خصوصیسیاست

کوپرڈی کی کلہاڑی اور کورے گاوں کا زخم

ڈاکٹر سلیم خان

بھیما کورے گاوں سانحہ پر پرکاش امبیڈکر اور دیگرانصاف پسند رہنماوں کی بجا طور پر خوب پذیرائی ہوئی لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کا موقف بھی دیکھا جائے۔ دائیں بازو کی  زعفرانی  جماعتیں شیوپرتشٹھان، ہندو اگاڑی،  براہمن مہاسبھا، ایکاتمتا ابھیان اور پیشواوں کے وارثین بھیما کورے گاوں منعقد کیے جانے والے  جشن فتح  کے مخالف ہیں ۔ ان کے خیال میں اس طرح کی تقریبات کے انعقاد سے ذات پات کی تفریق میں اضافہ  ہوتا ہے۔ ذات پات کی تفریق کیسے پیدا ہوتی ہے اس کی ایک مثال احمد نگر ضلع میں ماہِ نومبر کے اندر صادر ہونے والے دوعدالتی فیصلوں سے سامنے آئی۔ کوپرڈی کے اندر ایک مراٹھا  لڑکی کا آبروریزی کے بعد  قتل کردیا گیا۔ کھرڈا میں ایک دلت نوجوان  نتن آگے کو دن دہاڑے قتل کرکے اس کی لاش پیڑ سے لٹکا دی گئی۔ پہلے مقدمہ میں بجا طور پر تینوں دلت ملزمین کو موت کی سزا سنائی گئی  اور دوسرے میں 9 مراٹھا ملزم  باعزت  بری کردیئے گئے۔ اس لیے کہ 26 میں سے 16 گواہوں کو خاموش کردیا گیا تھا جن میں اسکول کا استاد جہاں واردات ہوئی  اور مقتول کا رشتے دار بھی شامل تھا۔

  وہ لوگ جواس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ پیشوائی کے مظالم کا خاتمہ ہوچکا ہے  ان کو چاہیے کہ دیگر صوبوں کے بجائے مہاراشٹر کا جائزہ لے کر دیکھ لیں ۔ نتن آگے سے قبل احمدنگر کے سونائی گاوں میں جنوری 2013 کے اندر ایک خاندان کے تین دلتوں کو  نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں نے قتل کردیا۔ مشتعل ہجوم نے ان کے چیتھڑے محض اس شک میں اڑا دیئے کہ ان میں سے ایک کی  اپنی برادری کی لڑکی سے شناسائی  تھی۔ ایک طرف دیگر ذاتوں میں بیاہ رچانے پر سرکار ڈھائی لاکھ کی امداد فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف ایسا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتاہے۔ اس دھرم یدھ کو  ’لو منوواد‘ کا نام دیا جانا چاہیے۔ یہ دہشت گردی  اس قدر خوفناک  ہے کہ  2014 میں صرف 5 اور 2016 میں جملہ72 لوگوں نے مذکورہ سرکاری اسکیم کا فائدہ اٹھایا۔ ڈھائی لاکھ کی معمولی رقم کے لیے اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنے کی حماقت تو کوئی مودی بھکت ہی  کرسکتا ہے مگر وہ شادی ہی نہیں کرتا؟

 اکتوبر ؁۲۰۱۴ میں احمدنگر ضلع کے جاوکھیڑ گاوں میں ایک دلت پریوار کے تین لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ ابتداء میں  پولس نے اس کا الزام اہل خاندان پر لگایالیکن تفتیش کے دوران شک کی سوئی نام نہاد  اونچی ذات والوں کی جانب گھوم گئی۔ مئی ؁۲۰۱۵ میں شرڈی کے ساگر سیجوال کا قتل بھی پولس کے خیال میں ورن بھید کی وجہ سے نہیں ہوامگر دلت رہنماوں کے مطابق ساگر کو فون میں امبیڈکر وادی ترانے رکھنے کی سزا دینے کے لیے قتل کیا گیا۔ ان مظالم سے تنگ آکردلتوں نے احمدآباد کو ’جاتیہ اتیاچار گرست ضلع‘(ذات پات کے مظالم سے متاثرہ ضلع) گھوشیت کرنے کا مطالبہ کیا۔ معروف سماجی کارکن اناّہزارے کا  تعلق اسی احمد نگر ضلع سے ہے۔ وہ ماحولیات  اور بدعنوانی کے موضوعات پربہت کچھ بولتے ہیں لیکن اپنے مراٹھا سماج کے خلاف یا مظلوم دلتوں کی حمایت میں ان کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ بھیما کور ےگاوں دراصل پونہ سے احمدنگر کےراستے  میں ہے۔ بھیما کورے گاوں کی چنگاری ۴ کلومیٹر دور و دھو بدرک میں لگائی گئی۔ آگے چل کروہ  شعلۂ جوالہ بن گئی اور اپنے لگانے  والوں کو بھسم کرگئی۔

 ودھو بدرک میں شیواجی کے بیٹے سمبھاجی کی سمادھی ہے۔ اسے اورنگ زیب نے قتل کردیا تھا۔ اس سمادھی  کی دیکھ ریکھ گائیکواڑ خاندان کرتا ہے۔ اس  کے احاطے میں   گووند گوپال گائیکواڑ(مہار) کی بھی سمادھی ہے۔ دلتوں کا خیال ہے کہ اورنگ زیب کے خوف سے سمبھا جی کے وارث اس کی آخری رسومات ادا کرنے کی جرأت نہیں کرسکے تو گووند گوپا ل نے اس  کام کوانجام دیا۔ اس حوالے سے ۲۸ دسمبر؁۲۰۱۷ کو ایک بورڈ نصب کیا گیا۔ سمبھاجی کے وارث اس روایت کی تردید کرتے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لاش کے ٹکڑوں  کو سی کر ان کے اہل خانہ (یعنی مراٹھوں ) نے ہندو رسوم رواج کے مطابق سمبھاجی کا انتم سنسکار کیا۔ ودھو میں مراٹھوں کی اکثریت ہے اس لیے ان لوگوں نے  نہ صرف  بورڈ ہٹا یا بلکہ گووند گوپال کی سمادھی کے اوپر بنی چھتری کوتوڑ پھوڑ کر کے فساد برپا کردیا۔ ڈپٹی سرپنچ ریکھا شیوالے اور دیگر لوگوں کے خلاف ایک  دلت خاتون سشما اوہال نے پولس میں شکایت کی اور اس میں  ہندوتواوادی رہنما ملند ایکبوٹے کا نام بھی لکھوانے کی کوشش کی لیکن پولس نے اسے شامل نہیں کیا۔ اس کے جواب میں ریکھا شیوالے نے پولس میں شکایت کی اور دلتوں  کو  مصالحت پر مجبور کیا ۔ اس واقعہ نے علاقہ کی پرامن  فضامیں نفرت کا وہ  زہر گھول دیا  جو حملے کا سبب بنا۔کورے گاوں بھیما  میں  جوش و خروش کے ساتھ جشن مناکرلوٹنےوالوں پرہونے والےقابلِ مذمت حملےکی تفصیلات ذرائع ابلاغ  کی زینت بن چکی ہیں ۔اس کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پونہ پولس نے جگنیش میوانی اور عمر خالد کے خلاف اشتعال انگیز تقریرکی شکایت درج کی ہے اور ممبئی میں چھاتر ا بھارتی کے کنونشن کو روک دیا جس میں وہ دونوں تقریر کرنے والے تھے۔

  اس تقریب کو قوم دشمن اور ذات پات کا فروغ قراردینے والے براہمن مہاسبھا کے صدر آنند دوے فرماتے ہیں  ’’انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کی خاطر مہاراشٹر سمیت ساری ریاستوں کے خلاف جنگ کی۔ مراٹھا سامراج کی رہنمائی کرنے والے پیشواوں سے بھی  جنگ ہوئی۔ برطانیہ کی فوج میں مراٹھا، مہار اور براہمن بھی تھے اسی طرح پیشواوں کی فوج میں مراٹھا اور مہار شامل تھے۔ یہ جنگ مہار اور مراٹھا کے درمیان نہیں بلکہ ہندوستانی حکمراں اور برطانیہ کے درمیان تھی۔ تو کیا یہ جشن برطانیہ کی مراٹھا کے خلاف فتح کے لیے منایا جاتا ہے؟ آنند دوے کی اس بات کو درست مان لیا جائے تو یہ  سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر ہندوستان کے دیگر علاقوں  میں انگریزوں کی فتح کا جشن  کیوں نہیں منایا جاتا ؟ یہ شرف پیشواوں کو ہی کیوں حاصل ہے کہ ان کی شکست پر خوشیاں منائی جائیں ؟

اس سوال کا جواب دلچسپ ہے۔ انگریزوں نے سب سے پہلے جنوب کے شہر مدراس میں اپنے قدم جمائے اور وہاں اپنی قوت مجتمع کرکے سمندر کے راستے سے بنگال پر حملہ کردیا۔ ؁۱۷۵۷ میں انہوں نے جنگ پلاسی میں میر جعفر اور جگت سیٹھ جیسے لوگوں کی مدد سے سراج الدولہ کو شکست دی۔ ؁۱۷۶۴ میں اودھ کے نواب کو بکسر کے مقام پر شکست فاش سے دوچار کیا۔؁۱۷۹۹ میں ٹیپو سلطان کو شہید کرکے میسور کو قبضے میں لیا اور ؁۱۸۵۷ میں بہادر شاہ ظفر کو دہلی سے معزول کرکے رنگون بھیج دیا۔ ان میں سے کسی مقام پر انگریزوں کی فتح کو سراہا نہیں جاتا اس لیے کہ وہاں کے باشندوں کے ساتھ مسلمان  بادشاہ اچھا سلوک کرتے تھے۔ ان کو اپنے مسلمان حکمران کی شکست کا افسوس تھا اور وہ انگریزوں کی غلامی سے نفرت کرتے تھے لیکن پونہ کے پیشوااپنی سلطنت میں عام  لوگوں کے علاوہ شودروں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کرتے تھے  اس کے سبب عوام  نے ان سے نجات کا جشن منایا اورانگریزوں کو خوش آمدید کہا۔ آنند دوے کو یاد رکھنا چاہیے کہ مودی سرکار بھی اگر  گائے کی کھال نکالنے والے بے قصور دلتوں کی کھال ادھیڑے گی تو اس کے جانے پر لوگ افسوس کرنے کے بجائے خوشی منائیں گے۔

 آنند دوے نے یہ تو کہا کہ پیشوا کی فوج میں  مہار موجود تھے لیکن ان کی حالت کیا تھی؟ وہ جس سماج سے آتے تھے وہاں پر ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا تھا ؟ برطانوی فوج اور حکومت نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ ان چبھتے ہوئے سوالات میں جشن کی وجہ پوشیدہ ہے۔مسلمانوں اور انگریزوں کی فوج میں سارے فوجیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا تھا مگر یہ تاریخی حقیقت ہے کہ  پیشوا  فوج میں اچھوتوں کے رہنے اور سونے کے لیے الگ بیرک تھے۔ سماج میں  ان کے والدین اور اولاد کے گلے میں لوٹا باندھ دیا جاتا تھا تاکہ  وہ تھوک کر دھرتی ماتا کو اپوتر نہ کریں  اس کے برعکس سورنوں کو غلاظت پھیلانے کی پوری آزادی تھی۔ ان کی پیٹھ پر جھاڑو بندھارہتا تھا تاکہ قدموں کے نشان مٹتے چلے جائیں  اور کو ئی براہمن اس کے لمس سے ناپاک نہ ہوجائے۔ انگریزوں نے یہ بھید بھاو ختم کردیا۔ دلتوں  پر تعلیم کے دروازے کھول دیئے۔ ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کردیا۔ ایسے میں اگر وہ جشن نہیں منائیں  تو کیا ماتم کریں ؟  براہمنوں کو چاہیے کہ اس بات کا شکر منائیں کہ ابھی تک دلتوں کے اندر انتقام لینے کا خیال نہیں آیا ہے؟ ورنہ ان کا  جینا دوبھر ہوجائے گا اور ساری ہیکڑی نکل جائیگی۔

مہاراشٹر میں براہمنوں کی آبادی تو کم ہے لیکن ان کا زہر بہت تیز ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ہندو مہاسبھا  اور آرایس ایس کے اکثر دانشور اور چوٹی کے رہنما مہاراشٹر میں پیدا ہوے۔ ہندوستان کے اندر جب انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ چھڑی تو  ونایک دامود ساورکر نے بھی اس میں حصہ لیا مگر جب انگریزوں نےگرفتار کرکے انڈمان  بھیج دیا تو یہ نام نہاد ویرتوبہ کرکے انگریزوں کا وفادار بن گیا اور ان کے آگے پیچھے دم ہلانے لگا۔ مہاراشٹر کے مراٹھا سماج نے گاندھی  جی کا ساتھ دیا  جبکہ ساورکر اور سنگھ نے ناتھورام گوڈسے کی مدد سے گاندھی جی کو قتل کروادیا۔ صوبہ مہاراشٹر کی تشکیل کے بعد یہاں پر کانگریس  کا غلبہ رہا اور سیاسی  اقتدار کی باگ دور مراٹھوں اور پسماندہ طبقات کے ہاتھ میں رہی لیکن سماجی، معاشی اور تعلیمی میدان میں مراٹھے چھا گئے۔ مہاراشٹر کو پہلا براہمن وزیراعلیٰ بال ٹھاکرے نے دیا اور اس کو بھی مدت کار مکمل ہونے سے قبل ایک مراٹھا سے بدل دیا۔ دوسرا براہمن وزیراعلیٰ دیویندر فردنویس ہے۔ بی جے پی  نے مراٹھوں کی باہمی جنگ یعنی کانگریس اور این سی پی کی چپقلش کا خوب  فائدہ اٹھایا۔ مودی لہر میں  دیگر پسماندہ طبقات کو اپنے ساتھ لے کر  حکومت بنائی اور کھڑسے جیسے طاقتور پسماندہ رہنما کو ٹھکانے لگا دیا۔

 صوبے کا مراٹھا سماج اقتدار کی محرومی کے غم میں مبتلاء تھا کہ کوپرڈی کا سانحہ رونما ہوگیا۔ اس سے اندر ہی اند ر پنپنے والے غم و غصے کاآتش فشاں پھٹ پڑا۔ سارے صوبے میں نہایت منظم و موثر ’ایک مراٹھا، لاکھ مراٹھا‘ کے تحت زبردست خاموش جلوس  نکلے۔ اس تحریک  نےمایوسی کو  جوش اور امنگ میں بدل دیا۔ اس تحریک کے دوران ایسی نادانستہ غلطیاں بھی  ہوئیں جس کی بھاری  سیاسی قیمت انہیں  بلدیاتی انتخابات میں چکانی پڑی۔ کوپرڈی میں چونکہ  ملزم دلت تھے اس لیے دلتوں کے خلاف ایک زیر امن  لہر چل پڑی۔  اس جلتی پر تیل کا کام شیڈوکاسٹ اور شیڈول ٹرائب پر مظالم کے قانون کو مسترد کرنے کے مطالبے نے کیا۔ سماجی سطح پر پسماندہ طبقات میں اس کے سبب اس کے سبب عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ دوریوں  میں اضافہ ہوا حالانکہ اس قانون کا سب سے زیادہ استعمال مراٹھوں نے اپنے مراٹھا دشمن ایک دوسرے سے انتقام لینے کے لیے کرتے ہیں۔

  اس تحریک کی دوسری بڑی غلطی ریزرویشن مطالبہ تھا۔ جس سماج کے پاس  اسکول و کالج کی فراوانی  ہےاور جو شکر کے کارخانوں پر تسلط رکھتا  ہےاس کی جانب سے ریزرویشن کےمطالبہ نے پسماندہ طبقات کو ڈھکیل کر بی جے پی کی جھولی میں پہنچا دیا۔ اس طرح مراٹھاریلیاں سیاسی فائدے کے بجائےنقصان  پر منتج ہوئیں ۔ بی جے پی نے صوبائی اسمبلی کے بعد مقامی انتخابات میں  زبردست کامیابی درج کرائی۔ ہو ا کے اس خطرناک رخ کو بدلنے کا کام بھیما کورے گاوں میں  حملے نے کردیا۔ یہاں پر سنگھ پریوار کے ترشول دھاری  مراٹھا اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی  مارلی۔اس زبردست جلوس کو دیکھ کر ہندو اگھاڑی  کے ملند ایکبوٹے  اور مراٹھا پرتشٹھان کے سمبھاجی بھیڈے  کھلے عام دلتوں سے  بھڑ گئے اور اب جیل کی ہوا کھانے کاانتظار کررہے ہیں ۔ ایکبوٹے پر پہلے ہی ایک درجن مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں پانچ میں وہ مجرم ٹھہرایا جاچکا ہے۔ اس بار اس کو جیل میں ۸۵ سالہ فگوسن کالج کے سابق پروفیسر اور سنگھ پرچارک سمبھاجی بھیڈے کی صحبت کا شرف حاصل ہوگا۔ بقول فنا بلند شہری (ترمیم کے لیے معذرت کے ساتھ) ؎

ایک بوٹے کا ایماں بہک ہی گیا،دیکھ کر جشن وریلی  ٹھٹک ہی گیا 

  آج سے پہلے وہ کتنا مغرور تھا، مٹ گئی سب ڈھٹائی مزا آ گیا

اس صورتحال کی تبدیلی کا سہرہ  دلت رہنماوں  اور مراٹھا مہاسنگھ کی دانشمندانہ قیادت  کو جاتا ہے کیونکہ  انہوں نے اسے مراٹھا اور دلت تنازع بننے سے بچالیاورنہ  بی جے پی کے وارے نیارے ہوجاتے۔ فی الحال مہاراشٹر کے اندر کانگریس اور این سی پی دونوں کی قیادت مراٹھوں کے ہاتھ میں ہے اس لیے اگر یہ مراٹھوں کا حملہ قرار پاتا تو رام داس اٹھاولے جیسے لوگوں کے لیے دلتوں کو بی جے پی کی منڈی میں نیلام  کرکے  اپنی تجوری بھرنے کا نادر موقع ہاتھ آجاتا۔ اسی طرح ایکبوٹے اور بھیڈے جیسے لوگوں کو اگراپنے سماج میں مقبولیت حاصل ہوجاتی تو وہ بھی مراٹھا نوجوانوں کو بددل کرکے بی جے پی کا ووٹر بنانے کی سعی کرتے۔ملند ایکبوٹے بی جے پی کا کونسلر رہا ہے اور وہ شیوسینا  کے ٹکٹ پر انتخاب جیت چکا ہے اس لیے اس کا دوبارہ بی جے پی میں آ جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔ ایسے میں کانگریس کے اشوک چوہان اور این سی پی کے شرد پوار کی جانب سے اس حملہ کی بروقت  مذمت اوراسے  فرقہ پرستوں کی سازش  قرار دیناسیاسی بصیرت کا ثبوت تھا۔ مراٹھا مہاسنگھ کے صدر پرشوتم  کھیڈیکر کے ذریعہ پرکاش امبیڈکر کوکی جانے والی حمایت اور مراٹھا نوجوانوں کی سب سے سرگرم تحریک سمبھاجی بریگیڈ کے ساتھ نے ہوا کا رخ تبدیل کردیا۔ کورے گاوں بھیما میں مہار فوج کے ذریعہ جس طرح  پیشواوں کی شکست ہوئی ایکبوٹے اور بھیڈے کو بھی ان کے دھرم یدھ میں ویسی ہی  ناکامی ہوئی ؎

بے حجابانہ وہ سامنے آگئے، اور ترشول بھالے سے ٹکرا گیا     

 زعفرانی کو نیلے نے رسوا کیا، دیکھ کر یہ لڑائی مزا آ گیا

اس کامیاب سیاسی حکمت عملی نے کوپرڈی کے زخم پر مرہم رکھ دیا  ہے۔ مراٹھوں اور دلتوں کو مزید ترشول کے حملوں  سے محفوظ کردیا ہے۔یہی وجہ ہے براہمن  مہاسبھا کے آنند دوے کہتے ہیں ’’ بی جے پی حکومت نے شنیوار واڈہ  میں پروگرام کی اجازت دے کر ہمیں  مایوس  کیاہے۔ ہم نے پولس کمشنر کو خط لکھ کر کہا کہ  وہ منتظمین کو اس بات کا پابند کریں کہ کسی ایک طبقہ کے خلاف  بول کر سماج میں تناو نہ پیدا کیا جائے‘‘۔ حیرت ہے کہ جو لوگ دوسروں کے خلاف دن رات بکواس کرتے رہتے ہیں ان کو اپنی مخالفت کا بے تحاشہ خوف محسوس ہوتا ہے۔ پونہ کی بی جے پی میئر مکتا تلک کا کہناتھا کہ پونہ میونسپلٹی نے ثقافتی پروگرام کی اجازت دی ہےلیکن اگر منتظمین جگنیش میوانی جیسے سیاسی لوگوں کو بلا کر اس کو سیاسی رنگ دیتی ہے تو ہمیں  اجازت پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ پیشواوں کے وارث  اودے سنگھ پیشوا کی حالت سب سے خراب ہے۔ اودے سنگھ انتظامیہ سے ناراض ہیں ۔ وہ اس پروگرام کے مخالف ہیں مگر ان کو شکایت ہے کہ کوئی ان  کا ساتھ نہیں دیتا  اس  لیے وہ اکیلے کیا کرسکتے ہیں ؟  ماضی کا پیشوا حال میں پیشوائی کے باوجود اس قدر بے یارومددگا ر ہوجائیگا یہ کون سوچ سکتا تھا ؟ یہ بھیما کورے گاوں سانحہ کا سب سے عبرتناک پیغام ہے۔ ؁۲۰۱۸ کی پہلی تاریخ کو وقوع پذیر ہونے والا یہ واقعہ غالب کے مصرع  ’ایک برہمن نے کہا  کہ یہ سال اچھا ہے‘ کی یاد دلاتا ہے۔ ویسے اس زمین پر قتیل  شفائی کا یہ شعر بھی معمولی ترمیم کے کے ساتھ صادق آتا ہے؎

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے      

 اس کو دفنائیں گے بھیما کے کورے گاوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close