خصوصی

کیسے بنے گاہندوستان ایک کیش لیس سوسائٹی ؟

 ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ہندوستان کیاش لیس سوسائٹی کی طرف اپنے قدم بڑھا رہا ہے۔ حکومت اس جانب بہت زیادہ سنجیدہ ہے اور نوٹ بندی اعلان کے تین ہفتے گزرنے کے بعد ابھی تک بازار میں نوٹوں کی قلت‘وزیر اعظم کی جانب سے من کی بات پروگرام میں ہندوستانی نوجوانوں کو کیاش لیس سوسائٹی کی تعمیر میں اہم رول ادا کرنے کی تلقین اور وزرائے اعلی اور کلکٹروں کی جانب سے بنک عہدیداروں اور تجارتی اداروں سے بات چیت کے اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت درکار مقدار میں نئے نوٹ لانے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتی۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد ہندوستان سے% 85نوٹ واپس لے لیے گئے اور اس کی جگہ سست رفتاری سے نئے نوٹ بازار میں لائے جارہے ہیں۔ 500کے نوٹ ابھی تک ملک بھر میں عام نہیں ہوئے ان نوٹوں کی چھپائی کے بارے میں اطلاعات آرہی ہیں کہ پرنٹنگ میں غلطیوں کے سبب ان کی چھپائی روک دی گئی ہے۔ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ 2000کا نوٹ بھی اچانک جون میں بند کردیا جائے گا تاکہ جن لوگوں نے کسی طرح اپنے کالے دھن کو اس نوٹ سے بدلا ہو انہیں ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا جاسکے۔ بہر حال وزیر اعظم اور برسر اقتدار بی جے پی پوری طرح سے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ملک کو اب آہستہ آہستہ کیا بڑی تیز رفتاری سے کیاش لیس سوسائٹی میں تبدیل کردیا جائے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ اے ٹی ایم ‘کریڈٹ کارڈز‘موبائل بنکنگ اور انٹرنیٹ بنکنگ کر رہے ہیں لیکن ان کا استعمال محدود مقامات پر ہے جیسے بڑے اسٹورز میں‘ٹکٹ بکنگ‘ بلز کی ادائیگی وغیرہ میں۔ ہندوستان دیہی علاقے والا ملک ہے اور آج بھی اس ملک کی %70آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں نہ تو مکمل طور پر شہری ضروریات ہیں اور نہ ہی دیہی عوام اس قدر خواندہ ہیں کہ انہیں ہندوستان کے کیاش لیس سوسائٹی کا فوری حصہ بنادیا جائے۔ حکومت اس جانب بالکل ہی توجہ نہیں دے رہی ہے اور ماہرین معاشیات کے بار بار کہنے کے باوجود کہ زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہورہی ہیں۔روز مرہ کام کرنے والوں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے ۔ اناج کی خرید و فروخت اور نئی فصل کو بونے میں دشواریاں ہیں۔ دیہات میں معاشی چکر چلنے کے لیے بڑی مقدار میں کرنسی کی ضرورت ہے لیکن حکومت کے بار بار اعلانات سے بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ راتوں رات ہندوستان کیسے کیاش لیس سوسائٹی بنے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ انسان کی روز مرہ کی ضروریات کیا ہیں جہاں اسے رقم دینا پڑتا تھا اور اس کی جگہ مشین سے رقمی لین دین کی بات کہی جارہی ہے۔ انسان اپنی غذائی ضروریات کو خریدنے کے لیے بازار جاتا ہے ۔ اجناس اور ضروریات زندگی کے سامان کرانہ اسٹور میں ملتے ہیں اب شہری علاقوں میں چھوٹی بڑی دکانوں میں دکاندار کارڈ سے رقم لینے کی مشین لگا رہے ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے مشین سے رقم لینے میں انہیں بنک سے اپنے آپ کو جڑا رکھنا ہوگا اور % 2ٹیکس بھی دینا ہوگا جسے کچھ مہینوں کے لیے حکومت نے روکے رکھا ہے۔اب ریلائینس اور مور جیسی بڑی کارپوریٹ دکانوں میں اس طرح کی مشین سے ادائیگی کی سہولت ہے۔حکومت کا یہ اقدام چھوٹے ترکاری فروشوں اور ٹھیلہ بنڈیوں پر کاروبار کرنے والے پر کاری ضرب ثابت ہوگا اور پھل ترکاری اب صرف بڑی اسٹور سے ہی لینا ہوگا چھوٹی دکانوں سے نہیں۔ جن دکانوں پر میشن کی سہولت نہیں ہے انہیں فوری مشین لگانا ہوگا اور اسے انٹرنیٹ اور بنک کھاتے سے جوڑنا ہوگا۔ اگر مسلسل انٹرنیٹ چلے تو مشین چلے گی ورنہ کاروبار ٹھپ۔ ہندوستان میں اب بھی بی ایس این ایل کا انٹرنیٹ سست رفتار ہے اور اس کا کیبل نیٹ ورک اکثر ناکارہ رہتا ہے اس لیے مشین کو وائرلیس انٹرنیٹ سے جوڑنا ہوگا اور دکان دار کو ہر ماہ انٹرنیٹ کا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر سیلاب طوفان یا کوئی آفت سماوی آجائے تو یہ نظام ٹھپ ہوسکتا ہے اور سارا ہندوستان معاشی طور پر ٹھپ ہوسکتا ہے۔ مشین لگے جانے کے بعد اب چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بجائے بڑے اسٹور ہی چلیں گے۔ غریب کہاں بنک سے ادائیگیاں کریں گے سامان کی خریدی میں اور لوگوں سے وصولی کرنے میں۔ اس طرح کاروبار صرف بڑے تجارتی گھرانوں کی طرف منتقل ہوگا۔ اب بڑے اسٹور میں ترکاری پھل دودھ اجناس سب ڈبہ بند مل رہے ہیں۔ بیرون ملک جس طرح مشین میں کارڈ ڈالو اور اپنی پسند کا جوس ٹن یا کوئی اور چیز چاہے حاصل کرو کی طرح اب ہندوستان والوں کو بھی ڈبہ بند غذاؤں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ دودھ ‘گوشت‘ڈبوں میں بند ملیں گے۔ ترکاریاں فریج میں رکھی ملیں گی جیسے سعودی میں کولڈ اسٹوریج کے پھل ملتے ہیں۔تازہ پھل اور ترکاری کا استعمال کم ہوگا تو لوگوں کی صحت پر بھی اثر پڑے گا۔ پٹرول پمپ پر اب کارڈ سوائپنگ مشینیں لگ رہی ہیں اور بہت جلد سارے پٹرول پمپ پر یہ مشینیں لگ جائیں گی۔ بس میں کنڈکٹر کے ہاتھ میں مشین ہوگی اور وہ بھی کارڈ سے ہی رقم منہا کرے گا۔ اب ریلوے کے ٹکٹ تو لوگ فون سے ہی بک کرنے لگے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن پر بھی کارڈ سے خریداری ہوگی۔ علاج کے لیے دواخانہ جانا ہو یا میڈیکل ہال سے دوائیں لینی ہو ہر دو جگہ مشین ہوگی اور کارڈ چلے گا۔ تعلیمی اداروں میں فیس کارڈ سے ادا کی جائے گی اور مشین سے وصول کی جائے گی۔ سب سے بڑا نقصان تعلیمی اداروں کا ہوگا جو ڈونیشن کے نام پر بغیر رسید کے لاکھوں روپے لے رہے تھے اور کالا دھن جمع کر رہے تھے اب اگر کوئی ڈونیشن لے گا بھی تو اسے ٹیکس بھرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ‘وکیل‘ اور دیگر اہم پیشے والے بھی کارڈ کے دائرے میں آئیں گے اور انہیں اپنی آمدنی کو سفید بنانے کے لیے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ راستے میں پولیس اب رشوت نہیں لے پائے گی اور سیدھے سیدھے چالان سے رقم ادا ہوگی۔ مندروں اور درگاہوں میں ڈونیشن میں لوگ اپنا کالا دھن نہیں ڈالیں گے اور وہاں بھی کارڈ کے ذریعے ادائیگی ہوگی اور ٹرسٹ کو حکومت کے بنائے گئے قوانین کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ اب گھر کے ایک فرد کے پاس کارڈ ہے یا ہوگا لیکن ان حالات میں گھر کے ہر فرد کے لیے کارڈ لازمی ہوگا۔ شوہر باہر ہو تو بیوی کو خریداری کے لیے کارڈ درکار ہوگا۔ بچے اسکول کالج جائیں انہیں اپنی ضروریات کے لیے کارڈ چاہئے ہوگا۔ جو اتنا آسان نہیں ہے۔ حکومت نے جیسے کہا تھا کہ مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے جعلی کرنسی کا استعمال ہورہا ہے اور کالا دھن انتخابات جیتنے کے لیے استعمال ہورہا ہے اس پرقابو پانے میں مدد ملے گی اگر حکومت سنجیدہ رہے اور حساب کتاب کو چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ ورنہ مودی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے لوک سبھا انتخابات صرف کالے دھن کی مدد سے جیتے تھے۔ اس طرح غیر محسوس طریقے سے کارڈ ہماری زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ اور حکومت کی عین خواہش کے مطابق ہندوستان بہت جلد کیاش لیس سوسائٹی میں تبدیل ہوجائے گا۔ یہ ایک سنہرا خواب ہے لیکن کیا یہ حقیقیت میں بدل پائے گا آئیے دیکھیں کہ ہندوستان کو کیاش لیس سوسائٹی بننے میں کونسی مشکلات درپیش ہیں۔
سب سے پہلی رکاوٹ سائبر سیکوریٹی سے متعلق ہے ۔ حال ہی میں بڑی خبر آئی تھی کہ ہندوستان کے 30لاکھ ڈیبٹ کارڈ کا ڈاٹا چوری ہوگیا تھا اور چین سے کسی نے ان کارڈوں کے پاس ورڈ ہیک کر لیے تھے اور بڑی مقدار میں رقم نکال لی تھی۔ جب ان کارڈوں کی نقل بنائی جاسکتی ہے جسے کارڈ کلوننگ کہا گیا تو کیا گیارنٹی ہے کہ سارے ملک کے عوام کے کارڈ سائبر کرائم سے محفوظ ہوں گے۔ اس واقعہ میں بنکوں کے سیکوریٹی نظام کی نا اہلی سامنے آگئی تھی۔ جب سارا ہندوستان کیاش لیس ہوجائے اور کارڈوں میں ہیرا پھیری کرکے وقت واحد میں عوام کی محنت کی کمائی کو لوٹ لیا جائے تو یہ جیتے جی اپنی عوام کو مار دینے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے کیاش لیس سوسائٹی کی بات کرنے والے اپنے سائبر نظام کو بہتر بنائیں اور عوام کے سامنے تفصیلات لائیں کہ اگر اندرون ملک یا بیرن ملک ان کے کارڈوں یا کھاتوں سے رقم چرالی جائے تو اس کا حل کیا ہوگا۔ سائبر کرائم اور ہندوستان میں مجرموں کو کڑی سزا نہ دینے یا تاخیر کرنے کے پس منظر میں کیاش لیس سوسائٹی کا خواب ادھورا ہوسکتا ہے۔کارڈ کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ مشینیں ہر وقت نیٹ ورک سے جڑی رہیں اگر سارا ہندوستان کارڈ سے رقمی لین دین کرے تو تیز رفتار نیٹ ورک ضروری ہے اور ہندوستان انٹرنیٹ کی فراہمی اور استعمال کے لیے مغربی دنیا سے بہت پیچھے ہے اگر نیٹ ورک کام نہیں کرے گا تو رقمی لین دین رک جائے گا۔فون سے ادائیگی کے لیے بھی انٹرنیٹ ضروری ہے اور انسان جس ماحول میں بھی رہے وہاں انٹرنیٹ کا سگنل لازمی ہے۔ ابھی شہروں میں ہی سرویس کا براحال ہے تو دیہاتوں اور راستے میں سفر کے دوران کیا ہوگا ۔انٹرنیٹ کو سستا کرنا بھی ضروری ہے ورنہ اپنی رقم ادا کرنے کے لیے لوگوں کو ہر مہینہ انٹرنیٹ کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔کارڈ سے رقمی لین دین پر حکومت نے اضافی ٹیکس اور سرچارج رکھا ہے جس سے مزید اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔ ہندوستانی عوام اکثر ناخواندہ ہے انہیں رقمی ادائیگی کے لیے کارڈ کا استعمال یا نیٹ بنکنگ کے لیے درکار معلومات کا فقدان ہے اور بڑی عمر کے لوگ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اس لیے عام لوگوں کو دشواری ہوگی۔فون سے ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے پاس اسمارٹ فون ہوں اور اچھی بیٹری والے ہوں تاکہ سفر کے دوران ان کا فون ساتھ دے سکے۔ کیاش لیس سوسائٹی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لوگوں کے بنک کھاتوں کا نہ ہونا ہے آج بھی نصف فیصد آبادی کے بنک کھاتے نہیں ہیں۔ دہلی کے چیف منسٹر نے عوام کو راحت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کھاتے کھولنے کی سہولت شروع کی ہے۔ ان کھاتوں کو زیرو بیلنس سے چلانا ضروری ہے۔بنک کی شاخوں میں اضافہ ضروری ہے آج بھی دیہی علاقوں میں دور دور تک بنک نہیں ہیں۔ اس کے لیے کافی عرصہ لگے گا۔کیاش لیس سوسائٹی والا ہندوستان ایک اچھا خواب ہے لیکن یہ راتوں رات شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ سویڈن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ سارا ملک کیاش لیس کام کرتا ہے وہاں کی خواندگی اور ہندوستان کی خواندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حکومت مرحلہ وار ترغیب کے ذریعے پہلے شہری زندگی میں یہ انقلاب لائے۔ دیہی عوام کے لیے چھوٹے نوٹ اور 500کے نوٹ برقرار رکھے جائیں۔ بنکوں کے ذریعے رقمی لین دین ہو اس کے لیے ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے۔ موجودہ دور کی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے سالانہ 5لاکھ تک ٹیکس معاف رکھا جائے۔5تا10لاکھ پر% 10ٹیکس اور اس سے زیادہ پر %20ٹیکس رکھا جائے۔ بڑے کاروباری اداروں سے قرض واپس لیا جائے اور ان کو بھی عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔ کیاش لیس سوسائٹی سے رشوت او رکالے دھن کا خاتمہ ممکن ہے لیکن ہر معاملے میں شفافیت اہم ہے اور جرم پر سزا بھی اہم ہے عوام کے لیے ایک بات اور امرا‘سیاستدانوں کے لیے الگ بات رہی تو پھر یہ نظام مشکل ہے۔ مغرب کا ہر فعل قابل تقلید نہیں ہوتا۔ کیاش لیس سوسائٹی میں عوام خالی ہاتھ اور حکومت دولت مند ہوتی ہے۔ سونے اور جائداد کی شکل میں جو سرمایہ ہوتا ہے اس سے عوام کو مالی تحفظ ملتا ہے۔ کیاش لیس سوسائٹی میں ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کے لیے جلد بازی نہیں بلکہ مرحلہ وار کیاش لیس سوسائٹی کی طرف جانا چاہئے۔ ایک بات یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ میں آج بھی ڈالر کی نوٹ ہے اور دیگر ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی۔ اس لیے مکمل کیاش لیس ہونے کے بجائے طبقہ بالا کی سرگرمیوں کو کارڈ اور مشین سے جوڑنا بہتر ہوگا اور غریب عوام کو نوٹ کے ذریعے رقمی لین دین کے ساتھ جینے کا موقع دینا مناسب ہوگا۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کیاش لیس سوسائٹی کا خواب ہندوستان کو کس سمت لے جاتا ہے۔لیکن عوام کو ذہنی اور عملی طور پر اس تبدیلی کے لیے تیاری شروع کردینی چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close