خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

یوم مادر:  ماں سے محبت کے اظہار کا عالمی دن

 محمد عبد اللّٰہ جاوید   

ماں   بڑا پیارا لفظ ہے جسے انسان اپنے دل کی گہرایوں سے اداکرتا ہے۔بچپن سے لیکر عمر کے ہر مرحلے میں وہ ماں کی ممتاکا محتاج رہتا ہے ۔اپنی حاجتوں کی تکمیل کے لئے اسی سے توقع رکھتا ہے ۔خدائے بزرگ و برتر نے ماں کے ذریعہ افزائش نسل کو نہایت آسان بنادیا ہے۔انسانیت کی بقاء اور اسکی فکری نشوونما میں ماں کے اہم رول سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔جو پہلے تو اپنے رحم میں بچے کی پرورش کرتی ہے پھر اپنے افکار و خیالات سے اس کی فکر بناتی ہے۔جنم دینی والی ماں کے لئے پسرانہ محبت اور احسان شناسی کے جذبات کے اظہار کے لئے نہ جانے فرمانبردار اولاد کیا کچھ کرتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ۔البتہ ماں سے محبت وعقیدت کے اظہار کے لئے کی جانے والی اجتماعی کوششوں کا سلسلہ کافی پرانا ہے۔

تاریخ

قدیم یونانی تہذیب سے معلوم ہوتا ہے کہ خدائوں کی ماں کا درجہ رکھنے والیRheaنامی دیوی کے اعزاز میں ساری قوم ایک خصوصی دن کا اہتمام کرتی تھی۔مختلف تقاریب اور رسومات کے ذریعہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتی تھی۔انگلینڈ کی تاریخ بتاتی ہے کہ سولہویں صدی سے ماں کے اعزاز میں خصوصی یوم منانے کا اہتمام ہونے لگا۔جس کے لئے ہر سال اتوار کے دن کا انتخاب کیا جاتا تھا۔انگلینڈکی تمام مائوں کے ادب و احترام میں منائے جانے والے اس خصوصی یوم کو اس دن کی مناسبت سے              Mothering Sundayکہا جانے لگا۔اس موقع پر لوگوں کو اپنی مائوں سے ملاقات کی سہولتیں فراہم کی جاتیں ۔مختلف مقامات پر کام کرنے والوں کو چھٹیاں دی جاتیں تاکہ وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذار سکیں ۔

ہندوستانی تہذیب میں بھی ماں کی عزت و احترام کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ہر سال اکتوبر میں منائے جانے والے درگاپوجا تیوہار کا تعلق اسی عقیدت سے ہے۔ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق درگا کو تمام خدائوں کی ماں کا مرتبہ حاصل ہے۔ امریکہ میں اٹھارویں صدی کے اواخر سے اس طرح کے یوم منائے جانے کاذکر ملتا ہے۔جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ہر سال 14 مئی کو یوم مادر (Mother’s Day) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اب دنیا کے تقریباً46سے زائد ملکوں میں بڑی حضوصیت کے ساتھ اس یوم کا نظم کیا جاتا ہے۔

زمانہ قدیم ہی سے ماں سے محبت اور عقیدت کا کسی نہ کسی طرح اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔لیکن آج دنیا بھر میں جس بڑے پیمانے پر اس کا نظم کیا جاتا ہے وہ دراصل خواتین ہی کی کوششوں سے ممکن ہوا ہے ۔اس سلسلہ میں دو خواتین کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔اٹھارویں صدی کے اواخر میں فرانس اور جرمنی کے درمیان ہوئی فیصلہ کن جنگ (Franco-Prussian War : 1870-71) سے کافی تباہی ہوئی۔اس موقع پر امن کی بحالی اور مائوں کو اپنے جگر گوشوں کی جان و مال کے خوف سے محفوظ رکھنے کے لئے Julia Ward Howeنے کافی جد و جہد کی۔اس ضمن میں ان کے لکھے ہوئے اشعار(Battle Hymn of Republic)بڑے غیر معمولی اثرات ڈالے۔پھر ہر سال یہ خاتون امریکہ کے شہر بوسٹون میں امن کے قیام کے لئے عوامی جلسے منعقد کرنے لگی۔ان کے ذریعہ اس نے "یوم مادر برائے امن”                     (Mother’s Day For Peace) کا تصور دیا۔اس طرح کی کوششوں سے امن کو برقرار رکھنے میں کس قدرکامیابی حاصل ہوئی اس کا اندازہ مشکل ہے۔البتہ ان کے ذریعہ ماں کی عزت و وقار سے متعلق شعور کی بیداری کا کام ضرور ہوا۔انہیں کوششوں کا تسلسل Anna Jarvisکی سعی و جہد معلوم ہوتی ہے۔ امریکہ کے Philadelphiaکی رہنی والی اس خاتون نے انیسویں صدی کے اوائل میں اپنی آنجہانی ماں کے لئے پہلا رسمی پروگرام منعقد کیا کیونکہ وہ اپنی ماں سے بڑی انسیت اور لگائو رکھتی تھی۔پھر مئی1908میں اپنی ماں کی تیسری برسی کے موقع پر چرچ کی مدد سے تمام مائوں کے اعزاز میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیااور اس کے حسب ذیل مقاصد واضح کئے:

 ٭  جنم دینے والی مائوں کے تئیں دلوں میں پائے جانے والی محبت اور عزت و احترام کا اظہار

٭  ماں کی قربت کا حصول

 ٭  خاندانی زندگی میں رونما ہونے والی کشیدگی کا ازالہ

 یوم مادر کے اس طرز پر اہتمام کے بعدAnna Jarvisاور دیگر خواتین نے اسکی ضرورت کا احساس دلایا تا کہ ملکی سطح پر اس کا نظم کیاجاسکے۔رات دن اس کے لئے کوشش کی۔عوامی شعورکی بیداری کو اپنا مشن بنایا۔پالیسی ساز اداروں اور سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی۔دھیرے دھیرے یہ کوششیں رنگ لانے لگیں ۔امریکہ کے مختلف مقامات پر سرکاری طور سے یوم مادر کا اہتمام ہونے لگا۔بالآخر اس کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1914میں امریکی کانگریس نے مشترکہ قرارداد منظور کی جس پر امریکی صدرWoodrow Wilsonنے دستخط کرتے ہوئے یوم مادر کو سرکاری طور پر منانے کو منظورکردیا۔جس کا اصل منشاء خاندان میں عورت کے موثر رول کی اہمیت و ضرورت واضح کرنا تھا۔ اس کے علاوہ یہ ماں کے لئے محبت اور تعظیم کے جذبات کے عوامی اظہار کا دن بھی قرار پایا۔

سرگرمیاں

عالمی سطح پر منائے جانے والے اس یوم کے موقع سے مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ۔جن کا مرکز و محور ماں ہوتیہے۔عالیشان ہوٹلوں میں دعوت دی جاتی ہے۔یہ دعوتیں اتنی کثرت سے دی جاتی ہیں کہ یہ دن امریکہ کے تمام ریسٹورنٹ کا سال کا انتہائی مصروف ترین دن ہوتا ہے۔بعض ممالک میں خصوصی عشائیہ کانظم کیا جاتا ہے۔جس میں بطور خاص ماں کی خدمت میں پھولوں کے گلدستہ جیسا کیک پیش کیا جاتا ہے۔ماں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا جاتا ہے۔گھر کے برتن وغیرہ دھونے کی زحمت بھی نہیں دی جاتی۔پھولوں اور دیگر قیمتی اشیاء (عطریات‘ سونے کے زیورات وغیرہ) کے تحائف دئیے جاتے ہیں ۔تحفے تحائف دینے کا بھی اس کثرت سے اہتمام ہوتا ہے کہ کرسمس کے بعد یوم مادردوسرا بڑا تعطیل کا دن(Gift Giving Holiday)مانا جاتا ہے۔اس موقع پر بعض مقامات پر شجر کاری بھی کی جاتی ہے۔بڑے پیمانے پر Greeting Cardsاور دیگر ذرائع سے ماں کے لئے محبت بھرے پیغامات ارسال کئے جاتے ہیں ۔پیغام بھیجنے کابھی اس قدر اہتمام ہوتا ہے کہ امریکہ میں لمبی مسافت کے فون سال بھر میں اسی دن سب سے زیادہ کئے جاتے ہیں ۔یوم مادر کو منانے کے لئے وہ لوگ جن کی مائیں بقید حیات ہیں گلابی خوشبودار پھول(Carnation)بیاج کے طور پر(Floral Badge)لگالیتے ہیں ۔اور جن کی مائیں نہیں ہیں وہ سفید پھول کا استعمال کرتے ہیں ۔اس موقع پر ‘ جیسا کہ یوم مادر کے محرکات سے واضح ہوتا ہے‘ امن کے قیام کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ہر اس برائی پر خواتین کی جانب سے رد عمل کا اظہار ہوتا ہے جو امن کے لئے خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔جلسے اور جلوس کا انعقاد ہوتا ہے۔خواتین کی تنظیمیں نیوکلیرتوانائی پر مشتمل ہتھیار کی مذمت کرتی ہیں ۔متعلقہ محکوموں کے روبرو لاکھوں مائوں کا دھرنا منعقد کرتی ہیں ۔چنانچہ یہ Million Mom March  یوم مادر کا ایک اہم ترین پروگرام مانا جاتا ہے۔جو تمام مائوں کی جانب سے ہتھیار کے عدم استعمال(Gun Control)  کا پیغام دیتا ہے۔

ماں

ماں جیسی پیاری شخصیت کے لئے دنیا بھر میں کی جانے والی یہ کوششیں قابل تحسین ہیں ۔مغرب کے ملحدانہ اورمادہپرستانہ ماحول میں ماں کے حق کی ادائیگی کا یہ شعور زندہ دلوں کا پتا دیتا ہے۔خود فرمانبردار بیٹوں کو ماں کی ایسی خدمت پر کتنا دلی سکون و اطمینان میسر آتا ہوگا؟اور ماں بھی اپنے لخت جگر کے اس رویہ سے کتنا خوش ہوتی ہوگی؟بلاشبہ ایسے لمحات قابل رشک ہیں ۔ لیکن ماں اور اس کی اولاد کے درمیان یہ والہانہ لگائو اور پاکیزہ جذبات کا اظہار ایک وقتی معاملہ ہوتا ہے۔اس ایک دن کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا وقت آتا ہوگا جب کہ ماں اور اس کی اولاد کے درمیان پھر سے دلوں کو موہ لینے والے وہ جذباتی لمحات دوبارہ لوٹ آتے ہوں ۔ماں ‘ اپنی اولاد کی جدائی سے غمگین تو اولاد‘ ماں کی دیکھ بھال سے لاپر واہ۔بس اسی طرح زندگی گذرتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ کسی سے حقیقی محبت ‘ وقتی تعلق کا ہرگز تقاضہ نہیں کرتی۔بلکہ ہمہ گیر تعلقات محبت کے شایان شان ہوتے ہیں ۔جو جتنا احسان کرنے والا ہو اس کے ساتھ محبت کا ویسا ہی معاملہ ہونا چاہئے۔پھر ماں جیسی عظمت و بلند مرتبے والی شخصیت کے لئے تو اولاد کو سراپا محبت بن جانا چاہئے۔جس کے احسان کا شمار آسان نہیں ۔اگر ماں نہ ہوں تو بچے کی پرورش کا متبادل نظم دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔اس کا بخوبی اندازہ ان بچوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جن کی مائیں بچپن ہی میں گذر جاتی ہیں ۔یا پھر وہ بچے جن کے والدین آفات و بلیات اور جنگوں کے سبب دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔آج عالمی سطح پر جو سنگین مسائل درپیش ہیں ‘ ان میں سے ایک مسئلہ جنگ میں مارے جانے والوں کے بچوں (War Orphans)کی پرورش سے متعلق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تہذیب کے پیچھے اگر الہی احکامات نہ ہوں تو وہ وقتی چمک دمک تو دکھا سکتی ہے لیکن اسے پائیداری حاصل نہیں ہوتی۔یوم مادر کے موقع پر کی جانے والی کوششیں اسی حقیقت کی واضح کرتی ہیں ۔ نیک جذبات تو ہیں لیکن ان کو معنویت اور دوام بخشنے کے لئے خدائی احکامات کی پشت پناہی نہیں ہے۔

جائزہ

افسوس کہ دنیا کو اپنی تہذیب کے رنگ میں رنگ دینے کا خواب رکھنے والی استعماری طاقتیں اپنے ہی معاشرہ میں ماں کی صحیح حیثیت اور اسکے مقام کا تعین نہیں کرسکیں ۔اور نہ ہی اپنے لوگوں کی اخلاقی نشوونما کا کوئی معقول نظم ہی کرسکیں کہ وہ اپنی ماں کے مافرنبردار اور حق شناس سپوت بن جاتے۔یہی وجہ ہے کہ آج عورت ماں ہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مختلف حیثیتوں سے رسواہورہی ہے۔دنیا والوں کو ماں کی محبت کا درس دینے والوں کی حالت زار کا مشاہدہ کیجئے:

٭ امریکہ میں 1950کے بالمقابل 2000میں اولاد کے ہوتے ہوئے تنہا رہنے والی مائوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

٭  40-44سال کی درمیانی عمر کی مائیں امریکہ میں 82%ہیں جبکہ 1976میں 90%تھیں ۔

٭  امریکہ میں ہر سال60لاکھ سے زیادہ خواتین پر ظلم و جبر کیا جاتا ہے۔اور 18لاکھ خواتین ایسی ہیں جنہیں مارا پیٹا جاتا ہے۔

٭  بے یار و مددگار ماں باپ کی تعدادOld Age Homesمیں بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔خود ہمارے ملک میں Old Age Homes سینکڑوں کی تعدادمیں موجودہیں ۔

٭  2000میں کئے گئے سروے کے مطابق امریکہ میں 1کروڑ خاندان تنہا ماں (Single-Mother Families) پر مشتمل ہیں ۔جبکہ 20لاکھ خاندان تنہا باپ     (Single-Father Families)پر مشتمل ہیں ۔

٭  ہر دوسرا بچہ اپنے بچپن کے کسی مرحلہ میں Single-Parent Familyمیں پرورش پاتا ہے۔

٭  امریکہ میں طلاق کی کثرت ہے43%پہلی شادیاں طلاق کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہیں ۔

٭  خاندانی نظام کا توازن بری طرح متاثر ہے۔انسانی تاریخ ایسے خاندانوں کا پتہ دیتی ہے جو احرام نما Pyramid)ہوتے ہیں ۔جس کے اوپری سرے پر چند بزرگ اور پھر نچلے حصہ میں نوجوانوں اور نونہالوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔لیکن ان ممالک میں بیشتر خاندانوں میں یہ تناسب دکھائی نہیں دیتا جن کی ہیئت احرام کی بجائے ایک ستون(Beanpole)کی سی دکھائی دیتی ہے۔کہ گھر میں بڑوں اور چھوٹوں کے بیچ کوئی مناسب توازن ہی نہیں ۔

٭  دادا /دادی/نانا/نانی کا ان کے پوتروں اور نواسوں سے رشتہ انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔امریکہ میں ان بزرگوں کی یہ جذباتی تسکین بھی ممکن نہیں ۔آج اس ملک میں تقریباً7کروڑGrandparentsہیں جن میں ہر سال 75ہزار کا اضافہ ہوتا ہے۔جن کی عمریں 45-69کے درمیان ہوتی ہیں ۔یہاں صرف 32لاکھ بزرگ ایسے ہیں جو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں وہ بھی اس حال میں کہ بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ان پر نہیں ہوتی۔البتہ 23لاکھ بزرگ ایسے ہیں جو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں اور جن پر پرورش کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔

٭  امریکہ کی تمام مائوں میں تقریباً آدھی ایسی ہیں جن کے بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہ خود گھر سیباہر کمانے کے لئے جاتی ہیں ۔عورتوں ‘ بزرگوں اور بچوں کی اس ابتر صورت حال میں محبت اور خیرسگالی کے وقتی جذبات کی پائیداری کس حد تک ممکن ہوسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل کام نہیں ۔

مقاصد

عالمی سطح پر منائے جانے والے اس یوم کا مقصد ماں سے محبت کے اظہار کے علاوہ امن کا قیام بتایا جاتا ہے۔اس کے پیش نظر مختلف ممالک میں یوم مادر کا اہتمام قابل غور ہے۔کہ کس حد تک انجام دی جانے والی تمام سرگرمیاں مقاصد سے ہم آہنگ ہیں ؟ یا جنہیں ماں کی محبت و عظمت کے عین مطابق کہا جاسکتا ہے؟کیا ماں سے محبت کا اظہار-   کھانے کا نظم‘ ہوٹلوں کی سیر‘ قیمتی تحائف کی پیش کش‘ وقتیہ میٹھی میٹھی باتوں تک ہی محدود ہونا چاہئے؟ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ اس موقع پر ہر بیٹی/بیٹا اس بات کا عہد کرے وہ ساری زندگی اپنی ماں کی دل و جان سے خدمت کرے گا؟اس کی ہر ضرورت کی تکمیل کو باعث سعادت سمجھے گا؟اپنے کسی رویہ سے اسے تکلیف نہیں پہنچائے گا؟ہر حال میں اس کے ساتھ ادب و احترام سے گفتگو کرے گا؟ اپنے چھوٹوں کو بڑوں کی تعظیم و توقیر کی تعلیم دے گا؟ان ممالک کے بااقتدارلوگ یہ کیو ں نہیں سوچتے کہ ایک بہتر معاشرے کے لئے بہتر گھر کو یقینی بنانا ضروری ہے؟بڑوں کے حقوق و مقام سے متعلق عوام کی مسلسل اصلاح ہوتی رہنی چاہئے؟ کیو ں وہ اپنے نظام تعلیم میں اخلاقیات کو شامل نہیں کرتے؟کیوں معاشرے میں ناسور کی حیثیت رکھنے والے Old Age Homesکو ختم نہیں کرتے؟کیوں عمر رسیدہ لوگوں کو صرف ایسی مراعات اور سہولیتں دینے ہی کو کافی سمجھ لیتے ہیں جو ان کی مادی ضرورتیں تو پوری کرتی ہیں مگر ان کے جائز خواہشات و جذبات سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں ؟وہ ایسا ایک چارٹر کیوں وضع نہیں کرتے جس سے معاشرہ میں عورت کی تمام حیثیتوں کا تحفظ ممکن ہوسکے؟گھریلو جھگڑوں ‘طلاق اور عورتوں اور بچوں پر ظلم سے متعلق بتدریج بڑھنے والے واقعات کی سنگینی کو کیوں محسوس نہیں کرتے؟پھرآخر وہ کس بنا ان بنیادی اخلاقیات سے خالی اپنی تہذیب کو دوسروں کے لئے نمونہ سمجھتے ہیں ؟پھر دسرا پہلو یہ کہ اس یوم کے مقاصد صرف ماں سے محبت اور امن کے قیام کی حد تک کیوں محد ود رہیں ؟کیوں اس میں ماں کی عظمت کی بحالی کا تقاضہ شامل نہیں ہے؟وہ امورکیوں شامل نہیں ہیں جن کا تعلق براہ راست ایک ماں سے ہوتا ہے؟ان سے صرف نظر کرکے ماں کی عظمت کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

اسلام

اسلام عورت کے حقوق و مقام کا نہایت واضح تصور دیتا ہے۔اس کے پیش نظر عورت کی تمام حیثیتیں ہیں ۔چاہے عورت کی جس حیثیت کو بھی لیجئے ‘ تصورمیں کسی قسم کا نقص نظر نہیں آتا۔ماں کی عظمت اور اس کے مقام کی وضاحت اسلام نے اس طرز پر کی ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کی حق تلفی نہیں ہوسکتی۔چہ جائیکہ ایک فرد ہی نادانی میں ظلم کر بیٹھے۔ماں کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا تصور ہوسکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حقوق کے ساتھ اس کے حق کا ذکر کیا ہے۔اور انسان کی نہایت ہی بنیادی و فطری ضرورت کو اس کے قدموں کے نیچے بتا یا ہے۔ہر انسان کا میاب ہونا چاہتا ہے ۔یہ اسکی ایک فطری ضرورت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے کہ اصل کامیابی مادی ضرورتوں کی تکمیل نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک بندہ جہنم سے بچالیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے(آل عمران:185)۔اس جنت کو ماں کے قدموں کے نیچے بتا کر دارصل اس حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ اس کا حصول ماں کی بے لوث خدمت سے ممکن ہے۔چنانچہ رسول اکرمﷺ نے اس شخص سے متعلق افسوس کا اظہار فرمایا جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت نہ کرنے کے نتیجے میں ذلیل اور رسوا ہوا اور جنت سے محروم رہا۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا”  وہ ذلیل اور رسوا ہوا۔لوگوں نے عرض کیاکون اے اللہ کے رسولﷺ؟آپؐ نے فرمایا وہ شخص جس کے پاس بوڑھے والدین یا ان میں سے کوئی ایک یا دونوں موجود ہوں اور وہ جنت میں نہ جائے) مسلم( ”   اس لئے ماں کی عظمت کا تقاضہ ہے کہ اس کے ساتھ لمحہ لمحہ کے طرز عمل پر غور ہوتا رہے۔اس کی چند ایک ضروریات کو پورا کردینے کو کافی نہ سمجھا جائے۔کیا کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص فائدہ دینے والی چیزوں کو حاصل کرنے میں خود ہی حد بندی قائم کرلے؟ تو پھر ماں کی خدمت اور اس کے بدلے ملنے والی ابدی جنت سے غفلت کیسے ہوسکتی ہے؟

حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان بھی والدین کے ساتھ لمحہ لمحہ کے طرز عمل کے احتساب کی دعوت دیتا ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا”  جو نیک اولاد بھی ماں باپ پر محبت بھری ایک نظر ڈالتی ہے تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کو ایک حج مقبول کا ثواب دیتا ہے۔لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ اگر کوئی دن میں سو بار اسی طرح رحمت و محبت سے نظر ڈالے تو؟ آپؐ  نے فرمایا جی ہاں ۔اگر کوئی دن میں سو بار ایسا کرے تب بھی۔اللہ تعالیٰ بہت بڑا اور تمام نقائص سے بلکل پاک ہے(مسلم(  "

اسلام نہ صرف والدین کے حقوق کو واضح طور پر بیان کرتا ہے بلکہ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اصول و آداب بھی سکھاتا ہے۔اس طرح سے کہ کوئی فردانہیں بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ اس پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی پابندی سے دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہے۔سورہ بنی اسرائیل آیات 23اور 24میں اس کا مختصر اور جامع ذکر کیا گیا ہے۔کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ان سے نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آیا جائے۔ان سے بلند آواز میں بات کرنا تو دور‘ انہیں اف تک نہ کہا جائے۔ان کے لئے دعا کی جائے۔ اللہ رب العالمین نے والدین کے حق میں بڑی پیاری دعا کی تلقین فرمائی ہے۔جس سے بڑھ کر موثر دعا کوئی اورنہیں ہوسکتی۔کوئی شخص اس بات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں کرسکتا کہ اس کے والدین نے کس محنت اور مشقت کے ساتھ اس کی پرورش کی ہے۔اس کے لئے بس یہ رہنمائی دی گئی کہ وہ جذبہ احسان شناسی کے ساتھ اپنے والدین کی تمام قربانیوں کو اپنے رب کریم کی بارگاہ میں پیش کرتے ہوئے دعا کرے”  پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن پالا تھا” ۔ یہ دعا دراصل ہر دو صورت میں نیک اولاد کے لئے اطمینان قلب کا ذریعہ بنتی ہے۔چاہے ان کے والدین بقید حیات ہوں یا نہ ہوں ۔والدین کے حقوق سے متعلق اس فطری تصورمدلل اندازسے واضح کرنا وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے۔ دنیا والے ماں کی عظمت کے وقتی طور پر قائل صحیح‘ لیکن جب ان پر حقائق منکشف ہوجائیں تو بعید نہیں کہ وہ والدین سے حسن سلوک کو زندگی سمجھ لیں ۔

لائحہ عمل

 ا س موقع پرچندایک اہم امور دعوت فکر و عمل دیتے ہیں :

٭  اگر کوئی خاتون ماں سے محبت کے اظہار‘ امن کے قیام اور مہلک ہتھیاروں کے عدم استعمال کی جانب وقت کے حکمرانوں کو متوجہ کرسکتی ہے‘تقریر و تحریر کے ذریعہ رائے عامہ ہموار کرسکتی ہے تو کیا ملت کی خواتین اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے اظہار کے لئے پیچھے رہ سکتی ہیں ؟جب کے ان کے سامنے ایسی خواتین کی مثالیں موجود ہوں ۔ جو کسی جزوی مقصدکی خاطر اپنی ساری زندگیاں لگا دیتی ہیں ؟جو خاتون خود زندگی بھر ماں نہ بن سکی اس نے ماں کی محبت کے لئے تاریخی کارنامہ انجام دیا۔جیسا کہ Anna Jarvisکے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے اپنی ساری زندگی ماں کی عظمت کے لئے وقف کردی۔مگر وہ کبھی ماں نہ بن سکی۔1948میں اس کی اس حال میں موت واقع ہوئی کہ آنکھوں کی بینائی ختم ہوچکی تھی اور ایک پیسہ بھی اس کے پاس نہیں تھا۔ جس نرسنگ ہوم میں اس کا انتقال ہوا وہاں کے لوگوں نے کفن دفن کا نظم کیا۔

٭  مختلف ایشوز کے تحت عالمی سطح پر خواتین نے اپنی سرگرمیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔ایسے میں ملت کی خواتین کو چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہو ‘ ان سے رابطہ اور تبادلہ خیال کی صورت پیدا کریں ۔ان کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کرنے کے علاوہ مختلف امور و مسائل کو سمجھنے ‘ تعاون دینے اور لینے کے لئے مناسب طریقہ کار اختیار کریں ۔اس کے لئے ذرائع ابلاغ کے جدید طریقوں کے استعمال کی جانب توجہ ہونی چاہئے۔انٹرنیٹ کا استعمال‘ میڈیا کے ذریعہ کانفرنسنگ اور کمپیوٹر کے استعمال کے لئے خواتین بڑی آسانی کے ساتھ تربیت حاصل کرسکتی ہیں ۔اخبارات میں خطوط و مضامین کی اشاعت کے ذریعہ بھی اظہار حق کا کام ہونا چاہئے۔

٭ ہمارے وطن ہندوستان میں والدین کی عظمت کو تسلیم بھی کیا گیا تو اس طرح کہ انہیں خدا بنادیا گیا (نعوذ باللہ)۔ یہاں کے باشندگان کے سامنے والدین کے حقوق اور ان کے مقام و مرتبے کی وضاحت بھی بطور خاص ہونی چاہئے۔

٭ گھر میں خوشگوار ماحول‘ خواتین سے حسن سلوک‘ بڑوں کے ادب و احترام کے فروغ اور بچوں کی اصلاح و تربیت کے لئے بھی خواتین کو اپنے اپنے دائرہ میں سرگرم عمل رہناچاہئے۔ ان امور سے متعلق پیش آنے والے مسائل کے حل کے لئے ملت کی خواتین سے زیادہ کوئی اور موزوں نہیں ہوسکتا۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خواتین ان مسائل کے حل کے لئے ایسے Counseling Centersسے رہنمائی حاصل کرتی ہیں کہ جن کو چلانے والے بیشتر افرادایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات سے واقف نہیں ہیں ۔

آج عالمی سطح پر آئے دن کسی نہ کسی یوم کا اہتمام ہوتا رہتا ہے۔ نہ صرف یوم بلکہ سال اور دہے تک منائے جاتے ہیں ۔جن کے ذریعہ مختلف امور و مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔عوامی شعور کو بیدار کرنے کے لئے کئی ایک طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ۔مخصوص ایجنڈے کے نفاذ کے لئے راہیں ہموار کرنے کی بھی کوشش ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں ساری انسانیت کی رہنما-   ملت اسلامیہ کا کوئی موثر رول نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی و عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کا بڑے غور سے مشاہدہ کیا جائے۔ حالات کو بہتربنانے کی کوشش کی جائے۔غیر معقول رجحانات اور بے بنیاد افکار و نظریات کے باطل ہونے کو واضح کیا جائے ۔تاکہ حق کی متلاشی دنیا کو وہ نور میسر آسکے جس کی روشنی میں وہ اپنی کامیابی کا سفر جاری رکھ سکے۔کبھی گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں میں نہ بھٹکتے پھرے۔ اس کار عظیم اور سعادت مندی کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اس دنیا میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو نافذ کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عبداللہ جاوید

مضمون نگار انگریزی و اردو کے معروف قلم کار ہیں۔ تعلیم کے اعتبار سے موصوف ڈبل ماسٹرز ہیں: اول نیوکلیئر اینڈ انرجی فزکس میں اور دوم سوشیالیوجی میں۔ علاوہ ازیں عربی، مطالعات ِاسلامی اور تقابل ِادیان پر بھی آپ وسیع و عمیق مطالعہ رکھتے ہیں۔ آپ کے خاص موضوعات اسلامی افکار، تعلیم، سائنس، عمرانیات، سماجی علوم ،شخصیت کا ارتقا، وسائل انسانی کی تنظیم اور حالات حاضرہ ہیں۔ موصوف ان دنوں مختلف سماجی فورمز پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ اپنے ایک نجی تحقیقی ادارہ - اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ - کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی تربیت اور ان میں سائنسی و تحقیقی رجحان پیدا کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔ قرآن و حدیث اور سیرت رسول ص پر آپ کی چھ کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ان کے علاوہ تربیت وتنظیم، دعوت ، تعلیم ، شخصیات اور مختلف سماجی مسائل پر کئی کتا بچے اور مضامین بزبان اردو و انگریزی ملکی وبین الاقوامی اداروں سے شائع ہوئے ہیں۔

متعلقہ

Close