خصوصیسیاست

گر صاحبِ انصاف کٹہرے میں کھڑا ہو؟

اے۔ رحمان

اگر چیف جسٹس پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کے پیچھے کسی ’بڑی طاقت‘ کی ’سازش‘ تھی۔ جیسا کہ خود چیف جسٹس نے جو ابی الزام لگاتے ہوئے کہا۔ تو سازشی اپنے مقصد میں اس حد تک ضرو رکامیاب ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی بنیادیں لرز گئیں اور ایک ایسی بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ تفتیش کے نتائج کچھ بھی سامنے آئیں لیکن پورے قضیے کے عملی اور شفاف تجزیے سے قبل اس حقیقت سے روگردانی نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ان چار جج صاحبان کی سربراہی کر رہے تھے جنھوں نے عدلیہ کے قدیم چلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پچھلے سال جنوری میں ایک پریس کانفرنس بلا کر عوام کو عدلیہ پر منڈلاتے ہوئے خطرات سے آگاہ کرنے کا فقید المثال اور روایت شکن قدم اٹھایا تھا۔ اس کے بعد خبر گرم رہی کہ اہل اقتدار رنجن گوگوئی کے چیف جسٹس بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں لیکن انھیں اس میں ناکامی ہوئی اور رنجن گوگوئی چیف جسٹس بن گئے۔ حکومت کے خدشات کے عین مطابق انھوں نے سپریم کورٹ کو حکومت کی کٹھ پتلی نہیں بننے دیا بلکہ بابری مسجد رام مندر تنازعے کو عام انتخابات کے بعد فیصل ہونے کے لیے طے کیا نتیجتاً مندر۔ مسجد کا پتّہ سیاسی جماعتوں خصوصاً حزب اقتدار کے لیے بے معنی ہو گیا۔ یہاں تک کہ عوام الناس اور ہندوتو کا ناقوس پھونکنے والے گروہ بھی اس سے بے نیاز ہو کر دوسرے حربے تلاش کرنے میں لگ گئے۔ فی الوقت سپریم کورٹ کے سامنے جو اہم ترین معاملات ہیں ان میں رافیل سودے پر نظر ثانی بھی شامل ہے جس کے اہم دستاویزات کی نقول کا عدالت نے بطور ثبوت جائزہ لینے کا فیصلہ تو کر ہی دیا اور ان دستاویزات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے جس طرح کے احکامات صاد رہو سکتے ہیں وہ حکومت کے حق میں خصوصاً انتخابات کے زاویے سے سم قاتل ثابت ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ چار نیوز پورٹل کے ذریعے شکایت کنندہ خاتون کی جج صاحبان کو بذریعہ حلف نامہ بھیجی گئی شکایت کی خبر عام ہوتے ہی چیف جسٹس نے فطری رد عمل کے طور پر ننگے الفاظ میں کہہ دیا کہ چند اہم معاملات جو اگلے ہفتے زیر سماعت آئیں گے ان کے پیش نظر یہ سازش کی گئی ہے  تاکہ مجھے کسی طور سماعت سے ہٹایا جا سکے۔لیکن شکایت کی خبر عام ہوتے ہی چیف جسٹس نے ایک سہ رکنی بنچ تشکیل دی جس میں خود کو بھی شامل کیا اور ہفتہ یعنی چھٹی کا دن ہوتے ہوئے بھی مبینہ طو رپر متاثرہ کی شکایت پر غور کیا گیا۔ حالانکہ تقاضائے انصاف کی روسے انھوں نے خود کو آخری سماعت سے الگ کر لیا اور آرڈر پر دستخط بھی نہیں کیے۔

یہ ایک نہایت سنگین اور افسوسناک صورت حال ہے کہ ملک کا چیف جسٹس بذات خود ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ انگریزی میں لفظJustice کے معنی ہیں ’ انصاف‘ او رہائی کورٹ اور پسریم کورٹ کے جج صاحبان کے لیے اس کا استعمال اس تصور کے تحت کیا جاتا ہے کہ اس سطح کے منصف کی مکمل ذات انصاف سے مملو ہے اور وہ مجسم انصاف ہے۔ ہندی میں بھی اس کا ترجمہ ’نیا ئے مورتی‘ ہے۔ اس روشنی میں چیف جسٹس کو کٹہرے میں لایا جانا کیا معنی و مفہوم رکھتا ہے اس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔ لیکن آئین نے ہمارے جمہوری نظام کی پوری عمارت جس بنیاد پر ایستادہ کی ہے وہ ہے قانون کی عملداری اور اس سے منسلک مساوات کا تصور۔ قانون کی نظر میں سب کا برابر ہونا اور قانون کی بالا تری۔ لہٰذا بیس اپریل کی از خود سماعت کے بعد باتیں اپریل کو ایک نئی سہ رکنی بنچ تشکیل دی گئی جو جسٹس ارون مشرا، آر۔ ایف نریمان اور دیپک گپتا پر مشمتل تھی۔ لیکن مسئلہ اب صرف چیف جسٹس کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزام کا ہی نہیں رہا تھا بلکہ صورت حال کی سنگینی میں اضافہ کرتے ہوئے ایک وکیل اتسو بینس نے بذریعہ حلف نامہ عدالت کو مطلع کیا کہ کچھ اشخاص نے انھیں ڈیڑھ کروڑ روپیہ کی پیشکش کی تھی جس کے عوض چیف جسٹس کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے ایک پریس کانفرنس بلائی جانی تھی۔ یہ پیشکش چند ’فکسرز‘ کے ذریعے کی گئی تھی۔ یہاں ایک گریز لازمی ہے۔ وکالت کے پیشے اور عدالتی نظام سے وابستہ جو چند نا مناسب بے ایمانیاں اور بد عنوانیاں ہیں ان میں سنگین ترین ہے۔بنچ فکسنگ۔ سپریم کورٹ کے کچھ بے ضمیر وکلا اور عملے کے بد عنوان ارکان کی ملی بھگت سے بڑے  بڑے معاملات کسی مخصوص عدالت کے سامنے رکھنے کے عمل کو فکسنگ کہا جاتا ہے۔ یہ ناجائز کھیل عرسے سے جج صاحبان اور عدالت کی نگراں Vigilanceکے علم میں ہے اور اس پر کڑی نظر رکھنے کے علاوہ ایک دو مرتبہ قصور واران کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے حال ہی میں دو کورٹ ماسٹر برخاست ہوئے اور ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات بھی درج کیے گئے کیونکہ انھوں نے عدالت کے بعض احکامات میں الفاظ کی الٹ پھیر کرکے ایک مخصوص صنعت کار کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

وکیل اتسو بینس کی انکشافی شکایت کے بعد معاملہ دو رخی سنگینی اختیار کر گیا۔ اگر متاثرہ خاتون کی شکایت جھوٹی ہے تو یہ بذات خود عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی شرمناک کوشش ہے لیکن اگر کسی سازش کے تحت ایسا کیا گیا ہے تو اس کے ڈانڈے کہاں کہاں جاکر ملیں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے تو کہہ ہی دیا کہ کوئی ’طاقت‘ انھیں بے عمل کر دینا چاہتی ہے۔ ایک افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ بعض وکلا نے بنچ فکسنگ کے معاملے سے عدالت کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی لیکن بنچ نے نہایت سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ’ آپ ہمیں برانگیختہ مت کیجیے ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ عدالت امراء اور روؤسا کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہ بن سکے۔ اس آگ میں ہاتھ نہ ڈالیئے ہاتھ جل جائے گا۔

سپریم کورٹ کے اصول و ضوابط کے مطابق جسٹس بوبڑے، جسٹس رامنا اور جسٹس اندرا بنرجی پر مشتمل ایک ’خانگی‘ کمیٹی متاثرہ کی شکایت کا جائزہ لینے اورمناسب سفارشات کرنے کے لئے تشکیل دی گئی لیکن شکایت کنندہ نے اعترض کیا کہ جسٹس رامنّا چیف جسٹس کے دوست ہیں جس پر جسٹس رامنا نے خود کو کمیٹی سے الگ کر لیا اور ان کی جگہ جسٹس اندو ملہوترا کو شامل کیا گیا۔ اس طرح اب اس کمیٹی میں دو خواتین جج ہیں۔

فکسرز کی سازش والا زاویہ کیونکہ نہ صرف سنگین ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اس لیے عدالتی بنچ نے دلی پولیس، سی۔ بی۔ آئی اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہان کو عدالت میں طلب کر لیا تھا اور گذشتہ کل سپریم کورٹ کے سابق جج اے۔ کے پٹنائک کو سازش کی انکوائری کے لیے مامور کیا گیا اور یہ تینوں سربراہان اسی تفتیش میں معاونت کریں گے۔

لیکن اس افسانے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہو سکتا ہے جس کی طرف یاتو کسی کی نظر نہیں گئی یا جس کا عمداً ذکر نہیں کیا جا رہا۔ جاسوسی کی ایک اصطلاح ہےFalse leadجسے Red Herring بھی کہتے ہیں۔ شکاری کتوں کی توجہ ان کے شکار کی طرف سے ہٹانے کے لیے ایک سخت بدبودار لیکن کتوں کے لیے پر کشش مچھلی کا استعمال کیا جاتا تھا جس کی بو پاکر کتے  اپنے اصلی شکار کا پیچھا کرنا چھوڑ اس کی بو کی طرف ملتفت ہو جاتے تھے۔ اس طور  جاسوسی کے معاملات میں مخالف جاسوس یا تفتیش کنندہ کے راستے میں گمراہ کن  اشارے اورسراغ ڈال کر اس کو صحیح راستے سے بھٹکا دیا جاتا ہے اور وہ ان اشاروں یا سراغ کی بنیاد پر جو فیصلہ کرتا ہے اسےLogical Falacyیعنی منطقی دھوکا کہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ فکسرز کی سازش کی کہانی false lead  ہو تاکہ سازش کے پس ِ پردہ اربابِ سیاست تفتیش کی زد میں نہ آئیں۔ تفتیش تو اب یہ ہوگی کہ وہ کون سے فکسرز ہیں جنہوں نے اتسو بینس کو رشوت دینے کی کوشش کی۔ ان کی شناخت کر لی جائے گی، گرفتاریاں ہوں گی،تفتیش کے اختتام پرایک لمبے عرصے تک کے لئے چلنے والامقدمہ شروع ہو جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگوں کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ کون سے فکسرز اور کیسا مقدمہ۔ ہو سکتا ہے خانگی کمیٹی کی انکوائری کے دوران چیف جسٹس رافیل معاملے کی سماعت نہ کر پائیں۔ نومبر میں وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ اب تو یہی امید کی جا سکتی ہے کہ عام انتخابات کے نتیجے میں موجودہ حکومت کا پتّہ صاف ہو جائے اور چیف جسٹس کے خلاف سازش کی انکوائری صحیح رخ اختیار کر لے۔ کیونکہ سازش تو یہ چیف جسٹس کے خلاف ہی تھی تاکہ صاحب انصاف کو کٹہرے میں دیکھ کر عوام الناس healer heal thyself (طبیب پہلے اپنا علاج کر) کی اصطلاح میں سوچیں، عدلیہ اور چیف جسٹس دونوں کی معتبریت ختم ہو جائے اور سیاسی بساط پر شاطر اپنی من مرضی کی چالیں چلتے رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اے۔ رحمان

صاحبِ تحریر معروف کالم نگار اور سرگرم اردو تنظیم عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں.

متعلقہ

Back to top button
Close