تعلیم و تربیتخصوصی

ہے روک ٹوک ان کی، حق میں تمہارے نعمت

ٹیچرس ڈے کے متعلق کچھ خصوصی باتیں

سیدہ تبسم منظور

1954میں بھارت کے سب سے بڑی شہری ایوارڈ ’بھارت رتن‘ انعام یافتہ اور 13مئی 1962 تا 13مئی 1967 تک ہندوستان کے دوسرے صدر جمہوریہ ہند رہ چکے ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش 5ستمبرکو ملک بھر میں یوم اساتذہ کے طور پر منایاجاتا ہے۔ بنیادی طور پر ڈاکٹر رادھا کرشن استاد تھے اسی حیثیت سے ان کے یوم پیدائشی 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے طور پر منا کر انہیں عقیدت پیش کی جاتی ہے۔

وہ ہندوستانی سماجی ثقافت کے دلدادہ ایک ماہر تعلیم، عظیم فلسفی مقرر تھے۔ ڈاکٹر رادھاکرشنن نے اپنی زندگی کے 40 اہم سال ٹیچر کے طور پرگزارے تھے۔ ان میں ایک بہترین ٹیچر کے سارے گن موجود تھے۔ سن 1962 میں جب وہ صدر بنے تھے اس وقت کچھ شاگرد اوران کے کچھ چاہنے والے ان کے پاس گئے تھے۔ان سے بات چیت کے بعد انہوں نے اپنا پیدائشی دن یوم اساتذہ کے طورپر منانے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا یہ نتیجہ ہے کہ سارے ملک میں ڈاکٹر رادھاکرشنن کی پیدائش کے دن 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رادھاکرشنن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی الگ شہرت رکھتے تھے اور آج بھی ان کا نام عزت واحترام سے لیا جاتا ہے۔

  دنیا بھر میں مختلف تاریخوں کو ٹیچرز ڈے منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ”ٹیچرڈے“5 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ قومی اخبارات اساتذہ کرام کی اہمیت کے حوالے سے کئی خصوصی مضامین شائع کرتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر بھی خصوصی رپورٹس نشر ہوتی ہیں۔ بعض ممالک میں اس دن کی اہمیت کے پیش نظر تعطیل بھی کی جاتی ہے۔ ٹیچر ڈے کے موقع پر کئی اسکولوں کالجوں میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ دینے کی تقریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ کئی پروگرام منعقد کیئے جاتے ہیں۔ تدریس ایک معزز پیشہ ہے اور د ±نیا بھر میں استاد کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد خون پسینہ سے اپنے طلباءکی بغیر کسی لالچ و طمع کے تربیت کرتے ہیں۔ قوم و ملک کی خوشحالی اور معاشرے کی ترقی میں استاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک بھر میں 5 ستمبر کو تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ طلباءمضمون نویسی، تحفے تحائف، پھول، چاکلیٹ اور مختلف انداز سے اپنے اپنے اساتذہ کو عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس دن کے منانے کا مقصد اساتذہ کو تعلیمی شعبوں میں متحرک کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ اساتذہ مستقبل کے معماروں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کا عمل جاری رکھیں۔

 اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کے مقام و مرتبہ کواجاگر کیا جائے اور ان کو وہ عزت و احترام دیا جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ استاد وہ مینارنور ہیں جو بچوں کی راہوں کو منور کر دیتے ہیں۔ایک اچھا استاد وہ ہے جو بچے کو نہ صرف ایک اچھا طالب علم بنائے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنائے۔والدین تو بچوں کو دنیا میں لاتے ہیں۔۔۔۔ جنم دیتے ہیں۔ اور استاد بچوں کو ایک اچھا اور قابل انسان بناتے ہیں۔ رہبر ہوتے ہیں۔یہاں تک کے آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔دھوپ میں جینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ استاد ہی بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بچوں کو نکھارنے میں سنوارنے میں والدین کے بعد استاد کا ہی اہم کردار ہوتا ہے۔

ویسے تو اسکول سے لے کر کالج تک بہت سے اساتذہ قابل ذکر ہوتے ہیں۔ لیکن ہر طالب علم کے اپنے اپنے پسندیدہ ٹیچر ہوتے ہیں جن کی باتیں جن کی رہنمائی تا عمر ساتھ ہوتی ہے۔ ویسے تو ہر مضمون پر کامل عبور تو بہت سے اساتذہ کو ہوتا ہے لیکن کئی اساتذہ کا سمجھانے کا انداز طریقہ ایسا ہوتا ہے کہ مشکل سے مشکل باتوں کو بھی آسانی سے واضح کردیتے ہیں۔ کئی سال گزرنے کے بعد بھی اگر گھر میں کبھی اپنے بچے کو کچھ سمجھانے لگتے ہیں تو ان اساتذہ کی مثالیں یاد آ جاتی ہیں۔ان کا پیار ان محبت یاد آتی ہے۔

 آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اساتذہ کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی ہدایت دیں۔ آج بچے استاد کا احترام کرنے سے قاصر ہیں۔ استاد ہی معاشرے کا وہ روشن مینار ہے جس کی روشنی سے ہر کوئی سرفراز ہوتا ہے یہاں اساتذہ پر بھی زور دونگی کہ وہ بچوں کی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضرور کریں تاکہ بچوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہو اور اخلاقی قدریں پرورش پا سکیں۔

اساتذہ بچوں کی تربیت کرکے ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔اساتذہ دراصل قوم کے محافظ ہوتے ہیں کیونکہ آنے والی نسلوں کوسنوارنااوران کوملک وملت کی خدمت کے قابل بناناان ہی کے سپرد ہوتاہے۔استادکافرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کنجی اس کے ہاتھ میں ہی ہے اور ہرقسم کی ترقی کاسرچشمہ اس کی محنت ہے۔

اساتذہ میں صداقت، شجاعت، قوت برداشت، صبروتحمل اور استقامت جیسی خوبیاں ہونی چاہئے کیونکہ طالب علم استاد کاعکس ہوتے ہیں۔

استاد طالبات کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔استاد وہ عظیم شخصیت ہیں جو آدمی کو انسان بناتے ہیں۔ تعلیم سے نوازتے ہیں اور اس وقت دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ ہیں وہ سب اپنے اساتذہ کی وجہ سے ہی ہیں۔ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک استاد کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ اساتذہ کی خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں سوائے اس بات کے کہ ان کا دل و جان سے عزت اور احترام کیا جائے۔

یوم اساتذہ کے موقع پر میں اپنے تمام اساتذہ، وہ بھی جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ اللہ رب العزت ان کو بابرکت لمبی عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی لگن اور جذبے کہ ساتھ علم ودانش کا کام جاری رکھیں۔ الطاف حسین حالی کے اس شعرکیساتھ اجازت چاہتی ہوں۔

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت 

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close