خصوصی

یہ ہےبھاجپا، یہ ہے بھارت میری جاں

ڈاکٹر سلیم خان

کرن جوہر چاہتےتھے کہ اس دیوالی پر ان کی فلم اے دل ہے مشکل ریلیز ہو لیکن ممبئی کے نئے ڈان راج  ٹھاکرے نے انہیں  دیش دروہی قرار دے کر ان کا دیوالیہ نکالنے کا فرمان نکال دیا۔ دیش بھکتوں کی سرکار میں دیش دروہ کا  لقب کوڑیوں کے مول بک رہا  ہے ہندوتواوادیوں سے اختلاف کرنے والا ہر شخص ملک کا غدار کہلاتاہے ۔ یہاں تک کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھی نہیں بخشا جاتا جبکہ وہ ہندوستان  کی تنظیم نہیں بلکہ ایک عالمی ادارہ ہے اور اس کی وفاداری کسی خاص ملک کے بجائے انسانی حقوق سے ہے۔  بیچارےکرن جوہر  کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نےوزیراعظم کے لاہوردورے سے متاثر ہوکر پاکستانی فلمی اداکار فواد خان کو اپنی فلم میں لے لیا ۔ اس بیچارے کو کیا پتہ تھا کہ مودی جی کی اداکاری  بینڈ باجا اور باراتی میں فلاپ  ہوجائیگی اوروہ بہت جلدفیملی ڈرامہ چھوڑ کر ایکشن فلموں  کا رخ کریں گے ۔ ویسے مودی جی کا ناک نقشہ لواسٹوری میں سجتا نہیں ہےحالانکہ اس میدان میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے انہوں نےاپنی دھرم پتنی  جسودھا بین کو تین تو دور ایک بھی طلاق دئیے بغیر اپنی زندگی سے نکال دیا لیکن  پھر بھی بات نہیں بنی ۔ سچ تو یہ ہے کہ  ان کے ساتھ تو دنگا فساد اور انکاونٹر  کےاسپیشلسٹ امیت شاہ کی ہی بنتی ہے۔

کرن جوہر کے مطابق ان  کےدل میں  اس  مشکل  کا خیال 2014 میں آیا ۔ نواز شریف کو اپنی حلف برداری  میں جب مودی جی نے بلایا تو اچھے اچھوں کو غلط فہمی ہوگئی ۔ اس نے فلم کی شوٹنگ گزشتہ سال اس وقت شروع کی کہ جب مودی جی لاہور میں نواز شریف کے گھر بن بلائے تشریف لے گئے تھے اور ان کی والدہ کے چرن چھورہے تھے۔  ایسے میں اگر کرن جوہر کسی خوش فہمی کا شکار ہوگیا تو اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ کرن جوہر س غلطی یہ  نہیں ہوئی کہ اس نے فواد خان کو اس فلم میں ایک معمولی کردار ادا کرنے کیلئے سائن کرلیا بلکہ رنبیر کپور کو لے کر فلم بنانا ایک  پہاڑ جیسی چوک تھی جس میں سے نہر نکالنے کیلئے راج جیسے فرہاد سےتیشہ چلوایا گیا  ۔ 2013 میں ریلیز ہونے والی ’’یہ جوانی ہے دیوانی‘‘ کے بعد سے رنبیرکی  ہر فلم باکس آفس فلاپ ہوئی  ہے ۔

’’اے دل ہے مشکل‘‘ کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی اس لئے اس فلم کو چرچے میں آنے کیلئے تنازع درکار تھا اور بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا کے طرز پر یہ ٹھیکہ غالباً راج ٹھاکرے کو دیا گیا  اور اس نے اپنا کردار خوب نبھایا۔  ایسی  پبلسٹی کرن جوہر کی کسی فلم کو نصیب نہیں ہوئی اس کیلئے راج صاحب کو فلم فئیر کا لائف ٹائم ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔ ویسے کچھ کچھ ہوتا ہے اور کبھی خوشی کبھی غم جیسی فلمیں بنانے والے کرن جوہر کو پہلے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔ اب  اگر فلم میں تھوڑا بہت بھی دم ہوگا تووزیراعلیٰ دیویندر فردنویس کے آشیرواد سےکرن  جوہرکے پیسے تو نکل ہی آئیں گے۔  وزیراعلیٰ فردنویس اور راج ٹھاکرے کی جوڑی 1977  کی فلم دھرم ویر کی طرح ہے۔ جس طرح دھرمیندر اور بچن کی جوڑی پردۂ سیمیں پرہٹ ہوتی  تھی اسی طرح  دیویندر اور راج  کی سیاست بھی خوب چلتی ہے ۔ راج ٹھاکرے گزشتہ دو مرتبہ انتخابات کے موقع پر اپنا سیاسی دیوالیہ پیٹ کر بی جے پی کے وارے نیارے کرچکے ہیں اور اب ممبئی کے بلدیاتی انتخاب میں بھی یہی کرنے جارہے ہیں ۔ اس بار تو ان کو پورا معاوضہ پیشگی مل چکا ہے۔

دیویندر فردنویس کو پتہ ہے کہ اس بار میونسپل انتخاب میں کامیابی گزشتہ مرتبہ کی طرح آسان نہیں ہے۔ اچھے دنوں کے خواب چکناچور ہوچکے ہیں ۔ اورنگ آباد جیسے شہر میں بی جے پی کو ایم آئی ایم سے کم نشستوں پر کامیابی ملی اور اب تو مراٹھا سماج بھی ان کے خلاف سڑکوں پر اترا ہوا ہے ۔ ایسے میں شیوسینا کی کمان توڑنے کیلئے مہاراشٹر نونرمان سینا کے انجن سے اسے روندنے کی کوشش کی گئی۔ ادھو ٹھاکرے آئے دن وزیراعظم کو ان کے کمزور موقف پر طعنے دیتے رہتے تھے ایسے میں اچانک راج ٹھاکرے نے میدان میں اتر کر ان سے دیش بھکتی کے تیر چھین لئے ۔ راج نے جب یہ اعلان کیا کہ ہم فلم بینوں کے ہاتھ پیر توڑ دیں گے تو ادھو کے آنکھوں کے آگے اندھیر اچھا گیا۔ اب پاکستان دشمنی کی بنیاد انتخاب لڑنے والے  چچا زاد بھائی مہابھارت کےکرن ارجن  کی مانند ایک دوسرے کے مدمقابل  ڈٹےہوئے ہیں اور وزیراعلیٰ فردنویس گرو درونا چاریہ بن کر راج دھرم نبھا رہے  ہیں ۔

دیویندر فرد نویس کا سیاسی تیر تو نشانے پر لگا لیکن  دیوالی کےرنگ میں بھنگ اس پانچ کروڈ کے کفارے نےڈال دیا جو ٹیبل کے اوپر ادا کی گئی۔ اس سے طرح طرح کے شکوک و شبہات کو پیدا ہوگئے۔ لوگ سوال کرنےلگےاگر اوپر اتنا ہے تواندر کتنا ہوگا ؟ کانگریس کے سنجے نروپم نے فردنویس کو دلال قراردے کر خفیہ میٹنگ کی تفصیلات  منظر عام پرلانے کا مطالبہ کیابصورتِ دیگر عدالت میں جانے کی دھمکی دی ۔ ادھو نے کہا کہ جو لوگ پردہ پھاڑنے کی دھمکی دے رہے تھے وہ پردہ اوڑھ کر (وزیراعلیٰ کی ضمانت پر) فرار ہوگئے  ۔ فوج نے  جب اس دلالی کی  رقم لینے سے انکار کرکے راج کےمنہ  پر زوردار  طمانچہ توفردنویس اپنے گال سہلاتے ہوئے شریر بچے کی طرح کہنے لگے میں توپہلے ہی مخالف تھا  اگر ایسا ہے تو پہلے اعتراض کیوں نہیں کیا؟

وزیراعلیٰ نے راج ٹھاکرے کے ساتھ اپنی گفتگو کے مدافعت میں کہا اگر حریت کانفرنس اور نکسلوادیوں سے گفت و شنید ہو سکتی ہے تو راج ٹھاکرے سے کیوں نہیں؟ وزیراعلیٰ کے علاوہ کوئی اور اگرراج ٹھاکرے کا موازنہ حریت سے کرتا تو ہنگامہ ہوجاتا ۔ راج اپنے چچا زاد بھائی ادھو پر تو خوب غراتے ہیں لیکن دیویندر کی بات کا برا نہیں مانتےاس لئے کہ مثل مشہور ہے چور چور موسیرے بھائی ۔ اس دوران جہاں ممبئی میں  وزیراعلیٰ سے استعفیٰ طلب کیا جارہا تھا فلمساز انوراگ کشیپ  اس لڑائی کو دہلی لے گئے اور  وزیراعظم سے لاہور دورے کیلئے معافی کا مطالبہ کردیا ۔ اس معاملے میں سب سے اچھا بیان لالو یادو نے دیا کہ   گائے اور رام کے نام پر پیٹ نہیں بھرا اس لئے کوئی فوج  کے نام  پر ووٹ مانگ رہا ہے تو کوئی نوٹ مانگ رہا ہے کچھ تو شرم کرو۔

ممبئی  کے سیاسی پردے پر جب دھرم ویرکی کہانی  چل رہی تھی اس وقت لکھنو میں 1977  کی ہی فلم  چچا بھتیجا کی کہانی دوہرائی جارہی تھی۔   ویسے ان سیاسی ڈراموں کو اپنے زمانے    کامیاب ترین  ہدایتکار  منموہن  دیسائی  بھی دیکھتے تو سر پیٹ لیتے  ۔ عربی میں مثل مشہور ہے اقرب عقرب  یعنی جو قریب ہے وہی بچھو ہے ۔ چچا بھتیجے میں عام طور پر نہیں بنتی ۔  اس رشتے کے بگڑنے کا سواری سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ سائیکل والے  اکھلیش یادو اور شیوپال یادو کے درمیان جو رشتہ  ہے وہی تعلق انجن والے راج  ٹھاکرے اوربال  ٹھاکرے کے درمیان بھی ہے۔ یہ سارے علاقائی سیاسی دنگل کے سلطان ہیں ۔ ان میں سے ایک ہندوتوا کا علمبردار ہے تو دوسرا سماجواد ی نظریات کا حامل ہے اس کے باوجود شیوپال  کی سائیکل  پنچر ہوتی ہے توملائم  سنگھ کی ہوا نکل جاتی ہے اورایم این ایس کےانجن کا دھواں ادھو کا منہ  پر کالک پوت دیتا ہے۔  مذہب و مسلک کا فرق بھی  اس رشتے پراثر انداز نہیں ہوتا  مولانا کلب صادق اور مولانا کلب جواد ہوں یا مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی  ان سب کے دلوں کی یہی مشکل ہے۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ جس طرح فواد خان کرن جوہر کیلئے مشکل  بن گیا اسی طرح  اکھلیش اور یش پال  کے رشتوں کی دراڑ بھی مختار انصاری کے قومی ایکتا دل کو ایس پی میں ضم کئے جانے کے بعد سامنے آیا۔ اکھلیش نے یش پال کے اس فیصلے  کی یہ کہہ  کر مخالفت کی کہ  مختار کا شمار اترپردیش کے دبنگ سیاستدانوں میں ہوتاہے۔ عوام کا خیال  تو یہ ہے کہ  ایس پی کاانتخابی  نشان اگر سائیکل نہ ہوتا تو لاٹھی ہوتا ۔ جس قدر غنڈے بدمعاش اس پارٹی میں ہیں شاید ہی کسی  اورجماعت میں ہوں اس کے باوجود اکھلیش کے ذریعہ مختار انصاری کی مخالفت دراصل یش پال کے خلاف دھرم یدھ تھا۔ اس کے بعد ملائم کے یار امرسنگھ کی پارٹی میں آمد کو لے کر امرپریم کی داستان ِ الف لیلیٰ کچھ ایسے شروع ہوئی ہے کہ کمبخت شیطان کی آنتختم  ہی نہیں ہوتی  ۔

اس مہابھارت کو دلچسپ بنانے کیلئے اس میں رامائن کو بھی شامل کردیا گیا ۔ پہلے تو یہ خبر آئی کہ اکھلیش کی سوتیلی ماں سادھنا اور بیوی ڈمپل میں کچھ کہا سنی ہوگئی اور پھر یہ ساس بہو کی توتو میں میں  سےایک ریاست گیر سیاسی زلزلہ آگیا   ۔  اس کے بعد منظرنامہ لکھنے والوں نے ایک کہانی میں یہ ٹوِسٹ دیا کہ سوتیلی ماں اکھلیش یادو کو رام کی مانند بن باس پر بھیج کر اپنے بیٹے پرتیک کو سنگھاسن پر بٹھانا چاہتی ہیں ۔ کل یگ میں تو یہ نہیں  ممکن نہیں ہےکہ رام کے کھڑاوں تخت پر رکھ کربھرت کی طرح کوئی 14 سال راج کرے اور پھر شرافت سے اقتدار اپنے سوتیلے بھائی کوسونپ دے ۔ آج کا  بھرت تو راون سے مل کر اپنے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں بھی نہیں ہچکچائے گا۔

 یہ خبربھی آئی ہے کہ سوتیلی ماں سادھنا نے اپنے سالے شیوپال سے مل کر اکھلیش پر کالا جادو کردیا ہے  ۔ اس کے بعدکسی تانترک نے  انکشاف کیا کہ چچا شیوپال نے انکل امرسنگھ نے مل کر اکھلیش کے خلاف  پوجا اور ہون کروایا۔ امرسنگھ بھی  اے کے ہنگل کی طرح نہایت جذباتی انٹرویو دیتے پھر رہے ہیں ۔ اکھلیش کو اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں جب سارا خاندان ان کی شادی کے خلاف تھا تو وہ اس کے حامی تھے  اگر وہ دلال ہیں تو ان کی شادی کی البم میں ہر تصویر کے اندر وہ موجود کیوں ہیں؟ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس شاہجہاں اور اورنگ زیب کی جنگ میں میری بلی سے صلح  ہوجاتی ہے تو میرا بلیدان کردو۔  چونکہ یہ فیملی  ڈرامہ ہے اس لئے اس  میں کبھی کردار چیختے چلاتے ہیں تو کبھی روتے دھوتے ہیں لیکن کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔  ناظرین کیلئے سماجوادی پارٹی  کا تنازع اب چبائے ہوئے بدذائقہ  چیونگم  کی طرح ہوگیا جو باٹا کے جوتے کی مانند گھستا  توجاتا ہے مگر پھٹنے کا نام نہیں لیتا۔ گھسے پٹےساز کا یہ بےسرا نغمہ اب رائے دہندگان کی سماعت پر بار بن چکا ہے اور اگر  یہ تارجلد نہ  ٹوٹے تو ان کا دماغ  پھٹ جائے گے ۔

اس درمیان عمرو عیار کے طلسمی زنبیل سے ایک  خبر یہ بھی نکل کر آئی کہ یہ ناٹک ایک مہاگٹھ بندھن کی تیاری ہے۔ اتر پردیش میں مہاگٹھ بندھن کے سب سے بڑے دشمن ڈاکٹر رام گوپال یادو کو پارٹی سے نکالا جاچکا ہے۔ اب اکھلیش ایک نئی پارٹی بناکر اپنی بوا مایاوتی کے ساتھ الحاق کرنے والے ہیں ۔ کانگریس ویسے ہی اکھلیش کی ہمنوا ہے اس لئے اسے شامل ہونے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا اس طرح بہار جیسی صورتحال اتر پردیش میں بھی بن جائیگی ۔  اس خبر کی تصدیق خود شیوپال یادو نے کی اوراپنے بچوں کی قسم کھا کر اورگنگا جل کو ہاتھ میں لےکر یہ  کہنے کی پیشکش کی کہ  جب وہ وزیراعلیٰ سے ملنے کیلئے گئے تو انہوں نے نئی پارٹی بناکر کسی جماعت کے ساتھ انتخاب لڑنے کی بات کہی۔ شیوپال کی تقریر کے دوران شور مچانے والے کارکنان سے ملائم   نے ڈانٹ کر کہا چاپلوسی کے سوا کچھ نہیں آتا ۔  اس کے باوجود وزیرمواصلات گایتری پرجاپتی بولے ملائم سنگھ بھگوان شنکر میں (ان کی سواری) نندی بیل اور سی ایم گنیش جی ہیں ۔ میں ان کی ساری باتیں مانوں گا نیتاجی کے بتائے ہوئے راستے پر چلوں گا چچا بھتیجے میں کوئی لڑائی نہیں ہے۔ جس جماعت میں ایسے نابینا ابن الوقت لوگ بھرے پڑے ہوں تو ان  سے عوام فلاح و بہبود کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟

ہمارے ملک کی سیاست جس طرح  معیشت پر انحصار کرتی ہے اسی طرح معیشت میں بھی خوب سیاست کھیلی جاتی ہے۔ ٹاٹا گروپ 148 سال پرانا ہے اس کےسابق  سربراہ رتن ٹاٹا نے 23اکتوبر کو کہا کہ عدم روادار ی  ایک ناسور ہے اور سب جانتے ہیں کہ یہ کدھر سے آرہی ہے ؟ رتن ٹاٹا کے ان الفاظ کو سنتے ہوئے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ عدم رواداری کا زہر خود ان کے اندر کس حدتک سرائیت کرچکا ہے۔ دوسرے دن ٹاٹا سنس کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی میٹنگ ہوئی جس کے اندر 8 میں 6 ارکان نے شرکت کی اور اپنے چیرمین سائرس مستری کو برخواست کردیا ۔ 48 سالہ سائرس مستری کو چار سال قبل نوعمر اکھلیش یادو کی مانند دریافت کرکے  سربراہ بنادیا گیا تھا  اور پھر چانک انہیں ہٹا کر 78 سالہ رتن ٹاٹا کو3 ماہ کیلئے کارگذار اقتدار سونپ دیا گیا ۔ تین سال کی تلاش  کے بعد چیرمین بننے والے سائرس کو ہٹانے میں 3 منٹ بھی نہیں لگے۔

اس میں شک نہیں کہ اس عرصے میں سائرس نے ٹاٹا گروپ کے املاک کو  دوگنا کردیا لیکن ان پر کئی سنگین قسم کے الزامات لگا کر بے آبرو کیا گیا اور پھر گھر کا راستہ دکھایا گیا جو بالکل سڑک چھاپ سیاست کا سا عمل تھا۔ ان الزامات میں سے ایک تو یہ ہے وہ صرف منافع کمانے والے اداروں پر توجہ دیتے ہیں یہ تو بالکل فطری امر ہے۔ان کے دور میں ٹاٹا  کمپنی کوکئی مقامات پرجرمانہ بھرنا پڑا جس میں خاص طور امریکہ میں لگنے والا ہرجانہ شامل ہےلیکن اس میں کون سی نئی بات ہے۔ دودھ کا دھلا تو کوئی نہیں ہے اور جب کسی  ادارے سے کوتاہی سرزد ہوتی ہے تو اسے سزا بھگتنی ہی پڑتی ہے ۔ٹاٹا گروپ کی27 میں سے ۹کمپنی نقصان میں ہیں لیکن 18 فائدے میں بھی تو ہیں۔ وہ سرمایہ کاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ۔ سوال یہ ہے کہ کون  سرمایہ دار ایساکرتا ہے؟ اور کیوں کرے؟اوروہ سیکھتے رہتے ہیں یہ تو خوبی ہے  ۔اچھاانسان لحد سے مہد تک تک طالب علم ہوتا ہے۔

سائرس مستری پریہ  الزام بھی ہے کہ وہ کمپنی کاڈھانچہ درست نہیں کرسکے، ان میں قوت فیصلہ کی کمی ہے اوران کے پاس  ترقی وتوسیع کا واضح منصوبہ موجود نہیں ہے وغیرہ ۔ مستری   نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا ہے۔ انہوں نے بورڈ کو ای میل لکھ کر اپنے اوپر لگائے جانے والے ہر الزام سے انکار کیا ہے۔  دستور کے لحاظ سے انہیں جو 15 دنوں کا نوٹس ملنا چاہئے تھا اس کے نہ ملنے پر اعتراض کیا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ کمپنی کا جوناقص ڈھانچہ  انہیں وراثت میں ملا اسے وہ مجبوراً  ڈھوتے  رہے کیونکہ اصلاح کی  حوصلہ شکنی کی گئی ۔ ان کو پوری آزادی کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کی گئی تھی لیکن ضابطہ میں تبدیلی کرکے اس پر قدغن لگائی گئی اور ان کے اختیارات کو سلب کرکے رتن ٹاٹا کو سونپے گئے نیز ان کو ایک کٹھ پتلی سربراہ بنادیا گیا ۔جس کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا اختیار ہی نہ ہو  اس  پر قوت فیصلہ میں کمی کا الزام  بے معنیٰ  ہے۔  جہاں تک منصوبہ بندی کا سوال ہے وہ2025  تک کا منصوبہ بورڈ کے حوالے کرچکے ہیں اب اگر ارکان بورڈ اسے قبلِ التفات نہ سمجھیں  تو اس میں ان کیا قصور؟

ملائم سنگھ یادو ، بالا صاحب ٹھاکرے، اندرا گاندھی ،اروند کیجریوال  ، نریندر مودی اور رتن ٹاٹا سب کا مسئلہ اپنے فیملی بزنس  کا تحفظ ہے ۔ عام آدمی پارٹی کو بنانے اور چلانے میں جس قدر محنت اروند کیجریوال نے کی تھی اس سے کم مشقت یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن نے نہیں اٹھائی تھی لیکن جس طرح ان دونوں کو ذلیل کرکے پارٹی سے نکالا گیا ویسا ہی سلوک سائرس مستری کے ساتھ ہوا۔ رتن اور اروند جیسے اصول پسند سمجھے جانے والے لوگوں نےسارے اصول و ضابطے  پامال کئے۔یہ سب بال بچے والے لوگ ہیں اس لئے اقتدار کے ہاتھ آتے ہی اقرباء بروری میں لگ جاتے ہیں آرایس ایس نے اس کا یہ حل نکالاکہ اپنے پرچارکوں پر برہماچاریہ کا قانون نافذ کردیا ۔ سنگھ کے کئی پرچارکوں نے اس اصول پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا مثلاً اڈوانی جی نے شادی رچا لی لیکن کچھ نے اپنی دھرم پتنی کو تیاگ دیا جیسے نریندر مودی ۔ سنگھ کو امید تھی ان جیسے لوگ  اقتدار میں آنے کے بعد سنگھ پریوار کا خیال رکھیں گے لیکن وہ حربہ  بھی کا میاب  نہیں ہوسکا۔

اپنے آپ کو راشٹر سیوک یاسنگھ سیوک کہنے والے نریندر مودی نے بھی سب سے پہلے اپنے محسن لال کرشن  اڈوانی کو رسوا کرکے سیاسی بن باس پر بھیج دیااورگجرات سے آنے والے قتل کے ملزم امیت شاہ کو پارٹی کی کمان سونپ دی ۔وزیر خزانہ بنانے کیلئے انہیں ناگپور میں کوئی نہیں ملا توگجرات سے راجیہ سبھا رکن ارون جیٹلی کو بنادیا ۔پہلےگجرات کی ناتجربہ کارسمرتی ایرانی کو انسانی وسائل کی وزارت سے نوازہ اور اب ریزرو بنک کی سربراہی کیلئے بھی 90 سالہ سنگھ پریوار بنجر نظر آیا تو اپنے  گجرات کےارجت پٹیل کا انتخاب کیا۔ ہر اہم عہدے کیلئے گجرات نےناگپور پر فوقیت پائی ۔اس  عدم اعتماد کی جڑیں  اقتدار کے تحفظ  میں پیوست جو اولاد سے اپنے لئے  ہوتاہے ۔ ٹاٹا گروپ میں بھی یہی ہوا کہ اس کی تاریخ میں دوسری بار ٹاٹا خاندان کے باہرکے کسی فرد کو مسند نشین کیا گیا اور ذلیل کرکے ہٹا دیا گیا۔  سیاست اور معیشت کی دنیا  کےان  دل والوں کی رنگین  مشکل فلم والے کرن جوہر  سےسنگین  ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close