خصوصیمذہبی مضامین

کم سنی کی شادی اور اسلام : ایک تجزیا تی مطالعہ

ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی

 آج ہم اس عظیم شخصیت کے فکری تنوع اور علمی کارنا موں کااعتراف کرنے اوران کے ذریعہ فراہم کردہ اسبا ق کا آموختہ دوہرانے اوران فکری تحریروں کی عصری معنویت کا جائزہ لینے، ایک تعمیری اور مثبت مقصد کے تحت اس تاریخ ساز شہر میں جمع ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس عظیم شخصیت، صاحب نگاہ و بصیرت مولانا سلطان احمد مرحوم کا اختصار کے ساتھ تعارف پیش کردیا جائے۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی ایک بے باک، مخلص، صاحب طرز اور دور اندیش عالم دین تھے۔ وہ ہندوپاک کے ایک معروف محقق ومصنف تھے۔ انہوں نے ہمیشہ متنوع اور اچھوتے موضوعات پر کام کیا اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی وتحقیقی موتیاں بکھیرتے رہے۔ مولانا موصوف بلند پایہ علمی سوچ کے حامل تھے۔ وہ روایتی رکھ رکھاؤ، سطحی تحقیق اور پرانی چیزوں کو پھر سے دہرانے کے قائل نہیں تھے۔

مولانا سلطان اصلاحی26فروری 1950ء میں اعظم گڑھ (یوپی) کے ایک گاؤں بھور مئو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایک قریبی مدرسہ سے حاصل کی، اس کے بعد مشہور ومعروف دینی درسگاہ مدرسۃ الاصلاح میں داخلہ لیا، جہاں سے 1971ئمیں فضیلت کی سند حاصل کی۔ ان کی طالب علمانہ زندگی علم وفکر کی جستجو میں نہایت متحرک رہی اور ان کے زمانہ طالب علمی میں ہی ان کے اساتذہ نے ان کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ مستقبل میں یہ نوجوان منفرد کام کرے گا۔ مولانا موصوف اصلاح سے فارغ ہونے کے بعد علم کی مزید پیاس بجھانے کے لیے علی گڑھ تشریف لائے یہاں انہوں نے پہلے یونیورسٹی سے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی سے اپنا علمی وتحقیقی سفر شروع کیا جو2008ئتک جاری رہا۔ ادارہ تحقیق وتصنیف کا نام علم وتحقیق کی دنیا میں بلند اور روشناس کرانے میں مولانا موصوف کا اہم کردار رہا ہے۔

مولانا سلطان اصلاحی کو سماجی مسائل پر گہری نظر وبصیرت حاصل تھی اور یہ ان کا پسندیدہ موضوع بھی تھا۔ انہوں نے25 کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں اسلام ایک نجات دہندہ تحریک، اسلام اور آزادی فکر وعمل، مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار، اسلام کا تصور جنس،مشترکہ خاندانی نظام اور اسلام، پردیس کی زندگی اور اسلام، کمسنی کی شادی اور اسلام، بندھوامزدوری اور اسلام، بچوں کی ضرورت، امت مسلمہ کاکردار، جدید ذرائع ابلاغ اور اسلام، چند شاہکار کتابیں ہیں۔

زیر نظر مضمون میں مولانا موصوف کی کتاب ’’کمسنی کی شادی اور اسلام ‘‘پر کچھ باتیں رکھنی ہیں۔ اس اہم علمی تحریر سے کچھ استفادہ کرنا ہے۔مرحوم کی دور رَس فکری بصیرت پر انہیں ممنون خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔مولانا مرحوم نے اس موضوع پر طوالت اختیار کرنے اور اسے دائرۃ المعارف بنانے سے گریز کرتے ہوئے چند صفحات میں ہی اپنی ساری باتیں کہہ دی ہیں، جس سے ایک قاری کا اِن چند صفحات کے مطالعہ سے ہی ذہن صاف ہوجاتا ہے۔ اسلام نے عمومی طور پر شادی کے لیے بالغ و عاقل عمر ہونے کو ہی راجح اور زن وشو کے لیے معاشرتی اور طبی نقطہ نظر سے بہتر قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام کے ابتدائی ادوار میں بھی جب جہالت عام تھی اور جہل و ظلمات کو ختم کرنے کے لیے زمین کی پشت پر خالق کائنات نے مذہب اسلام کے ساتھ انسانیت کے سب سے عظیم محسن جناب محمدرسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا تھا۔اس زمانے میں اہل سلام کے یہاں یہ رواج انتہائی شاذ تھا، چنانچہ آج تاریخ وسیرت کی کتابوں میں یہ انگلیوں پر گننے کے برابر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسلام نے کم سنی کی شادی کی اجازت دیتے ہوئے بھی اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کم عمری میں شادی ہونے کے باوجود مباشرت یا ہم بستری کا عمل اس وقت تک ٹالا جائے گا جب تک ایک لڑکی عورت نہیں بن جاتی۔ یہاں طبی، معاشرتی اور سماجی اعتبار سے اسلام نے کسی مجبوری کی صورت میں کم عمری میں شادی ہوجانے کے باوجود عمل مجامعت کو کئی شرطوں کے ساتھ باندھ دیا ہے۔تاکہ لڑکی کی زندگی تباہ نہ ہو اور شادی کے بعد اس کی زندگی خوشگوار مستقبل کے سامان فراہم کرنے کے بجائے تباہی و خسران کا حصہ بننے سے بچ جائے۔ مولانا مرحوم کے قلم سے اس کی توضیح کچھ اس طرح پیش کی گئی ہے:

اسلام فطری دین ہے،بسا اوقات خاندان اور نابالغ لڑکی کے مصالح کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کی شادی کم سنی ہی میں کردی جائے۔سورۂ طلاق کی آیت جس میں خاص طرح کی عدت کی مدت کا بیان ہوا ہے،کم سنی کی شادی کے جواز کے بارے میں صریح ہے۔

واللئی یئسن من المحیض من نسا ئکم ان ارتبتم فعدتہن ثلاثۃ اشہر والّٰئی لم یحضن۔  (الطلاق :4)

ترجمہ: اور تمہاری عورتوں میں سے جو (عمر کی زیادتی کے باعث)حیض سے مایوس ہوچکی ہوں۔ اگر تم کو شک ہو تو (طلاق کے بعد )ان کی عدت تین ماہ ہے۔اسی طرح وہ عورتیں بھی جنہیں کم سنی کے باعث حیض نہ آ یا ہو(ان کی عدت بھی تین ماہ ہے)۔ (کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ7تا8)

اس آیت کریمہ میں عدت کی تفصیل پیش کرتے ہوئے والّٰئی لم یحضن کہہ کر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ کبھی حالات ایسے بن سکتے ہیں کہ شادی کم عمری میں ہی کرنی پڑے۔ البتہ اس عمل کو صرف جائز کی حدتک باقی رکھا گیا ہے۔مذہب اسلام نے کم سنی کی شادی کی ترغیب نہیں دی ہے، بلکہ مستحسن یہی رکھا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی شادیاں عقل و شعور اور مکمل بلوغ کے بعد ہی کی جائیں جب عورت کا جسم ہرطرح سے پورا ہوچکا ہو اور جن جسمانی حصوں کی نشوو نما تولد وازدواج کے ساتھ خاتو ن کی صحت کے لیے ضروری ہے ان کی نشوو نما کا عمل بھی مکمل ہوجائے۔تاکہ معاشرتی زندگی میں آ ئندہ کسی بھی قسم کا نقص باقی نہ رہے۔اسی کے سا تھ کم سنی کی شادی کی اجازت دے کر مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس گناہ سے روک دیا جس سے خلاف عادت کم عمری میں ہی مردوعورت کو سامنا ہوتا ہے۔ وہ ہے عرف عام میں معلوم وقت سے پہلے مردو عورت کا سن بلوغ کو پہنچ جانا اور شدت کے ساتھ شہوانی ضرورت کا محسوس ہوجا نا۔اگر ایسے حالات ہوں تو گناہ سے بچانے کے لیے ضروری یہی ہوگا کہ دونوں کی شادی کرکے معاملہ پورا کردیا جائے، تاکہ اسلامی معاشرہ گناہ کے الزام سے محفوظ رہے۔

15فروری2009کو برطانیہ سے آنے والی ایک خبر نے پوری دنیا کو چونکا دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق ایک بارہ سالہ لڑکی اور تیرہ سالہ لڑکے کے جنسی تعلقات نے کم سنی میں ’والدین‘ بننے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ یہ خبر انٹرنیٹ پرآج بھی موجود ہے اور دنیا بھرکی متعدد سائٹوں پر دیکھی اور پڑھی جاسکتی ہے۔ مگرالمیہ یہ ہے کہ اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کو مغربی قانون ’’شادی‘‘ کی اجازت نہیں دیتا۔ جس کا مطلب ہے کم سنی کا یہ ریکارڈ برطانیہ کی اس ’ہونہار‘ لڑکی نے اپنے ’بوائے فرینڈ‘ کے ساتھ ناجائز رشتہ کے ذریعے قائم کیاہے۔ مگر یہ وہ ’ناجائز‘ ہے جس کے لیے برطانیہ کی لغت میں فی الوقت کوئی لفظ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ’ناجائز‘ کے لیے آپ وہاں illegal کا لفظ بولیں گے یا Prohibited یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ۔ ایسے کسی بھی لفظ سے برطانیہ میں رہنے والے ایک شخص کے ذہن میں اس کا ’قانونی‘ حوالہ ہی آئے گا، کیونکہ عرصہ ہوا ان الفاظ کا ’مذہبی‘ حوالہ لوگوں کے سننے اور بولنے میں نہیں آتا۔ جبکہ اِس رائجِ عام حوالہ کی روسے اس لڑکے اور لڑکی نے کوئی illegal یا Prohibited کام نہیں کیاتھا۔یعنی پیمانے سرتاسر بدل گئے۔ یہ معاملہ بظاہر جتنا دلچسپ دکھائی دیتا ہے اور مغرب زدہ روشن خیالوں نے جس طرح چٹخارے لے کراسے قابل توجہ بنانے کی کوشش کی ہے، حقیقت میں اس سے زیادہ شرمناک ہے۔ مگر یہ شرمناک اور قابل ملامت برائی اسی وقت تک کسی سماج یا معاشرہ کو تہذیب کے دائرہ تک محدود رکھ سکتی ہے، جب تک اس سماج یا معاشرہ میں اس جنسی آوارگی کو ناجائز اور مستوجب سزا جرم تصور کیا جاتا ہو۔

ظاہر سی بات ہے کہ ایسی توقع بنی نوع انسان سے کی جاسکتی ہے۔ مگر جب کوئی قوم انسانیت سے رشتہ توڑ لیتی ہے، پھر اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ جس گناہ کو اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے جائز بنانے جارہی ہے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے وہ انسانوں سے اپنا رشتہ توڑ لے، شرم و حیا جو بنی نوع انساں کے خاص زیورات اور خصوصیات ہیں اس قبا کو تار تار کردیا جائے،بعد ازاں ایسا کرنے والی قوم ازخود حیوان بن جاتی ہے اور حیوانوں کو شرمانا یا اسے گناہ سمجھ کر اپنے نفس پرلعنت ملامت کرنا کیسا۔ غالباً گناہ کی اسی لت کو ساری دنیا میں عام کرنے کے لیے مغرب اور اس کے پرستاروں نے بسااوقات ناگزیر ہوجانے والی کم عمری کی شادی کو بھی حرام باور کرادیا ہے۔لہٰذایہ بارہ سالہ بچی اگر ’’شادی‘‘ کے نتیجے میں ماں بنتی تو برطانوی باشندوں کے ہاں یہ ’’ناجائز‘‘ ہوتا۔ حمل کے وقت یہ بچی ظاہر ہے صرف گیارہ برس چند ماہ کی تھی اور اس کا بوائے فرینڈ بارہ برس کا۔ یہ کمسن مرد اور عورت کسی ’’نکاح‘‘ کے نتیجے میں جنسی تعلقات قائم کرتے تو یقینی طور پر قانون اور سماج کی زد میں آتے اور ان کا یہ تعلق قطعی ’’ناجائز‘‘ قرار پاتا۔ جس پر ’جدید اقدار‘ پر ایمان رکھنے والا برطانوی معاشرہ بلاتاخیر حرکت میں آ جاتا اور اس گھر کے بزرگوں کو جیل میں داخل کردیتا، لیکن چونکہ انہوں نے ’’نکاح‘‘ ایسا کوئی گناہ نہیں کیا، اس لیے گیارہ سال کی اِس بچی اور بارہ سال کے اِس بچے کا تعلق جائز ٹھہرا اور اس کے نتیجے میں اولاد کا پیدا ہونا بھی قطعی ناقابل اعتراض۔ رپورٹ کا کہنا ہے ننھے والدین اپنی اس کارگزاری پر بے حد خوش ہیں اور مل کر اپنی بچی کی پرورش کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لوگوں کو تعجب ہے تو ان کی کمسنی پر نہ کہ کسی ’اور‘ بات پر۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے،تصور کیجئے!کہ اگرخبر یہ آتی کہ مسلم ممالک کے کسی پسماندہ سے شہریا دیہی علاقہ کے بدو گھرانے میں ’کمسنی‘ کی شادی کے نتیجے میں ایک لڑکی 12 سال کی عمر میں ماں بن گئی جس کا شوہر ابھی صرف 13 سال کا ہے۔۔۔۔ تو کیا خیال ہے یہاں ’انسانیت‘ کے ہمدرد کیسے کیسے مروڑ کا شکار ہوتے۔ یہ واقعہ اگر کسی ’’نکاح‘‘ کے نتیجے میں پیش آگیا ہوتا تو لبرل میڈیا کی چیخ سے دنیا کیسے لرزتی،لیکن برطانیہ میں رونما ہونے والے واقعہ پر ظاہر ہے کوئی ایسا شور نہیں اٹھا۔ ’جدید انسان‘ کو دنیابھر میں اس سے جس قدر غش پڑے، وہ ہم نے دیکھ لیے، ظاہر ہے یہ کوئی ایسی خبر نہیں تھی جس پر کچھ بے تابی کا اظہار یاواویلا کیا جا تا، اس واقعہ پر تعجب ہونا چاہئے تو محض ’بیالوجی‘ کی نظر سے، ’’سماجیا ت، اوراخلاقیات کی نظر سے بھلا اس میں کیا انہونی بات ہے؟

تو کیا کسی کو اندازہ ہوا کہ ’کمسنی کی شادی‘ پر پچھلے دنوں ہمارے ہاں جو درد پھوٹ پھوٹ کر آتا رہتا ہے اور اس کے لیے مذہب اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے راستے نکالے جاتے ہیں اور یہ سب اس لیے انجام دیا جاتاہے کہ مذہب فطرت کے ذریعہ کھولے گئے صرف اور صرف حلال کے دروازے بند کروانا ہی مغرب اور اس کے ذہنی وفکری غلاموں اور حیاسوز طاقتوں کا اصل ہدف اور مقصود ہے۔… جی ہاں حلال کے دروازے بند ہوں گے تو حرام کے دروازے خودبخود کھلیں گے، کیونکہ انسانی خواہش اور ہارمونز کوبڑھنے سے آپ بیڑیاں ڈال کر نہیں روک سکتے۔ جب آپ ’’حلال‘‘ پر قانونی یا ’اخلاقی‘ بیڑیاں ڈالیں گے تو وہ ہارمونز حرام ذریعے سے خودبخود اپنا راستہ بنالیں گے اور کمسنی کی حرام کاری کے واقعات بکثرت ہوں گے۔طرفہ یہ کہ خود مغرب پرستوں کا یہ کہنا ہے کہ ہارمونز پر اپنا طبعی عمل کرنے کے معاملے میں پابندی لگانا غلط ہے، مگر وہ یہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے ہاں حرام کا راستہ کھلا ہے۔ اپنے ان ’علمائے کرام‘ کو بھی کاش کوئی جا کر بتائے کہ جس کمسنی کی شادی کے خلاف پچھلے دنوں دلائل کے ڈھیر لگائے جارہے تھے، دراصل وہ آپ کے یہاں ایک حرام راستہ کھولنے کا انتظام تھا۔شاید برطانیہ کا یہ واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے ہوا ہو کہ ’کمسنی کی شادی‘ ممنوع ٹھہرانا،درحقیقت کس قسم کے معاشرے کی تشکیل کرنے جارہا ہے۔

اگر اسلام سے ہٹ کر دیگر مذاہب اور معاشرے میں دیکھا جائے تو کم سنی کی شادی کی رسم کسی نہ کسی شکل اور پیرا یے میں ہرجگہ پائی جاتی ہے۔مولا نامرحوم نے اس کتاب کی ابتدا کرتے ہوئے جو اس کتا ب کے لکھنے بنیادی مقصد بھی ہے، لکھا ہے کہ

ہندوستان کے سماجی مسائل میں کمسنی کی شادی کا مسئلہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ہندوستانی سماجیات کا یہ دلچسپ موضوع ہے اور ایسا ہی پیچیدہ بھی ہے۔ بچپنے کی شادی کا رواج یہاں زیادہ پسماندہ ہندو سوسائٹی اور ہند و قوم کی نیچی برادریوں میں ہے۔جہاں لڑکی اور لڑکے چار سال پورا کر تے ہی ایک سال پیٹ کا جوڑ کر، پانچ سال کی فرضی عمر میں کمسن لڑکی اور لڑ کے کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ5)

مولانا سلطان احمد اصلاحی نے یہاں اپنی علمی عبقریت اور فراست ایمانی کاثبوت ہوئے اس قبیح رسم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہند وستا ن کے برہمنیت زدہ سماج میں یہاں کے کمزور، غر یب اور پچھڑے طبقات کے استحصال کا یہ ایک بڑ ا مؤ ثر اور کارگر ذریعہ رہا ہے۔اور طبقا تی نظام کے نا خداؤ ں نے اس سے بھرپور طریقے پر فائدہ اٹھا یا ہے۔ اس لئے کہ اس طرح وقت سے پہلے شاد ی کے جھمیلو ں میں پھنسنے کا مطلب تھا کہ سماجی اور معاشی ترقی اور اٹھا ن کے امکانا ت کو ختم کر کے یہ طبقات ہمیشہ کے لیے پسماند گی اور پست حالی کو اپنا مقدر بنالیں اور ان کی نسلوں کی نسلیں اعلیٰ طبقہ کی غلامی اور چاکری کے دام میں گر فتا ر رہیں۔(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ5تا 6)

ہندوستان میں اکثریتی طبقہ کے زیر اثریہ معاشرتی برائی مسلمانوں میں بھی ملتی ہے۔مگر خیال رہے کہ مذہب اسلام نے کم عمری کی شادی کی رخصت ضرور دی ہے۔ مگراس کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے،اس لیے اس شاذ عمل کو وقت وحالات کی جبریت اور ضرورت پر موقو ف رکھا ہے۔ان ساری حد بندیوں کے باوجود تعلیم کے اوسط میں بھیانک کمی کی شکار قوم شادی کے تعلق سے بھی مذہبی تعلیمات سے کماحقہ آگاہ نہیں ہوسکی اور کم سنی کی شادی کا فیصد ان کے یہاں بھی بڑھتا چلا گیا۔ اس حوالے سے 12ستمبر2014کو عالمی ادارہ یونیسف کی جانب سے ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جو ہندوستان کے لیے بے حد چونکا دینے والی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کی کل آبادی میں سے تقریباً نصف کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔

 اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ خطے میں اب بھی دس لاکھ سے زائد نومولود صحت کی ناقص صورتحال کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یونیسیف ساؤتھ ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر کرین ہلشوف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زچگی یا بچوں کی پیدائش کے حوالے سے جنوبی ایشیا خطرناک ترین خطہ ہے جہاں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نومولود کی اموات ہوتی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق بہت بچیوں کو جنس کا معلوم ہونے پر پیدائش سے قبل ہی قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خصوصاً ہندوستان میں اگر والدین کو علم ہو جائے کہ ان کی پیدا ہونے والی اولاد لڑکی ہے تو وہ اسے پیدائش سے قبل ہی مار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنس کی بنیاد پر اولاد خصوصاً لڑکوں کا انتخاب سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی سطح پر معاشرے میں سرایت کردہ مزاج اور سوچ کا مظہر ہے جہاں خواتین اور لڑکیوں سے واضح طور پر امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات سے ہی لڑکیوں کی اسمگلنگ یا جبری شادی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کی 15 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی کر دی جاتی ہے جو دنیا بھر میں بچوں کی شادی(چائلڈ میرج) کی سب سے بڑی شرح ہے۔

خطے میں بچوں کی شادی کے حوالے سے سب سے بلند شرح کے حامل ملک بنگلہ دیش میں ہر تین میں سے دو لڑکیوں کی بلوغت سے قبل ہی شادی کر دی جاتی ہے جس کے باعث خواتین کا جنسی استحصال اور ان پر گھریلو تشدد کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیا میں بچوں میں غذائی قلت کے باعث پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچوں کی صحیح نشوونما نہیں ہوپاتی۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں صحیح نشوونما نہ ہونے کے باعث ہر سال تقریباً دس لاکھ بچے ہلاک ہو جاتے ہیں یا اس سے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 1990 میں یہ شرح 60 فیصد کے قریب تھی لیکن اب اس میں کمی آئی ہے اور اب یہ شرح 40 فیصد سے کم ہے۔تاہم خطے میں شدید عدم مساوات ہے اور پانچ سال سے کم عمر تقریباً آدھے ہندوستانی بچے نشوونما کی شدید کمی کا شکار ہیں جن کی تعداد چھ کروڑ سے زائد بنتی ہے۔

یہ رپورٹ بچوں کے حقوق کے حوالے سے کنونشن کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کی گئی، جس میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں جنوبی ایشیا کے تمام آٹھ ملکوں ہندوستان، پاکستان، افغا نستا ن، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بچوں کی زندگیوں میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔تاہم رپورٹ میں جنسی سطح پر امتیازی سلوک اور دن بدن بگڑتی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سلسلے میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے شعبہ صحت، تعلیم اور معاشرتی سطح پر خرچ کی جانے والی رقم دیگر خطوں سے کہیں کم ہے۔یونیسیف کی اس رپورٹ میں واضح اشارہ موجود ہے کہ کم عمری کی شادی اور بچوں کی شرح اموات روکنے کے لیے بجٹ میں اضافہ بے حد ضروری ہے۔اسی نوعیت کا دوسرا انکشاف بچو ں کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی ادارے ’سیو دا چلڈرن‘ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر 7 سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر ایک بچی کی شادی ہوجاتی ہے۔یہ رپورٹ گزشتہ برس11 اکتوبر کو ’لڑکیوں کے بین اقوامی دن‘ کے موقع پر جاری کی گئی۔دنیا کی ایک ارب سے زائد لڑکیوں کے حقوق اور ان کو درپیش چیلنجز کو تسلیم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے 2011 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، یمن،ہندوستان، پاکستان اور صومالیہ سمیت کئی ممالک میں 10 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کی اکثر ان کی عمر سے کئی سال بڑے عمر کے مردوں سے شادیاں ہوجاتی ہیں۔ رپورٹ میں لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی لڑکیوں کی کم عمری میں شادی، اسکول جانے، کم عمری میں حمل، زچگی میں اموات اور پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کے مطابق کی گئی ہے۔

اس درجہ بندی میں نائیجریا، چاڈ، جمہوریہ وسطی افریقہ، مالی اور صومالیہ سب سے نیچے ہیں، جبکہ 144 میں سے ہندوستان، پاکستان اور افغانستان بالترتیب88، 90اور 121ویں نمبر پر ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ تنازعات، غربت اور انسانی بحران لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کے اہم عوامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے لڑکیاں نہ صرف تعلیم کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں، بلکہ کم عمری میں حمل اور زچگی سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔سیو دا چلڈرن انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹیو ہیلے تھورننگ شمٹ کا رپورٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’کم عمری میں شادی سے ناموافق صورتحال کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جس سے لڑکیوں کے سیکھنے، نشوونما پانے اور بچے رہنے جیسے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جن لڑکیوں کی کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے وہ عام طور پر اسکول نہیں جاسکتیں اور ان کے ساتھ گھریلو استحصال، تشدد اور ریپ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، وہ حاملہ ہوسکتی ہیں اور ان میں ایچ آئی وی سمیت جنسی طور پر منتقل ہونے والے دیگر انفکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔‘رپورٹ میں کم عمری میں شادی کے سنگین نتائج اور نقصانات کے حوالے سے چند مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیرالیون میں ایبولا کی وبا سے اسکول بند ہونے کے نتیجے میں تقریباً 14 ہزار کم عمر لڑکیاں حاملہ ہوگئیں۔ اسی طرح لبنان میں قیام پذیر شامی پناہ گزین سحر (اصلی نام ظاہر نہیں کیا) کی 13 سال کی عمر میں ایک 20 سال کے لڑکے سے شادی ہوگئی تھی اور اب وہ 14 سال کی ہیں اور دو ماہ کی حاملہ ہیں۔ دریں اثنااقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری میں شادی کے واقعات، جو آج تقریباً 70 کروڑ ہیں، ان کی 2030 تک بڑھ کر تقریباً 95 کروڑ ہوجائے گی۔

یہ سماجی خرابی مختلف حوالوں سے عربوں میں بھی پائی جاتی ہے،چنانچہ گزشتہ چند برسوں سے عرب ممالک میں کم سنی کی شادی کے خلاف سیمینار اور محاضرات کے ذریعہ اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چناں چہ 8نومبر2012کو سعودی عرب میں کم سنی کی شادی روکنے سمیت شادی کی عمر متعین کرنے کے موضوع پر ایک سمینار منعقد کیا گیا جس میں سعودی عرب کے سینئر علماء پر مشتمل کونسل کے سابق رکن شیخ عبداللہ آل رکبان کا کہنا تھا کہ مملکت کے دیہی علاقوں میں بدّو کمیونٹیز میں آج بھی کم سن بچیوں کو مال دار افراد کے ہاں شادی کے نام پر فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے خاوند اور بیوی کی عمروں کے درمیان تناسب کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انھوں نے یہ بات امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام’’شادی کی عمر: مذہبی اور سماجی تناظر‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ’’اگر کسی لڑکی کی عمر پچیس سے زیادہ ہے تو وہ باشعور سمجھی جاتی ہے اور اسے اپنی پسند کے مرد کے ساتھ شادی کا حق حاصل ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’’اگر لڑکی کی عمر بیس سال سے کم ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے والدین اس کو کسی مال دار بوڑھے سے شادی پر مجبور کرسکتے ہیں ‘‘۔شیخ رکبان نے کہا کہ’’یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان عمر کا تفاوت مناسب ہو تاکہ وہ صحت مندانہ ازدواجی تعلقات استوار کرسکیں ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان علماء سے متفق نہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ شادی کی کم سے کم عمر کے تعین کی مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ان کے بہ قول ایک حکمراں شادی کی عمر مقرر کرسکتا ہے اور ایک مخصوص عمر کے افراد کو خاص حالات کے سوا شادی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے کلیہ سماجی علوم میں سماجیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبدالرحمان الرومی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں پانچ ہزار چھے سو بائیس لڑکیوں کی چودہ سال سے کم عمر میں شادی ہوئی تھی اور یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔سعودی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الحدیثی نے کہا کہ وزارت انصاف اس وقت شادی کی کم سے کم عمر مقرر کرنے کا جائزہ لے رہی ہے لیکن خود کونسل نے اس معاملے پر غور نہیں کیا۔انھوں نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر مقررکرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن بعد میں یہ تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ڈاکٹر قیس بن محمد آل الشیخ کا کہنا تھا کہ کم عمر میں لڑکی کی شادی بعض اوقات بہتر رہتی ہے اور والدین اس کو لڑکی کے مفاد میں خیال کرتے ہیں۔ مگر ایساشاذ اور اکا دکا حالات میں ہی ممکن ہوسکتا ہے۔تاہم عرب علماء کا یہ رخ اب واضح ہو چکا ہے کہ وہاں بھی شادی کے لیے عمر متعین کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔

مذکورہ بالا رپورٹوں اور تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کم عمری کی شادی با لخصوص لڑ کیوں کے لیے قاتل اور ان کی زندگیوں کو تباہ کردینے والی ہے۔ مولا نا سلطان احمد مرحوم کم عمری کی شادی کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے طبی مفاسدپر روشنی ڈالتے ہیں۔

سب سے زیادہ تو اس کا نقصان کمسن لڑکی کے لیے جسمانی اور طبی لحاظ سے ہے۔ ا س لیے کہ جدید طبی تحقیقات سے ثابت ہے کہ لڑ کی کے بدن کا نشوو نمااٹھارہ برس کی عمر تک ہوتا رہتا ہے۔ وہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں جوان ضرور دکھا ئی دیتی ہے، لیکن رحم اور بیضہ دانی کی نشوو نما اٹھارہ برس تک ہوتی رہتی ہے۔اس کے نتیجے میں لڑکی اگراٹھارہ برس سے کم عمر میں ماں بن جا ئے تو اس کو درج ذیل نقصان پہنچتے ہیں۔

(1) لڑکی کے بدن کی نشونما رک جاتی ہے۔

(2) چونکہ اٹھارہ برس کی عمر میں رحم اور بچہ دانی جیسے بچہ جننے کے کچھ اعضاء کی نشو و نما مکمل نہیں ہوتی اس سے حمل اکثر گر جاتا ہے۔ماں بننے میں دقتیں پیش آ تی ہیں۔

(3) پیڑو کی نشوو نما اٹھارہ سال سے پہلے مکمل نہیں ہوپا تی،اس لیے بچہ کا سر بڑا ہوسکتا ہے۔بچہ جننے میں رکاوٹ سے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے،جس سے مثانے اور اوجھڑی میں کمزوری آ جا تی ہے۔

(4) کم عمری میں مجامعت سے رحم کے دہانے میں کینسر کے امکان بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ ہندوستانی عورتوں میں یہ کینسر کی بڑی وجہ ہے۔

(5)اس طرح کی شادی کی صورت میں عام طور پر حمل بہت جلد ٹھہر جاتا ہے،جس سے عورت کی صحت برباد ہوجاتی ہے اور وقت سے پہلے اس پر بڑھا پا طاری ہوجاتا ہے۔ (کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ30تا 32)

 آخر میں اجمالاًعرض ہے کہ اس تحریر میں ان تمام سوالات کا حل ڈھونڈنے کی باکمال کوشش کی گئی ہے جو کم عمری کی شادی کے سلسلے میں اٹھا ئے جا تے ہیں۔ مثلاً عورت کیا ہوتی ہے؟ عورت کی زندگی کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ صرف اتنا کہ وہ جوانی کو پہنچے تو شادی ہوجائے؟ کیا لڑکی کی زیادہ پڑھنے کی خواہش اس کی شادی میں رکاوٹ ہوتی ہے؟ ایک لڑکی کی شادی کس عمر میں ہو جانی چاہئے؟ کیا وقت پر شادی ہو جانا عورت کی صحت مند زندگی کی ضمانت ہوتا ہے؟ لڑکی کی صحت کتنی ضروری ہوتی ہے؟ اچھی صحت کی شناخت کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ بس یہ کہ لڑکی لمبی، چاق و چوبند ہو؟ بجلی کی طرح پھرتیلی؟ کیا مرد کا عورت سے شادی کرنا صرف اولاد کے حصول کے لیے ہوتا ہے؟ اگر مرد کی عمر زیادہ ہے اور لڑکی کی کم تو کیا یہ لڑکی کا قصور ہے کہ وہ ہر سال نیا مہمان گھر لائے؟ کچھ افراد عورت کو صرف مشین سمجھتے ہیں جو ان کی مرضی سے بچے پیدا کرے، کیونکہ اچھی بیوی وہ ہی ہوتی ہے جو شوہر کا ہر حکم بجا لائے، کیا عورت کو شوہر کی ہر بات ماننی چاہئے؟

اگر ایک عورت کو نظر آ رہا ہے کہ اس کا شوہر انتہائی لاپرواہ ہے جسے نہ گھر سے کوئی مطلب ہے نہ بچوں سے، وہ صرف کماتا ہے اور گھر آ کر سو جاتا ہے۔ایسی صورت میں کیا عورت اپنے سلسلے میں کچھ فیصلہ لے سکتی ہے۔ ایک عورت کسی کی ملکیت یا کسی کی بیوی ہی نہیں ہوتی، وہ کسی کی بیٹی بھی ہوتی ہے، اس کے ماں باپ نے اسے پال پوس کر بڑا کیا ہوتا ہے، لڑکیوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی ہر بات اور ہر خواہش پر سر تسلیم خم نہ کریں، اپنی صحت پر بھی ذرا نظر رکھیں کہ وہ پال سکتی بھی ہیں یا نہیں، ہر سال آنے والے نئے مہمان کو اور اس شوہر کو جو ہر مسئلے کا حل اپنی بیگم کو ہی سمجھتا ہے۔برصغیر میں نہ جانے کتنی خواتین غذائی قلت کے باعث موت کو منہ لگا لیتی ہیں، اگر آپ کی صحت اور وسائل اس نوعیت کے ہیں کہ آپ بچوں اور اپنی، دونوں کی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں، کھلانے کو کھانا اور پہنانے کو کپڑے ہیں، گھر والے آپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں، آپ سے اور آپ کے بچوں کا خیال رکھنے کا درد ہے تو ضرور پیدا کریں۔ مگر صحت کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ آپ کی صحت ہوگی تو ہی آپ بچے پال سکیں گی، آپ کی زندگی کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا نہیں ہے.

ایک ماں کو بچوں کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، اچھا ہمدرد شوہر چاہیے ہوتا ہے، جسے بحیثیت شوہر اپنی ذمے داریوں کا احساس ہو، اگر آپ کا شوہر اس قابل نہیں تو اپنے وجود اور بچوں کے مستقبل پر رحم فرمائیے، شادی سزا نہیں ہوتی اور شوہر حاکم اور آپ ملازم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاں بس یہی رجحان پایا جاتا ہے کہ بس جلدی جلدی بچے ہوں گے تو ایک ساتھ بڑے ہوجائیں گے، ماں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہر بچہ الگ توجہ مانگتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ سب بچوں کو ایک ساتھ بھوک لگے، نیند آئے، سارے ایک ساتھ کھیلیں اور ایک ساتھ نیند لیں۔ اس مختصر سی کتاب کے سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کم سنی کی شادی کے تعلق سے اٹھنے والے سبھی اعتراضات کا اس کتاب میں بحسن وخوبی جواب پیش کردیا گیا ہے،یعنی مولانا نے کوزے میں سمندر کو سمو نے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

مزید دکھائیں

حکیم نازش احتشام اعظمی

ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close