خصوصیملی مسائل

ہادیہ شیفین: دل جو بربادِ محبت ہوا، آباد ہوا

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے ’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے  ‘‘۔ اللہ کی ربوبیت  کا  اعلان کرنے والوں پر فرشتوں نزول  توقع کے عین  مطابق  ہے ۔  کفر و شرک کے ماحول میں کلمہ شہادت کا اقرار  کرنے والی سعید روحوں  کا اعزاز و تکریم ہر کسی پر واجب ہے۔ اس موقع پر فرشتوں کا جنت کی بشارت دینا بھی قرین  قیاس  ہے اس لیے کہ رب کائنات کی خوشنودی کا بہترین انعام جنت ہے  لیکن اس خوشخبری سے قبل یہ ڈھارس بندھانا کہ ’نہ ڈرو اور نہ غم کرو‘کیا معنی؟    اس یقین دہانی کے اندر یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ   لاکھ رواداری اور روشن خیالی کے کھوکھلے دعووں کے باوجود عصر حاضر میں بھی ایمان لانا شہد کی مکھی کے چھتے کو چھیڑنے جیسی خطرناک جرأت  ہے۔ اس سے باطل کے ایوان میں زلزلہ برپا ہوجاتا ہے۔وہ ایمان لانے والوں کے پائے استقلال کو متزلزل کرنے پر اپنی ساری توانائی جھونک دیتا ہے۔ ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے اور اندیشوں و مایوسی کا  شکار کرنے  کی کوشش کرتا ہے۔  اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

 لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنے والوں کی مشکلات  کو بیان کرنے کے لیے عام طور پر قرونِ اولیٰ کے ایمان افروز واقعات کی مدد لی جاتی ہے لیکن ایمان لانے والوں کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے۔ تو کیا ان نو مسلمین کوآزمائش کی بھٹی میں تپایا نہیں جاتا؟ وہ لوگ کس طرح کے مصائب سے دوچار ہوتے ہیں اس کا اندازہ کیرالہ کی طالبہ ہادیہ کے حالات زندگی  سے کیا جاسکتا ہے۔ کوٹایم ضلع کی اکھیلا اشوکن  جب تک اپنے آبائی دین کے مطابق زندگی گزار رہی تھی اس کی زندگی پرسکون تھی  لیکن جب اس نے مشرف  بہ اسلام ہوکر  شیفین  جہاں سے نکاح کیا تو ایک طوفان بپا ہوگیا۔ ہادیہ کے خاوند اپنے والدین کے ساتھ مسقط میں رہتے اور ملازمت کرتے ہیں ۔  اس سے پہلے کہ شفین ہادیہ کو اپنے ساتھ مسقط لے کر جاتا ہادیہ کے والد اشوکن نے  اس مقدس رشتے کو لو جہاد کا نام دے کر ہائی کورٹ کا  دروازہ کھٹکھٹایا۔ اشوکن نے الزام لگایا کہ  اکھیلا کا مذہب جبراً  تبدیل کرایا گیا ہےاور اندیشہ جتایا کہ اسےدہشت گرد تنظیم داعش  میں شامل ہونے کے لئے شام بھیج دیا جائے‌گا۔ اپنی بیٹی کے تئیں ا شوکن کی اس ناعاقبت اندیشی پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے  ؎

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

اس معاملے میں اشوکن نے جو انسانیت سوز رویہ اختیار کیا اس کی اصلاح کرنے کے بجائے  کیرل کی عدالت عالیہ   اس کے حق میں فیصلہ  دے دیا۔   ہائی کورٹ نے شادی کو غیرقانونی قرار دے کر ہادیہ کو اس کی مرضی کے خلاف  والدین  کے حوالے کر دیا نیز دباو بڑھانے کے لیے  این آئی اے کو تفتیش سونپ دی۔ یہ سب اتر پردیش کے یوگی راج میں نہیں بلکہ ایک ایسے صوبے میں ہوا ہے جہاں آج تک بی جے پی کا کوئی رکن اسمبلی تک کامیاب نہیں ہوسکا۔  اس سے پتہ چلتا ہے کے حق و باطل کے سیدھے تصادم   میں مخالفین  کے تمام  ظاہری  اختلافات ہو ا ہو جاتے ہیں۔

عدالت عالیہ کی دھاندلی کو ہادیہ کے شوہر شافین نے سپریم کورٹ میں  چیلنج کرتے ہوئے آزادی نسواں کی پامالی قرار دیا۔عدالتِ عظمیٰ نے اشوکن کو حکم دیا   کہ وہ ہادیہ کو کورٹ میں حاضر کرے۔ بڑی ردوّکد کے بعد ہادیہ سے نکاح کے متعلق اس کی مرضی دریافت کی گئی۔ ہادیہ نے بھری عدالت میں شافین کے ساتھ برضا و رغبت شادی کرنے کی تصدیق کی  اور والدین کے بجائے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے خواہش کا اظہار کیا۔ انکارِ جبر وکراہ  کے ساتھ  ہی اس معاملہ کو ختم ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ ایسے  میں  عدالت لڑکی سے صرف یہ پوچھتی ہے کہ اس کی شادی کیسے ہوئی؟ اور وہ کہاں جانا چاہتی ہے؟ لیکن اس موقع پر بھی  عدالت نے دوٹوک فیصلہ سے گریز کرتے ہوئے ہادیہ کو  اشوکن کے پنجے سے آزاد کرکے طبی  تعلیم کو جاری  رکھنے کے لئے تمل ناڈو کے سیلم  شہر میں بھیج دیا۔  کورٹ نے پولس کوہادیہ کے   تحفظ کا ذمہ دار بنا کر  فوراً سیلم پہنچانے کی ہدایت تو کردی لیکن اپنے شوہر کے پاس جانے اجازت نہیں دی۔

مقدمہ کی کارروائی جاری رہی گزشتہ   جنوری میں سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران  واضح کیا کہ ہادیہ بالغ ہےاور کسی  عدالت  یا تفتیشی ایجنسی کو شادی پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے۔ این آئی اے مبینہ لو جہاد کے بارے میں جانچ‌ کر سکتا ہے لیکن وہ شادی کی تفتیش نہیں کر سکتا۔ عالمی یوم خواتین کے دن عدالتِ عظمیٰ نے  اس معاملے کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے  ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے کہا  کہ ہائی کورٹ کو یہ نکاح  فسخ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ شادی جائز ہے، ہادیہ اور شافین میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں ۔  ہادیہ کو  اپنےخواب شرمندۂ تعبیر  کرنے کی مکمل  آزادی ہے۔سپریم کورٹ نے  تسلیم کیا کہ ہادیہ بالغ ہے اور اس نے عدالت میں آکر اپنی مرضی سے شادی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ شادی صحیح ہے یا نہیں یہ بتانے کا اختیار لڑکی یا لڑکا کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔

عدالت  عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا  کہ شادیوں کو مجرمانہ سازش، مجرمانہ پہلو اور مجرمانہ کارروائیوں کے دائرے سے الگ رکھا جانا چاہیے ورنہ ہم ایک غلط نظیر قائم کریں گے۔سپریم کورٹ نے این آئی اے کو اپنی تفتیش جاری رکھنے کی اجازت تو دی  مگر اس کو  دو بالغوں کی شادی میں مداخلت سے منع کر دیا۔  عدالت عظمیٰ نے کہا اگر حکومت کو  لگتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی غلط ارادے سے بیرون ملک جا رہا ہے، تو وہ  اس کو روکنےکی  اہل ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے پس پشت کارفرما عوامل قابل توجہ ہیں ۔اس معرکہ ایک طرف ہادیہ اور اس کا شوہر شیفین تھا تو دوسری جانب ہادیہ کا باپ، ہندو شدت پسند تنظیمیں ،  انتظامیہ، عدالت اور حکومت تھی۔

اس دور آزمائش میں جب ہادیہ کو اس کے والد اشوکن کی تحویل میں دے دیا گیا تھاوہ شدید مصائب و آلام سے گزری۔ والدین، تفتیشی ایجنسی اور مقامی ہندو دہشت گردوں نے مارپیٹ اور دھونس دھمکی  جیسے سارے حربے آزما ئے۔ یہاں تک کہ ہادیہ نے ایک ویڈیو  میں کہنا پڑا کہ اس کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس کے باوجودوہ اپنے ایمان اور فیصلے پر  مستقل مزاجی سے گامزن رہی۔ شافین ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اس کے ساتھ رہا۔ دونوں کسی مرحلے میں مایوسی کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے دل میں مداہنت کا خیال تک نہیں آیا۔ اپنے رب کے بھروسے انہوں نے اپنی کوشش جاری  وساری  رکھی اور بالآخر اللہ رب العزت نے انہیں اس  کامیابی و کامرانی سے   ہمکنار کیا جس کا ذکر اول الذکر آیت کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔ فرمایا’’ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو ‘‘۔ یہ بشارت ان لوگوں کے حق میں پوری ہوتی ہے جو اعلان کلمۃ الحق کے بعد اس  راہ  پر بلا خوف و خطر  ڈٹے رہتے ہیں ۔ اللہ سے محبت کرنے والے اور  رضا ئے الٰہی کی خاطر اپنا سب کچھ داوں پر لگا دینے والوں پر یہ شعر صادق آتا ہے ؎

دل  جو  بربادِ محبت  ہوا، آبادہوا

سازِ تعمیر تھا اس قصر کو ویراں ہونا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. بہت خوب سلیم خان صاحب یہ آپ کے شاہکار آرٹیکل میں سے ایک ہے

Close