خصوصی

نوٹوں کے لیے برسوں انتظار کے اشارے

حفیظ نعمانی
دوسری جنگ عظیم میں ملک کی صورت حال یہ تھی کہ قصبات میں جو بھی معتبر شخصیت تھی اس نے ریزگاری کی کمی اس طرح پوری کی تھی کہ ڈاک ٹکٹ کے سائز کے کاغذوں پر ایک آنہ، دو آنے ، چار اور آٹھ آنے چھپوائے تھے اور اس پر اپنی تصویر اور اپنے دستخط کردیے تھے۔ وہی صرف اس قصبہ کے اندر ریزگاری کی ضرورت پوری کررہے تھے اور جب کسی دکاندار کے پاس وہ زیادہ تعداد میں جمع ہوجاتے تھے تو وہ چیرمین یا مولانا سے بدل کر نوٹ لے آتا تھا۔
ہم ان دنوں سنبھل میں تھے تو وہاں نواب زادہ محمود حسن خاں کا سکہ چل رہا تھا۔ ہر بچہ کے پاس اور ہر گھر میں یہ چھوٹے نوٹ تھے اور جب تک جنگ رہی یہ سکے چلتے رہے\ ایک بھی آواز ایسی نہیں سنی کہ نواب صاحب نے روپے نہیں دیے۔ ہم جب بریلی آئے تو وہاں بھی یہی حال تھا۔ ایک مہمان کئی دن رہے۔ ہم نے پانی پان ان کے لیے گھر کے اندر سے بار بار لا کر دیا۔ چلتے وقت وہ ایک روپیہ دے گئے۔ اب یہ مسئلہ بن گیا کہ کیا خریدا جائے؟ چھٹی کے دن ایک دوست کو شریک کیا اور بازار گئے تو 2 آنے کی امرتی مانگی۔ حلوائی نے کہا کہ ۶آنے کا سودا لو تو10 آنے ٹوٹے ملیں گے۔ دونوں نے غور کرکے چار آنے کی مٹھائی اور دو آنے کی دال موٹھ دے دی تب حاصل مراد 10 آنے ہاتھ میں آئے۔
ہمارے وزیر اعظم تو نواب زادہ محمود سے بھی گئے گذرے نکلے کہ وہ کیش لیس زندگی گذارنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ اگر نواب صاحب کی طرح سے تنویر پریس میں نہ سہی پرتبھا پریس میں اپنے فوٹو کے نوٹ چھپواکر ملک میں پھیلادیتے کہ جب تک ریزرو بینک نئے نوٹ نہ لائے آپ ان سے کام چلائیں۔ کیش لیس کی جو تفصیل ہے اس سے وہ مزدور کی مزدوری اور سبزی والے کی ہری مرچ اور بچوں کا جیب خرچ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں اور انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ خود دہلی سے بی اے کرچکے ہیں اور گجرات سے ایم اے کرچکے ہیں اور10 برس وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اس کے بعد بھی جب انگریزی بولتے ہیں تو دانش ور زیر لب مسکراتے اور انگریزی اسکول کی پڑھی ہوئی لڑکیاں کھل کر ہنستی ہیں۔ ایسے ملک میں جس کی 90 فیصدی آبادی وہ ہے جو Cash lessنہ بول سکے گی نہ سمجھ سکے گی اور نہ برت سکے گی۔ اس سے یہ امید کہ وہ موبائل اے ٹی ایم کے بل پر زندگی گذارلے گی کیا مذاق نہیں ہے؟
ہمارے وزیر اعظم تو اس بہو کا کردار ادا کررہے ہیں جو پہلی مرتبہ گھر والوں کے لیے کھانا بنائے اور یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ کتنا بناؤں اور اس پر بھی قابو نہ ہو کہ کیسے بناؤں اور جب سب بگڑ جائے تو گھر کے بزرگ کہیں کہ ہمارے آقاؐ نے فرمایا ہے ک معدہ کے تین خانے بناؤ ایک روٹی کے لیے ایک پانی کے لیے اور تیسرا ہوا کے لیے، اور یہ جو جلا ہوا سالن اور کچی سبزی او ر پتلی دال ہے وہ اس لیے شکر ادا کرکے کھاؤ کہ نہ جانے کتنے اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر یہ انہیں دے دو تو وہ اس پر ٹوٹ پڑیں۔ وہ بزرگ نئی بہو کی د ل شکنی کیسے برداشت کرتے۔
نریندر مودی جی یہ نہیں مانتے کہ15 لاکھ کروڑ کے نوٹ آپ نے بینکوں کو واپس کردئے اور بینک ابھی دو لاکھ کروڑ بھی مارکیٹ میں نہ لا سکا۔ اور ابھی بہت دنوں تک اس کی توقع نہ کی جائے کہ ضرورت کے مطابق نوٹ آسکیں گے۔ ایسی صورت میں ایک تو ’’باٹر سسٹم ‘‘ہے جو سکہ کے رائج ہونے سے پہلے تھا کہ اگر ہمارے پریس میں کوئی بڑا زمین دار پوسٹر چھپوائے اور اسے 25 ہزار روپے دینا ہیں تو وہ گیہوں اور چاول کے بورے لا کر دیدے اور پوسٹر لے جائے۔ پھر ہمارے بیٹے جب کاغذ خریدنے جائیں تو سو بورے گیہوں اور پچاس بورے چاول بھولا ناتھ سیتا رام کی کاغذ کی دکان پر رکھوادیں اور جب ایک مہینہ ہوجائے تو ہر ملازم کو گیہوں چاول تنخوا کے حساب میں دے دیں۔ کیا یہ تجویز "Cash less”کی تجویز کے مقابلہ میں زیادہ آسان نہیں ہے؟
مودی جی ہی نہیں ان کے اردو گرد رہنے والے جیٹلی ہوں، نائیڈو ہوں، راج ناتھ ہوں، یہاں تک کہ نقوی ہوں یہ برسوں سے زمین سے کٹے ہوئے ہیں۔ انھیں نہیں معلوم کہ جن ماسٹروں کو یا پرائیویٹ کارخانہ میں ملازموں کو چیک سے تنخواہ ملتی ہے اس میں ہر جگہ وہی ہورہا ہے کہ 20 ہزار پر دستخط کرو اور 5 ہزار لے جاؤ۔ اگر چوں چرا کروگے تو باہر کا راستہ سامنے ہے پھر جہاں تمہیں 10 ہزار مل جائیں وہاں چلے جاؤ۔
کہنے کو تو جانے ہم کس کس کا حساب لکھ سکتے ہیں لیکن مدرسہ بورڈسے جو مدرسے رجسٹرڈ ہیں ان میں دیہاتوں کے تمام مدرسوں میںیہی ہوتا ہے۔ نہ جانے کتنے روتے ہوئے آئے۔ بالکل ابتدا میں تو وہ آئے جن کو دو سو روپے ملتے تھے۔ پھر پانچ والے بھی آئے اور دو ہزار والے تو جس گاؤں میں چلے جاؤ وہاں مل جاتے ہیں۔ جو دو ہزار لے کر بیس ہزار کا چیک کاٹ دیتے ہیں۔
بڑے عربی مدرسوں میں جو ملک ہی نہیں ایشیا کے بڑے مدرسے ہیں وہاں ان تنخواہوں کا چوتھائی بھی ان استادوں کو بھی نہیں ملتا جن کو پورے ملک میں ختم بخاری شریف یا مدارس کی دوسری تقریبات میں ہوائی جہاز سے بلانے کے باوجود آنا آسان نہیں ہوتا اس لیے کہ علمی کاموں سے انہیں فرصت نہیں ہے۔ حکومت نے تو جو کچھ کیا ہے وہ اس لیے کیا ہے کہ وہ ان سرکاری اسکولوں کے ماسٹروں کو بھی30 اور 40 ہزار روپے دیتی ہے جن کے بارے میں ہائی کورٹ نے معلوم کیا ہے کہ وہ پڑھنے والے بچے ٹاٹ پٹی پر کیوں بیٹھتے ہیں؟ اور سپریم کورٹ نے سخت لہجہ میں کہا ہے کہ ان اسکولوں میں نہ کوئی تعلیم دے سکتا ہے اور نہ لے سکتا ہے۔ ان میں نہ پانی کا کنکشن ہے نہ بجلی کا اور نہ صفائی کا۔ سپریم کورٹ کے محترم جج صاحبان نے یہ صرف سنا ہے اگر کوئی جج صاحب چند گھنٹوں کا دورہ کرکے دیہاتوں کے نہیں شہروں کے سرکاری اسکولوں کا معائنہ فرمالیں تو صرف دو جملوں کا حکم دیں گے کہ’’ ان کی عمارت گرا کر چھوٹا پارک بنادیا جائے اور پڑھانے کے نام پر جو حرام کی دولت لے رہے ہیں ان کو ان کی قابلیت کے حساب سے فورتھ کلاس ملازمت دے دی جائے۔‘‘
ملک کی ہر ریاست مجرم ہے۔ وزیروں یا ان کے رشتہ داروں نے پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول کھل رکھے ہیں اور کھولنے والے ABCDبھی نہیں جانتے لیکن یونیفارم ٹائی، شو اور بگ سے سجاکر گاؤں گاؤں علم بیچ رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ سے روزگاروں کو ٹیچر رکھ کر ان کا پیٹ بھر دیتے ہیں اور اپنی کوٹھی بنالیتے اور کار خرید لیتے ہیں۔ یہی سب ہیں جو سرکاری اسکولوں کو مرغیوں کے دربوں سے زیادہ اچھا نہیں بننے دیتے۔ ہم اور ہمارے جیسوں نے بار بار لکھا ہے کہ یا تو انہیں اسکول بناؤ ورنہ انہیں بن کرو لیکن سیاسی لیڈروں کے جاہل لڑکے لڑکیاں اور کہاں 30، 40ہزار تنخواہ پا سکیں گے؟
اکثر پرائیویٹ اسکولوں میں تنخواہ سرکاری اسکیل کے حساب سے اور چک کے ذریعہ ہی دی جاتی ہے لیکن ہوتا وہی ہے کہ ۵ ہزار پر دستخط کرو اور25 ہزار کے چک پر دستخط کرکے رکھ دو۔وزیر اعظم ملک کو Cash less بنانے سے پہلے یہ
دیکھیں کہ ملک کا کیا حال ہے؟ وہ دنیا کے ملکوں میں گھوم گھوم کر یہ تو دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے بڑے ملکوں میں کیا کیا ہورہا ہے؟ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ان ملکوں میں تعلیم کا اور دیانت کا معیار کیا ہے۔ ہمارے ملک میں سارے کالے دھن کو بینک والوں کی مدد سے پار لگا دیا گیا۔ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ دوکارکن گیارہ لاکھ کو سفید کرتے ہوئے پکڑے گئے یا ارہر کی دال سے بھرا ٹرک غائب ہوگیا اس کے بعد ملک میں خواب کی باتیں اچھا نہیں لگتیں۔
وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کالے دھن کے ساتھ جنگ کررہے ہیں اور وزیر مالیات پھر ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ کالا دھن لاؤ اور آدھا تم لے لو آدھا ہمیں دے دو۔ یہ وہی وزیر مالیات ہیں جنھوں نے 10؍ نومبر کو کہا تھا کہ ۸؍ نومبر کی رات بھر جوسونا بکا ہے وہ نوٹ لے کر آخر کار آئیں گے ہمارے ہی پاس۔ لیکن آج30؍ تاریخ ہے یعنی 20 دن ہوگئے ہم نے تو کسی سنار کو نہیں دیکھا کہ وہ نوٹ کا بورا لے کر گڑگڑاتا ہوا آیا ہو۔ وزیر اعظم کہیں یا وزیر مالیات کہ نوٹ بندی کے معاملے میں پورا ملک ان کے ساتھ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف وہ ساتھ ہیں جو بندھے ہوئے ہیں ورنہ جو آزاد ہے وہ نا راض ہے۔ اور وہ اپنی ناراضی کب دکھائے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
ہر روز نئے دعوے ہر روز نئے جھانسے
اتوار سے منگل ہے منگل سے سنیچر ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close