خصوصیہندوستان

گائے سے جے شری رام تک

مذہبی عصبیت کی بنیاد پر انصاف کے تصور کو پامال کیا جا رہا ہے۔

فیصل فاروق

جھارکھنڈ کے ہجومی تشدد میں تبریز انصاری کی موت پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ تبریز کو انصاف دلانے کیلئے ملک کے ہر کونے سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ اِسی دوران ممبئی سے متصل تھانے ضلع کے دیوا میں شرپسندوں نے اولا کے ایک مسلم ڈرائیور کی بری طرح پٹائی کر کے زبردستی ’’جے شرے رام‘‘ کہنے پر مجبور کیا۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے اِس خطرناک ’’ٹرینڈ‘‘ پر روک نہیں لگائی گئی تو مذہبی نفرت ہندوستان کیلئے ایک بدنما داغ بن جاۓ گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبرا میں مقیم ٢٢/سالہ اولا ڈرائیور فیصل عثمان خان کا کہنا ہے کہ ’’مَیں اپنی گاڑی لے کر جا رہا تھا کہ تین شرابیوں نے اِسکوٹی سے میری گاڑی کو ٹکر ماری اور مراٹھی میں گالی دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے باپ کا روڈ ہے؟ کچھ کہا سنی کے بعد لات گھونسوں سے زدوکوب کرنے کے علاوہ راڈ سے میری پٹائی کی۔ جسمانی چوٹیں لگنے پر مَیں نے اُن سے کہا کہ الله کے واسطے مجھے مت مارو ورنہ مَیں مَر جاؤں گا تو ایک نے کہا کہ یہ تو مسلمان ہے۔‘‘

’’اُس کے بعد اُنہوں نے گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور تینوں نے بے تحاشہ پٹائی کرتے ہوئے جے شری رام کہنے پر مجبور کیا۔‘‘ فیصل نے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ١٠٠/نمبر ڈائل کر کے پولیس کو اطلاع دی اور اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔ لیکن جنونی ہجوم کے ہاتھ لگنے والا ہر انسان فیصل جیسا خوش نصیب اور سمجھدار نہیں ہوتا۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ تینوں بدمعاشوں (منگش منڈے، انیل سریہ ونشی اور جےدیپ منڈے) کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اِس معامہ میں فوری پولیس کارروائی کی تعریف کی جانی چاہئے۔

اِس وقت ہمیں ایسے پُرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ہر مذہب ہر عقیدے کے ماننے والے ہندوستان میں خود کو پوری طرح محفوظ محسوس کریں۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور عوام کو پُرامن ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کیلئے حکومت کا تعاون بہت ضروری ہے۔ آج ہجوم کی شکل میں معصوم لوگوں کو بے رحمی سے قتل کر دینا آسان ہو گیا ہے اور جے شری رام کہہ کر حملوں کو صحیح ٹھہرایا جا رہا ہے۔

جھارکھنڈ کے کھرساواں ضلع میں ہجوم نے تبریز انصاری کو چوری کے الزام میں بجلی کے پول سے باندھ کر مبینہ طور پر گھنٹوں پیٹا اور اُس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے۔ بعد میں اسپتال میں تبریز کی موت ہو گئی۔ پولیس نے اِس معاملے میں ١١/لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور دو پولیس اہلکار معطل کئے گئے ہیں۔ معاملہ کی تفتیش کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی ہے۔ تبریز پر چوری کا الزام ہے۔ مان لیا کہ وہ چور ہے تو کیا اب چوروں کو جے شری رام کا نعرہ لگاکر مارا جاۓ گا؟ کیا ملک میں قانون کا راج ہونے کے بعد بھی ہجوم کا راج قائم ہے؟

رپورٹس کے مطابق تبریز کے ساتھ دو اور لوگ تھے جو زبردستی اُسے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور بعد میں موقع پر اُسے تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تبریز کو مارتی ہوئی بھیڑ کو جب معلوم ہوا کہ یہ مسلمان ہے تو اُس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوا لینا چاہ رہے تھی۔ ایک ہی منہ سے گالیاں بھی نکل رہی تھیں اور بھگوان کا نام لینے کی زد بھی۔ تبریز اتنا لہو لہان ہو چکا تھا کہ اُس کے منہ سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا۔ پیٹنے کے بعد جنونی ہجوم نے تبریز کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس حراست میں چار دن بعد اُس نے شکایت کی کہ اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ پھر اُسے صدر اسپتال لے جایا گیا۔

وہاں سے جمشیدپور کے ٹاٹا میموریل اسپتال ریفر کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھا تو کہا کہ یہ تو مَر چکا ہے۔ آپ دیکھیں کہ جتنا قصور اُس جنونی ہجوم کا ہے اُتنا ہی قصور جھارکھنڈ پولیس کا بھی ہے۔ پولیس اُسے نیم جان حالت میں جیل لے گئی اور آخرکار وہ بغیر علاج کے جاں بحق ہو گیا۔ تبریز کی موت اِس لحاظ سے بھی دل دہلا دینے والی ہے کہ دو ماہ قبل رمضان سے پہلے وہ شادی کرنے کیلئے وطن لوٹا تھا۔ ابھی اُس کی شادی کو ڈیڑھ ماہ ہی ہوئے تھے اور ہجومی تشدد میں اُس کی موت ہوگئی۔ تبریز کی بیوی شائستہ انصاری محض ڈیڑھ مہینوں میں سہاگن سے بیوہ ہو گئی۔

اِس واقعہ کو ’’گھناؤنا جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا، ’’لوگوں کا گلا دبا کر نہیں بلکہ گلے لگا کر جے شری رام کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اِس طرح کی چیزیں کرتے ہیں اُن کا مقصد حکومت کے مثبت کام کو متاثر کرنا ہے۔ کچھ واقعات ہو رہے ہیں، اُن کو روکا جانا چاہئے۔‘‘ اِس نوجوان کی موت کے ایک ہفتہ بعد وزیراعظم مودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے صرف افسوس کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ہجومی تشدد کی وارداتیں دوسری ریاستوں میں بھی پیش آتی ہیں، اِسلئے جھارکھنڈ کو بدنام نہ کیا جائے اور خاطیوں کو سخت سزا دی جائے‘‘۔

لیکن وزیراعظم کے قول و فعل میں تضاد نظر آتا ہے۔ کیونکہ تشدد پر آمادہ شرپسندوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی بظاہر اب تک نظر نہیں آئی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اِس حادثہ کے بعد قانونی سطح پر جو کارروائی ہوئی یا ہو رہی ہے اُس میں بھی مذہبی عصبیت کی بنیاد پر انصاف کے تصور کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اِس معاملہ میں پولیس نے جو رپورٹ لکھی ہے اُس میں تبریز کا یہ اقبالیہ بیان تو شامل ہے کہ اُس نے موٹر سائیکل چوری کی تھی لیکن اُس کے ساتھ جو تشدد ہوا اُس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ مطلب جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، کل کو اُنہیں با عزت رِہا کر دیا جائے گا؟

واضح ہو کہ ہجومی تشدد کے معاملہ میں جھارکھنڈ کا ریکارڈ گزشتہ چند برسوں میں بہت ہی خراب رہا ہے۔ یہاں ہجومی تشدد متعدد معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ یہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ یہ وہی جھارکھنڈ جہاں گزشتہ سال گئوکشی کے الزام میں دو افراد کو قتل کردیا گیا اور قاتل کو جب کورٹ سے ضمانت ملی تو موجودہ مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے اُن دونوں مجرموں کی گلپوشی کی۔ جب مرکزی وزیر قاتلوں کی واہ واہی کرے تو قاتلوں کے حوصلے بلند ہوں گے، پست نہیں۔ ماب لنچنگ کے خاطیوں کو موجودہ حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ ملی ہے جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تبریز کی موت سے ٹھیک پہلے، دہلی میں ایک مسجد کے امام پر حملہ اور جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی خبر آئی۔ پولیس نے اِسے حادثہ کا معاملہ بتایا جبکہ متاثرہ بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ اُس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اُس پر حملہ کیا گیا۔ کل تک ہم محسوس کرتے تھے کہ یہ وباء فی الحال بڑے شہروں سے دور ہے لیکن دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں ہونے والے واقعات نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جو بیج بویا تھا وہ اب پھلنے پھولنے لگا ہے۔

ویسے تو ہندوستان میں رام کے نام پر سیاست ایک زمانہ سے ہو رہی ہے۔ مگر اب یہ ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے کے ساتھ انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ پارلیمنٹ میں اِس نعرے کا استعمال حزب اختلاف کو نیچا دکھانے کیلئے کیا گیا۔ پھر پارلیمنٹ کے باہر یہی نعرہ لگاتے ہوئے تبریز کو مذہب کی بنیاد پر اتنا مارا گیا کہ حرکت قلب رکنے سے اُس کی موت ہو گئی۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کیوں آپ جے شری رام کو ایک سیاسی نعرہ بنا رہے ہیں؟ اور حیرت انگیز طور پر ہندو مذہب کے رہنما بالکل خاموش ہیں؟ کیا یہ کھلے عام شری رام کی توہین نہیں ہے؟ کیا رام کو سیاسی چہرہ بنا کر ہنگامہ برپا کرنا ’’راماین‘‘ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟

گزشتہ پانچ برسوں میں اقلیتی طبقہ بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات میں برق رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۵ء میں گئوکشی کے الزام میں دادری میں اخلاق احمد کے بہیمانہ قتل کے بعد سے لے کر اب تک صرف ہجومی تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بننے والے اقلیتی فرقہ کے افراد کی مجموعی تعداد ایک سَو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اُن میں سے ۳۰/سے زائد کی موت ہوچکی ہے۔ یہ اعداد و شمار غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ہیں اور یہ بات پکی ہے کہ یہ سرکاری اطلاعات پر مبنی ہوں گے جبکہ غیر سرکاری طور پر دیکھا جائے تو یہ تعداد کافی بڑھ چکی ہوگی۔

سوچنے والی بات ہے، پہلے ہجومی تشدد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانا، نام جان کر یا اُن کی شناخت کے بارے میں معلوم ہونے پر اُنہیں مختلف مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنا۔ ملک کے مختلف حصوں میں اِس طرح کے واقعات انجام دینا اور پھر اُس کی با قاعدہ ویڈیو کلپ بنانا اور پھر اُس کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا جانا اور پھر بے شمار وہاٹس ایپ گروپس میں پھیلا کر وائرل کیا جانا۔ پھر ٹیلیویژن کے ذریعہ نفرت کے زہر کو گھر گھر تک پہنچانا۔ یہ سب ایک منصوبہ بند طریقے سے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمان پورے ملک میں نفسیاتی اور ذہنی طور پر ڈرے اور سہمے ہوئے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں۔

عالمی سطح پر ملک کی شبیہ کافی حد تک مکدر ہوئی ہے اور اِس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ملک کے سب سے بڑے وفادار بننے کا ڈھونگ کرتے ہیں اور دن رات حب الوطنی کا دم بھرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے مذہبی آزادی کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح کی اپنی رپورٹ میں فکر مندی ظاہر کی ہے کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اِس سے ایک خاص طبقہ نشانہ بن رہا ہے۔ اُس رپورٹ میں اِس حقیقت کی عکاسی ہے کہ ملک میں رہنے والے مسلم اقلیتی طبقہ کے اندر خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اِس سے قبل بھی امریکہ کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا۔

ہجومی تشدد دراصل دستور پر حملہ ہے۔ انتہا پسند اِس کے ذریعہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اِس ملک میں اِس طرح کے واقعات کو انجام دینے والے آزاد ہیں اور اگر اِس ملک میں رہنا ہے تو اِسی طرح کے ماحول میں جینا ہوگا۔ یہ صرف دو مذہب کے ماننے والوں میں تفرقہ پیدا کرنے کیلئے کیا جاتا ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جب تک ذات، مذہب اور فرقہ پرستی سے اوپر اٹھ کر اِس طرح کی واردات کی مخالفت نہیں کی جائے گی تب تک انتظامیہ یونہی خاموش تماشائی بنا رہے گا اور بھیڑ ایسی واردات کو انجام دیتی رہے گی۔

چاہے وہ جھارکھنڈ کا معاملہ ہو یا دہلی اور تھانے کے دیوا کا حملہ، تینوں میں بے قصوروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ظلم و جبر اور مذہبی زبردستی کی نئی شکل ہے۔ اِن وارداتوں سے سماج میں تفرقہ پیدا ہو رہا ہے جو کسی قیمت پر ملک کیلئے سودمند نہیں۔ پوری ہمت کے ساتھ اِس کی مخالفت ہونی چاہئے۔ اِس کھلی دہشت گردی سے مضبوطی سے لڑا جانا چاہئے اِس سے پہلے کہ یہ مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہو جاۓ۔ جنونی ہجوم کو روکنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ موجودہ حکومت ملک کے سبھی شہریوں کے تئیں جواب دہ ہو اور اپنے عزائم کے تئیں سنجیدہ اور اپنے کام میں غیر جانبدار ہو۔

بہرحال، ماب لنچنگ کو علاحدہ جرم کے زمرے میں رکھنے کی وکالت کرتے ہوئے سپریم کورٹ پہلے ہی متنبہ کر چکی ہے کہ اِس کی روک تھام کیلئے حکومت جلد از جلد ایک نیا قانون بناۓ۔ اِس بات کو تقریباً ایک سال کا وقت گزر گیا ہے لیکن افسوس حکومت ہجومی تشدد روکنے میں اب بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اِس کی بالکل واضح اور سیدھی وجہ یہی ہے کہ پہلے گاۓ کے نام پر بے قصور لوگوں کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر مارنے والے اور اب زبردستی جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوانے والے، دونوں ایک ہی قسم کے سیاسی معاشرے سے آتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فیصل فاروق

فیصل فاروق کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close