خصوصیسیاست

کون بنے گا کروڑ پتی؟

ڈاکٹر سلیم خان

امیتابھ بچن نے ہندوستانی فلموں میں چالیس برسوں کا طویل سفر کیا اور  بہت اتار چڑھاو دیکھے۔ پردۂ سیمیں پر اپنے فن کا جھنڈا گاڑنے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور زبردست کامیابی حاصل کی لیکن تین سال کے اندر استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔ اپنے بیٹے ابھیشیک بچن کو کامیاب کرنے کے لیے فلمی کمپنی بنائی تووہ ڈوب گئی  یعنی  سیاست اور وراثت کے معاملے میں قسمت نے ان  کا ساتھ نہیں دیا۔ آگے چل کر امیتابھ بچن کو ’کون بنے گا کروڈ پتی‘ نامی کھیل کی میزبانی کا موقع ملا اور سب کچھ بدل گیا۔ اس کھیل میں ہر کوئی کڑوڈ پتی بننے کے لیے اترتا تو ہے مگرکامیابی   بہت کم لوگوں  کا قدم چومتی ہے  جادو کے  اس  کھیل نے  امیتابھ بچن  کو ضرور  کروڈ پتی بنا دیا ۔  قومی  انتخاب کے تناظر میں  اگر یہ سوال کیا جائے کہ کون بنے گا کروڈ پتی تو اس کا جواب ہوگا جو ’جیتے گا وہی ہوگا مقدر کا سکندر‘۔اس معاملے  کو مندرجہ ذیل  مثال سے  بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

 ہیما مالنی ایک زمانے میں کامیاب اداکارہ تھیں لیکن اب ایک کامیاب سیاستداں ہیں ۔  بی جے پی نے ان کو پھر سے متھرا کا ٹکٹ دےدیا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے اپنے حلقۂ انتخاب کی عوام کو خوشحال کرنےکے لیے کیا کیا یہ تو کسی نہیں معلوم لیکن  ان کی اپنی  جائیداد میں  ۳۴ کروڈ ۴۶  لاکھ کا اضافہ ہوا۔  دھرمیندر اپنی بیوی سے کہیں زیادہ کامیاب اداکار تھے لیکن چونکہ وہ سیاست سے دور ہیں اس لیے ان کی دولت صرف ۱۲ کروڈ ۳۰ لاکھ بڑھی  ہے۔ سیاست میں ہونے اور  نہیں ہونے کا فرق ہے یہ ہے  ویرو کے مقابلے بسنتی کی جائیداد  کا  اضافہ کو تین گنا زیادہ  ہے۔  مودی جی کے اقتدار میں آنے قبل بھی ہیما مالنی رکن پارلیمان تھیں مگر ۲۰۱۳ ؁ تا ۲۰۱۴ ؁ کے درمیان انہوں نے صرف ۱۵ لاکھ ۹۳ ہزار روپئے کمائے تھے لیکن جب کمل کھلِ گیا تو ہیما کے اچھے دن آگئے اور شجر سایہ دار بتدریج پھلتا پھولتا رہا جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

 ۲۰۱۴ ؁ تا ۲۰۱۵ ؁ کے درمیان ہیمامالنی  کی آمدنی ۳ کروڈ ۱۲ لاکھ تک  پہنچ گئی ۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہا ۲۰۱۵ ؁  تا ۲۰۱۶ ؁ کے درمیان آمدنی ایک کروڈ ۹ لاکھ ہی بڑھ پائی لیکن  ۲۰۱۶ ؁ تا ۲۰۱۷ ؁ کے درمیان  جبکہ نوٹ بندی کے سبب ملک کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا ہیمامالنی نے پہلے سال سے ۴ گنا زیادہ یعنی   ۴ کروڈ ۳۰ لاکھ روپئے کمائے ۔ یہ عجیب بات ہے جب ملک کے عوام نانِ جوئیں کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کے نمائندے لعل وگہر میں کھیلنے لگتے ہیں۔   اس طرح پانچ سالوں میں جملہ ۹ کروڈ ۸۷ لاکھ روپئے آمدنی ہوئی۔ الیکشن کمیشن کو دی گئی معلومات کے مطابق ہیما مالنی کی کل جائیداد ایک ارب ہے اس کے علاوہ  تقریباً ۲ کروڈ  کی نقدی، گہنے، شیئرس اور کوٹھی  کی وہ  مالکن ہیں حالانکہ وہ متھرا  میں موجود ورنداون آشرم   کےغریب و  بے سہارابیواوں  کی بھی   نمائندگی کرتی  ہیں۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اس دوران ہیمامالنی نے کسی فلم میں کام نہیں کیا اور وہ نہ کوئی  تجارت کی  تو آخر اتنی آمدنی کیسے ہوگئی ؟  ہیما مالنی کے ووٹرس  اپنےنمائندے سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے؟

فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور غیر سیاسی میاں بیوی کے معیار زندگی کا فرق کا اندازہ ان کی اور دھرمیندر کی   گاڑیوں سے لگایاجاسکتا ہے۔ ہیمانے ۲۰۰۵ ؁ میں ایک  ٹویو ٹا گاڑی  خریدی  جس کی قیمت بھی اتفاق سے ۵ لاکھ تھی لیکن ۲۰۱۱ ؁ میں انہوں نے جو مرسیڈیز کار خریدی اس کی قیمت ۳۳ لاکھ ۶۲ ہزار تھی۔ اس کے برعکس دھرمیندر نے ۱۹۶۵ ؁  میں خریدی  ہوئی ۸ ہزار کی رینج روور اور ۷ ہزار والی ماروتی اب بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستانی عوام کی نمائندگی کرنے کا کس کو زیادہ حق  ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ دونوں کو نہیں کیونکہ دھرمیندر بھی ارب پتی ہیں  لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں نے بالترتیب بینک سے ۶ اور ۷ کروڈ کا قرض بھی لے رکھا ہے۔ اس مقروضیت   کی حکمت  تو وہی چارٹرڈ اکاونٹنٹ بتا سکتا ہے جو ان کا انکم ٹیکس  کا ریٹرن فائل کرتا ہے۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیمامالنی   کے پاس تو   کسی وزارت کا قلمدان بھی  نہیں ہے  پھر انہیں  اتنی دولت کمانے کا موقع کیسے مل گیا ؟ دراصل متھرا  سے انتخاب جیتنے سے پہلے ۲۰۰۳ ؁ سے ۲۰۰۹ ؁ تک اور ۲۰۱۱ ؁ تا ۲۰۱۲ ؁ کے درمیان  وہ ایوان بالا کی رکن تھیں۔  اس بیچ ان کو ایوان کی مختلف کمیٹیوں  مثلاً امور خارجہ، مواصلات، سیاحت، ثقافت، خواتین کی ترقی، اطلاعات و نشریات، صنعت، سرکاری کارخانے اور شہری ترقی کی  کمیٹیوں میں شامل ہونے کی سعادت  حاصل ملی ۔ وہ  قومی فلم ڈیویژن  کی سربراہ بھی رہیں  ۔ اس طرح مذکورہ  شعبوں سے منسلک صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ ان کا  میل جول ہوا  اور پھر وہ سب اپنے آپ  ہوگیا جو  ابھی آپ نے پڑھا۔

اب اگر کون بنے گا کروڈ پتی کے کھیل میں امیتابھ بچن  کسی سے سوال کرے کہ  :

ہر سیاستداں انتخاب میں کامیاب ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگا تا ہے؟

وہ اپنی کامیابی کے لیے سارے جائز و ناجائز طریقہ کیوں استعمال کرتا ہے؟

 وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر اپنے ضمیر اور قوم کا سودہ کیوں کرتا ہے؟

 وہ اپنی کامیابی  کے لیے بے قصور عوام کا ناحق خون کیوں بہاتا ہے؟

اس کی شدید خواہش  یہ کیوں ہوتی ہے  کہ نہ صرف وہ خود کامیاب ہو بلکہ  اس کی جماعت  بھی کامیاب ہوکر اقتدار پر قابض ہوجائے ؟

تو ہیمامالنی کی مثال میں   ان سارے سوالوں کا جواب  ہے:

وہ چاہتا ہے کہ جلد از جلد کروڈ پتی بن جائے۔

جمہوری نظام سیاست میں کروڈ پتی بننے کا سب سے آسان اور یقینی راستہ انتخاب لڑنا اور اس میں کامیابی درج کرانا ہے۔

اسی طرح   سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف  کرنے کے بھرپور مواقع ہاتھ آجا تے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

3 تبصرے

  1. ﺳﻴﻮﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﻴﻮﺍ ﻻﺯﻣﺎً ﻣﻠﺘﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ. ﺻﺮﻑ ﺳﻴﻮﺍ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻴﺴﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻳﮯ ﺳﻮ چ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ.

متعلقہ

Back to top button
Close