تاریخ ہندخصوصی

یہ آزادی، کیسی آزادی، ایسی آزادی کی تمنا تو نہ تھی

آج کا دن اس لحاظ سے یوم احتساب بھی ہے کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے اپنے ملک کے لئے آزادی کے جو خواب دیکھے تھے، جو تمناّ کی تھی۔ وہ خواب، وہ تمناّ، وہ آرزو کس حد تک پورا ہوئے۔

 ڈاکٹر سیّد احمد قادری

یوم آزادی، یوم محاسبہ بھی ہے کہ ملک کی آزادی کے لئے سیاسی، سماجی اور صحافتی محاذ پر جس طرح لمبی جنگ لڑی گئی اور 15اگست 1947 کو ہمارے مجاہدین آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، اس ملک کے حالات، اس کی ترقی، اس ملک کے عوام کی خوشحالی کس مقام پر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں اور مجاہدین آزادی نے سینکڑوں برسوں تک ملک ملک کو طوق غلامی سے نجات دلانے کے لئے لڑائیاں لڑیں، دار و رسن کی آزمائیشوں سے گزرے، کبھی جلیان والا باغ میں گولیاں کھائیں، کبھی سینکڑوں کی تعداد میں وطن کی عظمت کے لئے علمأ نے پھانسی کے پھندے پر ہنستے ہنستے جھول گئے۔ انگریزوں نے حب الوطنی کی پاداش میں ملک کے مختلف گوشوں میں اتنے سارے لوگوں کے سینوں کو چھلنی کیا اور دار پر چڑھایا کہ ملک کے ہر شہر میں موجود شہید چوک، آج بھی ملک کے لئے جان دینے والوں کی یاد دلاتا ہے۔

آج کا دن اس لحاظ سے یوم احتساب بھی ہے کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے اپنے ملک کے لئے آزادی کے جو خواب دیکھے تھے، جو تمناّ کی تھی۔ وہ خواب، وہ تمناّ، وہ آرزو کس حد تک پورا ہوئے۔ اب ایسے میں ہم ایک نظر آج، اپنے ملک کے منظر نامہ پر ڈالیں تو ہمیں سخت افسوس اور ملال کا سامنا کرنا پڑے گاکہ آج ہر طرف انتشار،خلفشار،بدامنی،بے بسی، عدم روادای، خوف و دہشت،قتل و غارت گری،افراتفری،خوف وہراس،سراسیمگی کا ماحول ہے۔ مذہب کے نام پر منافرت، فرقہ وارانہ تشدد عام ہے۔ بے گناہوں کو پکڑ پکڑ کر نہ صرف زد وکووب کیا جا رہا ہے، بلکہ بڑی بے رحمی اور حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کیا جا رہا ہے۔ معصوم بچیوں کی پارک، مندروں، اسکولوں میں نہ صرف عزت لوٹی جا رہی ہے، بلکہ انھیں بے دردی کے ساتھ اینٹ پتھروں سے کچل کچل کر ختم کیا جا رہا ہے اور انتہا تو یہ ہے کہ ایسے قاتلوں اور زانیوں کی حمایت میں سماجی اور سیاسی لوگ بیان دے رہے ہیں اور جلسے جلوس نکال رہے ہیں۔ اس ضمن میںاقوام متحدہ  کے ایک ذمہّ دارکا بیان آیا ہے کہ بھارت بیمار ذہنیت کا غلام ہے، جہاں زنا بالجبر کرنے والوں کو بچانے کے لئے ریلی نکالی جاتی ہے۔ مذہبی جنون نیملک کے اندر اس قدر پاؤں پھیلا لئے ہیں، اتنی منافرت پھیلا دی ہے کہ ملک کے اندر برسہا برس کی محبت، اخوت،یکجہتی،دوستی، پیار، رواداری کی جڑوں کو روندتے ہوئے قتل و غارت گری کے سانحات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔

جن مسلمانوں نے آزادیٔ ہند کے لئے  انگریزوں سے سینکڑوں برسوں تک لڑائیاں لڑیں، آج ان سے وہ لوگ حب الوطنی کا ثبوت مانگتے نظر آ رہے، جن کا ملک کی آزادی میں کوئی رول نہیں رہا بلکہ انگریزوں کومعافی نامہ اور حمایت کی یقین دہانی کراتے رہے۔ یہ لوگ آج مسلمانوں کی داڑھیوں کو نوچ نوچ کر جئے شری رام کہنے پر مجبور کرتے نظرآ رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اندھے مسلمان فقیر کے ہاتھ میں قومی جھنڈا دے کر وندے ماترم کی صدا لگانے کو مجبور کررہے ہیں۔ جن لوگوں کا مذہب سے دور کا واسطہ نہیں، وہ لوگ گائے کے نام پر ملک کے اندر انتشار اور بد امنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حکومت کے دئے گئے لائسنس کے مطابق ایک جانب گائے اور دیگر ایسے جانوروں کے گوشت کا سب سے بڑا سپلائر اور ایکسپورٹر الکبیر، جس کے مالک اور ڈائریکٹر برہمن اور بنیا  ہیں، انکے گجرات کے مذبح خانے میں روزانہ ایک ہزار سے زیادہ گائے، بیل، بھینس کو ذبح کیا جاتا ہے اور زبردست مالی فائدہ اٹھا تے ہوئے بیف کا یہ تاجر گوشت کے ایکسپورٹ کے معاملے میں ایشیا کا پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج گائے کو ذبح کرنے اور گائے کا گوشت کھانے کا جھوٹا الزام مسلمانوں پر لگا کر بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ ہجومی تشدد میں پیٹ پیٹ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کے گھروں کے فریز میں گوشت ڈھوندا جا رہا ہے۔ رمضان تک میں روزہ رکھے ہوئے مسلم نوجوان تک کو نہیں بخشا گیا۔ ان کے تشخص، ان کے وجود، اور ان کی شناخت تک کو مذہب کے نام پر ختم کرنے کی منظم سازشیں، منصوبہ بند طریقے سے رچی جا رہی ہیں۔ آسام کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کو ایک جنبش میں غیر ملکی قرار دے دیا گیا۔ مسلمانوں کے مدرسوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور ایسے مسلم اداروں کو شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

حالانکہ ملک میں فرقہ پرستوں نے ایسے کئی ایسے اسکول کھلم کھلا قائم کر رکھے ہیں، جہاں منظم طور مسلمانوں کے خلاف درس دیا جا رہا ہے، طرح طرح کے جھوٹ پر مبنی نصاب تیار کر ان اسکولوں کے معسوم بچوں کے ذہن میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو قتل کرنے کی باضابطہ خطرناک اسلحہ کے ساتھ ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ بہت بڑی تعداد میں آن لائن تلوار، ترشول منگانے کی بھی بات سامنے آ چکی ہے۔ ممبئی سمیت پانچ شہروں میں دھماکہ کئے جانے کی زبردست سازش کو ممبئی کے اے ٹی ایس نے سناتن سنستھا ن کے سرگرم رضاکار ویبھو راوت، شرد کالسکار اور سدھا نواگھو گھلکر وغیرہ کو بڑی تعداد میں بموں، ڈیٹونیٹر وغیرہ کے ساتھ ممبئی کے قریب نالاسوپارہ میں گرفتار کر بے نقاب کیا ہے۔ اگر یہ لوگ خطرناک بموں کے ساتھگرفتار نہیں کئے جاتے تو یقینی طور پر ملک کے پانچ شہروں میں دھماکے ہوتے، نہ جانے کتنے معصوم اور بے گناہ کی جانیں جاتیں اور الزام مسلم نوجوانوں پر لگتا، انھیں دہشت گرد قرار دے کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر ان سارے دھماکوں کی ذمہّ داری لینے پر مجبور کیا جاتا اور ہفتوں گودی میڈیا پر مسلم دہشت گردی پر مباحثے چلتے رہتے، مسلمانوں کو ظالم اور دہشت گرد ثابت کیا جاتا رہتا۔ لیکن شکریہ ممبئی کے بہادر اور جانباز اے ٹی ایس افسران کا، جنھوں نے اتنی بڑی منظم سازش کو بے نقاب کیا۔ لیکن واہ رے ملک کا میڈیا، کہ اتنے بڑے ملک کو دہلا دینے والی سازش کے سامنے آنے کی ابھی تک خبر ہی نہیں۔

یہی اگر ویبھو کی جگہ وقار کا نام سامنے آتا، تو اس وقت میڈیا کی چیخ و پکار دیکھتے اور سنتے بنتی۔ میڈیا، جو دراصل حکومت اور عوام کے درمیان پُل کا کام کرتا ہے اور عوام کے مسائل سے حکومت کو آگاہ کرتا ہے اور حکومت کے غلط فیصلوں خاص طور پر عوامی مفادات کے منفی احکامات پر عوامی رائے عامہّ بنانے میں اہم رول ادا کرنے کے لئے ہے۔ میڈیا، خواہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، دونوں ہی کی جمہوری ملک میں بڑی اہم ذمہّ داریاں ہیں، ان ہی ذمہّ داریوں کو دیکھتے ہوئے صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ان دنوں صحافت کو عبادت کی بجائے پوری طرح تجارت بنا دیا گیا ہے۔ اسی ملک بھارت کی صحافت جو کبھی سیاسی،سماجی، معاشرت،ثقافتی، اقتصادی،تہذیبی اور اعلیٰ قدروں کی کہ ترجمان ہوا کرتی تھی۔ جس نے آزادیٔ ہند میں بہت اہم اور مثبت کردا دا کیا تھا۔ وہ میڈیا، وہ صحافت ان دنوں کس قدر ذلیل و رسوا ہو رہی ہے  بیرون ممالک میں یہاں کی صحافت کو مذاق کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ جس طرح ملک کے میڈیا ہاؤس کو خریدا جا رہا ہے اور انھیں حکومت کے غلط اور عوام مخالف فیصلوں پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ بے حد افسوسناک ہی نہیں بلکہ ملک کے لئے خطرناک اور تشویشناک ہے۔ ایک آر ٹی آئی کے مطابق سرکاری خزانے سے میڈیا کو اشتہار کے نام پر 11 ارب روپئے دئے گئے، جو اب تک کا سب سے برا ریکارڈ ہے۔ جو اخبارات اور چینل بکنے کو تیار نہیں، انھیں طرح طرح سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان دھمکیوں کا ہی یہ اثر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہی یشونت سنہا، شتروگھن سنہا اور ارون شوری جیسے لوگ رافیل ڈیل کو اب تک کا سب سے بڑا گھاٹالہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس بہت اہم مسلۂ پر  بکاؤ چینلوں پر کو ڈیبیت نہیں،انتہا تو یہ ہے کہ یشونت سنہا، شتروگھن سنہا اور ارون شوری جیسے سرکردہ شخصیات کے پریس کانفرنس تک کو بائیکاٹ کیا گیا۔ ارون شوری کا تو یہ بھی بیان آیا ہے کہ انیل امبانی کا ان کے پاس میسیج آیا ہے کہ رافیل ڈیل کو نہ اچھالیں، جس پر ارون شوری نے کہا ہے کہ اس میسیج کو ڈھمکی سمجھوں یا گزارش۔ ملک سے بینکوں کو چونا لگا لگا کر بڑے بڑے تاجر ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔

ملک کے بینک اس قدر خستہ حال ہو گئے ہیں کہ انھیں قرض چکانے کے لئے اپنی عمارتوں کو فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ پنجاب بینک کی مثال ابھی سامنے ہے۔ جس پناما کے اجاگر ہونے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم کو نہ صرف اقتدار سے برطرف ہونا پڑا بلکہ جیل تک جانا پڑا۔ اس پناما معاملے میں، بھارت کے بھی کئی سرکردہ لوگوں کے نام سامنے آ ئے ہیں، لیکن ہمارے وزیر مالیات ارون جٹلی کا فرمان ہے کہ پناما معاملے میں پاکستان کی طرح کسی کو بھی سزا نہیں دی جائے گی۔ کیوں نہیں دی جا سکتی ہے؟ کرپشن کرپشن ہوتا ہے۔ جبکہ یہ حکومت تو ملک سے کرپشن مٹانے کو آئی تھی۔ پھر کرپٹ لوگوں کو بچانے میں کیوں لگ گئی۔ دراصل مرکزی حکومت خود ہی اتنے سارے کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے کہ یہ  پناما اور ملک کی مختلف ریاستوں میں آئے دن ہونے والے کرپشنوں پر کیسے لگام لگا سکتی ہے؟

اب زیادہ دن نہیں بچے ہیں، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کے جتنے کرپشن سامنے آئے ہیں، ان میں صرف ایک ویاپم گھوٹالہ ہی اتنا بڑا گھوٹالہ ہے کہ دوسرے گھٹالوں کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو بھی سبھوں پر بھاری ہے۔ یہ وہ گھوٹالہ ہے، جس کی پردہ پوشی کے لئے اب تک کئی اہم شخصیات کے مُنھ بند کرنے کے لئے ہمیشہ کے لئے انھیں خاموش ہی کر دیا گیا۔ راجستھان حکومت میں وسندھرا راجے سندھیا نے بھی کرپشن کے معاملے میں کئی ریاستوںکو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مائنس گھوٹالہ، بجری گھوٹالہ، سُرساگر زمین گھوٹالہ وغیرہ اتنے سارے گھوٹالے ہیں کہ اس کے لئے ایک الگ سے طویل مضمون کی ضرورت ہے۔ وسندھرا حکومت کے سر پر اب جبکہ انتخاب کی تلوار لٹک رہی ہے تو ہندو، مسلم کارڈ، جو بی جے پی کا اہم ہتھیار ہے کو استعمال کرتے ہوئے اس ریاست کے کئی اہم گاؤں جو کہ مسلمانوں کے نام پر ان کی خدمات اور ایثار کے باعث ہیں۔ انھیں ایک خاص مذہب کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے بدلا جا رہا ہے اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ چونکہ ان گاوؤں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، اس لئے مسلمانوںکے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے وسندھرا حکومت نے 27 گاؤں کے نام بدلنے کی تجویز مرکزی حکومت کو بھیجی نہیں تھی، لیکن مرکزی حکومت نے ابھی فی الحال 4 گاؤں کے نام بدلنے کی اجازت دی ہے۔

ملک کے بدتے ایسے مشکل حالات کے پیش نظر اور بڑھتی فرقہ پرستی پر عدلیہ نے جب سخت ریمارکس پاس کئے تومودی حکومت  نے بہت ہی واضح لفظوں میں عدلیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ہمارے خلاف تیکھے ریمارکس سے بچے۔ اس تنبیہ سے قبل بھی مرکزی حکومت کے وزیر قانون نے عدلیہ کو چتاونی دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ خود کو سرکار نہ سمجھے۔ ابھی حال ہی میں مہاراشٹر ہائی کورٹ میں نریندر دابھولکر اور گووبند پنسارے کے اہل خاندان نے ایک اپیل داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں مہاراشٹر حکومت سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔ اس عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے جسٹس اس سی دھرم دھیکاری اور جسٹس بھارتی ڈانگرے کی بنچ نے بہت سخت لیجہ میں کہا ہے کہ آج ہمارا ملک برے دور کا گواہ بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی آزادی چھنتی جا رہی ہے۔ کوئی شخص نہ اپنی مرضی سے جی سکتا ہے اور نہ گھوم سکتا ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے اس بنچ نے تلخ انداز میں یہ بھی کہا کہ آج بھارت کے باشندوں کو لگ رہا ہے کہ ہم سب آزاد ہوا میں سانس نہیں لے سکتے۔ آزادی کے ساتھ بنا کسی رکاوٹ کے اپنی بات نہیں کہہ سکتے۔ مہاراشٹر ہائی کورٹ کے علاوہ بھی ایسے تیکھے  اور افسوسناک تبصرے کئی کورٹ کے سامنے آ چکے ہیں۔ عدلیہ کے تئیں حکومت اور حکومت کے پسندیدہ ججوں نے جس طرح حکومت نوازی کا ثبوت دیا ہے، اس کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں نے پریس کانفرنس کر جیسے حالات بیان کئے تھے، وہ اب ملک کی تاریخ کا ناپسندیدہ گواہ بن چکا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ ملک کے صدر، نائب صدر، وزیراعظم، وزرا اعلیٰ  اور دیگر اہم و زمہّ دار عہدوں کی ذمہّ داریاں قبول کرنے سے قبل جس آئین کے تحت حلف لیتے ہیں، اس آئین کو دلّی کے جنتر منتر پر سر عام برہمن واد زندہ باد، منوواد زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے لوگوں نے نذرآتش کیا گیا اور پولیس وطن دشمنی کی اس حرکت پر تماشہ بین  بنی رہی۔ اس سے بڑا اس ملک کے لئے  اب کیا المیہ ہو سکتا ہے۔ آئین کی رو سے ایسے لوگوں کو جو ملک کے آئین کا احترام نہ کریں، وہ غدا ر وطن ہیں۔ ایسے غدار وطن کو بھی کن لوگوں کی حمایت حاصل ہے، یہ بتانے کی اب ضرورت نہیں۔

 ہمارا ملک اس وقت ایک عجیب مشکل حالات اور وقت سے گزر رہا ہے اور اقتدار پر قابض رہنے کے لئے جیسے جیسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ملک کی اقتصادی، معاشی، سماجی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی صورت حال بد سے بد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے آج یوم آزادی کے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام لوگ بہت سنجیدگی سے ان مسائل پر غور و فکر کریں،ورنہ ملک میں جس طرح لوگوں کے اندر مایوسی  اور بے چینی بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، کسان خود کشی کر رہے ہیں، فوجی ناراض چل رہے ہیں، بے باک اور جرات مند صحافیوں کو خاموش کیا جا رہا ہے، دلتوں، مسلمانوں کے حیات تنگ کئے جا رہے ہیں خواتین احتجاج میں اپنے سروں کا مونڈن کرا رہی ہیں، بچیوںکو ہوس کا  شکار بنایا جا رہا ہے اور صنعت کاروں کی جس طرح تجوریاں ملک کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے بھرا جا رہا ہے، ایسے میں راہل گاندھی کی یہ بات حقیقت سے قریب لگتی ہے کہ ملک کے پندرہ، بیس لوگوں کے اچھے دن ضرور آ گئے ہیں، باقی پورا ہندوستان رو رہا ہے۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close