خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

یکم اکتوبر: معمّر اور سن رسیدہ حضرات کا عالمی دن

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

14 دسمبر 1990 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے ہر سال یکم اکتوبر کو ’’معمر افراد کا عالمی دن ‘‘منا نے کا فیصلہ کیا نیز اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس دن کے حوالے سے ہر سال ایک نیا موضوع متعارف کروانےکااہتمام بھی کیاجاتارہا۔

اس دن کو منانے کا مقصد، معمر افراد کی ضروریات، مسائل اور تکالیف سے معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا، ان کے احترام واکرام کو  یقینی بنانےکی فکرکرنااورنحیف وکمزور افراد کے حقوق کی طرف عامۃ الناس کی توجہ مرکوزکرناہے، اس موقع پردنیا بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے۔

معمر افراد کسی بھی قوم کاسب سےقیمتی سرمایہ ہیں ؛جوحالات سےآگاہ وباخبر، جہاں دیدہ اور سرد وگرم چشیدہ ہوتےہیں اس طرح ان کی زندگی کے تجربات نوجوانوں کےلیے مشعل راہ اورخضرطریق ہوتےہیں، نشان منزل کی تعیین اور پرخاروادیوں میں رہنمائی کےلیےان ہی کی آراءسے استفادہ کیاجاتاہےنیزرزم وبزم، محفل وانجمن، گھر وخاندان اور ہرجگہ و ہرمقام میں ان کا وجود باجود خیر وسعادت کاباعث اوربرکت و کامیابی کا ذریعہ ہے۔

 بزرگوں کا احترام ایک خالص اسلامی نظریہ ہے، اسلام نے چھوٹوں پرشفقت و محبت کرنے اور عمر رسیدہ لوگوں کی عزت و احترام کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جوہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حقوق کونہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ابوداؤد و ترمذی)

اس حدیث میں بڑوں کے ادب واحترام نہ کرنے والوں کے لیے سخت تہدید ہےکہ ایسے لوگوں کا رشتہ اسلام سے کمزور ہے۔

بڑے بزرگوں کا مطلب یہ نہیں کہ صرف گھر کے افراد اوروالدین اس میں شامل ہیں ؛بل کہ ہر وہ شخص اس میں داخل ہے جو عمر میں ہم سے بڑا ہو۔ والدین تو عظیم ہوتے ہیں ان کا احترام کرنا اورکہا مانناہمارافرض ہے، انکی جتنی بھی خدمت کی جائے کم ہے، ان کے علاوہ کوئی بھی بڑا بزرگ ہو ان کا بھی احترام کرنا چاہئے کیونکہ بڑوں کی دُعاوں میں بڑا اثر ہوتا ہے۔ سکولوں میں اکثر بڑی عمر کے مرد اورعورتیں ملازمت کرتی ہیں ان کے ساتھ بھی اخلاق سے بات کرنی چاہئے، ہمسایوں میں بھی بڑے بزرگ رہتے ہیں ان کے ساتھ بھی اخلاق سے پیش آنا چاہئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے اپنے اساتذہ بڑے بزرگوں کا احترام کیا کامیابی نے اس کے قدم چومے وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیاب و کامران ہوا۔

نماز میں عمررسیدہ حضرات کی رعایت کا حکم :

نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے، اس میں بھی بوڑھوں کا خاص خیال رکھنےکی تاکیدکی گئی ہے۔انفرادی نماز میں انسان کو بڑی سورت اور لمبی نماز پڑھنے کی اجازت ہے، لیکن جماعت کی نماز میں بوڑھے، کمزور اور بیمار شریک ہوتے ہیں اس لیے امام کو حکم دیا گیا کہ آسانی اختیار کرے اور نماز زیادہ لمبی نہ کرے۔

حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بن کر نماز پڑھائے تو چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے(یعنی زیادہ طول نہ دے)، کیوں کہ مقتدیوں میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔ “(جامع ترمذی)

ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امام پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا جو بوڑھے، کمزور اور ضرورت مندوں کاخیال نہ رکھتے ہوئے لمبی نماز پڑھاتے تھے۔

حضرت ابو مسعود انصاری نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بخدا میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز میں شریک نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ بہت طویل نماز پڑھاتے ہیں۔ حدیث کے راوی ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو کبھی وعظ اور خطبہ کہ حالت میں اس دن سے زیادہ غضبناک نہیں دیکھا، پھر اس خطبہ میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو ( اپنے غلط طرزِعمل سے اللہ کے بندوں کو)دور بھگانے والے ہیں، جو کوئی تم میں سے لوگوں کا امام بنے اور ان کو نماز پڑھائے تو اس کے لیے لازم ہے کہ نماز مختصر پڑھائے، کیوں کہ ان میں ضعیف بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت والے بھی۔(صحیحین)

سن رسیدہ امامت و قیادت کا زیادہ حق دار :

قرآن و حدیث میں مہارت، عمر میں برابری، ہجرت میں سبقت کےاعتبارسے سب برابر ہوں تو اس وقت سب سے زیادہ عمر دراز کو امامت کرنی چاہیے۔

حضرت ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،  جماعت کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سب سے زیادہ کتاب اللہ کا پڑھنے والا ہواور اگر اس میں سب یکساں ہوں تو پھر وہ آدمی امامت کرے جو سنت و شریعت کا زیادہ علم رکھتا ہو اور اگر اس میں بھی سب برابر ہوں تو وہ جس نے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو پھر وہ شخص امامت کرے، جو سن کے لحاظ سے مقدم ہواور کوئی آدمی دوسرے آدمی کے حلقہ سیادت و حکومت میں ا س کا امام نہ بنے اور اس کے گھر میں اس کے بیٹھنے کی خاص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔“

امام بخاریؒ نے کتاب الاذان کے تحت ایک روایت کو ذکر کیا ہے جس میں عمر میں سب سے بڑے کو امامت سپرد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حضرت مالک بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کے چند افراد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے، آپ انتہائی مہربان اور نرم مزاج تھے۔چناں چہ جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہم لوگ اپنے اہل وعیال کی طرف واپس جانے کے مشتاق ہیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ اب واپس چلے جاوٴاور اپنے قبیلے میں ٹھہر کر انہیں دین کی تعلیم دو اور نماز پڑھاوٴ، جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔(بخاری)

معمرحضرات کا من جانب اللہ اکرام :

حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ اس سے جنون اور جذام اور برص کو رفع کردیتا ہے، پھر جب پچاس سال کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب نرم فرما دیں گے، پھر جب ساٹھ سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س سے محبت فرماتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جب اسّی سال کو پہنچتا ہے تو اللہ اس کے حسنات کو قبول فرمالیتے ہیں اور اس کی سیئات کو معاف فرمادیتے ہیں،  پھرجب نوّے سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتے ہیں اور اس کا نام خدائی قیدی ہو جاتا ہے اور اس کے اہل کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (بیہقی کتاب الزہد)

حضرت کعب بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جونوجوان اسلام میں بوڑھا ہو گیا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا“۔(مسنداحمد)

دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بوڑھے شخص کے لیے ایک سفید بال کے بدلہ ایک نیکی عطا کرے گا اور ایک گناہ مٹائے گا۔(ابوداؤد)

ایک اور حدیث میں ہے کہ :حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شرم آتی ہے اس بات سے کہ اپنے بندے اور بندی کو جب کہ وہ اسلام میں بوڑھے ہوں، عذاب دیں۔ (ابن حبان)

بوڑھوں کےادب واحترام  کا حکم :

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کی عظمت واحترام کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان عمر رسیدہ کا اکرام کیا جائے اور اس قرآن کے حامل وحافظ کا جو اس میں غلو نہ کرنے والا ہو اور نہ اس کو چھوڑنے والا اور عادل بادشاہ کا“۔

جس شخص نے عمر رسیدہ کی عزت کی اس کا بدلہ یہ کہ بڑھاپے میں اس کی بھی عزت کی جائے گی۔حضرت انس رضی ا للہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان کسی بوڑھے کی عزت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے شخص کو مامور کرے گا جو اس کے بڑھاپے میں اس کے عزت کرے۔“(جامع ترمذی)

عمر دراز کی عظمت و بڑائی کا تقاضا ہے کہ چھوٹا سلام کرنے میں پہل کرے اور بعض روایتوں میں بڑوں کے ادب و احترام کے لیے کھڑے ہونے اور ہاتھ چومنے کی بابت معلوم ہوتاہے اور امت کے دین دار ومہذب طبقہ میں اس کا معمول پایا جاتا ہے۔

حضرت حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو اس وقت تک برتن میں ہاتھ نہیں ڈالتے جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک برتن میں نہ ڈالیں۔

اسی طرح ادب یہ ہے کہ کھانے سے فراغت کے بعد عمر دراز کو سب سے پہلے ہاتھ دھونے کا موقع دیا جائے یا ان کا ہاتھ دھلایا جائے۔اسی طرح اپنے ہر اجتماعی کام میں اپنے بڑوں کو شریک کرے، ان سے مشورہ کرے۔ان کی رائے پر عمل کرنے سے کام یابی ملتی ہے اور کام پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے اور اس کام میں برکت ہوتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” برکت اکابر کے ساتھ ہے جو، چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔(ابن حبان)

اسی طرح جب کئی افراد جمع ہوں اور ان کے سامنے کوئی چیز پیش کی جائے تو بڑوں کی عزت و مرتبہ کا خیا ل رکھا جائے۔

”حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ مسواک کررہا ہوں، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، تو میں نے چھوٹے کو مسواک پیش کیا تو مجھ سے کہا گیا، بڑے کو دیجیے، لہٰذا میں نے وہ مسواک دونوں میں سے جو بڑا تھا اس کے حوالے کردی۔“(مسلم شریف)

عہد نبوت میں صحابہ کرام بھی بچوں کی ایسی تربیت فرماتےکہ بچے بھی اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنے میں اپنی سعادت و نیک بختی سمجھتے تھے۔کیوں کہ ان کی نشو ونماہی ایسی ہوتی۔ایک مرتبہ صحابہ کرام کے مجمع میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ وہ کون سا درخت ہے جس کی تمام چیزیں کار آمد ہیں ؟حضرت عبداللہ بن عمر کو اس کا جواب معلوم تھا، لیکن معمر صحابہ کرام کی موجودگی میں جواب دینا ادب کے خلاف سمجھا۔

اسلام نے بڑوں کی بے حرمتی کرنے، مذاق اُڑانے، برابھلا کہنے اور ان پر ہنسنے سے منع کیا ہے اور بڑوں کی توہین کرنے والوں کو منافق قرار دیاہے۔طبرانی اپنی کتاب معجم کبیر میں حضرت ابو امامہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تین آدمیوں کی توہین منافق کرسکتا ہے، ایک وہ شخص جو حالتِ اسلام میں بڑھاپے کو پہنچا ہو اور عالم اور عادل امام و بادشاہ“۔

 الغرض اسلام نے عمر رسیدہ و بزرگ کی عزت و احترام کا حکم دیتے ہوئے ان کی موجودگی کو معاشرہ کے لیے خیر و برکت کا بہترین ذریعہ قراردیا ہے۔ایک بوڑھا شخص، چاہے کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، اس کا کوئی بھی وطن ہو، اس کاتعلق کسی بھی نسل و برادری سے ہو، ا س کی عزت و توقیر اور ادب واحترام کرنے کی اسلام نے تاکید کی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close