خصوصیہندوستان

کیا یہی ہے باپو کا پیغام؟

راحت علی صدیقی قاسمی

  ہر سال 2 اکتوبر کو پورا ملک مہاتما گاندھی کے یوم  پیدائش کو ’’یوم عدم تشدد‘‘ کے طور پر مناتا ہے، ملک کے مختلف مقامات پر جلسے منعقد کئے جاتے ہیں، جس میں گاندھی جی کی قربانیاں، ان کے افکار و نظریات اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا جاتا ہے، اخبارات میں مضامین چھپتے ہیں، جن میں گاندھی جی کی قربانیوں کا تذکرہ ہوتا ہے، پورا ملک ان کے نظریات و فلسفہ پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ کرتا ہے، خاص طور پر ملک کا اکثریتی طبقہ ان کی زندگی کو اپنے لئے راہ نجات گردانتا ہے، اور ان کی عدم تشدد کی تحریک پر گفتگو ہوتی ہے،کس طرح انہوں نے تشدد کے بغیر ہندوستان کی آزادی میں ناقابل یقین کردار ادا کیا ؟ انگریزوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا، ان کو ناکوں چنے چبوا دئے اور کسی پر ہاتھ بھی نہیں اٹھایا، ظلم و زیادتی برداشت کی تلخیاں و سختیاں جھیلیں، لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہے، آنے والی نسلوں کے لئے قدموں کے نشان چھوڑ گئے، جو کامیاب کی کلید ہیں، یقینی طور یہ موہن داس کرم چند گاندھی کی بڑی قربانی اور ناقابل فراموش کارنامہ ہے، جس نے گاندھی جی کو مہاتما کے لقب سے سرفراز کیا ہے، اس میں ہر ہندوستانی کے لئے یہ پیغام بھی پنہاں ہے کہ نفرت، تشدد و تعصب کے بغیر بھی اپنی منزل کو حاصل کیا جاسکتا ہے، کرسیاں گردنوں پر پاؤں رکھ کر حاصل نہیں کی جاتیں، محلات غریبوں کے خون سے نہیں چنے جاتے، شان وشوکت کا حصول محض انسانی جانوں کے اتلاف سے ہی وابستہ نہیں ہے، بلکہ محبت، شفقت پیار بھی انسان کو ان دولتوں سے سرفراز کردیتا ہے، محبت سے حاصل شدہ عزت لازوال ہوتی ہے، اسے نفرت و تعصب کی آندھی ختم نہیں کرسکتی۔

گاندھی جی کے انتقال کو عرصہ گذر چکا ہے، لیکن وہ آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں، ان کے افکار و خیالات سے ملک فیضیاب ہورہا ہے،ملک کا بڑا طبقہ ان کو اپنا آئیڈیل اور رہنما تسلیم کرتا ہے، ان کے نظریات پر کاربند ہے، گاندھی جی کے نظریات کی مخالفت بھی ہوتی رہی ہے، اسی مخالفت کی وجہ تھی کہ لاغر اور کمزور جسم کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کردیا گیا تھا، اس لاغر جسم کو ختم کرنے کے لئے یہ اقدام نہیں کیا گیا تھا، بلکہ گاندھی جی کے نظریات کو مٹانے کے لیے ان کا قتل کیا گیا، اور اپنے اصولوں کی قیمت گاندھی جی کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی، گاندھی جی کی وفات کے باوجود ہندوستان میں نظریات کی کشمکش موجود ہے، گاندھی جی کی لاش کو تو چیتا کی آگ میں جلا دی گئی، لیکن نفرت و تعصب کی آگ ان کے نظریات کو جلا کر بھسم نہیں کرپائی ہے، گوڈسے اور گاندھی جی کے نظریات کی کشمکش کو ظاہر کرتے ہوئے بہت سے واقعات آج بھی ملک میں رونما ہورہے ہیں، گاندھی جینتی کے موقع پر بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کا ذکر روزنامہ انقلاب کے مدیر شکیل شمسی نے اپنے کالم میں کیا ہے، مثلاً وشاکھا پٹنم میں گاندھی جی کی مورتی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں، ان واقعات کے علاوہ اس دن آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے تکلیف دہ واقعہ سامنے آیا ہے، جب گاندھی جی کے یوم پیدائش کے موقع پر حکومت نے تشدد کا سہارا لیا، ایک طرف تو پورا ملک یوم عدم تشدد منا رہا ہے، دوسری طرف ہندوستان کے وہ باشندے جو ملک کو ترقی اور رفتار عطا کرتے ہیں، اشیائے خوردنی مہیا کرتے ہیں، ان پر حکومت ہند کی جانب سے لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں، گیس کے گولے چھوڑے جارہے ہیں، کسان عدم تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے، اپنی تکالیف و پریشانیوں کا اظہار کررہے ہیں، احتجاجی ریلی نکالی جارہی ہے اور دہلی پہنچنا چاہتے ہیں، حکومت ہند کو اپنی پریشانیوں پر مطلع کرنا چاہتے ہیں، اپنے حقوق چاہتے ہیں، اپنے مسائل کا ازالہ چاہتے ہیں، حکومت نے ان کے ساتھ سختی برتی، ان کے راستے روکے، پانی کے شدید ترین وار کئے گئے، آنسو گیس چھوڑی گئی، لاٹھی چارج کیا گیا، جس میں تقریباً 40 کسان زخمی ہوئے، عجب صورت حال ہے، ایک طرف وزیر اعظم گاندھی جی کی سمادھی پر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے یہ عمل جاری ہے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے یہ عمل کیا جارہا ہوگا، لیکن پھر رات ڈیڑھ بجے کسانوں کو دہلی پہنچنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیا اس وقت نظم و نسق پر زد نہیں آتی تھی؟ اور اگر رات میں اجازت دینے کا منصوبہ پہلے سے تھا، تو لاٹھیاں برسانے کی کیا ضرورت تھی؟ کسانوں کو سمجھایا جا سکتا تھا، رات تک روکنے کی درخواست کی جاسکتی تھی، روکنے کے انتظام کئے جاسکتے تھے، لیکن حکومت نے ان تکلفات کو ضروری نہیں سمجھا، حکومت نے کسانوں کی مانگیں مان لیں ہیں، 11 میں سے 7 پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، احتجاج بھی ختم ہو چکا ہے، لیکن چند سوالات چھوڑ گیا ہے، جو ہرذی شعور شخص کے ذہن میں پیدا ہورہے ہوں گے۔

1915 میں جب گاندھی جی ہندوستان آئے تو انہوں کسانوں اور مزدوروں پر ہورہے مظالم کے خلاف احتجاج کیا،1965 میں لال بہادر شاستری نے ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کا نعرہ دیا، کسان غربت و افلاس سے مقابلہ کرتا ہے، بسا اوقات ہار جاتا ہے، اور زندگی گنوا بیٹھتا ہے، اور بہت سے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی کسان ملک خدمت کرتا ہے، محنت جد و جہد اور مشقت کے ذریعے ملک کے لئے اشیائے خوردنی مہیا کرتا ہے، اس کے باوجود ملک میں کسانوں کی جو صورت حال ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔2013 کے بعد سے 12 ہزار سے زیادہ کسان ہر سال خودکشی کرتے ہیں، ملک میں ہونے والے خودکشی کے واقعات میں سے 11 فی صد سے زائد واقعات کسانوں سے تعلق رکھتے ہیں، 1995 سے 2014 تک تقریباً 3 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے اور یہ تحقیق حکومتی سطح کی ہیں، مختلف افراد یا اداروں کی ذاتی تحقیقات میں یہ تعداد بہت زیادہ ہے، نیشنل کرائم بیورو رپورٹ کے مطابق 2004 میں سب سے زیادہ تعداد میں کسانوں نے خود کشی کی ہے اور یہ تعداد 18240 تھی، 2015 سے ابھی تک کے اعداد و شمار ابھی شائع نہیں کئے گئے ہیں، وہ ملک جس کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، جس کو کسانوں نے سونے کی چڑیا بنایا تھا، جس ملک کی 70 فی صد آبادی زراعت سے وابستہ براہ راست یا کسی واسطہ سے وابستہ ہے، وہاں کسانوں کا کی یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے، اور جو وہ اپنے حق کو طلب کرنے کے لئے میدان میں آتے ہیں، تو لاٹھیوں سے ان کا استقبال کیا جاتا ہے، تشدد کو روا کردیا جاتا ہے، کیا یہ طریقہ کار صحیح ہے؟ بیشک مختلف صوبائی حکومتوں نے کسانوں کا قرض معاف کیا تھا، لیکن کیا اس سے کسانوں کے مسئلے حل ہوگئے؟ جب آپ دو دو سالوں تک کسانوں کے گنے کی قیمت ادا نہیں کریں گے، تو وہ کیسے اپنی ضروریات کو پورا کرے گا؟ کہاں سے پیسا لائے گا ؟اور کیسے اپنی ضروریات کی تکمیل کرے گا؟

ایک زمانہ تھا، جب آٹھ دن میں کسانوں کو ان کی محنت کی کمائی حاصل ہوجاتی ہے، اب انہیں اپنا حق وصول کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کرنا پڑتا ہے،نوبت احتجاج تک پہونچتی ہے، حکومت ہند کو کسانوں کے مسائل جلد از جلد حل کرنے چاہئیں، جو مانگیں قبول کی گئیں ہیں، وہ محض کاغذات تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی اقدامات کئے جائیں اور کسانوں کی تکالیف کا خاتمہ کیا جائے، اگر یہی صورت حال باقی رہی تو لوگ زراعت کو ترک کردیں گے، اور ایک دن وہ آئے گا جب اشیائے خوردنی کی قلت ہوگی، خوراک کی کمی ہوجائے گی، یونہی ہمارے ملک بھوک مری کے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں، حکومت ہند کسانوں کے مسائل کو نظر انداز نہ کرے، یہی وقت کا تقاضا اور ملک کی ترقی کا ذریعہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close