تاریخ ہندخصوصیشخصیات

کیا پٹیل واقعی ملک کو متحد کرنے والے تھے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بڑے قائدِ تحریکِ آزادی تھے، مگران کے یومِ پیدایش کے موقعے پران کی کامیابی و ناکامی دونوں کویاد کرنا چاہیے۔

ایس اے ایئر

(کنسلٹنگ ایڈیٹردی اکانومک ٹائمس)

31؍اکتوبر کوہندوستان کے ’’مردِ آہن‘‘سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سالگرہ ان کے دنیابھر کے سب سے بالابلند مجسمے کی نقاب کشائی کرکے منائی گئی، 1947ء میں وزیرداخلہ بننے کے بعد انھوں نے پانچ سو سے زائد نوابی ریاستوں اور رجواڑوں کو ہندوستان سے ملانے میں کرداد اداکیاتھا، ان کا یومِ پیدایش اب ’’یومِ اتحاد‘‘کے طورپر منایاجاتاہے، ایسے موقعے پر ان کے اوپر تعریف کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، مگر میں انھیں ایک ناقص العمل ہیروکے طورپر دیکھتاہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بڑے قائدِ تحریکِ آزادی تھے، مگران کے یومِ پیدایش کے موقعے پران کی کامیابی و ناکامی دونوں کویاد کرنا چاہیے۔

جب1946ء میں آزادیِ ہند کے دن قریب تھے، تو کانگریس اور مسلم لیگ نے مل کر ایک مشترکہ حکومت تشکیل دی تھی، نہرواس حکومت میں وزیر اعظم تھے، پٹیل وزیر داخلہ تھے اور لیاقت علی خان وزیر خزانہ، اس مشترکہ اقتدار کے تجربے میں کانگریس نے کوشش کی کہ مسلم لیگ کوخاطر خواہ اختیارات دیے جائیں، دراصل وہ یہ دکھانا چاہتی تھی کہ ہندواور مسلمان بغیر تقسیم کے متحدہ ہندوستان میں مل کر کام کرسکتے ہیں، مگر ایسا ہونہیں سکا۔

Leonard Mosleyنے اپنی کتابThe Last Days of the British Rajمیں لکھاہے کہ سردارپٹیل اس حکومت کے دوسرے سب سے زیادہ پاورفل وزیر ہونے کے باوجود اس قدر بے اختیار تھے کہ وہ وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بغیر ایک چپراسی تک بحال نہیں کرسکتے تھے اور لیاقت علی خاں آسانی سے اس کی منظوری بھی نہیں دیتے تھے، درحقیقت لیاقت علی خاں کے نوکرشاہی (Bureaucratic)کھیل نے سارے کانگریسی وزراکے ناک میں دم کردیاتھا۔

اس پورے گیم کا اختتام 1947ء میں ہوا، ہندوستانی صنعت کاروں نے جنگِ عظیم دوم کے دوران معاشی بحران کی وجہ سے ناجائز طریقے پر بہت سا مال بنایا تھا، جس کی وجہ سے  لیاقت علی نے متوقع طورپرایک سوشلسٹ بجٹ پیش کیا، جس میں صنعت کاروں پربھاری ٹیکسز کی تجویز رکھی گئی ؛تاکہ جنگ کے دوران غیر قانونی طورپر کمائے گئے مال کو واپس لیاجاسکے، گجرات کے ٹیکسٹائل صنعت کاراور پٹیل کے دوست وطرف داروں نے باوجودسوشلزم کی حمایت کے اس بجٹ کی تنقید کی اور کہاکہ مسلم لیگ ان کو کمزور کرنا چاہتی ہے، اس صورتِ حال نے پٹیل کے اس خیال کو تقویت بخشاکہ مسلم لیگ کے ساتھ مل کرکام کرناممکن نہیں ہے، دراصل گجرات کے صنعت کار ہندوفرقہ پرستی کے مجرم تھے؛کیوں کہ ٹیکسزتوپارسی اور مسلم صنعت کاروں پر بھی لگائے گئے تھے، پٹیل کو چاہیے تھا کہ وہ لیاقت علی خاں کے بجٹ کو مشترکہ حکومت کے لازمی دردِسرکے طورپرنظرانداز کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔

فروری1947ء میں کانگریس پارٹی نے تصورِ تقسیم کی سخت مخالفت کی، پھر چار ماہ کے اندر اندر پارٹی نے یوٹرن لیا اور تقسیم کی حمایت کردی، اس کی وجہ صرف لیاقت علی خاں کا بجٹ ہی نہ تھا، 1946ء میں جناح کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے نے کئی ماہ تک پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادوقتلِ عام کا ماحول پیداکردیاتھا ؛چنانچہ ایسے میں کچھ کانگریسی رہنماؤں نے سوچاکہ مسلمانوں کو پاکستان دے دینے سے فرقہ وارانہ امن و امان قائم ہوسکتاہے، ایلن کیمپ بیل جانسن(Alan Campbell Johnson)اپنی کتاب’’مشن ودماؤنٹ بیٹن‘‘(Mission with Mountbatten)میں نہروکے حوالے سے ایک بات نقل کی ہے کہ سردردی کو دور کرنے کا ایک ہی راستہ بچاتھاکہ اس کے سبب کوہی ختم کردیاجائے؛چنانچہ ماؤنٹ بیٹن نے آزادی کی تاریخ جون 1948ء سے کھسکا کر اگست 1947ء  کردی، اس نے کانگریس اور مسلم لیگ کوپیش کش کی کہ وہ دونوں ایک سیاسی پیکیج پر راضی ہوجائیں، یہی مرحلہ فیصلہ کن تھا، آزادی کی شروعات کا ناقابلِ برداشت مزاچکھنے والی کانگریس کے تمام ٹاپ کے لیڈروں نے(بہ شمول پٹیل)مسلم لیگ کے ساتھ تقسیمِ ہند کے منصوبے پر رضامندی ظاہر کردی، اس پورے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ پٹیل تقسیمِ ہند کے معماروں میں سے ایک تھے اور آج مبالغہ آمیز طریقے سے ملک کو متحد کرنے والے لیڈرکے طورپر ان کی تعریفوں کے پل باندھے جارہے ہیں، تقسیمِ ہند اس ملک کی ایک عظیم شکست و ریخت تھی اور اس میں پٹیل سمیت بیشتر کانگریسی لیڈران کا ہاتھ تھا۔

دوسری بڑی غلطی ملک کو خطرناک سرعت کے ساتھ تقسیم کرناتھا، حالاں کہ اس کے لیے نہایت احتیاط، باہمی افہام و تفہیم اور مکمل تیاری کی ضرورت تھی، بحیثیت وزیر داخلہ پٹیل کو اس پر زور دینا چاہیے تھاکہ ایسے وقت میں، جبکہ ملک کے مختلف خطوں میں قتلِ عام کا ماحول گرم ہے، بغیر تیاری کے اور نہایت سرعت کے ساتھ تقسیمِ ملک کے عمل کو انجام دینا عوام کے لیے ایک آفت ثابت ہوسکتاہے، مگر اس کی بجاے انھوں نے دونوں ملکوں کے لیڈران کے ساتھ مل کر ایک ناقص تقسیم کو عملی جامہ پہنا یا، جس کی وجہ سے ایک ملین لوگ مارے گئے اور دس ملین پناہ گزینوں کی ایک نئی قوم وجود میں آگئی، جو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔

برطانوی ہندوستان میں 584؍ریاستیں تھیں، ان میں سے زیادہ تر ہندواکثریتی آبادی پر مشتمل تھیں، پٹیل نے پانچ سو سے زائد ریاستوں کو ہندوستان میں منضم ہونے پر راضی کرلیااور اسی وجہ سے انھیں ایک عظیم اتحادی(متحد کرنے والے)کے طورپر دیکھاجاتاہے، جبکہ پاکستان حکومت نے بھی تمام مسلم ریاستوں کوکامیابی کے ساتھ اپنے ملک میں شامل کرلیا؛حالاں کہ اس کے پاس کوئی ’’پٹیل‘‘ نہیں تھا، حقیقت یہ ہے کہ ان ریاستوں نے اس لیے انضمام کی راہ اختیار کی کہ انھیں معلوم تھاکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں فوجی آپریشن کا سامنا کرنا پڑسکتاہے، جیسا کہ کشمیر اور حیدرآباد کے ساتھ ہوا، اصل بات تو یہ ہے کہ ان ریاستوں کا ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونا ایک لامحالہ امر تھا، یہ کام خواہ پٹیل کرتے یا کوئی اور کرتا۔

تیسری غلطی(جہاں میں زیادہ تر ہندوستانیوں سے اتفاق نہیں کرتا)کشمیر کے معاملے میں ہوئی، جب ہندو-مسلم خطوط پر ہندوستان کی تقسیم کے لیے رضامندی ظاہر کی گئی تھی، توتمام فریقوں کی اخلاقی و عملی ذمے داری تھی کہ وہ اسی بنیاد پر کام کرتے، نہرواور پٹیل کو مسلم اکثریتی کشمیرکوہندوستان میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھی، اگر کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جاتا، توبعد میں ہندوستان-پاکستان جنگ میں ہونے والے انسانی و مالی خسارے اور سرحدوں پر رونماہونے والی مسلسل جھڑپیں یقیناً کم ہوتیں، کشمیر میں ہندوستان کو چین کے ساتھ لداخ بارڈرنہ شیئر کرنا پڑتا اور وہاں کسی قسم کی نوک جھونک سے محفوظ رہتا۔ زیادہ تر ہندوستانی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنا پٹیل کی ایک بڑی کامیابی تھی، مگر آج کی حقیقی صورتِ حال یہ ہے کہ زیادہ تر کشمیری ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں اور کھلی بغاوت پر آمادہ ہیں، یہ تو یقیناً وہ ’’عظیم اتحاد‘‘نہیں ہے، جس کا پٹیل کو کریڈٹ دیاجاتاہے۔

مترجم: نایاب حسن

(اصل مضمون 4؍نومبر کوروزنامہ ٹائمس آف انڈیامیں شائع ہواہے۔ مضمون نگار سوامی ناتھن ایس انکلیساریاطویل عرصے تک ورلڈبینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے کنسلٹنٹ کے طورپر کام کرچکے ہیں، انگریزی کے مشہور کالم نگاراور ٹی وی کمنٹیٹرہیں، وہ ہندوستان کے سب سے بڑے اکانومک جرنلسٹ سمجھے جاتے ہیں، ’’سوامی نامکس‘‘کے نام سے 1990ء سے ’’ٹائمس آف انڈیا‘‘میں ان کاکالم شائع ہو رہا ہے، 2008ء میں ٹائمس گروپ نے ان کے کالموں کا ایک انتخابThe Benevolent Zookeepers – The Best Of Swaminomicsکے نام سے شائع کیاتھا، جسے خاطر خواہ پذیرائی ملی تھی، اس میں موصوف کے معاشی، سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھے گئے بہترین مضامین کو جمع کیاگیاہے)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close