تاریخ ہندخصوصی

ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار

خورشید عالم داؤد قاسمی

انگریز سامراج نے جب شاہان مغلیہ کے آخری چشم وچراغ ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر(1775-1862)کو گرفتار کرکے "رنگون” کے قید خانہ میں بھیج دیا، لال قلعہ پر ہندوستانی پرچم کی جگہ "یونین جیک” لہرانے لگا، حکومت "ایسٹ انڈیا کمپنی” کے ہاتھوں سے نکل کر ،ملکہ وکٹوریہ کے ہاتھوں میں چلی گئی اور ملک کی باگ ڈور وقت کے فرعون انگریز کے قبضہ وقدرت میں آگئی؛ اس وقت ہندوستان کے باشندے، وطن عزیز کی آزادی کے لیے کفن بر دوش ہوکر، میدان جہاد میں کود پڑے اور جان و مال، دولت و ثروت کی قربانی پیش کرنے میں کوئی دریغ نہیں کیا۔

  وہ محبین وطن جنھوں نے وطن دوستی کا ثبوت دیا، ملک کی آزادی کے لیے اپنی جد و جہد شروع کی اور انگریزوں کو ہندوستان سے حرف غلط کی طرح مٹانے کی کوشش کی، ہمیشہ برطانوی سامراج کے نشانے پر رہے۔ ان مجاہدین آزادئ ہند کے سرخیلوں میں مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ (1832-1879) بانی دارالعلوم، دیوبند کا نام جلی حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ مرحوم نے انگریز  حکمرانوں کی سازش کو اپنی مومنانہ فراست سے بہت پہلے سمجھ لیا کہ یہ انگریز "ہندوستانیوں کو غلام بنانے کے ساتھ ساتھ دین متین اور شریعت محمدیہ پر بھی وار کرے گا”؛ لہذا آپ نے ان انگریزوں سے مقابلہ آرائی شروع کردی اور جہاں ملک کی آزادی کے لیے میدان جنگ سجایا اور انگریزوں سے مقابلہ کیا؛ وہیں اسلام کی خاطر پادریوں سے مناظرہ بھی کیا؛ لیکن اس وقت ہندوستان کے مقدر میں ، آزادی میسر نہ  ہونے کی وجہ سے، ناکامی و نامرادی کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ناکامی کو کامیابی میں اور شکشت کو فتح میں بدلنے کے لیے ایک عربی مدرسہ دیوبند کی "چھتّہ مسجد” میں چند رفیقوں کی معیت میں قائم کیا (جو ازہر ہند دارالعلوم، دیوبند کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے)؛ تاکہ اس کے سایہ تلے ایسے جاں باز مجاہدین کی ٹیم تیار کی جائے جو ملک کی آزادی اور شریعت محمدیہ کی  بقا و تحفظ کے لیے بے دریغ اپنے خون بہاسکے۔

 رئیس التحریر مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ  نے دارالعلوم کے اولین طالب علم، امام حریت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ (1851-1920)  کا قول "احاطۂ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن” میں نقل کیا ہے کہ ایک دن آپ نے فرمایا: "حضرت الاستاذ(حضرت نانوتوی) نے اس مدرسہ کو کیا درس و تدریس، تعلیم و تعلم کے لیے قائم کیا تھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہواہے، جہاں تک میں جانتا ہوں کہ 1857 میں ناکامی سے نجات اور اس کی تلافی کے لیے 1866میں ، استاذ محترم نے دارالعلوم دیوبند کا قیام کیا۔” آخر میں ارشاد فرمایا: "اپنے لیے تو اسی راہ کا انتخاب میں نے کیا ہے، جس کے لیے دارالعلوم، دیوبند کا یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ (مولانا محمد قاسم نانوتوی) نے قائم کیا تھا۔”

 حضرت شیخ الہند نے آزادی ہند کی خاطر متعدد تحریکیں چلائیں اور کئی تحریکوں کی سرپرستی قبول فرماکر ان کے کارکنان کی رہنمائی فرماتے رہے، مثلا:ثمرۃ التربیت ،  جمعیۃ الانصار ، نظارۃ المعارف، جنود ربانیہ، تحریک ریشمی رومال، تحریک ترک موالات وغیرہ۔ آپ کی مشہور تحریک "تحریک ریشمی رومال”تھی۔ پنجاب "سی آئی ڈی” کے ذریعے اس تحریک کا راز فاش ہونے  کی پاداش میں ، "مکہ مکرمہ” سے سنگینیوں کے سایہ میں لاکر، مالٹا کے روگیٹ کیمپ کے خیمے میں قید کیے گئے۔  تین سال تک برطانوی سامراج کے ظلم و جور برداشت کرکے، مالٹا سے ہندوستان لوٹے؛ تو آپ کے استقبال کرنے والوں میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور مہاتما گاندھی جیسے قائدین موجود تھے اور لوگوں نے آپ کو "شیخ الہند” کا معزز لقب دیا۔ آپ نے دارالعلوم میں طلبہ کو فنون سپہ گری سکھلانے کا بندو بست بھی کیا، ان کے سامنے جہاد کی فضیلتیں بھی بیان اور وطن پر جان نثار کرنے کی ترغیب بھی دی۔ آپ کی اس عمدہ تربیت کے نتیجے میں ایسے ایسے مجاہدین نے دارالعلوم، دیوبند  کی کوکھ سے جنم لیا جنھوں نے حریت ہند کے لیے اپنی رگ جاں کے آخری قطرہ تک کو نچوڑ دیا؛ لیکن ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئی۔

  "تحریک ریشمی رومال”کیا ہے؟  شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے انگریزی حکومت  کے خلاف ایک مسلح انقلاب کا منصوبہ بنایاتھا۔ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسلحے کی ضرورت درپیش تھی؛ لہذا شیخ الہند اور ان کے رفقاء کار نے برطانیہ مخالف  کچھ ممالک کا دورہ کیا۔ ان ممالک میں افغانستان، ترکی اور روس سر فہرست تھے۔  مختلف ممالک کے دورے کے دوران، حضرت شیخ الہند اور ان کے رفقاء، خطوط کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے۔ ایک خط جس میں انگریزوں سے لڑنے کے لیے رضاکاروں کی بھرتی اور ایک قومی حکومت کے قیام کا منصوبہ وغیرہ تھا وہ "ریشمی رومال” پر لکھ کر بھیجا گیا تھا، جو پنجاب سی آئی ڈی کو ہاتھ لگ گیااور تحریک ناکام ہوگئی۔ یہی وجہ تھی کہ یہ پوری تحریک "تحریک ریشمی رومال” کے نام سے مشہور ہوئی؛ جب کہ برطانوی حکومت نے اپنی رپورٹ میں اس تحریک کو "سلک لیٹرز سازش کیس” قرار دیا تھا۔

اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ دارالعلوم، دیوبند کے سپوتوں نے 1926 میں کولکاتا میں منعقدہ،  جمعیت علماء ہند کی ایک میٹنگ میں ، یہ اعلان کیا تھا کہ ہم اس جماعت کی حمایت کریں گے جو انگریزی حکومت سے "مکمل آزادی” کے حق میں ہوگی۔ پھرجمعیت کی اس میٹنگ کے تین سال کے بعد، "انڈین نیشنل کانگریس” نے اپنے لاہور کے اجلاس میں ، انگریز حکومت سے ہندوستان کی مکمل آزادی کو اپنے منشور میں داخل کیاتھا۔

دارالعلوم دیوبند کے فارغین اور شاگردان شیخ الہند کی ایک طویل فہرست ہے جوہندوستان کو انگریز وں کے چنگل سے نکالنے کے لیے پیہم جدو جہد میں لگے رہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ (1872-1944) جو آپ کے  فیض یافتہ، دست راست تھے، جن کو برطانوی حکومت کی رپورٹ میں ، تحریک ریشمی رومال کا بانی بتایا گیا ہے، مسلسل آزادی کی جد وجہد میں لگے رہے، طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں ، جلاوطنی کی زندگی بسر کی، مگر ظالم و جابر انگریز کی غلامی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو پسند نہیں کیا۔

  شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ (1879-1957) امام حریت حضرت شیخ الہند کے تلمیذ بھی اور مالٹا کے رفیق بھی ہیں ، آزادی کے لیے اس وقت تک کوشش کی؛ جب تک کہ اپنے گلے سے غلامی کا طوق نکال نہ پھینگا۔ "آل انڈیا کانگریس” کے اجلاس (منعقدہ کراچی) میں برطانوی حکومت کی پولس اور فوج میں ملازمت کو حرام قرار دینے کی تجویز پیش کرکےانگریزی حکمرانوں کے خیمے میں آگ لگادی۔ پھر اس حق گوئی و بے باکی کے جرم میں ، دو سال قید با مشقت کی سزا بھگتنی پڑی۔ یہ تو ایک مثال ہے، ورنہ حضرت شیخ الاسلام اپنی جہادی پالیسی، سرگرم سیاست اور پرجوش خطابت  کے نتیجے میں پچاسوں دفعہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور کيے گئے۔

 اس طرح ہندوستان کی تعمیر اور آزادی میں دارالعلوم، دیوبند نے ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ سیکڑوں علماء دیوبند ، مثلا:مولانا محمد صادق کراچی، مولانا محمد میاں منصور انصاری، مولانا سید محمد میاں دیوبندی، مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوری، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مولانا احتشام حسین تھانوی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی وغیرہم نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ آزادی کی جد وجہد میں لگا دیا۔ مگر آج افسوس اس بات پر ہے جس دارالعلوم، دیوبند نے ہندوستان کی آزادی و تعمیر میں اپنے جیالوں کا خون پانی کی طرح بہایا، جس کے جیالے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رات ودن گزارے اور جس کے سپوتوں نے مادر وطن کو آزاد کراکر ہی دم لیا، آج اس کی قربانیوں کو فراموش کرکے اس کے فرزندوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے!

اس مضمون کا اختتام سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان (1890-1988)کے ایک بیان پر کرنا چاہوں گا۔خان صاحب نے 1969 میں  ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں وہ دارالعلوم، دیوبند کی زیارت کے لیے دیوبند تشریف لائے تھے۔ اس موقع سے انھوں نے کہا تھا: "میرا تعلق دارالعلوم، دیوبند سے اس وقت سے ہے، جب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی (رحمۃ اللہ علیہ) با حیات تھے۔ یہاں پر بیٹھ کر ہم لوگ تحریک آزادی کے سلسلے میں منصوبہ بندی کرتے تھے کہ کیسے ہم انگریزوں کو اس ملک سے بھگائیں اور  کس طرح ہندوستان کو برطانوی غلامی سے آزاد کرائیں ؟ اس ادارہ نے اس ملک کی آزادی کے لیے عظیم خدمات پیش کیا ہے۔”

مزید دکھائیں

خورشید عالم داؤد

ہیڈ: اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

متعلقہ

Close