خصوصینظم

یومِ مادر

یومِ مادر سبھی مناتے ہیں 

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

یومِ مادر سبھی مناتے ہیں

ماں کی عظمت کے گیت گاتے ہیں

ماں ہے جن کے وجود کی ضامن

ماں کو اکثر وہ بھول جاتے ہیں

ماں کی ممتا جہاں میں ہے انمول

مفت میں جس کو سب گنواتے ہیں

ماں نے کی جن کی ناز برداری

ناز بیوی کے وہ اُٹھاتے ہیں

گھر کی شیرازہ بندی ماں سے ہے

ماں نہ ہو تو یہ ٹوٹ جاتے ہیں

اُن کو معلوم ہے کہ ماں کیا ہے

ماں سے جو لوگ چھوٹ جاتے ہیں

ماں کا جب بھی خیال آتا ہے

سوتے سوتے وہ جاگ جاتے ہیں

یہ خیالات ہیں بہت دلسوز

نیند راتوں کی جو اُڑاتے ہیں

ماں کا وہ قول یاد ہے مجھ کو

وعدہ کرتے ہیں جو نبھاتے ہیں

ماں تھی جب تک مجھے خیال نہ تھا

اب مجھے دن وہ یاد آتے ہیں

ماں کا نعم البدل نہیں برقیؔ

اس لئے جشن یہ مناتے ہیں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close