پر ہو بہوصادق آگئیں؎

تیرا میرا، میرا تیرا، تیرا میرا، میرا تیرا،  قصہ اترنگی

کبھی کبھی چلتی ہے، کبھی کبھی رکتی  کہانی بے ڈھنگی

مودی جی نے  حال میں  جموں کشمیر کے اندرایشیا کی سب سے بڑی سرنگ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا  تھا ’ترقی ہی حل ہے‘۔ وہ بھول گئے کہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا نشان ہل ہے۔ وہ وادی میں  ہل چلاکر اپنا سیاسی کھیت  ہموار کرتی ہے۔  مودی جی کی  دہلی واپسی کے بعد راجناتھ سنگھ نے ۱۱ ہزار پتھر باز نوجوانوں کے اوپر سے مقدمات واپس لے لیے حالانکہ ان کا قائم ہونا ہی غلط تھا۔ رمضان کی جنگ بندی کا خاتمہ ہونے لگا تو محبوبہ نےاسے امرناتھ یاترا تک توسیع دینے   کی تجویز رکھی لیکن  بی جے پی  نے اسے منظورکرنے کے بجائےپی ڈی پی کے ساتھ اپنی  یاترا  کا انت کردیا۔  ایک زمانے میں امیت شاہ کا اشومیگھ  یکے بعد دیگرے مختلف ریاستوں پر گیروا پرچم لہرا رہاتھا۔ اس دوران جموں کشمیر میںبی جے پی صرف ۳ نشستوں کے فرق سے پچھڑ گئی۔ دوسرے صوبوں میں تو بی جے پی کے لیے ارکان اسمبلی کو خرید کر حکومت بنانا کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن جموں کشمیر میں وہ اس کوشش میں ناکام  رہی۔

مفتی محمد سعید پر پہلے تو دباو بنایا گیا کہ مخلوط سرکارکا وزیر اعلیٰ بی جے پی سےہو لیکن وہ نہیں مانے تو تین ماہ بعد بی جے پی والے  نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر راضی ہوگئے۔ مفتی صاحب کی موت  کے بعد شاہ جی  نے  سوچا کہ اب  اپنا وزیراعلیٰ مسلط کرنے کا نادر موقع ہے لیکن پھر ناکامی ہوئی اور  بالآخر تین ماہ بعد محبوبہ مفتی کے زیر قیادت حکومت میں شامل ہونا گوارہ کرلیا  گیا۔ اس سے صوبے کے اندر امن و امان یا ترقی و خوشحالی کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کشمیر ی معیشت کا بڑا دارومدار سیاحوں پر ہے۔ اس سال ہوٹل والوں نے ۷۰ فیصد تک  چھوٹ دی اس کے باوجود ۹۵ فیصد کمرے خالی پڑے رہے۔ اس عرصے میں ۶۰۰ فوجی مارے گئے سرحد پران  ۵ ماہ میں ۱۰۰۰ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی جس سے کشمیر میں امن و سلامتی کی صورتحال کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس تناظر  میں یکم مارچ کو جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دہلی میں آکروزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکےریاست کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ریاست میں مخلوط حکومت کے اتحاد اور مشترکہ پروگرام کی یاددہانی کراتے ہوئے پائیدار امن  کی خاطرتشدد اور غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے پر زوردیا۔میٹنگ میں باہمی اشتراک وتعاون سے عوام کو استفادہ پہنچانے پر اتفاق کیا گیا۔اس نشست میں مخلوط حکومت  کے خلاف بی جے پی رہنماؤں کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے پریشانی جتائی گئی لیکن اس کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔کشمیر اسمبلی میں وزیر صنعت پرکاش چندر گنگا نے اعلان کردیا کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ کشمیر میں احتجاج  اور پتھراو کرنے والوں کا بہترین علاج گولی ہے‘‘۔

وزیر موصوف کے اس بیان پر ہنگامہ ہوا تو انہوں نے دل آزاری کے لیے معافی مانگ لی لیکن  بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے یہ کہہ کر اس کی توثیق کردی کہ ’’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘‘۔ اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر حزب اختلاف اور حریت تو دور پی ڈی پی والے بھی صبرو ضبط نہ کرسکے اور بی جے پی کے وزراء کی حلف برداری کا  بائیکاٹ کیا۔وزیر تعلیم الطاف بخاری نے کہا ہے کہ رام مادھو نے حقوق انسانی کی صریحاًخلا ف ورزیوں کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔ گولیوں سے دنیا میں صرف تباہی مچی ہے اور کچھ مقامات پر عارضی امن قائم ہو سکا ہے لیکن گولی سے نظریات کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ بات ناقابلِ فہم  ہے کہ مادھو کس کے کیخلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں، کیایہ کشمیریوں کے خلا ف ہے؟ یا ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ووٹ بنک کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ سیاسی شعبدہ بازی کی جارہی  ہے۔ کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنانا اور اسے توڑنا دراصل  ۲۰۱۹؁ میں ہندورائے دہندگان کا نفسیاتی استحصال کرکے ان کا ووٹ ہتھیانے کی ایک سازش ہے۔۔

عام طور پر صوبائی حکومت کی مرضی کے خلاف مرکزی حکومت گورنر راج نافذ کردیتی ہے لیکن جموں کشمیر میں حکومت کے اندر شامل ایک دھڑے نے خود اپنی ہی حکومت سے صدر راج کی سفارش کرکے اپنی ناکامی کو تسلیم کرلیا ہے۔ اس قدر ذلت و رسوائی کے بعد ہاتھ آنے والی حکومت سے بی جے پی کیوں دستبردار ہوگئی؟ اس  سوال کا اصلی جواب رام مادھو یا امیت شاہ نے نہیں بلکہ سبرامنیم سوامی نے دیا۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ محبوبہ مفتی کے ساتھ حکومت بنانا ایک جوا تھا    مگر یہ بازی بی جے پی  ہار گئی۔ وہ بولے’’ڈوگرا سماج ہمارے خلاف ہوگیاہے۔ ہم اگر اب بھی اس حکومت میں شامل رہتے تو ساری سیٹیں ہار جاتے۔ سوامی نے اپنے  ٹویٹ میں لکھا کہ رام مادھو نے پی ڈی پی،بی جے پی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے لئے رام مادھو اور ڈوبھال کے علاوہ کون ذمہ دار ہے؟ کشمیر میں ناکامی کو ٹی وی پر تسلیم کیا گیا۔فراق  کے ان غمگین  لمحات میں  محبوبہ مفتی پر شاہ رخ  کی دل والے فلم کا یہ نغمہ صادق آتا ہے؎

دھوپ سے نکل کے، چھاوں میں پھسل کے ہم ملے جہاں پر لمحہ تھم گیا

دنیا بھلا کے تم سے ملی ہوں، نکلی ہے دل سے یہ دعا، رنگ دےنہ موہے گیروا

بی جے پی  اپنی تمامتر کوشش کے باوجود پی ڈی پی کو تو زعفرانی رنگ میں نہیں رنگ سکی لیکن چار سال مکمل ہونے پر کارناموں کی فہرست میں  مسلم  خواتین کے لیے طلاق ثلاثہ کے قانون کا ذکرضرورکیاجس میں تین طلاق دینے والے کے لیے تین سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ایک ساتھ  نباہ کرنا مشکل ہوجائے  طلاق دی جاتی ہے۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ تعلق منقطع کرنے کا جواز یہ پیش کیا کہ ساتھ نبھانا ناممکن ہوگیا تھا لیکن اس صورت میں ساڑھے تین سال  ساتھ رہنے کے بعد الگ ہوتے وقت شریک سفرکو بتانےتک  کی زحمت  نہیں کی گئی۔ محبوبہ کوطلاق کی اطلاع گورنر سے ملی۔ امیت شاہ نے کٹھور ساس کی مانند ارکان کو دہلی بلاکرطلاق دینے پر مجبور کیا۔ وزیراعلیٰ کو استعفیٰ دینےکی  اخلاقی و آئینی ذمہ داری کا  پاس ولحاظ نہیں کیا گیا۔ ٹی ڈی پی کے اکثر لوگوں کو اپنا گھر اجڑنے کی خبرٹیلیویژن سے ملی۔ اس ظلم کے لیے کوئی حکومت قانون نہیں بناتی لیکن عوام انتخاب کے دوران اس کاارتکاب کرنے والوں  کو سزا  ضروردیتے ہیں۔ جموں کے رائے دہندگان نے اگر عقل کا استعمال کیا تو بی جے پی اس  کی بڑی قیمت چکا نی پڑے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close