خصوصیہندوستان

گجرات میں آسام: شاہ جی کے چراغ تلے اندھیرا

 مودی جی اور شاہ جی کا مسئلہ یہ ہے ان کے ذہن پر انتخاب کا جنون سوار رہتا ہے اور وہ جس محاذ پر ہوتے اس کے سوا انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔

ڈاکٹر سلیم خان

بی جے پی کے لیے اے بی پی چینل  نے سی ووٹرس کی مدد سے ایک  ہوش اڑانے والا جائزہ شائع کردیا۔ اس کے مطابق راجستھان میں کانگریس کو ۱۴۲ اور بی جے پی صرف ۶۶ نشستوں پر کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو ۱۲۲ تو بی جے پی  اور بی جے پی کو ۱۰۶ نشستیں مل رہی ہیں نیز ۳۶ گڈھ میں کانگریس ۴۷ پر ہے اور بی جے پی ۴۰ سے آگے نہیں جارہی۔  اس میں شک نہیں کے یہ اندازے درست نہیں ہوتے لیکن پھر بھی امیت شاہ جی  کو باولہ کردینےکے لیے کافی ہیں۔ اس لیے کہ اگر ایسا ہوگیا تو بعید نہیں کہ قومی انتخاب کی کمان کسی اور کو تھما دی جائے اور نووارد  اگر مودی کا وفادار نہ ہواتو  وہ مودی جی کو غرقاب کرنے کے لیے بی جے پی کی ہی لٹیا ڈبودے۔ یہ سیاست ہے اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

 عوام کا موڈ  چونکہ  کچھ بدلا بدلا سا ہےاس لیے   آج کل  شاہ جی کوخواب میں  فی الحال غیر ملکی  درانداز  منڈلا رہے  ہیں۔ وہ دن رات انہیں ملک سے نکال باہر کرنے کا عزم دوہرا رہے ہیں حالانکہ عدالتِ عظمیٰ نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ سچ تو یہ ہے شاہ جی کے یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات عدالتی توہین کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کسی میں ہمت ہے اور کوئی جج اس کی سماعت کرنے کی جرأت ہے۔  راجستھان کے اندر جب کوئی حربہ کام نہیں آیااور انتخابی  جائزے میں پتہ چلا کہ کرسی میں دیمک  لگی ہوئی ہے اور جلد ہی وہ ٹوٹ کر گر جائے گی تو انہوں  نےغیر ملکی دراندازوں کو دیمک کہنا شروع کردیا اور ہڑ بڑاہٹ کے عالم میں اعلان کردیا کہ  ہندوستان میں سو کروڈ غیر ملکی گھس آئے ہیں۔    اس اعلان کو سننے کے بعد پہلے تو ایسا لگا کہ ان کے دماغ کو دیمک چاٹ چکی ہے لیکن  انسان جب بہت پریشان ہوتو ایسی چھوٹی موٹی غلطی کرگذرتا ہے۔

مدھیہ پردیش کے اندر بھی لاکھ شور شرابے کے باوجود جلسہ میں  کرسیاں خالی رہیں تو امیت شاہ کو پھر غیر ملکی دراندازوں کا بھوت نظر آگیا  اور انہوں نے  کہا یہ دیمک ہمارے ملک کا تحفظ چاٹ رہی ہے۔ اس لیے  ان سب کو ملک سے نکال  باہر کیا جائے گا۔ وہ لوگ  بم دھماکے کرتے ہیں۔ گولیاں چلاتے ہیں  اور معصوموں کا قتل کرتے ہیں۔ شاہ جی کے ان جملوں کو پڑھتے ہوئےاچانک سناتن سنستھا کا نام دماغ میں کوند گیا۔ دھماکے کرنا اور بم بناتے ہوئے پکڑے جانا تو انہیں کی شناخت ہے۔ کالبرگی سے لے کر گوری لنکیش تک انہیں لوگوں نے گولیاں چلا کر گوڈسے کی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ لگتا ہے شاہ جی ان کو جیل سے نکال کر سوئزرلینڈ بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہندوتوا کے بہادر رکشک وجئے ملیا کے گیسٹ ہاوس میں آرام سے بقیہ زندگی کے دن گذار سکیں اور کل کوجب  بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے تو خود شاہ جی بھی ان کی رفاقت سے لطف اندوز ہوسکیں۔

  شاہ جی نے اعلان کیا کہ جب سے وزیراعظم نے این آر سی کا فیصلہ کرکے ۴۰ لاکھ غیر ملکیوں کوآسام  سے نکال باہر کرنے کا عزم کیا ہے  راہل گاندھی اور اکھلیش یادو ان دراندازوں کے لیے سینہ کوبی  کررہے ہیں۔ اس ایک بیان میں دو عدد جھوٹ ہیں۔ اول تو این آر سی جس آسام معاہدے کے نتیجہ میں بنایا گیا وہ راہل گاندھی  کے والد راجیو گاندھی نے کیا تھا نیز اس مسئلہ پر راہل یا اکھلیش وغیرہ نے ابھی تک کوئی جرأتمندانہ  بیان دے کر بی جے پی  کو مدد کرنے  کی غلطی نہیں کی۔ ویسے شاہ جی جیسے ماہر کاذب  کے لیے یہ ایک معمولی جھوٹ ہے جس کو ایک انتخابی جملہ کہہ کر وہ بہ آسانی  مکر سکتے ہیں۔   شاہ جی نہیں جانتے کہ وہ آسام سے جن  ۴۰ لاکھ دراندازوں کو نکالنا چاہتے ہیں  ان میں مدھیہ پردیش، اترپردیش اور راجستھان کے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان بیچاروں کو کون سا ملک اپنے یہاں آنے کی اجازت دے گا۔ ان کی حالت روہنگیا مسلمانوں سے بھی خراب ہوجائے گی جن میانمار نے اپنے ملک میں واپس آنے کی اجازت دے دی۔ جہاں تک بنگلا بولنے والے آسامیوں  کا سوال ہے  بنگلا دیش کے  دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت ہند نے ابھی تک ان سے کسی کی واپسی کا ذکر  تک نہیں کیا۔  دراصل شاہ جی غیر ملکی دراندازوں کا ہواّ  کھڑا  کر کے کس کو پاگل بنارہے ہیں؟ اور  ایسے میں کون  بے وقوف بنے گا؟

 مودی جی اور شاہ جی کا مسئلہ یہ ہے ان کے ذہن پر انتخاب کا جنون سوار رہتا ہے اور وہ جس محاذ پر ہوتے اس کے سوا انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ فی الحال وہ دونوں ایم پی اور راجستھان کی خاک چھان رہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ ان کے اپنےآدرش  گجرات میں مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے باشندوں کے ساتھ آسام کے بنگالیوں سے بھی برا سلوک ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح کٹھوعہ میں ایک معصوم بچی کی عصمت دری ہوئی اسی طرح سابر کانٹھا  ضلع میں بھی ایک بہاری وحشی نے ۱۴ ماہ کی معصوم بچی کی آبروریزی کردی۔ اس کے جواب میں پانچ اضلاع کے اندر تشدد پھوٹ پڑا اور غیر گجراتیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ یہ معاملہ اس قدر سنگین صورتحال اختیار کرگیا کہ ہزاروں لوگ صوبہ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے نیز ۱۸۰ لوگوں کو گرفتار کرنا پڑا۔  اس طرح بغیر کسی این آر سی کے آدرش گجرات میں ایک آسام وجود میں آگیا جس نے راشٹر واد کے  غبارے کی ہو انکال دی۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ ہر صوبائی انتخاب سے  قبل ہندی زبان بولنے والوں کو لبھانے کے لیے  مختلف صوبوں میں بھیجےجاتے  تاکہ ان کا جذباتی استحصال کرکے انہیں بی جے پی کاہمنوا بنایا جائے۔ وہ گجرات بھی گئے تھے اور اتر بھارتیوں نے بھی خوب جم کر بی جے پی کی حمایت کی۔ ان کے ووٹ سے صوبے میں  کمل کھل گیا لیکن بی جے پی  کی  ریاستی سرکار شمالی ہند کے باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ یوگی جی کو چاہیے کہ انتخاب کے بعد بھی آسام اور گجرات جاکر ان رائے دہندگان کی خبر لے لیا کریں جن کے سامنے ووٹ  کی گہار لگائی گئی  تھی۔ کیا ہندوتوا  کی پرمپرا  یہی  ہے کہ ووٹ مانگتے وقت ہاتھ جوڑنا اور کامیاب ہوجانے کے بعد منہ پھیر لینا؟ یہ  تو گھٹیا قسم کی  خودغرضی ہے جس کا مظاہرہ یوگی جی  سے لے کر  مودی جی تک سبھی   کرتے ہیں۔

گجرات کے حالیہ  تشدد کے  پس پشت  نوجوانوں کےاندر بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا  بھی دخل ہے۔مودی جی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد نوٹنکی تو بہت کی لیکن نوجوانوں کی بیروزگاری کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ گجرات کے اندر ہر صنعت کے لیے ۸۰ فیصدمقامی لوگوں کو ملازمت پر رکھنا لازم ہے لیکن اس کی پاسداری نہیں کی جاتی  اس لیے کہ شمالی ہندوستان کا مجبور مزدور کم اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور محنت بھی زیادہ کرتا ہے۔ اسی لیے انہیں نوکری پر رکھ  لیا جاتا ہے۔ عصمت دری کے اس واقعہ سے اندر ہی اندر پنپنے والا آتش فشاں پھٹ گیا  اور غم وغصے   کو اظہار کا ایک موقع مل گیا۔ وحشی نوجوان اگر مسلمان ہوتا تو اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر بی جے پی اپنی ناکامی پر پردہ ڈال دیتی اور  گجراتی نوجوانوں کو پہلے فساد پر ابھارا جاتا۔ اس کے بعد    فسادیوں  اور ان کے اہل خانہ کو بلیک میل کرکے ووٹ سمیت یرغمال بنا لیا جاتا۔ ۔ گجرات کے مسلم کش فساد میں   مودی جی نے یہ حربہ  بڑی مہارت  سے استعمال کیا  اورکامیاب ہوے۔ لیکن اب یہ ایک نئے انداز میں سامنے آیا ہے۔ مودی جی اور شاہ جی کو چاہیے اپنی انتخابی مہم سے کچھ وقت  نکال کرملک کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ ورنہ  قومی انتخابات کے بعد ملک کے عوام ان کو نہ صرف اقتدار سے بے دخل کردیں گے بلکہ ملک  بدر بھی کردیں گے۔ انہیں دہلی اور اتر پردیش تو کجا گجرات میں بھی سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close