خصوصیہندوستان

گؤ رکشا: حمایتی ہی اصل دہشت گرد ہیں

ماب لنچنگ کا یہ عفریت بھی دہشت گردی ہی کی طرح ملک کی داخلی سلامتی اور لاء اینڈ آرڈر کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

ڈاکٹرعابد الرحمن

معزز سپریم کورٹ نے ماب لنچنگ کے معاملات پر سخت رویہ اپناتے ہوئے انہیں روکنے کے لئے سنجیدہ کارروائی اور ٹھوس اقدامات کی اور اس کے لئے الگ قانون بنانے کی ہدایت کی ہے اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ ان معاملات میں ملوث لوگوں پر نفرت پھیلانے کی تعزیرات بھی لگائی جائیں نیز ان پولس افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جو اس طرح کے واقعات روکنے کے لئے ناکافی کار کردگی دکھاتے ہیں یا پھر مجرمین پر کارروائی نہیں کرتے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ میں صرف قانون سازی اور ہدایات ہی کافی نہیں ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ لنچنگ کو اور خاص طور سے گؤ رکشکوں کے ذریعہ کی جانے والی لنچنگ کو دہشت گردی قرار دے کرخاتمہ تک اس کے پیچھے نہیں لگا جاتا، گؤ رکشکوں کی اس دہشت گردی کا پورے ملک میں ایک ہی پس منظرایک ہی منظر ایک ہی پیٹرن ایک ہی جذبہ اور ایک ہی مقصد ہے اور اسکا ٹارگیٹ بھی ایک ہی کمیونٹی ہے اور دہشت گردی ہی کی طرح اس کے لئے اصل مجرمین سے زیادہ وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو ان کی کھلی یا چھپی حمایت کرکے ان کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں، انہیں ہمت دیتے ہیں، انہیں قانون کے تئیں نڈر بناتے ہیں، قانونی شکنجہ میں پھنس جانے پر انہیں قانونی مدد مہیا کرواتے اور ان کی تبریک کرتے ہیں گلپوشی کرتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو بھی اکساتے ہیں، ان لوگوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جانا چاہئے جوڈاکٹر ذاکر نائیک اور ان کے ٹرسٹ کے ساتھ کیا گیا۔

ماب لنچنگ کا یہ عفریت بھی دہشت گردی ہی کی طرح ملک کی داخلی سلامتی اور لاء اینڈ آرڈر کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ گؤ دہشت گردی کے خلاف اب تک کی گئی ڈھیلی ڈھالی اور ہلکی پھلی کارروائیوں، اور گؤ دہشت گردوں کو وزراء اور بر سر اقتدار پارٹی کے اہم لوگوں کی حمایت کی وجہ سے ان لوگوں میں قانون کا احترام اور ڈر دونوں ختم ہو چکے ہیں، وہ خود اپنے آپ کو قانون اور اور اپنی دہشت گردی کو انصاف سمجھنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ ملک میں قانون و انصاف کا سب سے بڑا اور قابل صد احترام ادارہ ہے لیکن ان دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں نے اسے بھی انتہائی مجبور کر رکھا ہے۔

معزز عدالت کی مجبوری دیکھئے کہ مذکورہ فیصلے کے محض تین دن بعد ہی راجستھان کے الور میں گؤ دہشت گردوں نے ایک مسلمان کی لنچنگ کردی اسے پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا اور اس کی حفاظت کی اولین ذمہ دار پولس نے اسپتال پہنچانے میں مجرمانہ دیری کرتے ہوئے اسے موت کے منھ میں دھکیل دیا۔ ان معاملات میں پولس کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مظلومین سے زیادہ مجرمین کی حامی نظر آتی ہے اور یہ بھی دراصل اس لئے ہے کہ بر سرا قتدار افراد یہی چاہتے ہیں اس معاملہ میں اس نے مظلوم شخص کو پولس اسٹیشن سے محض پچاس میٹر دور دواخانے میں لے جانے سے پہلے گایوں کو دس کلومیٹر دور گؤ شالہ میں پہنچا نا ضروری سمجھا۔ یہ بھی الزام لگا ہے کہ پولس نے گؤ دہشت گردوں سے پہلے ان کے مظلوم ہی سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے دوران اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ اسی طرح عزت مآب سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد بھی وزراء اوربر سر اقتدار پارٹی کے افرادنے وہی کچھ کیا جو گؤ دہشت گردی کے ہر معاملہ ہوتا آیا ہے یعنی مجرمین کو بچانے کی کوشش، مجرمین کے بجائے مظلومین کو اور ان کی پوری کمیونٹی کو ہی مجرم قرار دینے کی کوشش اور مختلف قسم کی بیان بازیوں کے ذریعہ سارے معاملہ کو کوئی الگ رنگ دینے کی مذموم کوشش۔

اس ضمن میں کسی نئے قانون کی حیثیت کیا ہو گی اسکا اندازہ پورے ملک کی قانون ویوستھا کے اولین ذمہ دار مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اس بیان لگائیے جو انہوں نے لوک سبھا میں دیاکہ ۱۹۸۴ کے سکھ مخالف فسادات ملک میں لنچنگ کی سب سے بڑی واردات تھی، گویا انہوں نے لنچنگ کے حالیہ واقعات کو معمولی قرار دینے کی کوشش کی ویسے بھی گؤ رکشکوں سے ان کی محبت اور ان کے شکار مسلمانوں کے تئیں تعصب تو اسی وقت عیاں ہو گیا تھا جب انہوں نے پچھلے مہینے لنچنگ کے متعلق ریاستوں کو جاری کی گئی اڈوائزری کو ’بچہ چوری کی افواہوں ‘ تک محدود اور مخصوص کر کے گؤ رکشکوں کے ذریعہ کی جانے والی لنچنگ کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی بجاآوری کے لئے حکومت نے وزراء کا جو گروپ بنایا ہے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جی اس کے سر براہ ہیں لیکن جو شخص خودلنچنگ کے معاملات کو الگ الگ چشموں سے دیکھتا ہو اور متعصب بھی ہو اس سے اس ضمن میں کسی مثبت اقدام کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے، ویسے بھی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس ضمن میں اسپیشل قانون بنانے کی مخالفت ہی کی تھی، اور ابتداء ہی سے وہ ریاستوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اپنا دامن جھٹکتی رہی ہے اور ریاستی حکومتیں اس معاملہ میں انتہائی سست رفتاری سے کام کرتی رہی ہیں، اس طرح کے زیادہ تر معاملات میں یہ ہوتا رہا ہے کہ اول تو پولس اس وقت پہنچتی ہے جب گؤ دہشت گرد اپنا کام پو را کرلیتے ہیں اور اگرپولس پہنچتی بھی ہے تو مجرمین سے پہلے مظلومین کے خلاف قانونی شکنجہ کستی ہے۔

یعنی سیاسی لوگوں، وزیر داخلہ اور مقامی ایم ایل الے کا آدھا کام پولس ہی کرلیتی ہے، لیکن راجستھان کے اس تازہ معاملہ میں ایسا نہیں ہو سکا پولس نے گؤ رکشکوں میں سے تین کو گرفتار کرلیا تو خود اس کے باس یعنی وزیر داخلہ ہی اس کے خلاف ہو گئے اس معاملہ میں وہ گؤ دہشت گردوں کے شکار اکبر کی موت کے لئے پوری طرح پولس کو ہی ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں کہ اگر پولس گایوں کو گؤ شالہ پہنچانے سے پہلے اکبر کو اسپتال پہنچاتی تو اس کی جان بچ سکتی تھی، بہت صحیح ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ وزیر موصوف اپنی ہی پولس پر الزام کیوں لگا رہے ہیں ؟ مطلب صاف ہے کہ ان کا مقصد گؤ دہشت گردوں کو بری الذمہ قرار دینا یا کم از کم اس کیس کو کمزور کرنا ہے اور الور کے مقامی ایم ایل اے نے اسکی وضاحت بھی کردی ہے کہ اس معاملہ میں اکبر کی موت کے لئے پولس ہی ذمہ دار ہے گؤ رکشک نہیں، یہ بھی کہا کہ انہوں نے گؤ رکشکوں کو کہہ رکھا ہے کہ کسی پر حملہ مت کرو، بلکہ اسے پولس کے حوالے کردو، سو تین چار تھپڑ مارنے کے بعد انہوں نے اسمگلروں کو پولس کے حوالے کردیا ( انڈین ایکسپریس آن لائن ۲۴، جولائی ۲۰۱۸ ) یعنی ان کا کہنا ہے کہ اکبر کو پولس نے مارا اسے گؤ رکشکوں نے اتنا مارا ہی نہیں تھا کہ اس کی موت ہوجائے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مزید آگے بڑھ کر اس معاملہ میں گرفتار کئے گئے تین افراد کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی اورگایوں کی اسمگلنگ کے الزام میں مہلوک اکبر کے ساتھی اسلم کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ( The wire 25/07/2018)۔

اسی طرح بی جے پی اور اس کے اتحادی اس ضمن میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں بول کر اس کیس کو کمزور کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کوئی مسلمانوں سے اپیل کررہا ہے کہ ’وہ ہندوؤں کے جذبات کو سمجھیں اور گائیں اسمگل کرنا بند کردیں۔ ‘ کوئی اسے وزیر اعظم مودی جی کی شہرت کے خلاف سازش قرار دے کر دوسرا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی دھمکی دے رہا ہے کہ ’ گؤ رکشا کی جنگ اور لنچنگ کے واقعات اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک گائے کو’ راشٹر ماتا‘کا درجہ نہیں مل جاتا۔ تو کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ماب لنچنگ اسی وقت رکے گی جب لوگ بیف کھانا بند کردیں گے۔

 یہ سب بی جے پی ہی کے لوگ ہیں اورکسی ایک مقام کے یا جائے واقعہ الور یا راجستھا کے مقامی لیڈران ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف مقامات کے لیڈران ان میں شامل ہیں یعنی پوری بی جے پی ہی گؤ دہشت گردوں کی حمایت میں پیش پیش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس میں بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ ہائی کمانڈ اور وزیر اعظم مودی جی کی مرضی اور آشیرواد بھی شامل ہے کیونکہ ان میں سے کسی چھوٹے سے چھوٹے لیڈر کے خلاف بھی کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی کوئی خبر نہیں ہے۔ دراصل یہ سب لوگ ہی گؤ رکشکوں کی دہشت گردی اور گائے کے نام پر ہونے والی ماب لنچنگ کے لئے اصل ذمہ دار ہیں، محترم سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close