خصوصی

کیا ریلوے میں دو لاکھ سے زیادہ نوکریاں کم کر دی گئیں ہیں؟

رويش کمار

2/ مارچ کے ٹائمز آف انڈیا کے صفحہ نمبر 20 پر پردیپ ٹھاکر کی رپورٹ شائع ہوئی ہے. رپورٹر نے تو اپنی طرف سے خبر شائع کردی ہے مگر اس خبر کے آكڑے بتا رہے ہیں کہ حکومت روزگار کو لے کر کس طرح سے کھیل کرتی ہے. اخبار کے مطابق حکومت نے اس بار کے بجٹ میں 2 لاکھ000 80، ملازمتوں کے لئے بجٹ کا انتظام کیا ہے. سب سے زیادہ داخل انکم ٹیکس محکمہ میں ہوگی جس کی صلاحیت کو000 46، سے بڑھا کر000 80، کرنے کی بات ہے. مصنوعات کی فیس کے سیکشن میں بھی 41000، لوگ رکھے جائیں گے. اس وقت مصنوعات اور فیس محکمہ کی صلاحیت 50،600 ہے جسے بڑھا کر700 91، ہو جائے گا. کس سطح کی نوکری ہے، ان کی نوعیت کیا ہوگی، یہ سب صاف نہیں ہے. یہ بھی صاف نہیں ہے کہ کتنے دنوں میں بھرتی کا کام مکمل کر لیا جائے گا. کیا انکم ٹیکس، مصنوعات اور فیس محکمہ نے ایک سال کے اندر اندر کبھی بھی اسی ہزار بھرتیاں کر سکا ہے؟ رپورٹ سے صاف نہیں ہے اور مجھے بھی نہیں لگتا هےےسي رپورٹ اخباروں میں چھپتی ہے تو تعداد کی وجہ سے کشش لگتی ہے.

ساتویں تنخواہ کمیشن کی رپورٹ میں مرکزی حکومت کے محکموں میں منظور خطوط اور بحال عہدوں کو لے کر روزگار کا اچھا تجزیہ ہے. کمیشن نے تمام محکموں سے اكڑے جٹا کر تمام حقائق رکھے ہیں. (http://7cpc.india.gov.in/pdf/sevencpcreport.pdf) اس لنک پر جا کر دیکھ سکتے ہیں. اس کی ایک میز سے پتہ چلتا ہے کہ آمدنی کے سیکشن میں 2006 سے 2014 یعنی آٹھ سالوں کے درمیان محض 25،070 بهاليا ہوئیں. اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں یا سوال پوچھ سکتے ہیں کہ آمدنی کے سیکشن میں اسی ہزار بھرتیاں کب تک ہوں گی. کہیں 2030 تک تو نہیں! ہر شعبہ میں ملازمتوں کی صورت حال کا کچا چٹھا ساتویں تنخواہ کمیشن کی رپورٹ میں ہے.

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بجٹ کے اینیكسچر میں ریلوے کے افرادی قوت میں 2015 سے لے کر 2018 تک کوئی تبدیلی نہیں ہے. یعنی حکومت نے افرادی قوت بڑھانے کا کوئی مقصد نہیں رکھا ہے. اخبار میں شائع ہوا ٹیبل کے مطابق 2015 سے 18 کے درمیان ہر سال ریلوے کی فعالیت یعنی افرادی قوت 13،26،437 سے لے کر 13،31،433 ہی رہے گا. 1.1.2014 کو ریلوے کی منظور صلاحیت 15 لاکھ 57 ہزار تھی. اگر ٹائمز آف انڈیا کی میز صحیح ہے تو مودی حکومت سے سوال پوچھا جانا چاہئیں کہ کیا ریلوے کی ملازمتوں میں بھاری کمی کی گئی ہے؟ یو پی اے کے وقت سے ہی ریلوے میں چھانٹ ہوتی آ رہی ہے لیکن ان کے وقت منظور خطوط کی تعداد 15 لاکھ تھی جو اگلے تین سال کے لئے قریب 13 لاکھ بتائی گئی ہے. منظور خطوط کی تعداد میں ہی دو لاکھ کی کمی؟ ساتویں تنخواہ کمیشن کی ٹیبل سے پتہ چلتا ہے کہ ریلوے میں کبھی بھی منظور کی صلاحیت کے برابر بھرتیاں نہیں ہوئی ہیں. یو پی اے کے وقت پہلی جنوری 2014 کو منظور صلاحیت 15 لاکھ 57 ہزار تھی تب 13 لاکھ 61 ہزار ہی لوگ کام کر رہے تھے. اب تو منظور صلاحیت دو لاکھ کم کر دی گئی ہے. اگر اس کے نیچے لوگ کام کریں گے تو ریلوے میں ملازمتوں کی اصل تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ کمی جائیں گی.

وزیر اعظم نے یوپی کی انتخابی ریلی میں کہا تھا کہ ریلوے میں ایک لاکھ بھرتیاں ہوئی ہیں. آپ ساتویں تنخواہ کمیشن اور ٹائمز آف انڈیا کی میز کی بنیاد پر پرکھ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم یا تو جھوٹ بول رہے ہیں یا غلط بول رہے ہیں. ٹائمز آف انڈیا کے مطابق متوقع صلاحیت میں اتنی اضافہ نہیں نظر آتی ہے. 2015 کے لئے ریلوے کی متوقع صلاحیت 13،26،437 ہے. 2016 کے لئے 13،31،433 ہے. یہ بجٹ کے اعداد و شمار ہیں. محض چار پانچ ہزار کا اضافہ نظر آتی ہے. حکومت کو اس پوائنٹ پر جواب دینا چاہئے. اپوزیشن کبھی نہیں پوچھےگابھارت کی تاریخ میں اس سے سست اپوزیشن کبھی نہیں هاسے ڈر لگتا ہے کہ پوچھیں گے تو ان سے بھی پوچھا جائے گا. تو پوچھيے. کسی نوجوان کو نوکری ملنی زیادہ ضروری ہے یا پوچھا پوچھی میں کون جیتے گا وہ ضروری ہے.

ریلوے ملک میں سب سے زیادہ سرکاری روزگار دیتی ہے. ساتویں تنخواہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2006-2010 یعنی 4 سال کے درمیان ریلوے میں 90، 629 بھرتیاں ہی ہوئیں. 2006 سے 2014 کے درمیان 3 لاکھ 30، 972 بھرتیاں دکھائی گئی ہیں. مرکزی حکومت کے تمام محکموں میں 2006 میں 37.01 لاکھ ملازمین تھے. 2014 میں یہ تعداد بڑھ کر 38.90 لاکھ ہوئی. آٹھ سال میں یو پی اے حکومت کا ریکارڈ کتنا خراب ہے. آپ اس تعداد سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں. اسی طرح کے اكڑے وزارت دفاع کو لے کر بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ وہاں بھی بحالی کم ہوتی جا رہی ہے. ہر شعبہ میں منظور صلاحیت کے حساب سے دس سے بیس فیصد عہدے خالی ہیں. حکومت جان بوجھ کر بے روزگاری پیدا کر رہی ہے. انتخابی اخراجات میں تو کوئی کمی نہیں آتی ہے مگر مالی بجٹ خسارے کو سخت کے لئے طرح طرح کے اقدامات کو درست ٹھہرایا جاتا رہتا ہے.

بھارت کے سرکاری اداروں کی حالت کیوں خراب ہے. اس لیے نہیں کہ وه کوئی کام نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہاں کام کرنے والے نہیں هےدللي میں ایک لاکھ کی آبادی پر کارپوریشنز کے ملازم کی تعداد 1260 ہے. آپ سوچیں. صفائی کے لئے کتنے کم ملازم ہوں گے. جب ملازم نہیں ہوں گے تو شہر کو صاف کون کرے گا. اس سوال سے بچنے کے لئے مسلسل آپ دماغ میں یہ بات ٹھوسي جا رہی ہے کہ لوگ شہر کو گندی کرتے ہیں. حکومت نہیں بتاتی ہے کہ صفائی مہم کے تحت کتنے کوڑے دان کس شہر میں رکھے گئے اور انہیں صاف کرنے کے لئے کتنے لوگوں کو کام دیا گیا. بوگس باتیں چاروں طرف چل رہی هےهر سوال ہندو مسلم اور قوم پرستی جیسے پھٹیچر باتوں پر پہنچ جاتا ہے.

امریکہ میں ایک لاکھ کی آبادی پر وہاں کے مرکزی ملازمین کی تعداد 668 ہے. بھارت میں ایک لاکھ کی آبادی پر مرکزی ملازمین کی تعداد 138 ہے. آبادی امریکہ سے کہیں زیادہ بھارت ہے مگر ملازم امریکہ میں تگنے ہے. تو صاف ستھرا اور منظم کون نظر آئے گا. ہندوستان یا امریکہ؟ قاعدے سے ٹائمز آف انڈیا کی هےڈلان ہونی چاہیے تھی کہ حکومت نے ریلوے کے منظور خطوط کی تعداد میں دو لاکھ کی کمی کی مگر هےڈلان ہے کہ حکومت دو لاکھ اسی ہزار عہدوں پر بھرتیاں کرے گی. اسی رپورٹ میں اخبار بھی لکھتا ہے کہ مرکزی حکومت کو آئی ٹی، انکم ٹیکس، مصنوعات اور فیس کے سیکشن میں ایک لاکھ 88 ہزار نئے لوگوں کو رکھنا تھا. مگر حکومت عہدوں کو بھرنے کے لئے نہیں پائی. تو پھر اخبار کو بتانا چاہئے کہ 2 لاکھ 80 ہزار کے اعداد و شمار میں بقایا کتنا ہے، نئی ملازمتیں کتنی ہیں. 2014-2016 کے درمیان جو حکومت دو لاکھ لوگوں کو نہیں رکھ سکی، وہ تقریبا تین لاکھ لوگوں کو کتنے سال میں رکھے گی. روكيے. اسی رپورٹ میں ایک اور شخصیت ہے. دو سال میں بھرتی کا ہدف پورا نہیں ہونے کی وجہ سے مصنوعات اور فیس، آئی ٹی اور انکم ٹیکس محکمہ میں ملازمین کی تعداد میں 21،000 کی کمی آ گئی. اسی لئے کہتا ہوں ہم سب اخبار پڑھتے تو ہیں مگر کسی کو اخبار بھی پڑھنا نہیں آتا ہے.

 2017 کی یو پی ایس سی کے امتحان کے لئے 980 مراسلہ طے ہوئے ہیں. گزشتہ پانچ سال میں یہ سب سے کم ہے. باقی آپ قبرستان اور شمشان کے مسئلے کو لے کر بحث کر لیجئے. اسی کو ایمانداری سے کر لیجئے. لوگ اب نالوں کے کنارے جنازہ کرنے لگے ہیں. زیادہ دور نہیں، دہلی سے صرف بیس کلومیٹر آگے لکھنؤ روڈ پر. بولیے کہ اس کے اختیارات میں کوئی حکومت کیا کرنے والی ہے. قبرستانوں پر بھوماپھياو کے قبضے ہیں. یہ مافیا ہندو بھی ہیں اور مسلم بھی ہیں. بتائیے کہ کیا یہ زمینیں آزاد ہو پائیں گی. لیکن اس میں زیادہ مت الجھيے. کام کے سوال پر ٹکے رہیے. مر گئے تو کون کس پھوكےگے یا گاڑےگا یہ کس طرح پتہ چلے گا اور جان کرنا کیا ہے. ہم اور آپ تو جا چکے ہوں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close