خصوصیسیاست

​سوجا بیٹا، گبّر آجائے گا

ہم ہندوستانی مسلمانوں کےلئے بھی بی جے پی ایک بھوت ہے اور رام مندر کا تنازعہ گبّر بنتا جارہاہے۔

مدثراحمد

بچپن میں جب ہم کسی بات کی ضد کرتے تھے تو ہمارے والدین ہمیں ایک ایسے بھوت کا تذکرہ کرکے ڈراتے تھے کہ ہم سہم جاتے اور بھوت کے ڈر سے ضد کرنا چھوڑدیتے، اسی طرح سے شعلے فلم میں بھی گبّر سنگھ کا ڈائیلاگ ہے کہ ” جب بچہ روتا ہے تو ماں کہتی ہے کہ سوجا بیٹا ورنہ گبّر آجائیگا “۔ بالکل اسی طرح سے ہم ہندوستانی مسلمانوں کےلئے بھی بی جے پی ایک بھوت ہے اور رام مندر کا تنازعہ گبّر بنتا جارہاہے۔ اگلے سال ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اس کےلئے جہاں الیکشن کمیشن آئین کے مطابق تیاریاں کررہاہے وہیں دوسری جانب برسر اقتدار بی جے پی اور اسکی سرپرست تنظیم آر یس یس ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کو انجام دینے کے مقصد سے رام مندر کے گبّر کو سامنے کررہی ہے اور مسلمان اس گبّر کو دیکھ کر خوف کھانے لگے ہیں۔

دراصل رام مندر کا مسئلہ جہاں بی جے پی کےلئے اہم ہے وہیں کانگریس اور دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں کےلئے بھی منافع بخش مدعہ ہے، یہ معاملہ عدالت میں ہوتے ہوئے بھی آج سیاسی مدعہ بن گیا ہے یا یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ رام مندر اور بابری مسجد کا مسئلہ ہندو اور مسلمانوں سے بڑھ کر کانگریس و بی جے پی کا ہوچکاہے اور اس مدعے کو شاید ہی حل کیا جاسکتاہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے بابری مسجد کا تنازعہ سرخیوں میں ہے۔ وی ہیچ پی، آریس یس، بی جے پی جیسی تمام فرقہ پرست جماعتوں کو اب ایودھیا میں رام مندر بنا نے کی یا د آئی ہے تو کانگریس، سماج وادی، بی یس پی و دیگر سیاسی جماعتوں کو رام مندر بنانے سے روکنے کا خیال آیاہے۔ پچھلے 26 سالوں سے ملک میں اگر کوئی اہم مدعہ کسی سیاسی جماعت کے پاس بچا ہے تو وہ بابری مسجد اور رام مندر ہی کاہے، اسکے علاوہ ملک کے کسی بھی مدعے پر سیاست کرنا ہماری سیاسی جماعتوں نے ضروری نہیں سمجھا۔

آج ملک میں جو افراتفری کا ماحول ہے اس میں مسلم اقلیتی طبقے کو سب سے زیادہ مظلوم ہونا پڑرہاہے، جب بھی مسلمان اپنے حقوق کےلئے آواز بلند کرتے ہیں تو انکے سامنے فرقہ پرستی کا کارڈ رکھاجاتاہے اور مسلمان اس فرقہ پرستی کے کارڈ کو الٹ پلٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح سے اب انتخابات کو قریب جان کر بابری مسجد و رام مندر کے مسئلے کو بڑھاوا دیا جانے لگاہے جس کا سیدھا اثر مسلمانوں کے سماجی حقوق پر پڑیگا۔ پچھلے 26 سالوں سے ملک پر 10 سالوں تک فرقہ پرست جماعتوں کا راج رہا۔ بی جے پی کو تو نہ صرف مرکزمیں بلکہ اترپردیش میں بھی حکومت بنانے کا موقع ملا، اب تو مرکز میں بھی بی جے پی ہے اور شمالی ہند کے بیشتر ریاستوں میں بھی بی جے پی کی قیادت والی حکومتیں ہیں باوجود اسکے آج تک رام مندر بنانے کےلئے پہل نہیں ہوئی ہے۔ بس ہر وقت یہ کہہ کر مسلمانوں میں خوف کی لہر دوڑا دی جاتی ہے کہ اب رام مندر بن کر ہی رہے گا۔

 اگر واقعی میں انکو رام مندر بنانے کی طاقت ہوتی تو اب تک رام مندر بن ہی جاتالیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ بی جے پی اور سنگھ پریوار جانتے ہیں کہ رام مندر بناناآسان نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔ اگر بن بھی جائے تو بی جے پی کے پاس کوئی اور مدعا نہیں رہیگا جس پر وہ سیاست کرتے رہینگے۔ سچ پوچھیں تو رام مندر بنانے کا حوصلہ نہ بی جے پی کے پاس ہے نہ ہی رام مندر کو بنانے سے روکنے کیلئے سخت تحریک چلانے کی ہمت کانگریس و دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں میں ہے۔ اگر واقعی میں کانگریس و دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں میں فرقہ پرستوں پر لگام لگانے کی ہمت ہوتی اور فرقہ پرستوں کے حوصلے پست کرنے کا ارادہ ہوتاتو آج ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس اپنا وجود نہ گنواتی اور اپنے وجود کو بحال کرنے کےلئے آئے دن مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے دوران نرم ہندوتوا کا رویہ اختیار نہ کرتی۔

اب شاید مسلمانوں کو بھی رام مندر کے بھوت اور بی جے پی کے نام کے گبّر کے خوف سے باہر آنا ہوگا اور سنگھ پریوار کو کھلا چیلنج دینا ہوگا کہ چلو بھائی تم رام مندر بنا ہی دو۔ سچ میں یہ نہیں کرپائینگے۔ آر یس یس اور اسکے کارندے واقعی میں اتنے طاقتور اور بہادر ہوتے تو وہ انگریزوں کی حکومت کے دوران اپنے آپ کو انکے چمچوں میں شمار نہ کرتے۔ بھگت سنگھ و انکے ساتھیوں کے خلاف سرکاری گواہ بن کر عدالتوں میں نہ کھڑے ہوتے۔ ایک بھی ایسا واقعہ بتائیں جس میں انہوںنے راست طورپر مقابلہ کرنے کےلئے قدم بڑھائے ہوں۔ یہ بزدل قوم ہے اور بھوت کا چولہ لپیٹ کر مسلمانوں کو حراساں کررہی ہے اور مسلمان ان سے خوف کھا رہے ہیں۔ بس اور نہیں چلنے دیں اس بھوت اور گبّر کا کھیل۔ اب ہمیں ویرو اور جئے بن کر اس گبّر سے مقابلہ کرنا ہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close