خصوصیہندوستان

گھناؤنا عمل، بھیانک انجام

جو قومیں فطرت سے بغاوت کرکے اس گھناؤنے عمل کی گرویدہ ہوئیں ان کو اس کے سنگین نتائج جھیلنے پڑے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

      اللہ کے پیغمبر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے جنسی انحراف اور اس کے بھیانک انجام کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی فطرت مسخ ہوگئی تھی، چنانچہ وہ ہم جنسیت پر عمل پیرا تھے، مرد مردوں کے ذریعے جنسی خواہش پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط نے انھیں بہت سمجھانے کی کوشش کی، لیکن یہ باز نہیں آئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیے جانے کا فیصلہ کردیا گیا۔ اس نے عذاب کے فرشتوں کو بھیجا، جو حضرت لوط کے گھر نوجوانوں کی شکل میں پہنچے۔ انھیں دیکھ کر بستی کے لوگوں کی شیطنت جاگ اٹھی اور ان سے جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے مچلنے لگے۔  قرآن کہتا ہے کہ وہ بے اختیار حضرت لوط کے گھر کی طرف دوڑ پڑے (ھود:78) ان کے چہروں پر خوشی و مسرت کی اٹھکھیلیاں ہو رہی تھیں (الحجر: 67) اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے (الحجر:72) وہ حضرت لوط سے مطالبہ کرنے لگے کہ ان نوجوانوں کو ہمارے حوالے کردو۔  بالآخر یہ لوگ بدترین عذاب سے دوچار ہوئے۔ پوری بستی کو تلپٹ کردیا گیا، ان پر پتھروں کی بارش کی گئی اور انہیں تا قیامت تمام انسانوں کے لیے نمونۂ عبرت بنا دیا گیا۔ ( ھود : 82۔83، الحجر :74۔77، العنکبوت : 34۔35 ) مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ جس مقام پر قوم لوط کی بستی کو تباہ و برباد کیا گیا تھا یہ وہی مقام ہے جہاں آج بحرِ مردار (Dead Sea ) واقع ہے۔ بلکہ پوری بستی پر اس طرح زلزلے آئے تھے اور پتھروں کی ایسی بارش ہوئی تھی کہ وہ زمین میں دھنس گئی تھی اور اس کے اوپر پانی پھیل گیا تھا۔ سیاح بتاتے ہیں کہ اس جگہ آج بھی نحوست برستی ہے اور اور وہ جائے عبرت ہے۔

   آج ہندوستانی سپریم کورٹ کے باہر ہم جنسیت کے حامیوں کی بھیڑ، ان کا جوش اور ان کی خوشی و مسرّت کے مناظر دیکھ کر ذہن کے پردے پر وہی مناظر گردش کرنے لگے جو حضرت لوط کے سامنے ان کی قوم کی طرف سے سامنے آئے تھے۔ یہ لوگ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ سننے کے لیے جمع ہوئے تھے جو وہ ہم جنسیت کے حق میں سنانے والی تھی۔ بالآخر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان کی توقع پوری کردی۔ اس کی 5 رکنی بنچ نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377 کو ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا، جس میں ہم جنسیت کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا : ” جنسی رجحان ایک طبعی مظہر ہے ۔ اس کی بنا پر کوئی تفریق دستوری حقوق کے خلاف ہے۔ ” ایک اور جج اندو ملہوترا نے اپنا عندیہ ان الفاظ میں ظاہر کیا : ” تاریخ معذرت پیش کرتی ہے کہ ہم جنسیت کے حامیوں کو ان کے حقوق ملنے میں تاخیر ہوئی۔ "

 یقیناً فرد کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ اس کا شمار بنیادی انسانی حقوق میں کیا گیا ہے، جس کی ملک کے دستور میں ضمانت دی گئی ہے، لیکن ایک شخص کی آزادی کی حد وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے کسی دوسرے شخص کی آزادی کی حد شروع ہوتی ہے۔ جنسی عمل کسی شخص کا انفرادی اور ذاتی عمل نہیں ہے، بلکہ سماجی عمل ہے ۔ اس کی درست انجام دہی پر سماج کی پاکیزگی منحصر ہے اور اس کے صحیح طریقے سے وقوع پذیر ہونے پر خاندان کی بقا کا انحصار ہے۔

 جنسی جذبہ ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے ۔ جہاں اس جذبہ کو کچلنا اور دبانا فطرت کے خلاف ہے اور تاریخ نے اس کے کڑوے کسیلے پھلوں کا مزہ چکھا ہے، وہیں اس جذبے کو بے مہار چھوڑ دینا یا تسکینِ جنس منحرف رویّے اختیار کرنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے اور تاریخ نے اپنے صفحات میں محفوظ رکھا ہے کہ جو قومیں فطرت سے بغاوت کرکے اس گھناؤنے عمل کی گرویدہ ہوئیں ان کو اس کے سنگین نتائج جھیلنے پڑے۔

  ہم جنسیت کو دنیا کے متعدد ممالک میں قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے۔ یہ عالمی سازش ہے۔ یہ ڈرگ مافیا اور سیکس مافیا کا بچھایا ہوا جال ہے، جس میں اربوں روپے کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں عالمی دباؤ کو صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ چند برس قبل خود اس نے اسے قابلِ تعزیر جرم قرار دیا تھا اور انڈین پینل کوڈ کی مذکورہ دفعہ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

 اسلام ہم جنسیت کو حرام قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے نزدیک اس سے خاندان کا نظام تباہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی مشیّت یہ ہے کہ نسلِ انسانی پھیلے۔ ہم جنسیت اس میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے انسانی صحت پر بھی بہت بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ موجودہ دور کے بھیانک مرض ایڈز کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب یہی گھناؤنا عمل ہے۔  اس لیے اسلام کے علم برداروں کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی خطرناکی کو واضح کریں۔

     تمام مذاہب ہم جنسیت کو رد کرتے ہیں، اس لیے مذاہب کے نمائندوں کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس کے خلاف متحدہ موقف اختیار کریں ۔ ہر سطح اور ہر محاذ پر اپنی آواز بلند کریں اور اس کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کریں۔

 ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے۔ یہاں کی اکثریت کسی نہ کسی مذہب کو مانتی ہے اور کوئی مذہب ہم جنسیت کو گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے مٹھی بھر آزاد خیال اور اباحیت پسند افراد کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سماج کی پاکیزگی کو گدلا کریں اور اس میں تعفّن پھیلائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close