خصوصیسیاست

کیوں نہ مولانا ارشد میاں مودی جی سے ہی آخری بات کریں

حفیظ نعمانی

ملک میں ہجومی تشدد پرانی بیماری نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہندو مسلم فساد ہوتے تھے جن میں ہر فساد میں مسلمانوں کا ہی جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔ اس کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی اور ملک اس لعنت سے کافی حد تک پاک ہوگیا۔ لیکن ہجومی تشدد کی جو بیماری شروع ہوئی ہے وہ کتنی دردناک ہے اس کی تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں اس کے بارے میں ہر آدمی جانتا ہے کہ کسی کی گولی مارکر جان لے لینا یا تلوار سے کاٹ دینا بھی جان لینا ہے لیکن یہ جو پیٹ پیٹ کر ماردینے کی بیماری پھیلی ہے اس کی تکلیف کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو قسطوں میں مرا ہو۔

یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ یہ ان ریاستوں میں ہورہی ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ گذشتہ برسوں میں سب سے آگے راجستھان تھا اور وہاں گئورکشکوں نے باقاعدہ پولیس کے مقابلہ میں اپنی تنظیم بنالی تھی ہر سڑک پر اپنی چوکی بنالی تھی ان کا کہنا تھا کہ گائے لے جانے والے پولیس کو رشوت دے کر لے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی بی جے پی ہاری اور کانگریس کی حکومت بنی جس کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور نائب وزیراعلیٰ راجیش پائلٹ بنے اس دن سے حکومت کے کسی اعلان کے بغیر ساری چوکیاں ختم ہوگئیں اور اب جس پولیس کو اپنا رویہ بدلنا تھا وہ آج بھی پوری طرح سے گئورکشک بنی ہوئی ہے اس لئے کہ اب کانگریس ہندو ووٹوں کی بھوک میں بی جے پی جیسی ہی بن گئی ہے۔

جمعیۃ علماء کے صدر مولانا ارشد میاں بھی ہر دردمند انسان کی طرح تبریز انصاری کے قتل سے لرز گئے ہیں۔ انہوں نے جمعیۃ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جائیں گے۔ مولانا ارشد میاں اس وقت مسلمانوں اور عالموں میں سب سے معتبر اور محترم آواز ہیں وہ ہر مورچہ پر مقابلہ پر کھڑے ہیں۔ ہم اپنی معذوری کی وجہ سے ایک شہر اور ایک محلہ میں قید ہیں اس لئے میدان میں آنے سے معذور ہونے کی وجہ سے نیازمندانہ مشورہ ہی دے سکتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھ پائے کہ سپریم کورٹ ہمیں اور کیا دے دے گا؟ ہم بھی 60  برس سے معمولی طور پر سہی انگلی کٹاکر شہیدوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ ہم نے اب تک کا جو جائزہ لیا ہے اس کا حاصل یہ ملا کہ سنگھ اور سینا کے جن شیطانوں کو ہجومی تشدد کی ہمت ہوتی ہے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حکومت کس کی ہے اس لئے کہ آخرکار پولیس اور انتظامیہ ہی جو چاہتی ہے وہ ہوتا ہے اور عدلیہ چاہنے کے باوجود وہ نہیں کرپاتی جو وہ سچ سمجھتی ہے۔ آج جو بھی ایسی حرکت کی ہمت کرے گا وہ جب یہ دیکھے گا کہ صوبہ میں بھی ان کی حکومت ہے اور مرکز میں وزیراعظم مودی جی ہیں اور وزیرداخلہ امت شاہ جن پر مسلمانوں کے بارے میں اتنا چھپ چکا ہے جو اُن کو سمجھنے کے لئے کافی ہے تو پھر وہ انجام کو نہیں دیکھتے اور وہ کر گذرتے ہیں جو اُن کی تمنا ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے بار بار کہا ہے کہ کوئی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے لیکن یہ سننے والوں پر ہے کہ وہ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں؎

دل ربا کی ہر نہیں کے ایک ہی معنیٰ نہیں

ایک جھنجھلاکر نہیں اور ایک شرماکر نہیں

یہ سمجھنے کیلئے کہ اس نہیں کے کیا معنیٰ ہیں انہیں اپنے اردگرد دیکھنا پڑتا ہے مدھیہ پردیش میں اب حکومت کانگریس کی ہے لیکن ایک بی جے پی کے لیڈر کے فرزند جو ایم ایل اے بھی ہیں انہوں نے کرکٹ کے بلے سے کارپوریشن کے افسروں کو اس طرح مارا جیسے لندن میں ورلڈ کپ میں گیند کو مارا جارہا ہے۔ اور صوبائی حکومت صرف ان کو دو دن جیل میں رکھ پائی اس لئے کہ مودی جی اور شاہ جی ملک کے حاکم ہیں اور کانگریسی وزیراعلیٰ صرف ایک صوبہ کے حقیر وزیراعلیٰ ہیں۔ اور ایم ایل اے نے ایک بڑے افسر کو نہ صرف بے عزت کیا بلکہ سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی۔ اتنی بڑی غلطی کوئی اور کرتا تو سنگین دفعات لگائی جاتیں اور مہینوں ضمانت نہ ہوتی۔

حضرت مولانا نے سیکولر پارٹی کے لیڈروں کو بھی آواز دی ہے۔ ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لیڈر تو زندہ ہیں لیکن ان کے اندر سے سیکولر ازم بول و براز کے راستوں میں کسی راستے سے نکل گیا سب سے بڑی سیکولر پارٹی کانگریس تھی جس کا حال یہ ہے کہ اس کے سابق صدر راہل گاندھی مسلمان کے سایہ سے دور دور رہنے لگے ہیں۔ دوسرا نمبر کمیونسٹ پارٹی کا تھا اس کے بارے میں جب معلوم ہوا کہ وہ ممتا بنرجی سے انتقام لینے کے لئے بی جے پی کے ساتھ ہوگئی ہے تو بے ساختہ جی چاہا اپنے اور جمعیۃ علماء کے اور کمیونسٹ پارٹی کے اہم لیڈر مولانا اسحاق سنبھلی مرحوم کے بلند درجات کے لئے دو نفل پڑھیں۔

جس زمانہ میں سی پی آئی کا بول بالا تھا قیصر باغ میں ان کا عالیشان دفتر تھا اور روس سے آئی ہوئی پرنٹنگ مشینیں تھیں اسی زمانہ میں پارٹی کا سارا اُردو کا کام ہمارے پریس میں ہوتا تھا۔ وہی زمانہ تھا جب کئی برس پارٹی اور اس کے لیڈروں کو دیکھا اور ان کے سیکولرازم کو دیکھ کر جی چاہتا تھا کہ ہر مسلمان ان کا اُمیدوار ہو تو اس کو ہی ووٹ دے۔ مولانا اسحاق سنبھلی جو مولوی بھی تھے اور کامریڈ بھی وہ گیارہ سال لوک سبھا کے ممبر رہے اور بغیر ایک روپئے کی مدد کے وہ دو بار جیتے اور آخر تک فقیر ہی رہے آج سی پی آئی تو ختم ہوگئی اب سی پی ایم ہے اور اس نے بی جے پی کا دامن پکڑلیا۔ اس صورت حال کے بعد ہماری درخواست ہے کہ مولانا ارشد میاں مسلمانوں کی طرف سے مودی جی سے ملاقات کریں اور ان سے وعدہ لیں کہ وہ اب جب کہیں کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں کوئی نہ لے تو ایسی آواز میں کہیں کہ وہ صوبائی وزیراعلیٰ اور تمام افسروں کے کانوں میں بھی سنی جائے جو یہ جانتے ہیں کہ اگر حکم کی تعمیل نہیں ہوئی تو کیا حشر ہوگا اور مسلمانوں کی طرف سے ان کو یقین دلائیں کہ وہ جو کانگریس کے لئے کرتے تھے وہ اس لئے آپ کے لئے کریں گے کہ کانگریس کے لئے بھی مسلمان اچھوت ہوگئے۔ ہمیں اُمید ہے کہ مولانا ارشد میاں جو وعدہ کریں گے مسلمان پورا کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close