خصوصیشخصیات

کیا سرسید احمد خاں کے خوابوں کا چمن اپنی معنویت کھو رہاہے؟

ڈاکٹر خالد اختر علیگ

 آخر سرسید احمد کو ن تھے،وہی جن کے لئے ان کے شدید مخالف اکبر الہ آبادی کو بھی کہنا پڑ گیا تھا:ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا،کون سا کام، ایسا کام جس کی وجہ سے سر سید احمد خاں گزشتہ دو سو برس سے چھائے ہوئے ہیں اَور نجانے کب تک چھائے رہیں گے ۔انہوں نے مسلمان قوم کے لئے خصوصاً اور برصغیر کے عام انسانوں کے لئے عموماً ایسا کام کیا جو رہتی دْنیا تک اْن کو اچھے لفظوں میں یاد کرنے کے لئے کافی ہے،انہوں نے علم و ادب و آگہی کی روشنی پھیلائی، ذہنی بیداری پیدا کی۔ غلاموں کو حاکمیت کی راہ پر لگایا، انگریزوں کی تعلیم، جو چپراسی اور کلرک بنانے کے لئے تھی،سر سید احمد خاں نے اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کر کے انہیں نئی منزلوں کی نوید دی۔ نہ صرف راغب کر کے بلکہ عملی طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی عظیم تعلیمی درس گاہ بنا کر مسلمانان برصغیر کے لئے کامیابی و کامرانی کے نئے افق دِکھلائے۔

سر سید احمد خاں کی تحریک نے برصغیر کے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا۔ علمی، تعلیمی، ادبی، ثقافتی، سماجی، سیاسی، غرض ہر ہر شعبے میں ان کی اپنے زمانے سے آگے کی سوچ نے عظیم الشان فکری انقلاب برپا کیا۔ اس بطل عظیم نے پورے برصغیر کے عام و خاص لوگوں پر وہ احسان کئے، جو اتارے ہی نہیں جا سکتے۔ اْن سے بے حد اختلاف کیا گیا، انہیں ’کرسٹان‘ ہونے کا طعنہ دیا گیا، انگریزوں کا زلہ خوار کہا گیا، کفر کے فتوے لگائے گئے، حتیٰ کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لئے دن رات ایک کر دینے والے پر چندہ کھانے کا الزام بھی بعض دریدہ دہنوں نے عائد کیا، سر سید احمد خاں نے ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے ا سٹیج پر اداکاری بھی کی اور چندہ اکٹھا کیا، طوائفوں کے سامنے چندے کا کشکول بڑھایا اور بھر بھر کے لا کے دکھایا، یار لوگوں نے طوائفوں کے چندے کو حرام قرار دینا چاہا تو کہا کہ اسکول میں متعدد باتھ روم، واش روم بھی تو بننے ہیں ، یہ چندہ وہاں کام آئے گا۔ کسی بھی عظیم مقصد کے لئے چندہ لینے اور تہمتیں برداشت کرنے کا تجربہ یقینا ہر اس شخص کو ہوتا ہے جو خلوص نیت کے ساتھ قوم کی فلاح کے لئے اپنے شبانہ و روز کو قربان کر دیتا ہے ۔ مسلمانانِ برصغیر کی فکری، سیاسی، ذہنی بیداری میں سر سید احمد خاں کا کردار لاثانی ہے، بے عدیل ہے،بنیادی ہے، لازوال ہے، انمٹ ہے، ناقابلِ فراموش ہے۔

 17 ؍اکتوبر 2017 ء یعنی آج کے دن سرسید احمد خاں کی پیدائش کو دوسو سال پورے ہونے جارہے ہیں ہندوستان سے لیکر پاکستان تک، عرب سے لیکر تک یوروپ تک جہاں جہاں اردو بولنے والے لوگ موجود ہیں وہاں پر اس شخصیت کو یاد کیا جارہا ہے، اسی دن ہر سال ان کا یوم پیدائش یوم سرسید کے نام سے منایا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سرسید کے دو سوسال پورے ہونے پر لوگ جشن کیوں منارہے ہیں ، کیا ہم واقعی سر سید کے اس مشن کو پورا کررہے ہیں جو وہ چھوڑ کر گئے تھے، شاید نہیں ، ہم توسر سید کے ان خوابوں میں ابھی تک رنگ بھی نہیں بھر پائے ہیں جو وہ اپنی دور بیں چشم سے دیکھا کرتے تھے، ہم صرف ایک ہی ادارے تک سمٹ کر رہ گئے، نئے ادارے کھولنا تو دور کی بات اس ادارے کو بچا پانے میں بھی تقریباًناکام ہی نظر آتے ہیں ، اس کے تشخص پر تلوار لٹکی ہوئی ہے اور ہم باہم دست و گریباں ہیں ۔ جس کی وجہ سے تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے، سرسید اس ادارے سے ملک کو ایسے نوکر شاہ دینا چاہتے تھے جو ملک کی بہتری کے لئے کام کریں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے طلبہ میں اب سول سروس کی طرف رجحان باقی نہیں رہا یا پھریہاں کے اساتذہ میں اتنی صلاحیت ہی نہیں رہی کہ وہ طلبہ کو اس جانب راغب کر سکیں اور انہیں تیار کرسکیں ۔اب یہاں سے وہ در نایاب کیوں نہیں نکلتے جو سارے عالم میں اپنی چھاپ چھوڑ سکیں ۔ ہم نے ماضی میں دیکھا بھی ہے کہ اس ادارے نے نہ صرف ہندوستان کو بلکہ دنیا کے بیشتر ملکوں کو بہترین سپوت دئے ہیں ، جن میں سائنس سے لے کر ادب تک،سماج سے لیکر سیاست تک،نوکر شاہی سے لیکر وزارت عظمیٰ اور جمہوریت کے صدور تک شامل ہیں ۔ یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب اس یونیورسٹی کے پاس وسائل کم تھے مگر یہاں کے اساتذہ اور ملازمین کے دلوں میں ادارے کی ترقی کی خواہش اور خلوص تھاآج سب کچھ ہے مگر حالات ابتر ہیں ۔

علیگ ہونا پہلے بھی فخر کی بات تھی اور آج بھی ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم قوم کے باشعور افراد آج بھی پنے بچوں کو یہاں تعلیم دلانے کے لئے بھیجنا پسند کرتے ہیں ،وہ اس ادارے کو اپنی جان سے زیادہ چاہتے ہیں انہوں نے اس ادارے کو بچانے کے لئے جانوں تک کی قربانی دی ہے، وہ اسے اس ملک کے اندر مسلمانوں کا آخری قلعہ تعبیر کرتے ہیں کیونکہ یہاں پر آج بھی مسلم مسائل پر سنجیدہ بحث ہوتی ہے اور خود کو مسلم معاشرہ سے الگ تھلگ محسوس نہیں کیا جاتا ہے، ہندوستانی مسلمانوں کو یہاں کے چمن سے مختلف قسم کے پھولوں کی خوشبوئیں محسوس ہوتی ہیں جس سے وہ تسکین پاتے ہیں مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ جب اسی قوم کے بچے یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں تو وہ علاقائیت کی آگ میں جھلس جاتے ہیں ۔

 وہ زبان جس کو سرسید نے اپنے خون جگر سے سینچا، جس کے ذریعہ انہوں نے قوم کو بیدا ر کیا جس کے نقوش ادارے میں جا بجا نظر آ تے ہیں ، وہی اردو زبان آج یہاں پر اپنی بقا کے لئے ہاتھ پیر مار رہی ہے، یہاں سے وابستہ فکلٹیز،شعبہ جات اور اقامتی ہالوں کے سائن بورڈ اس کی کسمپرسی کے گواہ ہیں ۔تہذیب و تمد ن کا گہوارہ خزاں کی طرف گامزن ہے۔نو وارد طلبہ کو آداب سکھانے کے عمل پر پابندی لگادی گئی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے ریگنگ کے زمرہ میں نہیں آتا۔جس کا لازمی اثریہ ہوا ہے کہ جونئیراور سینئر طلبہ میں کوئی قربت باقی نہیں رہی، علیگیریت کا تصورختم کردیا گیاہے، طلبہ کو صرف مادی تعلیم کا خواہاں بنادیا گیااور تربیت کا پہلو مکمل طورپر ناپید ہو گیا ہے، سلیقگی سے کوئی وابستگی ہی نہیں رہی اور اس عمل میں یونیورسٹی کے اساتذہ برابر کے شریک ہیں مگر وہ اس کے دور رس نتائج سے نا آشنا ہیں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی عالمی شناخت اس کی تہذیب اور سلیقگی سے وابستہ ہے مگر اب یہ پہچان ختم ہورہی ہے۔یہ یونیورسٹی اب دیگرسرکاری یونیورسٹیوں کی طرح ہی ہو کر رہ گئی ہے یہ آہنی جا لیوں سے گھرے ہوئے کیمپس اور اینٹ گارے سے بنی ہوئی عمارت رہ گئی ہے اس کی روح نکل چکی ہے ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندستانی مسلمانوں کے لئے سرمایہ افتخار تھی، اسے تعلیم گاہ سے زیا دہ تربیت گاہ تصور کیاجاتا  تھا، ڈگریوں کے حصول کے لئے ملک میں بہت سارے ادارے ہیں جہاں مسلمان اپنے بچوں کوتعلیم دلا سکتے ہیں ۔مگر وہ تربیت کو بھی لازمی جزخیا ل کر تے ہوئے بچوں کو یہاں داخل کرواتے تھے مگر افسوس یہ تربیت گاہ اب اجاڑی جاچکی ہے۔ مادہ پرست افراد کی تیاری ہی اس کا نصب العین بن گیا ہے۔

مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close