خصوصی

یکم جنوری کے بھوت سے مودی سرکار خوف زدہ

حفیظ نعمانی
ہر آدمی کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ اسے بدل نہیں سکتا۔ لیکن ہمیں شکایت میڈیا سے ہے کہ وہ جس کو جو جی چاہے بنا دیتی ہے۔ 11؍ ربیع الاول کی رات میں پورے ملک میں مسلمان رحمت عالم محبوب کبریا حضرت محمد ﷺ کا جشن دلادت منا رہے تھے اور فضائل و مناقب یا بیان کررہے تھے یا سن رہے تھے۔ ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس دن بھی اپنے دارالسلام حیدرآباد میں جلسۂ سیرۃ النبی میں جو تقریر کی اسے نوٹ بندی اور ملکی سیاست سے آلودہ کردیا۔ اور بات کو گھما پھرا کر مسلم محلوں اور ہندو محلوں میں لے گئے کہ مسلم علاقوں میں ایک تو بینک ہی نہیں اور ہیں تو بینکوں اور اے ٹی ایم میں پیسے نہیں ہیں۔
میڈیا کے ہر چینل پر صرف ایک ہی بات کہی گئی کہ مسلمانوں کے لیڈر اویسی صاحب نے نوٹ بندی اور بینک یا اے ٹی ایم کو ہندو مسلم بنادیا۔ تکلیف اس بات کی ہے کہ بیشک اویسی صاحب مسلمان ہیں اور بیشک وہ اپنی منفرد سیاست کی وجہ سے اپنے علاقہ سے ممبر پارلیمنٹ ہیں لیکن یہ کہنے کا کسی کو کیا حق ہے کہ مسلمانوں کے لیڈر اویسی نے یہ کہا اور وہ کہا۔ یہ بات اس وقت کیوں نہیں کہی گئی جب بابا رام دیو نے کہا تھا کہ جو نوٹ بندی کا مخالف ہے وہ ملک کا دشمن ہے۔ اور جب کئی دھرم گرو مودی جی کی مخالفت میں بولے تو بابا رام دیور چارپانچ چھوٹے بڑے اپنے اکھاڑے کے سنیاسی پکڑ لائے اور دھرم سبھا میں ان کی مخالفت میں بیان دلوایا اس وقت کیوں نہیں کہا گیا کہ ہندوؤں کے لیڈر بابا رام دیو نے یہ کہا اور ہندوؤں کے لیڈر بابا رام دیو نے وہ کیا؟
اترپردیش میں ایک پارٹی کے لیڈر اعظم خاں ہیں اور دوسری کے لیڈر نسیم الدین صدیقی ہیں۔ وہ اگر سیاسی لیڈر یا وزیر ہیں تو مسلمانوں کے لیڈر نہیں کہے جاتے۔ اویسی صاحب ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ وہ اپنے والد کی بنائی ہوئی پارٹی کے مالک اور وار ث ہیں وہ اس پارٹی کو جہاں چاہے لیجائیں۔لیکن انہیں مسلمانوں کا لیڈر کہہ کر ان کی ہر بات کو مسلمانوں کی بات کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ملک میں نہ جانے کتنے ہندو ہیں جن کی پارٹیاں ہیں اور نہ جانے کتنے دلت ہیں جن کی پارٹیاں ہیں ایسے ہی درجنوں مسلمانوں کی بھی اپنی پارٹیاں ہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں ہے جسے مسلمانوں کا لیڈر کہا جاسکے۔
اویسی صاحب بھی نہ موقع دیکھیں نہ تاریخ نہ دن ہر جگہ وہ کہنے لگتے ہیں جن سے ان کی دوکان چلے۔ ملک میں جب بینک قائم کئے گئے تھے تو مسلمان اس کے حق میں نہیں تھے وہ انگریزوں نے قائم کیے تھے اور مسلمان ترکِ موالات پر عمل کررہے تھے۔ سنبھل جو اب ضلع ہے اس کی آبادی 5لاکھ ہے اور صرف12 بینک ہیں اور اے ٹی ایم بھی12 ہی ہیں۔ایک محلہ دیپاسرائے ہے اب اس کی آبادی 50 ہزار سے کافی زیادہ ہوگی اور برسوں سے وہاں زمیندار رہتے تھے جو اب تجارت کررہے ہیں۔ پہلے بھی دولت ان کے پاس تھی اور اب بھی ہے لیکن بینک نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے جس کسی کا سرمایہ بینک میں ہے ان کے پاس منیجر خود ملنے آتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں کہ کبھی تشریف لائیے۔ اوران میں سے کبھی کوئی چلا جاتا ہے تو سارا عملہ خاطر میں جٹ جاتا ہے اور فکسڈ ڈپازٹ کے فائدے بتاتا ہے۔ مگر یہ مسلمان کرنٹ اکاؤنٹ ہی رکھتے ہیں کیوں کہ سود کو حرام جانتے ہیں۔
اویسی صاحب کو معلوم ہے کہ بینک کا اصل کاروبار اس رقم سے چلتا ہے جو تین برس، پانچ برس یا دس برس کے لیے بینک کے سپرد کردی جائے۔ مسلمان سود نہ لیتا ہے نہ دیتا ہے۔ اور جو تھوڑے سے لوگ فکسڈ کرتے ہیں وہ بڑے سرمایہ دار نہیں ہے۔ اس لیے مسلم علاقوں میں نہ پہلے بینک تھے نہ اب ہیں۔اویسی صاحب نے اس رات کو پے ٹی ایم اور اے ٹی ایم سب کا رونا رولیا اور بات کو بے وجہ ہندو مسلم بنادیا۔ جبکہ ضرورت تھی کہ سنجیدگی کے ساتھ پے ٹی ایم کی سازش کی حقیقت کو بیان کرتے۔ مودی جی نے یہ پتلی گلی اپنے بھاگنے کے لیے دریافت کی ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ 50 دن کے بعد بھی حالات ایسے ہی رہیں گے یا ہوسکتا ہے کہ لائن میں کھڑے ہو کر خیرات مانگنے والوں کی خیرات میں تھوڑا سا اضافہ کردیں لیکن وہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر50 دن میں کندن بن کر ملک نہ نکلے تو میرے ساتھ جو چاہے سلوک کرنا۔ اب وہ پے ٹی ایم کے جال میں الجھا رہے ہیں۔ اویسی صاحب کو گلا پھاڑ کر نہیں سنجیدگی سے اس مسئلہ کو اٹھانا چاہیے تھا کہ پے ٹی ایم یا اے ٹی ایم یہ سب باتیں 50 دن کے بعد ہوں گی جب بینک سے ہم اپنے روپے میں سے جتنا چاہے نکالنے کے قابل ہوجائیں گے اور اگر نہیں ہوگا تو پہلے مودی جی استعفیٰ دیں کوئی دوسرا وزیر اعظم بنے پر اس سے بات ہوگی۔
حیرت ہے کہ جو سڑک چھاپ وزیر اعظم بنادیا جاتا ہے وہ فوراً قابل ہوجاتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ اور دوسرے وزیر جو سیاست کا ’س‘ اور قیادت کا’ ق‘ نہیں جانتے تھے وہ کیش لیس کے فائدے گنا رہے ہیں اور اپنے افسروں سے کہا ہے کہ تم بھی اور باقی عملہ بھی ہر کوئی ہفتہ میں ایک خریداری پے ٹی ایم سے کرے۔ ہم ہریانہ میں ہوتے تو اعلان کرتے کہ کوئی کیش لیس کی بات 50 دن سے پہلے کرے تو اس کے منہ پر گھونسا مارو اور کہو دو کہ صرف 50 دن اور اس کے بعد کی بات کرو۔ کل سابق وزیر مالیات مسٹر چدمبرم نے نوٹ بندی کے ذریعہ کالے دھن کے شکارپر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ کھودا پہاڑ نکلی چوہیا۔ جو جیٹلی کو بہت برا لگا اور انھوں نے میڈیا کے بقول پلٹ وار کیا کہ کانگریس نے اپنی دس برس کی حکومت میں کالے دھن کے لیے ایک کوشش بھی نہیں کی۔
یہ دو لیڈروں کا مقابلہ تھا151لیکن یہ تو ثابت ہوگیا کہ دھن نہ کالا ہے نہ سفید جو ملک سے باہر چلا گیا وہ کالا ہوگیا جسے اگر من موہن نہ لاسکے تو مودی بھی اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ رہا ملک کاکا لا دھن تو اب وہ نئے نوٹوں کی گڈیوں کے ذریعہ مودی جی اور ارن جیٹلی کی ملی بھگت سے چور دروازہ سے باہر آرہا ہے اور سو چوروں میں ابھی صرف دو گرفتار کیے گئے ہیں باقی کہاں ہیں یہ وہی دونوں جانتے ہوں گے جن کو13 دن کے بعد اپنی عزت کی ارتھی نکلنے کا ڈر ان سے کیش لیس کیش لیس کی مالا جپوا رہا ہے۔ 50 دن کی بات معمولی بات نہیں ہے۔ ہم نے اور کیجریوال نے کہا تھا کہ 50 گھنٹے بھی ملک برداشت نہیں کرے گا۔ سو آدمیوں کی موت اور کروڑوں آدمیوں کا بے روزگار ہونا اس کے ثبوت ہیں۔ مودی جی 2014ء میں سب کا وکاس کے نعرہ پر آئے تھے اب سب کا ستیا ناس کردیا اب تو ملک کی جان چھوڑ کر ناگپور چلے جائیں جہاں کی ڈگڈگی پر تین برس رقص کیا ہے۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close