خصوصیصحت

ہندوستان میں ’سب کے لیے صحت‘ صرف ایک خواب ہے!

  ڈاکٹر خالد اختر علیگ

عالمی یوم صحت، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت(W.H.O) کے تعاون سے ۱۹۵۰ء سے ہر سال دنیا بھر میں ۷؍ اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت و امراض سے بچاؤ کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔ ۱۹۴۸ء میںاسی دن عالمی ادارہ صحت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہر سال صحت کے کسی خاص نعرہ اور موضوع کے تحت تمام دنیا کے ممالک اِس دن کو مناتے ہیں۔ امسال اس کا نعرہ’’ سب کے لئے صحت‘‘ اور موضوع  Health Coverage:everyone,everywhere  Universal یعنی’’صحت کی ہمہ گیر دستیابی: ہر ایک کے لئے، ہرجگہ‘‘کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس موضوع کا مقصد عوام میں اس بات کا شعور بیدار کرنا ہے کہ ان کو صحت کی فراہمی کسی بھی حال میں دستیاب ہو، نیز حکومتوں کو اپنے صحتی نظام میں جامع تبدیلی کے لئے تیار کرنا ہے تاکہ عوام اپنی غربت کے سبب علاج سے محروم نہ رہ جائے۔

لیکن جب ہم اپنے ملک کے اندر صحتی نظام کو دیکھتے ہیں تو صرف مایوسی ہی نظر آتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی کئی رپورٹوں، اور ملک میں ہوئے تمام سروے بتاتے ہیں کہ ہمارا عوامی طبی نظام سدھرنے کے بجائے مزید بدحال ہوتا جارہا ہے۔ غالباً اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ امیر اور بااثر طبقوں کے لوگ چونکہ اب سرکاری اسپتالوں میں نہیں جاتے ہیں اس لئے ان کے رکھ رکھاؤ پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے، انہیں بس غریب مریضوں کے علاج کی خانہ پری کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ طبی سہولیات کی توسیع کے نام پر دیہی علاقوں میں بنیادی صحتی مراکزپر توجہ نہیں دی جاتی ہے،وہاں تعینات ڈاکٹر ڈیوٹی دینے سے کتراتے ہیں۔

ملک کے اندر ڈاکٹروں کی کمی بھی نہیں ہے،ڈاکٹر اور آبادی کے درمیان تناسب بیشتر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر ہے لیکن اسے کیا کہئے کہ تمام طبی سہولیات شہروں تک ہی مرکوز ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دو تہائی آبادی دیہاتوں میں قیام پذیرہے لیکن انہیں علاج کے لئے سہولیات اور ڈاکٹر نہیں ملتے۔ ڈاکٹروں کی تین چوتھائی تعداد صرف شہروں میں ہے، نرس یا دوسرے صحت کے اہلکاروں کی خدمات تو دیہی علاقوں میںبہت کم یا بالکل ہی نہیں مل پاتی،جس کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے، زچگی کے دوران عورتوں کی موت کا گراف تو بہت سے غریب افریقی ممالک سے بھی زیادہ ہے، ہر ماہ تقریبا اسّی ہزار خواتین کی موت زچگی کے دوران ہو جاتی ہے اور دس لاکھ بچے ہر سال ایک ماہ پورا کرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ ہمارا طبی نظام عرصے سے جن خامیوں اور بے ضابطگیوں کا شکار ہے، انہیں کب اور کس طرح دور کیا جائے گا، یہ ابھی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

صحت سے متعلق چیلنجز اب اتنے سیدھے سادے نہیں رہے جیسا کہ دو ڈھائی عشرے قبل تھے۔ ہائی بلڈ پریشر،اسٹروک(فالج)، ذیابیطس، کینسرکے ساتھ ساتھ ملیریا، جاپانی بخار (انسیفلائٹس)، ڈینگو جیسی بیماریاںکثرت سے پھیل رہی ہیں۔ عدم تغذیہ کے معاملہ میںہم دنیا کے سب سے کمزور ممالک میں گنے جارہے ہیں جبکہ ذیابیطس کی شرح امریکہ سے زیادہ ہے اور ہم ۲۰۳۵ء تک ذیابیطس کی راجدھانی کا

 درجہ بھی حاصل کر لیں گے۔ جہاں ایک طر ف انتہائی پچکے ہوئے شکم کے ساتھ ایک تہائی بچے بری طرح عدم تغذیہ کا شکار ہیں، وہیں ہمارے شہروں میں موٹاپا ایک بڑی بیماری کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امیر اور انتہائی غریب، دیہی اور شہری افراد صحت کے بالکل مختلف چیلنجوں سے دوچارہو رہے ہیں اور ہماری پالیسیاں ان بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

دیہی علاقوں میں ہماری صحت کی خدمات سب سے بدتر حالت میں ہیںجہاںصحت کی مکمل خدمات موجود نہیںہیں۔ شہری اور دیہی عوام سرکاری صحت خدمات سے غیرمطمئن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچاسی فیصد سے بھی زیادہ مریض نجی مطب اور اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبو ر ہیںجو کہ ان کی جیب پر کافی گراں ہوتا ہے لیکن صحت کے حصول کے لئے وہ قرض بھی لیتے ہیں اور آج دیہی ہندوستان کے لوگ کافی مقروض ہیں۔ ذاتی صحت کی خدمات کی طرف رجحان نے ہمیں دنیا کی اکیلی ایسی معیشت بنا دیا ہے، جہاں صحت پر حکومت کے مقابلے میں نجی شعبہ زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں ہمارے سرکاری اور نجی اخراجات کا تناسب۱:۴ ہے۔

ملک میں صحت خدمات کی حالت زار کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اسے کبھی بھی سیاسی مسئلہ نہیں بنا یا جاسکا اورنہ کبھی سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور کا ترجیحی نکتہ بن سکا۔ ۲۰۰۱ ء میں بنائی گئی صحت پالیسی سب سے کمزور رہی ہے کیونکہ اس پالیسی کو بنانے والوں نے ۱۹۷۸ء کے ’الماٹا  اعلانیہ ‘ کوپش پشت ڈال دیا تھا جس کے تحت سابقہ صدی کے خاتمہ تک ’سب کے لئے صحت‘ کا حلف لیا گیا تھا۔ حکومتوں کے صحت  سے روگردانی کرنے کے نتیجہ میں عوامی صحت کی دیکھ بھال کا نظام بری طرح لڑکھڑا گیا،ایک ایسا حساس مسئلہ جس پر حکومتوں کو فعال ہونا چاہئے نظر انداز کردیا گیا۔ صحت اور علاج و معالجہ کی سہولیات ہر شخص تک نہ پہنچ پانے کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں سرکاری پرائمری طبی مراکز کے علاوہ کم خرچ والے علاج کے وسائل دستیا ب نہیں ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی تعداد قابل رحم طور پر فی ہزار لوگوں پر۶ء۰ ہے جبکہ شہری علاقے میں۹ء۳ ہے۔ دیہی علاقوں کی سڑکیں بھی کافی مخدوش حالت میں ہیں،ایک بیمار آدمی جوصحت مراکز کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے ناہموار سڑکیں اس کی حالت کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔

 دور دراز کے علاقوں میں ڈاکٹر اور تربیت یافتہ طبی عملہ دستیاب نہیں ہوتا، لوگ بے چارگی کی حالت میںعطائی ڈاکٹروں کی پناہ میںچلے جاتے ہیں، پھر علاج کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے، وہ کسی حادثے سے کم نہیں ہوتا۔ ٹیلی میڈیسن سروس کا استعمال کرتے ہوئے ہم ملک کے دوردراز حصوں اور ہسپتالوں میں صحت کی دیکھ بھال میں کافی بہتر ی لا سکتے ہیں۔ گزشتہ دہائی سے ہندوستان ایک ایسا آئی ٹی انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے جو ٹیلی میڈیسن کی خدمات، انٹرنیٹ کیوسک اور موبائل فون نیٹ ورک کو اچھی طرح سے مربوط کر سکے گا۔ فوری طورپر ٹیلی میڈیسن نظام کو بنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ ماہر ڈاکٹروں کو ایسے علاقوں تک پہنچایا جا سکے جو ہماری پہنچ سے باہر ہیں۔

ہمارے پاس آیوش (آیوروید،یونانی،سدّھااور ہومیوپیتھی) کی شکل میں متبادل طبی نظام کے طور پر۳ء۷لاکھ رجسٹرڈ آیوش ڈاکٹر ہیں۔ جن میںآیورویدکے۹۹ء۳ لاکھ،ہومیوپیتھی کے۸ء۲لاکھ،یونانی کے۴۷۶۸۳سدّھا اور نیچروپیتھی کے بالترتیب۸۱۷۳،۱۷۶۴معا  لجین شامل ہیں۔ اتنی بڑی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تعداد ہونے کے باوجود ان کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے،ان معالجین کی سرکاری سطح پر حصہ داری کافی کم ہے،ملک میں صحت کے بجٹ کا صرف تین فیصد حصہ ہی آیورویداور دیگر دیسی طبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ آیور ویدک،یونانی بشمول دیگر دیسی طب میں ملک کے اہم طبی نظام بننے کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ آیوش معالجین شہروں اور قصبوں میں بنیادی سطح کاعلاج کافی کم پیسہ میں مہیا کررہے ہیں،لیکن دور دراز علاقوں میں ان کی تعداد بھی کافی کم ہے۔ سرکاری صحت مراکز جہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتے ان کی تعیناتی کرکے علاج کی سہولیات پیدا کی جاسکتی ہیں اور مریضوں کو عطائی ڈاکٹروں سے بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

کوئی بھی بحران ملکو ںکو اپنی معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانے کا سنہری موقع فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ اور ترقی کے نئے ماڈل نظر آتے ہیں جو موجودہ طریقوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ صحت کے شعبے میں ایک منفرداور جدید پہل کی جائے جو موجودہ حالات کا تجزیہ کرے اور آنے والے چیلینجوںکی پیش گوئی کرتے ہوئے سب کے لئے صحت کے ہمارے ادھورے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں معاون ہو۔

مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close