خصوصیسیاست

یوگی راج: بلند شہر ہمارا تھا، ہم بلند نہ تھے

ڈاکٹر سلیم خان

ملک کی عوام بشمول انتظامیہ ٹھیک ٹھاک ہے لیکن سیاست کی آمیزش معاملہ خراب کردیتی ہے۔ اس حقیقت  کا بین ّ ثبوت بلند شہر سانحہ ہے۔  اترپردیش  میں جب قیامت صغریٰ بپا تھی یوگی ادیتیہ ناتھ تلنگانہ کے اندر اسمبلی انتخابات کی  مہم میں فرقہ پرستی کی ا گل  رہے تھے۔ان  کی جگہ کوئی حساس وزیراعلیٰ ہوتا تو تھانیدار کے بہیمانہ قتل کی خبر سن کر  اپنادورہ رد کرکے ریاست کا رخ کرتالیکن جن کے لیے اقتدار ہی اوڑھنا بچھونا ہو وہ بھلا انسانی جان کی قدر دانی کیسےکرسکتے ہیں؟ اس موقع پر یوگی جی کی بے حسی کا رآمد ثابت ہوئی۔ ان کی مداخلت کے بغیر انتظامیہ نے اپنے فرض منصبی کو بخیر و خوبی ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے نہ صرف ذرائع ابلاغ میں شرارت کرنے والوں کو قابو میں رکھا بلکہ اصل فسادیوں کی  نشاندہی کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع کرکےبجرنگ دل کے ضلعی صدر کو کلیدی ملزم ٹھہرا دیا  نیزوی ایچ پی و   بی جے پی یوا مورچہ کے رہنماوں کو تشدد کے لیے   نامزد ملزم قرار دے دیا  مگر برا ہو سیاست کا کہ یوگی جی کے لوٹتے ہی  سارےکرے کرائے پر پانی پھرنے لگا۔

اس سے پہلے کہ واپسی کے بعد  یوگی جی کی گل افشانیوں کا جائزہ لیا  جائےحیدرآباد میں ان رسوائی پر غائر نظر دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ انتخابی تشہیرکے دوران آدتیہ ناتھ نے اپنی اوقات دکھاتے ہوئے  کہہ دیا  کہ تلنگانہ میں اگر بی جے پی کو اکثریت ملے گی تو وہ اسدالدین اویسی کو ریاست تلنگانہ سے اسی طرح بھگا دیں گے جس طرح نظام کو حیدرآباد سے بھگایا گیا تھا۔ یوگی جی بھول گئے تھے حیدرآباد میں ان کا سابقہ کسی اکھلیش یا مایاوتی سے نہیں ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان  کا اویسی نے  ایسا کرارہ جواب دیا کہ ہوش  ٹھکانے آگئے۔ اسدالدین اویسی  نے براہ راست یوگی کو مخاطب کرتے ہوئےانہیں کے لہجے میں پلٹ وار کرتے ہوئے کہا’’یوگی جی کو اگر آپ کو پڑھنا نہیں آتا ہے تو ان لوگوں سے معلومات حاصل کرنا چاہیے جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ شاید آپ تاریخ نہیں جانتے۔ نظام کو بھگایا نہیں گیا تھا بلکہ انہیں ریاست کا سربراہ بنایا گیا تھا‘‘۔ اس ذلت و اہانت کے بعد  یوگی جی کےلیے لکھنو بھاگ نکلنے کے سواکوئی چارۂ کار نہیں تھا لیکن اویسی صاحب اگر مزیدچند دنوں کے لیے اس فتنہ کو روک لیتے تو اچھا تھا تاکہ بلند شہر کی تفتیش  اتنی آگے بڑھ جاتی کہ اصل مجرم پولس حراست  آجاتے بلکہ  عدالت میں پیش ہوجاتے۔ اس مرحلے میں سرکاری  دخل اندازی  مشکل تر ہوجاتی۔

وزیراعلیٰ کی  واپسی تک انتظامیہ کی ساری توجہ مبینہ گئو کشی کے بعد پھوٹ پڑنے والے  تشدد اور اس کے نتیجے  میں  ہلاک ہونے والے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ پر مرکوز تھی۔محکمہ پولس  بڑی مستعدی سے امن و امان قائم رکھنے کی جدوجہد میں جٹا ہوا تھا۔ نئی دہلی سے این ایچ آر سی(نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن) میڈیا رپورٹوں پر از خود نوٹس  لے کرمبینہ گئو کشی  کی افواہ کے بعد بلند شہر کے سیانہ گاؤں میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ اور سُمیت کمار نامی نوجوان کے مارے جانے کے واقعے پر یوگی آدتیہ ناتھ  کی سرکار اور صوبائی  پولیس چیف کو نوٹس جاری کرچکا تھا۔  این ایچ آر سی نے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے شر پسندوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ  طلب کی تھی ‘ لیکن یوگی  جی نےابن الوقتی کے پیش نظرآگے کی کارروائی کا رخ  بدلنا شروع کردیا۔ عوام سوچ رہے تھے کہ واپس آکر وہ  امن کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدام کریں گے لیکن انہوں نے نئی کہانی  شروع کردی بقول شاعر ؎

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا 

باتوں سے میرا دل نہ لبھا شہر کو بچا

وزیر اعلیٰ نے  لوٹتے ہی بلند شہر تشدد پر جائزہ میٹنگ  طلب کی اور ساری توجہ گئو کشی پر مرکوز کردی۔ آنجہانی تھانیدار سبودھ کمار کواس طرح نظر انداز کیا گیا کہ اجلاس کے بعد جاری کردہ  پریس ریلیز میں ان کے قتل کا ذکر تک نہیں تھا۔سبودھ کمار کے قاتلوں کو چھوڑ کر  یوگی آدتیہ ناتھ نے گئو کشی میں ملوث لوگوں  کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت  جاری کردی۔ وزیراعلیٰ نے اس  معاملہ کو ایک بڑی سازش کا حصہ  قرار دیا۔ سبودھ کمار کے لیے تعزیت کے دوبول  بھی ان کی زبان سے نہیں پھوٹے ۔ مسلمانوں کی دشمنی میں یوگی جی نے جس طرح  ایک جرأتمند ہندو پولس افسرسبودھ کمار  سنگھ سے سے نظریں پھیر لی ہیں  اس کا خمیازہ انہیں ضرور بھگتنا پڑے گا۔ گورکھپور کے ضمنی انتخاب میں  گزشتہ مرتبہ تو رائے دہندگان نے بی جے پی امیدوار کو  معمولی شکست سے دوچار کیا لیکن اگلی بار اگر خود یوگی بھی  کھڑے ہوجائیں تو ان کی ضمانت ضبط ہوجائے گی۔ جیسا کہ  تیمور حسن کہتے ہیں ؎

تو اس لیے ہے شہر کا حاکم کہ شہر ہے

 اس کی بقا میں تیری بقا شہر کو بچا 

وزیراعلیٰ کے بغضِ معاویہ کا فائدہ سبودھ سنگھ کے ساتھ ہلاک ہونے والے سُمیت کمار کو ملا جو گوناگوں وجوہات کی بناء پر انتظامیہ سے کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکا تھا۔ اس جائزہ کی نشست میں تشدد کا شکار ہونے والے۲۰ سالہ سُمیت کے پسماندگان  کو وزیراعلیٰ  ریلیف فنڈ سے۱۰  لاکھ روپے کی مدد دینے کا اعلان کیا گیا  حالانکہ پولس نے  اس کا نام بھی بلوائیوں کی فہرست میں درج کررکھا  ہے۔ پہلے تو  ذرائع ابلاغ میں یہ خبر آئی تھی کہ  وہ مظاہرین میں شامل نہیں تھا۔ سُمیت تو  اپنے ایک دوست  کوچھوڑنے کے لیے وہاں  گیا تھا۔ اس کی موت کی بابت بھی کبھی یہ چھپا کہ وہ پولس کی گولی سے مرا ۔ کسی نے کہا وہ مظاہرین کی بندوق کا نشانہ بنا   اور پولس کا کہنا تھا کہ سنگباری نے اس کی  موت کا سبب بنی   لیکن  سچ تو یہ ہے کہ  پولس نے فسادیوں میں سُمیت  کا نام  درج  کرکے یوگی جی کو اس کا ہمدرد بنادیا۔ کسی اوروزیراعلیٰ کا  بلوائی سے ہمدردی جتانا حیرت انگیز  ہوسکتا ہے  لیکن یوگی جی سے تو یہی توقع ہے کہ وہ ہرفسادی کو گلے لگائیں گے چاہے اس کا نام غلطی سے کیوں نہ شامل ہوگیا ہو۔ تاکہ اپنے بھکتوں کو خوش کرکے اقتدار محفوظ کرسکیں لیکن یہ خیالِ خام ہے؎

تو چاہتا ہے گھر ترا محفوظ ہو اگر 

 پھر صرف اپنا گھر نہ بچا شہر کو بچا

پریس ریلیز میں یہ  ہدایت  بھی دی  گئی ہے کہ مہم چلا کر ماحول خراب کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن اس سے مراد غیر قانونی مذبح خانہ چلانے والے لوگ ہیں۔ وزیراعلیٰ کی مداخلت کے نتیجہ میں  یہ پتہ  لگانے سے قبل کہ تشدد کیوں ہوا اور  دیگر  پولیس اہلکار  انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو اکیلا چھوڑ کرکیوں  بھاگ گئے ؟ انتظامیہ نے مبینہ گئو کشی کے الزام میں نیا بانس گاؤں کے ۷مسلمانوں کے خلاف  درج ایف آئی آر پر کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ۷ افراد  میں سے ۲ نابالغ نوجوانوں  کی عمر ۱۱سے ۱۲سال ہے۔ اس احمقانہ شکایت کی تردید گاؤں والوں اور مقامی پولیس اہلکاروں کا بیان  کرتاہے کہ نوعمر لڑکوں کے علاوہ  باقی ۵ لوگ تو اس دن  گاؤں میں موجود ہی نہیں تھے۔ ان بے قصور نوجوانوں  کو ایک رشتہ دار کے ساتھ تھانہ لے جایا گیا اور تقریباً ۴ گھنٹے بعد نام اور فون نمبر  لکھواکر چھوڑ دیاگیا۔ آدھار کارڈ کے ذریعہ عمر کی تصدیق کی گئی۔ پولس نے ایف آئی آر میں  دو نابالغ نوجوانوں  کا نام  سیاہ کردیا لیکن  بقیہ ۵ لوگوں کا معاملہ نہایت دلچسپ ہے۔

 اس  میں پہلا نام سدیف کا ہے جبکہ  اس نام کا کوئی آدمی کبھی گاوں میں  رہا ہی نہیں اور دوسرا نام الیاس کا۔ نیا بانس گاؤں   میں دو عدد الیاس رہتے  تھے ،لیکن  وہ دونوں تقریباً ۱۵ سال پہلے اپنے اہل خانہ  کے ساتھ نوکری کی تلاش  دہلی کے قرب  وجوار میں جابسے۔ ایف آئی آر میں  شامل  شرافت  بھی طویل عرصہ سے ہریانہ کے فریدآباد میں رہ رہا ہے۔ ان کے  علاوہ شرف الدین اور پرویز کانام بھی ایف آئی آر میں ہے  جوسانحہ  سے دو روز قبل تبلیغی جماعت کےاجتماع میں چلے گئے  تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ فرضی  ایف آئی آر   جلد بازی میں لکھوائی گئی  اور  ممکن ہے عجلت میں  رائے شماری کی فہرست  یا ووٹر لسٹ میں سے ۷ لوگوں  کے نام اس میں شامل کرلیے گئے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ان میں سے ۲ نابالغ اور ۵ ایسے نکل آئے جن کی غیر موجودگی کا پکا ثبوت موجود ہے اس کے باوجود پولس نے سرکاری دباو میں چار مسلمانوں کو گرفتار کرلیا ہے تاکہ ہندو سماج کو اپنی مستعدی دکھا سکے۔

بلند شہر کا یہ سانحہ دن بہ دن نت نئے موڈ لے رہا ہے۔ اس دوران علاقہ کے لیکھ پال  نے مجسٹریٹ کو بھیجی گئی  اپنی رپورٹ میں انکشاف کردیا کہ گئو کشی کرنے والے اناڑی تھے۔ ماہر قصائی اس طرح  جانورنہیں کاٹتے۔ اس  کی تصدیق وہ ویڈیو کرتی ہے جس میں دو لوگوں کی گفتگو موجود ہے جو گائے کاٹنے والے کا نام تک بتاتی ہے اور اس کو کاٹنے کی جگہ اور لانے کے وسائل کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ کاش کہ پولس ایک جعلی ایف آئی آر پر کارروائی کرنے کے بجائے اس ویڈیو کو دیکھتی؟ بجرنگ دل رہنما یوگیش راج کی اس ایف آئی آر کا پولس کے ذریعہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاجانا خود اس کے حق میں بہتر تھا لیکن یوگی جی نے اس پر کارروائی کرواکر نادانستہ اپنے ہی آدمی کو چتا میں جھونک دیا۔ اس عجلت  پسندی کا مظاہرہ کرنے سے قبل  اگروزیراعلیٰ خفیہ ذرائع سے اس کی تصدیق کرواتے تو بہتر تھا لیکن ایسی سیاسی پختگی کی توقع  یوگی جیسے لوگوں سے کرنا سراسر حماقت  ہے۔

بجرنگ  دل کے ضلعی   صدر یوگیش راج  (جو کہ سبودھ کمار قتل میں فراری ملزم ہے ) کی ایف آئی آر بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ راج نے اپنی شکایت میں  کہا تھا کہ دوشنبہ کی صبح ۹بجے وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ گاؤں میں تفریح کے لیے نکلا۔ اس دوران  پڑوسی گاؤں مہاؤ کے جنگل والے علاقے میں اس نے ۷لوگوں کو گئو کشی کر تے دیکھا۔ اس پہلے کہ  ہم  کچھ کرپاتے وہ لوگ فرار ہوگئے۔  وہ سب اسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اس ایف آئی آر کی تردید کے لیے تو خود یوگیش راج کی بہن سے سمن ماہور کا بیان کافی ہے۔ اس بابت سمن  نے اپنے بھائی کے برعکس بتایا کہ مہاؤ گاؤں کے کسی آدمی  نے اس  (یوگیش)کو فون کیا تھا ، جس کے بعد وہ گھر سے نکلا۔ وہ پولیس تھانہ  بھی گیا لیکن بعد میں کالج کے امتحان کی تیاری   کے لیے  لوٹ آیا۔ دوپہر  ڈھائی بجے کو گھر آنے کے نصف گھنٹے کے بعد پھر سے چلا گیا۔ اس کے بعد سے غائب ( یعنی روپوش) ہے۔ بھاسکر اخبار نے اس کی گرفتاری کی خبر بھی شائع کردی تھی مگر پھر سے اسے فرار قرار دے دیا گیا۔

یوگیش کی بہن سمن کے بیان  کومہاو گاوں( جہاں تشدد ہواتھا ) کےسابق پردھان پریم جیت سنگھ  کےاعلان  کی روشنی دیکھا جائے تو مطلع صاف ہوجاتا ہے۔ یہ سارا معاملہ  پریم جیت سنگھ کے کھیت میں گائے کی ہڈیاں اور آثار ملنے سے شروع ہوا  تھا۔ پریم جیت سنگھ نے بتایا کہ پولیس  کی یقین دہانی کے بعد کہ ملزموں کے خلاف ایف آئی آر کی جائے گی  ہماری صلح ہوگئی ۔ پتھراؤ کرنے والے باہری  لوگ باہریتھےان کے گاؤں والے سنگباری  میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ وہ مان گئے تھے۔  اس بیچ بجرنگ دل کے لوگوں نےاچانک ٹریکٹر پر قبضہ کر لیا۔ان میں یوگیش راج جس  کا اس سے کوئی سروکار نہیں پیش پیش تھا۔ ہم  (پریم جیت) نے بہت سمجھانے کی کوشش کی ،لیکن وہ نہیں مانے۔ پریم سنگھ کے مطابق انہوں  نے ٹریکٹر ہٹالیا تھا لیکن جب ٹرالی ہٹانے گئے تو پتھراؤ شروع ہوگیا۔ انہیں حیرت تھی کہ گاؤں میں تو اتنے پتھر نہیں ہوتے اس لیے یہ  پتھر کہاں سے آگئے؟بھیڑ کی اچانک سنگباری نے صلح صفائی کی کوشش کو ناکام بنادیا۔پتھربازی سے  جان بچا کر مقامی لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان  کی حالت زار پر یہ شعر  صادق آتا ہے؎

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

پریم سنگھ نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ  سب طے شدہ لگتا ہےجس کی توثیق  راج کمار نامی  کسان نے  کی جس کے بھی کھیت میں گائے کی ہڈیاں اور آثار ملے تھے۔ راج کمار نے بتایاکہ وہ ان ہڈیوں  کو زمین میں گاڑنا چاہ رہا تھا لیکن بھیڑ نے منع کردیا۔ راج کمار کی زوجہ  رینو کے مطابق  جب  وہ  لوگ  کھیت پہنچے تو وہاں گائے کی ہڈیاں اور آثا رپائے گئے۔ پولیس کو جانکاری دینے کے بعدانہوں نےہڈیوں کو کھیت میں دفنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک بڑی تعداد میں گاؤں والے اور بھیڑ کھیت میں پہنچ چکی تھی۔ سوال یہ ہے کہ بھیڑ میں شامل لوگوں کو کس نے ؟ کیسے؟ اور کیوں اطلاع دی؟  بہت ممکن ہے کہ اس کے لیے جدید ذرائع ابلاغ جیسے واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہو۔ اگر ایسا ہوا ہے تو اس کی منبع کا پتہ لگانا مشکل کام نہیں ہے۔ رینو نے مزید بتایا کہ ، بھیڑ ہی ٹرالی لے کر آئی اور اس میں گائے کی ہڈیاں اور آثار ڈالنے کو کہا تا کہ تھانے جاکر ٹرافک  جام کیا جاسکے۔ راج کمار اور رینو کا بلوائیوں سے  کہنا کہ وہ  ماحول خراب نہیں کرنا چاہتےظاہر کرتا ہے کہ عام لوگ دنگا فساد کے خلاف ہیں  لیکن  فرقہ پرست طاقتیں انہیں زبردستی اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہیں۔

اس وسیع تناظر میں اتر پردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ کا  بلند شہر میں یہ بیان چونکانے والا ہے کہ  ’’میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سارے واقعات لاء اینڈ آرڈر(نظم و نسق ) کے نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک منظم سازش تھی، اب تک کی تحقیقات میں ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ اس واقعے میں منظم سازش کا پتہ چل رہا ہے، جسے کچھ لوگوں نے رچی تھی‘‘۔اپنے اس سنگین الزام کی حمایت میں انہوں نے فرمایا ’’آخر کیا بات تھی کہ یہ واقعہ ۳ دسمبر کو ہی رونما ہوا، یہ بات کیوں کہی جا رہی ہے کہ گئوكشی کا واقعہ ہوا، گایوں کو کاٹا گیا، اس کے گوشت کو وہاں لایا گیا اور پھر اکثریتی علاقے میں رکھا گیا، ہم ان اہم باتوں پر غور کریں گے۔ ہم نے انکوائری ٹیم سے یہ کہا ہے کہ سب سے پہلے وہ ہمیں اس سازش کا پتہ لگا کر بتائیں، ہماری یہ جاننے کی کوشش ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اگر ہم نظم و نسق کہہ کر اس واقعہ کو ختم کر دیتے ہیں تو اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائیں گے‘‘۔ او پی سنگھ صاحب تو درست خطوط پر اپنا کام آگے بڑھا رہے ہیں لیکنیہ دیکھنا ہو گا کہ  وہ  اپنے راستے کی سیاسی   رکاوٹوں پر  وہ کیسے قابو پاتے ہیں؟

بلند شہر  معاملے میں سب سے اہم الزام  سبودھ کمار کیعم زاد بہن  منیشاکا ہے جس نے کہا کہ ان کے خیال میں سبودھ  کو پولیس نے مل کر مروایاہے۔ یہ سازش  ہے۔ میرے بھائی اخلاق قتل معاملے کی جانچ کررہے تھے اس لیے ان کو مارا گیا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ وزیر اعلیٰ یا کسی عوامی نمائندے نے ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ منیشا   نے اپنی برہمی کا اظہار اس طرح کیا کہ ’’ ہم پیسہ نہیں چاہتے۔ وزیر اعلیٰ صرف گئو ،گئو ،گئو چلاتے رہتے ہیں۔ اسی گئو ماتا کے لیے میرے بھائی نے جان دے دی‘‘۔ اس طرح کے الزامات ہیمنت کرکرے اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پر بھی لگ چکے ہیں  لیکن افسوس کہ ماضی میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس بار شاید اترپردیش کی پولس اپنے ساتھی کی بابت سنجیدہ ہے لیکن حکومت کا رویہ  اب بھی وہی پرانا  ہے۔ اس کا ثبوت  سبودھ کمار کی خاطر ہونے والی تعزیتی جلسہ کی منسوخی ہے۔ اس میں شک نہیں  کہ  اعلیٰ افسران نےوہ فیصلہ سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہوگا؟  حیرت کی بات یہ ہے  اخلاق سے شروع ہونے والی  آگ سبودھ کو بھی نگل چکی ہے اس کے باوجود حکومت کمبھ کرن کی نیند سو رہی ہے۔ اس سرکاری  غفلت پر یہ شعر صادق آتا ہے؎

کھڑا سرہانے یہ کہہ رہا تھا سروش شانے ہلا ہلا کر

اٹھ اے قیامت کے سونے والے میں تھک تھک گیا ہوں جگا جگا کر

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close