خصوصیصحتطب

کینسر کی ابتدائی علامتیں

اگر کینسر کا مرض تیسرے یا چوتھے مرحلے میں داخل ہوجائے تو پھر یہ لاعلاج ہوجاتا ہے

محمد شاہد خان

کینسر ایک ایسا موذی اور مہلک مرض ہے جس کا شکار دنیا کی ایک بڑی آبادی ہرسال ہوتی چلی آرہی ہے، اعداد وشمار کے مطابق مرنے والوں میں سے ہر چھٹا آدمی کینسر کا مریض ہوتا ہے،  کینسر سے مرنے والوں کی تعداد امراض قلب کی اموات کے بعد سب سے زیادہ ہے، ایک اندازے کے مطابق 2016 میں نواسی لاکھ سے زائد اموات کینسر کے سبب واقع ہوئیں۔

 اس بیماری کا اہم سب بیڑی سگریٹ، تمباکو، منشیات اور الکحل کے استعمال کو بتایا جاتاہے لیکن موجودہ دور کی ترقیات اور آرام و آسائشی کی دوسری چیزوں کے استعمال نے بھی اس کے دائرے اثر کو بہت بڑھا دیا ہے فاسٹ فوڈ، تیارشدہ غذائی اشیاء، تیل، کھانوں کے پیکیٹس گرم کھانوں کیلئے پلاسٹک کے استعمال، ماحولیاتی آلودگی جیسی چیزیں بھی اس بیماری کے پھیلنے میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔

میری معلومات کے مطابق اس مرض کے چار مراحل ہوتے ہیں، پہلے اور دوسرے مرحلہ میں اگر اس مرض کی تشخیص ہوجائے تو یہ قابل علاج رہتا ہے لیکن عام آدمی کیلئے اس کا علاج  اتنا  گراں بار ہے کہ یہ مریض کی جان سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے اسلئے عموما غریب آدمی اس بیماری سے جانبر نہیں ہوپاتا۔

اگر کینسر کا مرض تیسرے یا چوتھے مرحلے میں داخل ہوجائے تو پھر یہ لاعلاج ہوجاتا ہے اور مریض کی زندگی کے ایام کو بآسانی انگلیوں پر شمار کیا جاسکتا ہے، ابھی حال ہی میں میں نے ایک رپورٹ پڑھی، رپورٹ کے مطابق کینسر کے آثار دو سے پانچ سال قبل ہی شروع ہوجاتے ہیں اگر کسی شخص میں بیماری کی وہ علامتیں  دِکھنا شروع ہوجائیں جسے ہم ذکر کرنے جارہے ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کینسر کی شروعات  ہے اور فورا سے پیشتر اسپشلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

چھاتی کا کینسر:

اس بيماري ميں جلد کا رنگ بدلنے لگتا ہے، پستان کے سائز میں فرق واقع ہونا شروع ہوجاتا ہے چھاتی کے نپّل کا رنگ بھی متغیر ہونے لگتا ہے اگر اس طرح کی صورتحال پیدا ہورہی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ علامتیں اچھی نہیں ہیں اور یہ کینسر کی ابتداء ہوسکتی ہے۔

پھیپھڑے اورجگر کا کینسر:

اگر سردی زکام سے جسمانی درجہ حرارت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہورہی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ صحتمندی کی علامت نہیں ہے بلکہ  اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص کی قوت دفاع کمزور پڑرہی ہے، جسم کے سارے اعضاء اپنا کام ٹھیک سے انجام نہیں دے پارہے ہیں اور وہ  نقصان دہ وائرس اور بیکٹریا کا مقابلہ نہیں کرپارہے ہیں اسکے علاوہ اگر رات میں ایک بجے سے لے کر تین بجے تک نید ٹوٹتی ہے تو یہ جگرکے کینسر کی علامت ہوسکتی ہے اور اگر رات تین بجے سے لے کر صبح پانچ بجے تک نید ٹوٹتی رہتی ہے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر کی علامت ہوسکتی ہے، یہ صورتحال دو سے تین سال تک قائم رہ سکتی ہے اسی کے ساتھ ہمیشہ جسمانی تھکان کا احساس ہوگا اور وزن میں مسلسل کمی واقع ہوگی۔

آنتوں کا کینسر:

لمبے وقت تک قبض کی شکایت رہنا اور رفع حاجت کی ضرورت محسوس نہ ہونا بنیادی طور سے آنتوں کے کینسر کی  علامت ہے یہ بیماری آنتوں کی لعابی جھلی میں جلن کے سبب پیدا ہوتی ہے۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لمبی مدت تک تیل یا شکرسے تیار ہونے والے کھان پان کے استعمال کے بعد بھی اگر جسم میں دانے یا پھوڑے پھنسے نہیں نکلتے تو یہ بھی کینسر کی علامت ہوسکتی ہے۔

کینسر میں بھوک کا احساس کم ہوجاتا ہے اور بخار کا احساس ہمیشہ قائم رہتا ہے جبکہ مریض کا جسمانی درجہ حرارت معمول کے مطابق ہوتا ہے  اس احساس کی شدت شام کے وقت بڑھ جاتی ہے، اسی طرح سے آنکھوں کی سفیدی والے حصہ میں خون کی شریان بغیر کسی آلہ کے صاف نظر آنے لگتی ہے۔

ذیل میں ہم کینسر کی مختلف اقسام سے مر نےوالوں کا ایک چارٹ پیش کررہے ہیں تاکہ آپ اندازہ کرسکیں کہ کس طرح دنیا کی ایک بڑی آبادی اس بیماری کا شکار ہورہی ہے

Tracheal, bronchus, and lung cancer

1.71 million

Stomach cancer

834,171

Colon and rectum cancer

829,557

Liver cancer

828,945

Breast cancer

545,590

Other cancers

431,338

Esophageal cancer

414,890

Pancreatic cancer

405,499

Prostate cancer

380,916

Leukemia

310,165

Cervical cancer

247,160

Brain and nervous system cancer

227,039

Bladder cancer

186,199

Lip and oral cavity cancer

176,489

Ovarian cancer

165,041

Gallbladder and biliary tract cancer

161,560

Kidney cancer

131,800

Other pharynx cancer

118,630

Larynx cancer

111,044

Multiple myeloma

98,437

Uterine cancer

87,526

Nasopharynx cancer

63,746

Malignant skin melanoma

61,680

Non-melanoma skin cancer

53,059

Thyroid cancer

42,861

Hodgkin lymphoma

28,742

Testicular cancer

8,651

Non Hodgkin lymphoma  0

1.6 million

ایک محاورہ ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اسلئے ہمیں کھانے پینے میں ہمیشہ احتیاط برتنی چاہئے صاف ستھرا فلٹر کیا ہوا پانی پینا چاہئے ، فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ اور فروزن Frozen اشیاء کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے مائکرو اوون میں پلاسٹک کے برتن میں کھانا گرم نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسکے لئے مخصوص  برتنوں کا استعمال کیا جانا چاہئے، منشیات بیڑی سگریٹ اور پان مسالہ کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہئے، صبح و شام ایک گھنٹہ چلنا چاہئے، کیونکہ جب فرد صحت مند ہوگا تبھی معاشرہ بھی صحتمند ہوگا۔

مزید دکھائیں

محمد شاہد خاں

آپ کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں.

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close