خصوصیسیاست

گوا میں کمل کا پھول، کشمیر میں خونی ترشول

ڈاکٹر سلیم خان

جموں کشمیر اور گوا  کا شمار ملک کے چھوٹے صوبوں میں ہوتا ہے۔ ان کی معیشت میں سیاحت کی صنعت  کا اہم کردار ہے۔جموں کشمیر میں مجموعی طور پر  مسلمان اکثریت میں  یعنی ۶۸ فیصد ہیں جبکہ وادی میں ان کی آبادی کا تناسب ۴ء۹۶ فیصد ہے۔ گوا میں عیسائیوں کی تعداد ۲۵ فیصد اور مسلمان ۳ء۸ فیصد ہیں اس لیے ہندووں کی آبادی صرف ۶۶ فیصد  تک محدودہے۔ ان صوبوں میں ۲۰۱۴ ؁ کے بعد ریاستی انتخاب ہوااور دونوں مقامات پر برسرِ اقتدار جماعت کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔یہ حسن اتفاق ہے کہ ان میں سے کسی بھی  صوبے  کے اندر کوئی جماعت کو واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور معلق قانون ساز مجلس وجود میں آئی۔ گوا میں  بی جے پی بری طرح  ہار گئی    اس کے باوجود وہاں  امیت شاہ  ہیرو بن گئے  اور جموں میں بی جے پی زبردست کامیابی ملی اس کے باوجود  کشمیر نے انہیں زیرو بنادیا۔

ان دونوں ریاستوں کے انتخابی  نتائج مختلف معنیٰ  میں ایک دوسرے سے مختلف بھی تھے مثلاً کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ کسی طرح  خود اپنی نشست بچانے میں کامیاب ہوگئے  تھےجبکہ  گوا میں بی جے پی کی ذلت آمیز شکست سابق وزیراعلیٰ لکشمی کانت پسریکر  کو بھی لے کر ڈوب گئی تھی۔  گوا کے اندر بی جے پی ۸ سیٹیں گنواکر ۲۱ سے ۱۳ پر پہنچ گئی   تھی جبکہ کانگریس ۸ نشستیں کماکر ۹ سے ۱۷ تک جا پہنچی تھی۔  کانگریس سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری  اورحکومت سازی کے لیے اس کو صرف تین ارکان  اسمبلی کی ضرورت تھی اس کے باوجود امیت شاہ نے کہہ دیا کہ ہماری سرکار بن رہی ہے اور بن گئی۔ اب  صورتحال یہ ہے کہ کانگریس کے تین ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان میں سے ایک بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر اس کے ارکان کی تعداد کو ۱۴ تک لے جاچکا ہے اور دو کمل کے نشان پر انتخاب لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس طرح  کانگریس کی برتری  کا خاتمہ ہوچکا ہے اور  اس کے ارکان کی تعداد بھی  ۱۴  رہ گئی ہے۔

جموں کشمیر کے اندر جس وقت انتخابات ہوئے مودی لہر جاری تھی۔ اس کا زبردست فائدہ  بی جے پی کوملا  اور اس کے ارکان کی تعداد ۱۱ سے بڑھ کر ۲۳ ہو گئی لیکن پی ڈی پی نے بھی اپنی نشستوں میں ۷ کا اضافہ کرکے ۲۸ ارکان کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ بی جے پی کی  کامیابی جموں تک محدود تھی اس لیے کہ وادی میں اس کے سارے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ حقیقت  میں یہ دہلی سے بڑی ناکامی تھی جہاں اس کے کم ازکم ۳ امیدوار  توکامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے۔ نیشنل کانفرنس ۲۸ سے ۱۵ پر آئی اور کانگریس ۱۷ سے ۱۲ پرپہنچی۔ پیپلس کانفرنس  نے پہلی مرتبہ ۲ نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور پینتھرس پارٹی کا صفایہ ہوگیا۔ اس کی تینوں نشتیں بی جے پی نے نگل لیں۔ بی جے پی کو یقین تھا کہ اس کے عروج سے دیگر جماعتوں کے لوگ مرعوب ہوجائیں گے اور  دوسرے نمبر پر ہونے کے باوجود وہ وہ  بہ آسانی  گوا کی طرح  اپنا وزیر اعلیٰ  مسلط کرلے جائیگی  لیکن اس کا سپنا ساکار نہ ہو سکا۔ پی ڈی پی کو مرکز میں وزیر بنانے کا لالچ دیا گیا لیکن مفتی صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے بالآخر طویل انتظار کے بعد بی جے پی مایوس ہوکر نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر راضی ہوگئی اور   پی ڈی پی کو بادلِ نا خواستہ سینیر پارٹنر تسلیم کرلیا۔

مفتی محمد سعید  کی رحلت کے بعد بی جے پی نے سوچا کہ  محبوبہ پر دباو بنا کر اپنا کام نکالا جائے اس لیے حکومت سازی میں آنا کانی کی گئی اور طرح طرح کی افواہ اڑا کر پی ڈی پی کو توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن محبوبہ مفتی پر اس کو کوئی اثر نہیں ہوا۔ آخر کار بی جے پی کو دوسری بار ناک گھس کر محبوبہ کو وزیراعلیٰ بنانا اور خود نائب کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس میں شک نہیں کہ بی جے پی کے ساتھ  چلے جانے سے پی ڈی پی کی مقبولیت میں زبردست کمی واقع ہوئی تھی۔ اس کا اندازہ مفتی محمد سعید کے جنازے میں شرکاء کی کم تعداد اور ضمنی انتخابات کے نتائج سے ہوچکا تھا  لیکن بی جے پی اس کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔  محبوبہ مفتی کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد  ۶ ماہ تک کشمیر   میں گوا گوا  کھیلا گیا لیکن جب ساری کوششیں ناکام ہوگئیں تو بالآخر اسمبلی ایک ایسے وقت میں تحلیل کی گئی  جب پی ڈی پی، این سی اور کانگریس ایک نہایت ہی مستحکم حکومت بنانے  کے لیے متحد ہوگئے تھے۔

اس کے برعکس گوا کی صورتحال دیکھیں یہاں ۴۰ میں سے ۱۴ ارکان بی جے پی کے ہیں۔ اس کو دیگر جماعتوں کے علاوہ ایم جی پی کی حمایت حاصل ہے لیکن ان کے درمیان ویسی ہی کشیدگی پائی جاتی ہے جیسے مہاراشٹر میں شیوسینا اور بی جے پی کے بیچ ہے کہ وہ آئے دن ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے ہیں۔ سرِ بازار جوتم پیزار ہوتی رہتی ہے۔جب کشمیر میں اسمبلی تحلیل کی جارہی تھی اس دن ایم جے پی ممبئی ہائی کورٹ کے دروازے پر دستک دے کر یہ گہار لگا رہی تھی کہ جو دو ارکان اسمبلی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ان کو کمل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس میں ویسےتو کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے مگر ارکان اسمبلی کی خریدو فروخت کو روکنے کے لیے ایم جے پی  اس  پابندی  کی خواستگار  ہے۔ اس موقف کی حمایت کانگریس نے بھی کی ہے کیونکہ اس  کومزید ارکان کے بکنے کا خوف لاحق ہے۔

ایم جی پی کا الزام ہے کہ کانگریس سے نکلنے والے سبھاش شروڈکر اوردیانند سوپتے کو  نہ صرف آگے چل کر وزارت کا لالچ  دیا گیا ہے بلکہ  ابھی سے نوازہ جارہا ہے۔ ای ڈی سی کے چیرمین سدھارتھ کونکالیکر کا استعفیٰ لے شیروڈکر کے لیے راستہ صاف کیا   گیااور سوپتے نے نیلیش کبرال سے جی ٹی ڈی سی کا عہدہ ہتھیا لیا۔ ایم جے پی نے اپنے حلف  نامہ میں ایک  اورخطرناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی کے ۱۴ میں سے چار ارکان اسمبلی اس قدر بیمار ہیں کہ ان کے صحتمند ہونے کا امکان مفقود ہے۔ ان میں سے ایک وزیراعلیٰ منوہر پریکر ہیں جو علاج کے لیے امریکہ تک جاچکے ہیں۔ ان علاوہ دیگر وزراء میں فرانسکو ڈیسوزا، پانڈورنگ ماڈکائیکرم اورجوس لوئس ہیں۔ اس طرح گویا ۴۰ میں سے صرف دس ارکان حکومت چلارہے ہیں۔ سرکاری نظام مفلوج  ہوچکا ہے   لیکن بی جے پی نیا وزیراعلیٰ مقرر کرنے سے کترا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوا کی اسمبلی تحلیل ہونی چاہیے یا کشمیر کی ؟

بی جے پی کی مسلمانوں سے پرخاش اس وجہ سے نہیں ہے کہ انہیں اسلام کی بابت کوئی غلط فہمی ہے یا مسلمانوں نے ان کی کوئی حق تلفی کی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جب   بی جے پی کا مقابلہ دیگر طبقات  سے ہوتا ہے تو وہ انہیں مختلف طریقوں سے بہلانے  پھسلا نے میں یا ڈرا نے دھمکا نے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن جب مسلمان سے پالا پڑتا ہے تو  ا ان کے  یہ آزمودہ کا حربے ناکام ہوجاتے ہیں۔ سنگھ پریوار مسلمانوں سے اس لیے ناراض ہے کہ انہیں من حیث القوم  جھانسا دینا مشکل ہی نہیں ناممکن  ہے۔ ملت  کو نہ تو خریدا جاسکتا اور نہ ڈرایاا وردھمکایا جاسکتا  ہے۔ آپ مظفر نگر میں  ہولناک فسادات کرودیں۔ میوات میں  ہجومی تشدد کے واقعات  کی دہشت پھیلائیں اس کے باوجود الور اور کیرانہ میں موقع ملتے ہی  یہ امت سبق سکھانے سے باز نہیں آتی۔ اس حقیقت کا ادراک گوا اور جموں کشمیر کی سیاسی صورتحال کے موازنہ سےواضح ہو جاتی  ہے۔کشمیر کے  گورنر کی نیند حرام ہے مگر گوا کے گورنرگھوڑے بیچ کر  سورہے ہیں کیونکہ اقتدار کی باگ ڈور بی جے پی کے  محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ مرکزی سرکار اور گورنر صاحبان کے رشتے ناطے پر جون ایلیا کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

بن تمہارے کبھی نہیں آئی   

کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close