خصوصیہندوستان

یہ ملک حقیقی آزادی کی تلاش میں ہے!

 مفتی محمد صادق حسین قاسمی

  ہمارے ملک کو آزاد ہوئے70 سال گزرچکے ہیں ۔ آزادی کا کارواں 15 اگسٹ 1974ء کو 14۔15 اگست کی درمیانی رات کے بارہ بجے اپنی منزل پر پہنچ گیا ،جب پورا ہندوستان محو ِخواب تھا تو ہندوستان کا مقد رجاگ گیا اور ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک بارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سے ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوگیا۔خوشی ومسرت کے شادیانے بجائے گئے اور ظلم وستم کے ایک نہایت تاریک اور سیاہ دور کا خاتمہ ہوا ۔

آزادی ایسے ہی بیٹھے بٹھائے نصیب نہیں ہوئی بلکہ اس کے لئے آنکھوں میں آزادی کے خواب سجاکر ،دلوں میں جذبہ ٔ حریت کے ولولوں کو جگاکر قربانیاں دی گئیں ،جانوں کا نذانہ پیش کیا گیا،تن ،من ،دھن کی بازی لگائی گئی،تب جاکر آزادی کے یہ دن دیکھنے کو ملے ہیں ۔انگریزوں کے ظلم وجور سے نجات دلانے ،اس ملک کی عظمت ِ رفتہ کو بحال کرنے اور یہاں کے رہنے والے تمام شہریوں کو غلامی کی زنجیروں کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں نے ناقابل ِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔اس وطن کا چپہ چپہ مسلمانوں کی ایثار ووفاداری کی گواہی دے گا ،بلند وبالا قطب مینار،حسین وخوبصورت تاج محل ،سرخ ولکش لال قلعہ اور اس کے علاوہ یہاں کا ذرہ ذرہ مسلمانوں کی عظمتوں کے گن گائے گااور ہماری وطن دوستی اور ملک وملت سے محبت کا ثبوت پیش کرے گا۔

  ؎   دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت

    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

15 اگست کا تاریخ ساز اور انقلاب انگیز دن جب بھی آتا ہے پورے ملک میں خوشی ومسرت کے ترانے گنگنائے جاتے ہیں ،اور جشن وطرب کاماحول ہر طرف چھایا ہواہوتا ،لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے وزیر اعظم کا قوم کے نام خطاب ہوتا ہے ،ملک کی ترقی اور منزل کی طرف تیز رفتاری کا جھوم جھوم کر تذکرہ کیا جاتا ہے۔یقینا 15 اگست کا دن ہر شہری اور ہرہندوستانی کے لئے خوشی ومسرت کا دن ضرورہے،اور یہ دن بلاشبہ جشن منائے جانے کے قابل بھی ہے۔لیکن یہ دن صرف زبانی بلند وبانگ دعوؤں کا نہیں ہے اور نہ ہی جھوٹی شان وشوکت کے اظہار کا دن ہے ۔

      آزادی کا یہ عظیم الشان دن اپیل کرتا ہے کہ اس ملک کی سالمیت اور یہاں کی خوبصورتی کو داغ لگنے نہ دیا جائے ،اس گلشن کے رنگ برنگ پھولوں کو بے دردی کے ساتھ مسلانہ جائے،یہاں رہنے والوں پر کسی بھی طرح کا ظلم وستم نہ کیا جائے۔کیوں کہ سب نے مل کربڑی امیدوں اور آرزؤں کے ساتھ اس ملک کو آزاد کرایا،راحت وسکون کی زندگی بسر کرنے اور اپنے مذہب وتہذیب پر پورے اختیار وآزادی کے ساتھ عمل کرنے کے لئے ناقابل ِ تصور قربانیاں دی ہیں ،سر پر کفن باندھ کر دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے ہیں ۔آزادی کا دن یہ ملک کے حکمرانوں سے دردمندانہ گزارش کرتا ہے کہ یہ ملک کا امتیازگنگا جمنی تہذیب ہے ،یہاں ہندو بھی رہتے ہیں ،مسلمان بھی ،یہاں سکھ بھی آباد ہیں ،عیسائی بھی ،یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے بستے ہیں اور یہی اس کی خوبصورتی ہے لہذا کسی بھی طرح ان پر ظلم وتشدد نہ کیا جائے ، ان کی آزادی کو سلب نہ کیا جائے ،ان پر پابندیوں کو عائد نہ کیا جائے۔

    لیکن افسوس ملک کے خود کو ٹھیکیدار سمجھنے والے مکار وعیار،خود غرض ومطلب پرست اورنفرت کے سوداگر سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اس کی عظمت کو پامال کردیا،اس کی حسن کو داغ دار کردیا،اس چمن کو اپنے پرفریب سیاست کا میدان بنادیا،امن ومحبت کے گہوارہ کو نفرت وعداوت کا بازار بناکر رکھ دیا ،اب یہاں اسی خاک ِ وطن پر جان دینے والوں پر ظلم ہوتا ہے،بے لوث محبت کرنے والوں کو غدار بتایا جاتا ہے،سب سے زیادہ خون بہانے والوں اور جانوں کو نچھاور کرنے والوں پر زمین تنگ کی جاتی ہے ،فرقہ پرستی کی آگ میں جلایا جاتا ہے،مذہب کے نام ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ،اپنے ناپاک منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بے قصور انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے،تنگ نظری ،تعصب کا نشانہ بناکر گھر بار کو اجاڑا جاتا ہے،اور تمام کو ایک رنگ میں رنگنے کے لئے حالات ومشکلات کو وقفے وقفے سے پیدا کیاجاتا ہے۔

 ہماری ہی قربانیوں پر کامیابی کے خواب پورے ہوئے ،تو ایسے میں مسلمانوں کو فراموش کردینا یاا ن کے ساتھ حق تلفی والا معاملہ کرنا بلاشبہ وطن کے دستور اور آئین کی خلاف ورزی کرنا ہے ۔لیکن عجیب بات ہے کہ آج سب سے زیادہ بے مروتی کا سلوک مسلمانوں ہی سے کیا جارہا ہے ۔مسلمانوں کے داخلی مسائل پر ،مذہبی شعائر پر وقفہ وقفہ سے انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ،دریدہ ذہن ،اور تعصب پسند و فرقہ پرست افرادمسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں ،اور من مانی باتیں بے دریغ اور بے خوف وخطر کہہ کر الفت ومحبت کے ماحول کو اور بھائی چارگی کی فضاء کو مکدر کرنے پر ہیں ۔جو لوگ اس ملک کے وفادار ہیں اور جنہوں نے اپنے خون سے اس گلشن کی آبیاری کی آج انہیں پر دہشت گردی کے الزامات لگاکر آلام و مصائب سے دوچار کیا جارہا ہے اور اس وقت نت نئے انداز سے ہندستان کے جمہوری نظام اور یہاں کی رنگارنگی کو خراب کرنے کی پوری کوشش کی جارہی  ہے ،آزادی کا تاریخی دن ہر ہندوستانی کو ایک دوسرے کے قدر دانی کرنے اور ملک کے احترام کرنے کا سبق دیتا ہے ۔اور ملک کو اس مقام تک لانے والے شہیدوں کی قربانیوں اور آزادی دلاکر خود مختاری دلوانے والوں کی وفاؤں کویاد رکھنے کا پیغام دیتا ہے ۔اور بے جا کسی کے بھی دستوری حق میں مداخلت سے باز رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔

    اس وقت ہمارے ملک کے جو حالات ہیں ان سے ہم اچھی طرح واقف ہیں ،پورے ملک کی فضا کوزہر آلود کردیا گیا ہے اور بالخصوص مسلمانوں پر ہر روز ایک نیا ستم ڈھانے کی کوشش کی جارہی ہے،بے قصوروں کو گائے کے نام پر مارا اور قتل کیا جارہا ہے اور مرکزی حکومت صرف خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی ہے،بلکہ انسانوں نما درندوں کو پوری چھوٹ دی ہوئی ہے۔ایسے حالات میں اگر آزادی کا یہ تاریخی دن آتا ہے تو دل بے قرار ہوجاتا ہے کہ کیسے کہاجائے کہ آزادی یہاں ہر کسی کو نصیب ہوگئی؟بلکہ آج بھی یہاں کے شہری حقیقی آزادی کی تلاش میں ہیں ،اور اپنوں کے ظلم سے آزادی پانے اور نفرتوں سوداگروں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے فکر مند ہے۔آزادی کے اس دن میں ظلم کی اس سیاہ رات کے خاتمہ کے لئے ہمیں میدان میں آنا ہوگااور حق وانصاف کی صدا بلند کرنا پڑے گااور ظلم وبربریت کے خلاف آواز اٹھا ہوگا۔

 اے خاک ِ وطن اب تو وفاؤں کا صلہ دے

  میں ٹوٹتی سانوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close