خصوصیسائنس و ٹکنالوجی

گریوٹی اتنی کمزور فورس کیوں ہے؟

گریوٹی ایک بہت ہی طاقتور فورس ہے

ادریس آزاد

سٹرنگ تھیوری جو ابھی فقط ایک تھیوری ہے اور صرف ریاضی کے فارمولوں کے ذریعے ثابت کی گئی ہے، کے مطابق گریوٹی دراصل کمزور فورس نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کی تمام چاروں فورسز کے مقابلے میں سب سے زیادہ طاقتور ہے لیکن چونکہ گریوٹانز اوپن لُوپ سٹرنگز نہیں ہیں بلکہ کلوزڈ لُوپ سٹرنگز ہیں اس لیے گریوٹانز ایک کائنات سے دوسری کائنات میں سِرک جاتے یعنی سلِپ (Slip) ہوجاتے ہیں۔

ہم اپنے مشاہدے سے جانتے ہیں کہ گریوٹی ایک نہایت کمزور، نہایت کمزور، نہایت ہی کمزور فورس ہے۔ ۱۱ فروری دوہزار سولہ کو جو گریوٹیشنل ویو زمین پر ڈی ٹیکٹ کی گئی تھی وہ دو بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوئی تھی اور یہاں زمین پر ہم نے اسے ایک بال کی طاقت یا ایک تتلی کے پر پھڑپھڑانے کی طاقت سے بھی کمزور محسوس کیا تھا۔ گریوٹی کے نہایت کمزور فورس ہونے کا ایک اور مشاہدہ جو ہم روز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ لوہے کا ایک کیل زمین پر پھینکیں، پھر اُسے ایک مقناطیس کی مدد سے اُٹھائیں تو وہ اُٹھتا چلا آتاہے۔

مقناطیس میں میگانیٹک فورس ہے جبکہ زمین پر کیل گریوٹی کی وجہ سے پڑاہے۔ پوری زمین کی گریویٹی کے مقابلے میں ایک ننھا سا مقناطیس کیل کو کھینچ کر اوپر اُٹھا لیتاہے۔ ثابت ہوا کہ گریوٹی الیکٹرومیگانیٹک فورس سے بے حد کمزور ہے۔

یہ تو ہے ہمارا مشاہدہ۔ ہمارا مشاہدہ تو یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ سُورج زمین کے گرد گھومتاہے پھر ریاضی کے ماہرین نے ہی سب سے پہلے ہمیں حساب کتاب لگا کر بتایا کہ نہیں زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ چنانچہ ہمارا مشاہدہ آج بھی ویسا ہی لاحاصل ہوسکتاہے جیسا کہ گیلیلیو سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ پروفیسر ایلن گُوتھ کے بقول سٹرنگ تھیوری اپنی ریاضی کے اعتبار سے آج تک پیش کی جانے والی ہر تھیوری سے زیادہ خوبصورت اور مضبوط ہے۔ انہوں نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا وہ ہے ’’ایلی گینٹ‘‘ (Elegant)۔ انہوں نے کہا کہ سٹرنگ تھیوری کی ریاضی آئن سٹائن کی تمام تھیوریز سمیت ، آج تک پیش کی جانے والی ہر سائنسی تھیوری سے کہیں زیادہ ایلی گینٹ اور سالڈ ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر آج تک وہ تمام تھیوریز جو سٹرنگ تھیوری کی میتھ سے کہیں زیادہ کمزور ہوا کرتی تھیں سچی ثابت ہوئی ہیں تو پھر اتنی مضبوط میتھ والی تھیوری کیونکر غلط ثابت ہوسکتی ہے؟

سٹرنگ تھیوری کے مطابق گریوٹی کے بھی ذرات ہوتے ہیں۔ دراصل ہر فورس کی ایک فیلڈ اور ایک ذرّہ ہوتاہے۔ مثلاً الیکٹرومیگانیٹک فورس کی فیلڈ ہے جو پوری کائنات پر محیط ہے اور یہ فورس جن ذرات سے بنی ہے یعنی جو ذرات پوری کائنات میں فیلڈ بن کر پھیلے ہوئے ہیں ان کا نام ہے ، ’’فوٹانز‘‘۔ اسی طرح الیکٹرانک فیلڈ ہے تو الیکٹران اس فیلڈ کا ذرّہ ہے یا جدید دریافت ہونے والی ہِگز فیلڈ ہے تو اس کا ذرّہ ہِگز بازان ہے۔ یعنی جو کوئی بھی فیلڈ ہے اس کا ذرّہ ضرور ہوتاہے۔

چونکہ گریوٹیشنل فیلڈ بھی ایک فیلڈ ہے اور ہم صدیوں سے اس فیلڈ کے بارے میں جانتے ہیں تو عین ممکن ہے اس فیلڈ کا بھی کوئی ذرّہ ہوگا۔ اس ذرّے کا نام ہے ’’گریوٹانز‘‘۔ کائنات میں دریافت ہونے والی کل فورسز چار ہیں۔

۱۔ طاقتور نیوکلیر فورس

۲۔ کمزور نیوکلیئر فورس

۳۔ الیکٹرومیگانیٹک فورس

۴۔ گریوٹیشنل فورس

پہلی تین فورسز کو یکجا کرنے کا کارنامہ پاکستانی سائنسدان عبدالسلام نے سرانجام دیا اور ان کی یونی فکیشن کی۔ لیکن گریوٹیشنل فورس کا راز آج تک نہیں کھل پایا۔ اب سٹرنگ تھیوری نے دعویٰ کیا ہے کہ کائنات ذرّات نہیں بلکہ سٹرنگز سے بنی ہے۔

سٹرنگز دھاگہ نما ہوتی ہیں۔ زیادہ تر سٹرنگز اوپن لُوپ یعنی کھلے ہوئے آزاد سِروں والی ہوتی ہیں جن کے دونوں سرے سپیس ٹائم کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ سٹرنگز ایسی بھی ہیں جو کلوزڈ لُوپ ہوتی ہیں۔

بند سٹرنگز کیسی ہوسکتی ہیں؟

یقینا کسی دائرے یا بیضے وغیرہ کی صورت بند چاہے جتنی بھی بل دار ہو۔ جیسے کوئی بند ربربینڈ ۔ اب چونکہ گریوٹانز کلوزڈ لوُپ سٹرنگز ہیں تو ہوتا یوں ہے کہ ان کے سِرے سپیس ٹائم فیبرک کے ساتھ جُڑے یا بندھے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ آزاد دھاگے ہیں جو اُڑتے پھرتے ہیں۔ جب کبھی کسی کائنات کے سپیس ٹائم فیبرک کو بہت زور کا دھکا لگتاہے یا سپیس ٹائم فیبرک میں کوئی بھونچال تو وہ ایک کائنات سے کسی ساتھ والی کائنات میں جمپ کرجاتی یا سِرک جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین ِ فزکس کو اُمید ہے کہ اگر کبھی ہم نے کسی ایک کائنات سے کسی دوسری کائنات میں سفر کیا یا رابطہ کیا تووہ ضرور گریوٹانز کی مدد سے ممکن ہوگا۔

عام طور پر کسی کائنات سے گریوٹانز کے سرک جانے کے لیے سپیس ٹائم فیبرک کو دھکا لگنا ضروری نہیں ہوتا۔ چونکہ کائناتیں بہت سی ہیں اور پیرالل ہیں اور ساتھ ساتھ واقع ہیں اس لیے گریوٹانز کی ایک بہت بڑی مقدار ہمہ وقت اُن کائناتوں میں سرکتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گریوٹی کمزور فورس کے طور پر ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ جبکہ فی الاصل ایسا نہیں ہے۔ گریوٹی ایک بہت ہی طاقتور فورس ہے لیکن چونکہ زیادہ تر گریوٹانز دوسری کائناتوں یا دوسری ڈائمنشنز میں سرک جاتے ہیں اس لیے ہمیں جو گریوٹی نظر آتی ہے وہ حد سے زیادہ کمزور نظر آتی ہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close