خصوصیہندوستان

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

سارا کھیل خواتین کی فلاح وبہبود کے نام پر کھیلا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

نکاح ایک مقدس رشتہ ہے اور ازدواج میں سے جو کوئی بھی  اس  کا تقدس پامال کرے وہ اسلام کی نظر میں مجرم قرار پاتا ہے۔ انگریزوں نے بھی  ایک قانون بناکر ناجائز تعلقات کی سزا مقرر کردی تھی۔  مغرب جب مادر پدر آزاد ہوگیا تو اس کے  ذہنی غلاموں نے ہندوستان میں اس قانون کو  چیلنج کردیا۔ عدالت نے ان کے دلائل   کو تسلیم کرتے ہوئے ایک نامعقول شرط یہ لگائی کہ اگر کوئی مرد کسی دوسرےکی  بیوی سےناجائز تعلق رکھے تو وہ تعزیراتی جرم ہے۔ اس دوہرے معیار کی دلیل یہ تھی جو عورت کسی نکاح میں ہے وہ گویا اپنے شوہر کی ملکیت اس دوسرا مرد اس عورت کے  شوہر کےحق میں دراندازی کے سبب مجرم ہے۔ اس طرح ناجائز تعلق رکھنے والی  کوعورت  سزا سے مبراّ کردیا گیا حالانکہ گناہ میں دونوں برابر کے شریک تھے۔ اس فیصلے سے اباحیت پسند مردوں کا حوصلہ بلند ہوگیا انہوں جنسی مساوات کی بنیاد پر سزا سے استثناء کی درخواست کی۔ سابق چیف جسٹس مشرا   نے اس پابندی کو ختم کرنے سے قبل یہ کہہ کر خواتین کو بیوقوف بنایا کہ اب وہ کسی ملکیت نہیں۔ آج کل ہر کوئی خواتین پر احسان کرنے پر تلا ہوا۔ اس کے لیے کوئی تین طلاق پر سزا کا حکم سناتا ہے تو کوئی ناجائز تعلقات کی سزا ختم کرتا ہے۔ سارا کھیل خواتین کی فلاح وبہبود کے نام پر کھیلا جاتا ہے۔

اس ناعاقبت اندیش فیصلے کا پہلا شکار ایک عورت ہوئی۔ چینائی میں ۲۴؍سالہ بشپ لتا  نامی عورت کا پریم وواہ( محبت کی شادی) کچھ سال قبل  پال فرینکلن سے ہواتھا ۔ گھر والوں سے بغاوت کرکے شادی کرنے والے بشپ اور پال کے رشتوں میں دراڑ اس وقت بڑی جب بشپ لتا کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا۔ اس بیماری کا فائدہ اٹھا کر پال  فرینکلن کے ایک غیرعورت کیساتھ ناجائز تعلقات قائم کرلیے ۔ اس پر لتا چراغ پا ہوئی اور وہ  اپنے شوہر کی پولس میں شکایت کی دھمکی دینے لگی ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ  فیصلہ کے بعد پال نے لتا کو بتایا  کہ غیر ازدواجی تعلقات اب جرم نہیں ہے۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کی ملکیت نہیں ہیں اس لیے اگر تم پولیس سے مدد بھی مانگو گی تو وہ میراکچھ نہیں بگڑے گا۔ اس جواب سے مایوس لتا نے  خودکشی کرلی۔ اس میں شک نہیں  کہ دیپک مشراجی نے جنسی مساوات کو بحال کیا لیکن  وہی مساوات  اس طرح بھی قائم ہوسکتی تھی  کہ ناجائز تعلق رکھنے والے  مرد کے ساتھ ساتھ غیر مردوں سے تعلقات رکھنے والی عورتوں  کو سزا کا مستحق بنادیا جاتا۔ عدالت اگر یہ فیصلہ کرتی تو لتا کیلئے خودکشی کی نوبت  نہیں آتی۔

آج ہی کے اخبار میں ایوت محل ضلع کے ساور کھیڑا گاوں کی ایک خبر بھی شائع ہوئی جہاں ایک خونخوار شیرنی کو پکڑنے کے لیے ایک ہاتھی لایا گیا اور اس زنجیروں سے باندھ کر چھوڑ دیا گیا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں شیرنی تو ہاتھ نہیں آئی مگر ہاتھی اپنی زنجیریں توڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس باولے ہاتھی نے ۱۵ کلومیٹر دور چاہاد گاوں میں ارچنا پھول سونگھے نام کی خاتون کو کچل کر مارڈالا۔ وہ بیچاری رفع حاجت کے لیے جنگل میں گئی ہوئی تھی۔ اس شیرنی کو پکڑنے کے لیے اگر ہاتھی کے بجائے کسی شیر کو لایا جاتا تو ممکن وہ شیرنی کے ساتھ گھر سنسار بسا لیتا یا اگر سوچھّ بھارت کی نوٹنکی کرنے کے بجائے سرکار بیت الخلاء تعمیر کرواتی تو ارچنا ہاتھی  کے حملے کا شکار نہیں ہوتی لیکن محکمہ جنگلات نے وہی کیا جو سرکار کررہی ہے اور سرکار نے بھی وہی کیا جو عدالت عظمیٰ میں ہورہا ہے۔ اس کا نتیجہ  یہ ہے کہ جس کی بھلائی کا شور مچایا جاتا ہے وہی  معتوب  و مغذوب ہوتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close