خصوصیسیرت نبویﷺ

خصوصی مضمون: سائنسی ترقی سے عبارت طرز زندگی اور رسول اللہؐ کی رہنمائی

[box type=”download” align=”” class=”” width=””]یہ مضمون ای بک کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

[button color=”red” size=”medium” link=”http://mazameen.com/wp-content/uploads/2016/12/guidance-from-seerah-and-science.pdf” icon=”” target=”false”]Download E-Book[/button][/box]

(ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے)

تزکیہ نفس اور کتاب وحکمت کی تعلیم کے لیے رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ انسان کی دنیا وآخرت کی کامیابی کے لیے آپؐ نے کاررسالت کے انہیں  اہم ترین مقاصد کے تحت ہدایت وراہ نمائی فرمائی۔انسانی زندگی کا ہر شعبہ آپؐ کی نصیحتوں اور ارشادات سے آراستہ وپیراستہ ہے۔  یہ تعلیمات  کسی بھی میدان یا شعبہ سے متعلق صرف راہ نمائی ہی نہیں دیتیں بلکہ تمام شعبہ ہائے حیات کے لیے ایک واضح اخلاقی ضابطہ متعین کرتی ہیں۔لہذا جب کسی شعبہ سے متعلق ان تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں عمل درآمد کیا جائے تو نہ صرف کامیابی و ترقی ممکن ہوتی ہے بلکہ انسانوں کی بھلائی اور خیر خواہی بھی یقینی ہوجاتی ہے اور نتیجتاً معاشرہ میں امن و سکون بحال رہتاہے۔ آپﷺ کی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اخلاقی اقدار کے ساتھ حاصل کی جانے والی ترقی ہی دراصل پائیدار ہوتی ہے۔آئیے سائنس کے شعبہ میں سے چند کے متعلق رسول اللہؐ کی راہنمائی ملاحظہ فرمائیں:

طبی سائنس  (Medical Science)

health

ڈاکٹرذمہ دار اور جواب دہ:

رسول اللہ ﷺنے میڈیکل سائنس کو ایک انتہائی ذمہ دارانہ میدان قرار دیا ہے۔ ایک طبیب کے طرز عمل سے مریض کی صحت یا تو بنتی ہے یا بگڑتی ہے۔ صحت مند معاشرہ کے لیے صحت مند لوگ اور صحت مند فکر و خیال کے حامل ڈاکٹرز کی بڑی ضرورت ہے۔رسول اللہؐ فرماتے ہیں:

مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ یُعْلَمْ مِنْہُ طِبٌّ فَھُوَ ضَامِنٌ  (حضرت عمرو بن شعیبؓ-   ابوداؤد ‘ نسائی)

جو شخص علاج کرے اور اس سے متعلق نہ جانتا ہو تو وہ ذمہ دار ہے۔

یعنی مریض کی حالت کا ایک ڈاکٹر ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو نہ صرف احساس ذمہ داری کے ساتھ علاج و معالجہ ہوگا بلکہ معاشرہ سے بددیانتی اور کرپشن کا بھی خاتمہ ہوگا۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر مریض کسی سخت نقصان سے دوچار ہوتاہے تو ڈاکٹرز تو کیا متعلقہ دواخانہ بھی اپنا دامن جھاڑ لیتا ہے۔انسان کی انہیں نفسیات کے پیش نظر رسول اللہؐ نے یہ احساس ایک طبیب کے اندر پیدا فرمادیا ہے کہ وہ خود کو ذمہ دار سمجھے۔ وہ انسانوں کے سامنے اور انسانوں کے خالق کے سامنے جواب دہ ہے۔

مریض کی پسند کا خیال : بعض طریقہ علاج میں ضرورت سے زیادہ پرہیز کرایا جاتا ہے اگر پرہیز دی جانے والی دواؤں اور مریض کی حالت پر راست اثر ڈالتا ہو تو کچھ حد تک پرہیز کرایا جاسکتا ہے لیکن ایسے بے شمار معاملات ہوتے ہیں جہاں مریض پر کھانے پینے کی ضرورت سے زیادہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں حالانکہ نہ مرض اور نہ ہی مریض کی حالت اس کا تقاضہ کرتی ہے۔اس وجہ بعض اوقات مریض کی مخصوص صورت حال اور نفسیات کی بنا نتائج ٹھیک نہیں نکلتے اور صحت بگڑتی چلی جاتی ہے۔اس صورت حال میں نفسیاتی پہلو سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ مریض پر جو دبا ؤ اور مزاج میں بدلا ؤ پیدا ہوا ہے اس کی بہتری کایہی طریقہ ہے کہ مریض کو وہی کھانے پینے دیا جائے جس کی طرف اس کی رغبت ہو۔رسول اللہؐ فرماتے ہیں :

لاَ تُکْرِھُوْا مَرْضَاکُمْ عَلَی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فَاِنَّ اللّٰہَ یُطْعِمُھُمْ وَیُسْقِـیْھِمْ (حضرت عقبہ بن عامر الجھنی ؓ- ابن ماجہ)

اپنے مریضوں پر کھانے اور پینے کے سلسلہ میں جبر نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا او رپلاتا ہے۔

اگر مرض غیر معمولی شدیدنہ ہو تو اس سلسلہ میں پہل کی جاسکتی ہے اور پرہیز کے نام پر مریض پر جبر کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتا ہے جیسے زچگی کے فوری بعد مرغن غدا ؤں کا استعمال بخار میں گوشت کا استعمال بعض امراض کے لیے خصوصی غدا ؤں کا استعمال وغیرہ۔یہ بات واضح ہے کہ مریض کئی طرح کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ شخص جس کے پیٹ کا آپریشن ہوا ہواس شخص سے مختلف ہوگا جس کا ٹوٹا ہاتھ ٹھیک ہورہا ہے۔ لہٰذامریض کی پسند کے مطابق کھانے پینے کی اجازت کا معاملہ مختلف حالتوں کے پیش نظر سمجھنا چاہیے۔

ہر بیماری کا علاج ضروری: رسول اللہؐ نے ہر بیماری اور مرض کے علاج کی خاص تاکید فرمائی ہے کہا کہ اے اللہ کے بندو علاج کرو اس لیے کہ اللہ نے بڑھاپے کے علاوہ کوئی ایسی بیماری نہیں پیدا کی جس کی شفاء نہ رکھی ہو (ترمذی)۔بیماری کے علاج کے لیے طریقہ علاج پر کافی زور دیا گیا ہے۔اس جانب بطور خاص متوجہ کیا گیا ہے کہ علاج کے نام پر کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس کا شمار شرک حرام کردہ یا مضر چیزوں میں ہوتا ہو۔ بعض ناپاک دوائیوں کے تعلق سے رسول اللہؐکی خاص ہدایات ہیں ۔

 ناپاک دوائی کے استعمال کی ممانعت: اس ضمن میں حضرت ابوہریرہؓ سے دو احادیث ابوداؤد اورترمذی نے روایت کی ہیں :

نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنِ الدَّوَآئِ الْخَبِیْثِ

رسول اللہؐ نے ناپاک دوائی کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ ؐ عَنِ الدَّوَائِ الْخَبِیْثِ یَعْنِی السَّمَّ-

رسول اللہؐ نے ناپاک دوائی سے منع فرمایا ہے یعنی ایسی دوائی جس میں سّمیت ہو۔

ناپاک دوا  یعنی جس میں سمیت (poison, toxin) ہو قدرتی اور مصنوعی دونوں طرح کی ہوتی ہے۔اس کے استعمال سے نسیجیں (tissues)متاثر ہوتی ہیں یا پھر زخمی۔جس دوائی میں زہر کی مقدار زیادہ یاغیر متوازن ہو اس کا استعمال کئی لحاظ سے مضر ہوتا ہے۔کھجلی(hives) بد ن میں جلن اورسوجن جیسی شکایتیں پیداہوسکتی ہیں ۔اور بعض اوقات اس کے کثرت استعمال سے خون کا رسنا(hemorrhage) بے ہوش ہونا یا حواس کھودینا(clouding of the senses) فالج(paralysis)یہاں تک کہ عارضۂ قلب (heart ailments)بھی لاحق ہوسکتا ہے۔جودوائیاں بطور شفا (therapeutic drugs) لی جاتی ہیں ان کا غیر متوازن یا زیادہ مقدار میں استعمال بھی ایسا ہی اثر ظاہر کرتا ہے۔

دوائیوں کے علاوہ اسی طرح کی دیگر چیزوں کو بطور علاج استعمال کرنے سے بھی منع کیا گیا جیسے ایک مرتبہ حضرت سوید بن طارق ؓ نے رسول اللہؐ سے شراب کے سلسلہ میں کہاکہ ہم اس کا استعمال دوائی کے طور پر کرتے ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ دوائی نہیں بلکہ داء یعنی بیماری ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شراب اور اسی طرح کی دیگر خبیث چیزیں ہرگز انسانوں کے لیے دوا کا کام نہیں دیں گی بلکہ ان کے استعمال سے کئی طرح کے امراض میں اضافہ ہوگا۔

کھانے پینے کی چیزوں پر پھونکنے کی ممانعت: اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی گرم چیزوں کو ٹھنڈاکرنے کے لیے پھونک ماری جاتی ہے۔چاہے خود کوئی کھانا کھارہا ہو یا گرم چائے پی رہا ہو پھونک مارنے کا منظر ایک عام سا معلوم ہوتا ہے حتی کہ بچوں کو بھی اسی طرح سے پھونک مار مار کر کھلایا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے:

نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ اَنْ یَّتَـنَفَّسَ فِی الْاِنَآئِ اَوْ یُنْفَخَ فِیْہِ (ابوداؤد ابن ماجہ)

رسول اللہؐ نے پانی پیتے وقت برتن میں سانس لینے یا اس پر پھونکنے سے منع فرمایا ہے۔

کھانے پینے کی چیزوں پر اگر پھونک ماری جائے تو غذا کے مکدر ہونے کا پورا امکان رہتا ہے۔ تھوک کے ذرات اور جس ماحول میں سانس آ اور جارہی ہے اس کے ذرات غذا پرپڑ سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ منہ اور ناک سے نکلنے والی ہوا پیٹ اور پھیپڑوں سے ہوکر آتی ہے اس کاپانی یا غذا پر پڑنا نقصان دہ ہوتاہے۔جب آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا تو ایک شخص نے کہا کہ میں برتن میں کچھ پڑا ہوا دیکھتا ہوں ۔آپؐ نے فرمایا کہ اسے بہادو۔اس نے کہا کہ میں ایک سانس میں پیوں تو پیاس نہیں بجھتی تو آپؐ نے فرمایا کہ اس پیالہ کواپنے منہ سے الگ کرلو پھر سانس لو اور پیو (ترمذی)۔غذا کے نقصان سے بچانے کے لیے نہ صرف یہ روک لگائی گئی بلکہ آپ نے گرم گرم کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے(ابودا ؤد) اور یہ بھی کہا کہ اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیوبلکہ دو دو تین تین سانسوں میں پیو(ترمذی)۔

پیٹ کی خرابی سے حفاظت: آج کل کی غذا ؤں کے استعمال اورروز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کے باعث پیٹ کی خرابی (constipation)اور بدہضمی(indigestion) کی شکایت اکثر کی جاتی ہے۔اس ضمن میں جو عملی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں یا ایسا عمل جس سے قدرے سکون محسوس کیا جاتا ہے وہ ڈکار لینے سے تعلق رکھتا ہے۔گرچہ یہ عمل بعض صورتوں میں درست ہوسکتا ہے لیکن عموماً لوگ اس عمل کو لوگ پسند نہیں کرتے۔ رسول اللہؐ نے اس ضمن میں راہنمائی فرمائی ہے کہ پیٹ کی خرابی اور بدہضمی کی اصل وجہ غذا ؤں کا غیر محتاط اور غیر ضروری استعمال ہے۔اس جانب متوجہ کرنے کے لیے آپؐ نے اصولی ہدایت فرمادی ۔حضرت عبد ابن عمرؓ رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ایک شخص کو ڈکار لیتے ہوئے سنا تو فرمایا:

اَقْصِرْ مِنْ جُشَآئِ کَ فَاِنَّ اَطْوَلَ النَّاسِ جُوْعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ اَطْوَلُھُمْ شِبَعًا فِیْ الدُّنْیَا (ترمذی)

اپنی ڈکاروں کو کم کروکیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتے رہے۔

ایک مرتبہ حضرت ابوجحیفہؓ نے رسول اللہؐ کے سامنے ڈکار لی۔آپؐ نے فرمایا کہ اے ابوجحیفہؓ تم نے کیا کھایا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے روٹی اور گوشت کھایا ہے۔آپؐ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں پیٹ بھر کر کھایا کرتے تھے (بیہقی)۔ اس حدیث میں ضرورت سے زیادہ غذا کے استعمال سے روکا گیا ہے۔آپؐ کا فرمان ہے کہ عموماً ایک فرد کے لیے جتنی غذا مناسب سمجھی جاتی ہے وہ دو کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔ اس لیے یہ مطلوب قرار دیا گیا کہ جب بھوک تھوڑی باقی رہے تب دستر خوان سے اٹھ جانا چاہیے۔

پیٹ کی خرابی اور بدہضمی کا اصل سبب پیٹ بھر کر کھانا یا نامناسب غذا ؤں کا استعمال ہے۔ acidity کی ایک وجہ یہی ہے اس میں قدرے اطمینان اسوقت محسوس ہوتا ہے جب ڈکار لی جاتی ہے۔ اس مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے ڈکار لینے کی بجائے غذا کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

ڈکار(burp, belch) سننے میں کراہت محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر کسی مجلس میں ہوں تو یہ آداب کے خلاف بھی ہوگا کہ کوئی اس قبیح عمل کامرتکب ہو۔ڈکار کی وجوہات میں وہ مشروبات بھی شامل ہیں جن میں کاربن ملاہوتاہے(carbonated drink) جنہیں سافٹ ڈرنک کہا جاتا ہے۔ان کے استعمال سے بھی پیٹ میں گیس بھر جاتی ہے جو ڈکار کی صورت میں باہر نکل آتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس قبیح عمل سے متعلق جو وعید ارشاد فرمائی ہے کہ قیامت کے دن بھوکے رہنا پڑے گا وہ ارشاد درحقیقت دنیا کی حیثیت واضح کرنے والے ارشادات میں سے ہے۔اس کے مطابق عمل سے نہ صرف وقت اور پیسوں کے زیاں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ دورحاضر کی ردی غذا ؤں (junk foods) اور مشروبات (carbonated drinks)سے بھی بچنا ممکن ہے۔

سو نے میں احتیاط : جسم میں ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں بلکہ خم والی ہوتی ہے سونے کے عمل سے ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ پیٹ اور معدے پر اثر پڑتا ہے۔لہٰذا چت سونے سے صحت پر بڑے مضر اثرات پڑتے ہیں ۔رسول اللہؐ نے ایسا سونے سے منع فرماتے ہیں ۔جب کوئی چت سوتا ہے تو ریڑھ کی ہڈی کا خم اوپر کی جانب ہوتا ہے اور اسکے اوپر پیٹ کا وزن۔اوریہ وزن اس خم کو سیدھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جب گردن کی ہڈی کے دانے بیچ سے دبا ؤ میں آتے ہیں تو گردن کے پیچھے درد شروع ہوگا۔اورجب کمر کی ہڈی کے نچلے دانے بیچ سے دبا ؤ میں آئیں تو کمر کے نچلے حصے میں درد شروع ہوگا۔یہی حال پیٹ کے بل سونے کا بھی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں رَاْی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ رَجُلاً مُضْطَجِعًا عَلَی بَطْنِہٖ رسول اللہؐ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھاتوآپؐ نے فرمایا :

 اِنَّ ھٰذِہٖ ضِجْعَۃٌ لاَّ یُحِبُّھَا اللّٰہُ (ترمذی)

 یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔

سانس لیتے وقت سینہ پسلیاں کو آگے کی جانب پھیلاتا ہے جبکہ پیٹ کے بل یا اوندھے منہ سونے سے پسلیوں کے پھیلا ؤ میں دقت پیدا ہوتی ہے اور پھیپڑوں کا پھیلنا اور سکیڑنا بھی مشکل ہوجاتا ہے جس سے سانس لینے میں تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے چت یا اوندھے منہ سونامناسب نہیں ۔ہاں اگر کوئی وقتی حاجت یا مرض ہو اور تھوڑی دیر کے لیے صراحت کرنا ضروری ہو تو چت یا اوندھے منہ سویا جاسکتا ہے۔رسول اللہؐ نے خاص تاکید فرمائی کہ دائیں کروٹ سونا چاہیے۔اس طریقے سے سویا جائے تو دل اوپر کی جانب ہوگا اور پیٹ معدہ اور آنیتیں وغیرہ نیچے کی جانب ہوں گی۔دل بڑی آسانی سے جسم کے مختلف مقامات پر خون مہیا کرسکے گا۔اماں عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ اسی طرح سویا کرتے تھے۔

جمالیاتی سائنس (Aesthetics)

aesthetics

آج کل خوبصورتی ایک آرٹ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔وضع وقطع کو درست کرنے اور خوبصورت نظر آنے کے لیے نہ صرف چہرہ اور بالوں کو بلکہ پلکوں بہو ؤں اور دانتوں تک کو مخصوص طریقے سے درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرز عمل سے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت کردہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ؐ یَلْعَنُ الْمُـتَـنَـمِّصَاتِ وَالْمُـتَـفَـلِّجَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ الَّلاتِیْ یُغَیِّرْنَ خَلْقَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (نسائی )

میں نے سنا رسول اللہؐ نے لعنت فرمائی روئیں اکھیڑنی والیوں پر دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور گودنے اور گدوانے والی عورتوں پر کہ جو اللہ جل جلالہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلتی ہیں ۔

آنکھ کے اوپر کے بالوں کو اکھیڑنا خوبصورتی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔پلکوں کے بالوں کو بھی مخصوص طریقے سے سجایاجاتا ہے۔اور خوبصورتی بڑھانے کے کئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ خواتین میں یہ طریقے اس قدر عام ہوگئے ہیں کہ اب اس میدان کے باضابطہ ماہرین تیار ہونے لگے ہیں جنہیں aesthetician کہا جاتا ہے۔خوبصورتی بڑھانے کے ان مصنوعی طریقوں کو اپنانے والوں پر لعنت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنے کی کوشش کرناانتہائی ناپسندیدہ طرز عمل ہے۔

فلج:  فلج کے معنی کشادہ کرنے کے ہیں ۔ دانتوں کو کشادہ کرنے کے معنی یہ کہ اوپر کے دانتوں (upper incisors)کے درمیان ہلکی سی جگہ پید ا کرلی جاتی ہے۔دو دانتوں کے درمیان موجود جگہ (diastemata)کو چہرے کی خوبصورتی کا سبب ماناجاتا ہے۔ مغربی ممالک میں بطور خاص یہ تصور عام ہے۔اگر دانتوں میں قدرتی طور پر کشادگی نہ ہو تو مصنوعی طریقہ(cosmetic dentistry) اختیارکیا جاتا ہے۔اس طریقے کو بھی سخت ناپسند کیا گیا ہے۔

جسم پر گدوانا: جسم پر گدانے (tattoo)کا عمل بھی کئی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ حضرت ابو جحیفہؓ کی روایت کردہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

 اَنَّ النَّبِیَّ ؐ لَعَنَ ٰ اکِلَ الرِّبٰو وَمُوْکِلَہٗ وَالْوَاشِمَۃَ وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ وَالْمُصَوِّرَ (بخاری)

نبیؐ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے کھلانے والے گودنے والی اور گدوانے والی اور تصویر بنانے والے پر۔

وشم: جسم پر سیاہی سے نشان بٹھانے(tattoo mark) یا گودنے آج کل ایک فیشن کے طور پر جسم کوسیاہی سے بھری سوئیوں (needles)سے چھید لیا جاتا ہے اور مختلف قسم کے ڈیزائین بنالیے جاتے ہیں ۔یہ عمل کئی لحاظ سے نقصان دہ ہے۔سیاہی رنگ اور سوئیوں کے استعمال سے صحت متاثر ہوتی ہے۔بعض جلدیں الرجی کے باعث بری طرح زخمی ہوجاتی ہیں ۔چونکہ اس عمل میں سوئیاں جلد کو چھیدتی(drilling) ہیں (گودنے کے بعض طریقے ایسے ہیں جن میں سوئیاں 80تا150مرتبہ فی سکینڈ کی رفتار سے جلد کو چھیدتی ہیں) اس لیے خون کی نالیاں (blood vessels)پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے ۔جس کی بنا جلد پر ہی زخم یا پھر جلد کے اندرون انفکشن ہوجاتا ہے۔اس عمل سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے اس لیے کہ یہ انسانی عظمت کے منافی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ساخت تبدیل کرنے کی حماقت بھی۔ قرآن کریم نے شیطان کے جن ناپاک منصوبوں کا ذکر کیا ہے ان میں یہ تمام اعمال بھی شامل ہیں :

…لَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ …. – النسائ:۱۱۹

میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں رد و بدل کریں گے

ماحولیاتی سائنس (Environmental Science)

environment

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ماحولیات کا تحفظ دراصل اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ انسان اپنے خالق کے بارے میں کیا سوچ وفکر رکھتا ہے۔جب کوئی شخص یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ جس خدا نے مجھے پیدا کیا ہے اسی نے یہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان پائی جانے والی تمام چیزیں بھی پیدا کیں ہیں تو تمام جانداراور غیر جاندار مخلوقات سے اس کا ایک ایمانی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ان سب کو اپنا ہی سمجھتاہے ۔اس کے لیے دریا پہاڑ جنگلات سمندر وباغات جانور اور چرندو پرند کوئی اجنبی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ سب مخلوقات بھی اسی خالق کی بندگی میں مصروف ہیں ۔اگر کسی شخص کی فکر ایسی نہ ہو تو اس کے طرز عمل سے زمین میں عدم توازن کے سوا کچھ اور قائم نہیں ہوسکتا ہے۔جس کا اندازہ آج ہم سب کو ہورہا ہے۔دیکھیے کس طرح رسول اللہ ؐ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے ایک بہتر ماحول فروغ دینے کی تعلیم فرمارہیں ہیں ۔

پانی کو مت روکو: دورحاضرکا ایک المیہ یہ ہے کہ پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت پر بھی سیاست ہورہی ہے۔کرناٹک اور تامل ناڈو کے درمیان کاویری پانی کے تنازعہ سے کون واقف نہیں ؟ اس تنازعہ کے بدلے جو دونوں ریاستوں کو بالعموم اور پورے ملک کو بالخصوص جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اگر اس پر توجہ دی جاتی تو جتنا مالی نقصان ہواہے اس سے کہیں کم صرفہ میں دونوں ریاستوں کے مسائل حل ہوسکتے تھے۔لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔رسول اللہؐ نے انسان کے اس خودغرضانہ طرز عمل کو انسانیت نواز رخ دینے کے لیے ارشاد فرمایا:

 لَا تَمْنَعُوْافَضْلَ الْمَآئِ لِتَمْنَعُوْابِہٖ فَضْلَ الْکَلٓائِ (حضرت ابوہریرہ ؓ- بخاری ومسلم)

زائد پانی کو مت روکو اس غرض سے کہ زیادہ سے زیادہ گھاس کو روک سکو۔

اس وقت عرب میں رواج تھا کہ کنو ؤں سے پانی بھر کر ایک حوض یا ٹینک میں اسٹاک کرلیتے تھے۔جو پانی بچ جاتا اس سے خود بھی فائدہ اٹھاتے اور لوگوں کے جانوروں کی پیاس بھی بجھتی تھی۔ بعض لوگوں نے زائد پانی کو روکنا شروع کیا اس خیال سے کہ جب جانور وں کو پانی نہیں ملے گا تو انہیں یہاں گھاس چرانے کے لیے بھی نہیں لایا جائے گا اور اس کے نتیجے میں گھا س بھی محفوظ رہے گی۔اس خودغرضانہ رویہ سے منع کیا گیا کہ پانی اور گھاس دونوں اللہ ہی کے اذن سے جانداروں کو میسر آتے ہیں لہٰذا انہیں روکنا کسی حال مناسب نہیں ۔اگر انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے پانی کی اہمیت و ضرورت کو دیکھا جائے تو رسول اللہؐ کے اس ارشاد مبارک کی وسعت اور بڑھ جاتی ہے۔

پانی کی تجارت کی ممانعت: دور حاضر کا ایک اور سلگتا ایشو پانی کی تجارت سے متعلق ہے۔ ہمارے بزرگوں نے شاید کبھی سوچابھی نہیں تھا کہ پانی کو بھی خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔لیکن آج یہ پوری دنیا میں ایک کامیاب تجارت کا میدان بن چکا ہے۔دنیا کی دس بڑی کمپنیوں کا پانی کا کاروبار سالانہ 1628ملین ڈالرکاہے (source: global water intelligence)۔اس کے علاوہ مختلف قسم کے مشروبات کی تیاری کے لیے MNCsکو پانی کی بڑی مقدار میں فراہمی تو کہیں پانی کی آلودگی نے عام لوگوں کے لیے پینے کے پانی کی قلت پیدا کردی ہے جس کے لیے معاشی لحاظ سے پانی کی قلت (economic water scarcity) کی نئی اصطلاح وجود میں آئی ہے۔ہر چھ آدمیوں میں ایک سے زائد کو آج پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے پوری دنیا میں ان کی تعداد 1.1بلین بتائی جاتی ہے۔حضرت جابربن عبد اللہؓ سے راویت ہے:

نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَآئِ (مسلم)

  رسول اللہؐ نے زائد پانی کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔

پانی کی اس مصنوعی قلت کی روک تھام اس ارشاد مبارک پر عمل درآمدسے ممکن ہے ۔ رسول اللہؐ نے ہمارے سامنے منہیات کے ذیل میں یہ بات پیش فرمائی ہے کہ زائد پانی کی تجارت سے قطعاً رک جائیں ۔پانی قدرتی وسائل میں سے بڑی مقدارمیں حاصل ہونے والی ایک بیش بہا نعمت ہے۔اس سے لوگوں کو مستفید ہونے سے روکنا کسی صورت درست نہیں ہوسکتا۔لہٰذا جن تین قدرتی وسائل کو روکنے سے منع کیا گیا ان میں پانی چارہ اور آگ ہے۔

جانوروں کا تحفظ: گوشت خوری کے حلال ہونے سے شاید یہ تاثر بنے کہ گوشت کھانے والے جانوروں پر رحم نہیں کرتے۔گوشت کا استعمال ضرورت کے تحت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔لیکن جہاں تک جانوروں سے سلوک کا تعلق ہے رسول اللہؐ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے پیاسے کتے کو پانی پلایا اور اسکے بدلے میں اسکو جنت مل گئی اور کسی نے بلی کو باندھ کر رکھا اور وہ مرگئی تو اس کی جہنم میں داخل کیا گیا۔یعنی جانوروں سے سلوک سے طے ہوگا کہ کس کو جنت ملے گی اور کون جہنم میں داخل ہوگا۔غرض اسلام نے جانوروں کے تحفظ پر خاصہ زوردیا ہے۔ایک مرتبہ چند لوگ چڑیوں کے بچے پکڑ کر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپؐ نے دیکھا کہ ان بچوں کی ماں اڑتی ہوئی وہاں تک پہنچ گئی ہے۔آپؐ نے اپنے اصحابؓ کوہدایت فرمائی کہ بچوں کو جہاں سے لے آئے تھے وہاں رکھ آئیں ۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ:

 اَنَّ النَّبِیَّ ؐ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیـْـئًا فِیْہِ الرُّوْحُ غَرَضًا (بخاری مسلم)

 نبیؐ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارپر نشانہ لگائے۔

یہ تو نظر آنے والے جانوروں سے متعلق ہدایات ہیں اس سے آگے یہ احتیاط بھی کرائی گئی ہے کہ کسی ایسی جگہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے نظر نہ آنے والے کیڑے پتنگوں یا جانوروں کونقصان پہنچے۔ رسول اللہؐ فرماتے ہیں :

لاَ یَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ جُحْرٍ (حضرت عبد اللّٰہ بن سرجیسؓ- ابوداؤد نسائی)

 تم میں سے کوئی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔

جانوروں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی بازیابی سے متعلق ایک اور حدیث ہے:

 نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ اَنْ تُفْتَرشَ (حضرت ابو الملیحؓ عن ابیہ ؓ- ترمذی)

  رسول اللہؐ نے درندوں کی کھال پربیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

جاندار کے جسم سے کھال نکال دی جائے تو خون سے علیحدگی کے سبب اس میں بدبو پیدا ہونے لگتی ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ اس میں سڑاند پیدا ہونے لگتی ہے۔ دباغت(tanning)کے ذریعہ کھال کی نمی اور اس میں جمع خون نکال دیا جاتا ہے جس سے کھال پاک ہوجاتی ہے۔نبیؐ فرماتے ہیں – اِذَا دُبِغَ الْاِھَابُ فَقَدْ طَھُرَ (عن ابن عباسؓ- مسلم)- جب کھال پر دباغت کی گئی تو وہ پاک ہے۔ایسی کھال (leather) استعمال کی جاسکتی ہے ۔لیکن واضح رہے اللہ تعالیٰ نے جانداروں کی کھالیں اس طرح بنائی ہیں کہ صرف انہیں جانوروں کی کھالیں دباغت سے پاک ہوجاتی ہیں جو حلال کیے گئے ہیں ۔بقیہ جانوروں کی کھالیں دباغت کے باوجود پاک نہیں ہوتیں ۔

جانور کی کھال پر نہ بیٹھنے کا یہ حکم اپنے اندر ایک نفسیاتی پہلو بھی رکھتا ہے بلکہ یہ ایک طرح سے سیاسی و سماجی رسا کشی کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔آج کل کی سیاسی کشمکش اور کرسیوں کے لیے دوڑ بھاگ ایک عام سی بات معلوم ہوتی ہے۔اگر کسی کو کرسی کی چاہت ہے تو پھر وہ ایک سے بڑھ کر ایک اوراعلی سے اعلی منصب کے حصول کی کوشش کرے گا ۔اس ارشاد مبارک سے اس پہلو سے بھی اصلاح ہوجاتی ہے کہ کرسیوں گدیوں اور منصوبوں کی چاہتوں سے دل پاک رہنے چاہئیں ۔

پاکی صفائی: پاکی کو آدھا ایمان قرار دیا گیا اس لیے کہ پاکی و صفائی کی حالت میں انسان کا مزاج پاک اور نیک عمل کی طرف مائل رہتا ہے۔ماحول کا اثر فرد کے مزاج اور عمل پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔جو شخص ظاہر میں پاک نہ ہو اس کا باطن کیسے پاک رہ سکتا ہے؟جوخود ناپاک ہو وہ خدا جیسی پاک ذات کا ذکر کرنے کے لیے کیسے آمادہ ہوسکتا ہے؟مگر پاکی صفائی نہ صرف تن بدن اور لباس کی پاکی سے تعلق رکھتا ہے بلکہ وہ ماحول بھی صاف ستھرا ہو جہاں وہ رہتا بستا ہے۔جو شخص پاک ہے اس کا ذہن اور اطراف کا ماحول بھی پاک رہتا ہے۔اس لیے رسول اللہؐ نے عام راستوں سے متعلق خاص ہدایت فرمائی اور سکی اہمیت کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ اچھے اور برے طرز عمل کے لیے ماحول سے تعلق بھی ایک معیار ہے۔ رسول اللہؐ کا یہ ارشاد مبارک ملاحظہ فرمائیں :

اِتَّقُوْا الْمَلاَ عِنَ الثَّلاَ ثَۃَ الْبَرَازَ فِیْ الْمَوَارِدِ وَقَارِعَۃِ الطَّرِیْقِ وَالظِّلِّ (حضرت معاذ بن جبلؓ- ابوداؤد ابن ماجہ)

تین ناپسندید ہ باتوں سے بچوکیونکہ ان کی وجہ سے لعنت کی جاتی ہے۔دریا کے گھاٹ راستہ میں اور سایہ دار مقام پر پیشاب یا پاخانہ کرنا۔

اسی مضمون سے متعلق ایک اور حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے امام مسلمؒ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایادو باتوں سے بچو جن کی وجہ سے لعنت کی جاتی ہے صحابہؓ نے عرض کیاوہ کیا لعنت والی باتیں ہیں اے اللہ کے رسول ؐ؟آپؐ نے فرمایا "عام راستے اور سایہ دار درخت کے نیچے پیشا ب اور پاخانہ کرنا”۔یہ تو عام ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد معمول کے مطابق گذر نے والے زندگی میں ہوجاتا ہے۔لیکن مان لیجیے کوئی قافلہ سفر پر نکلا ہے کوئی گروپ ٹور پر ہے کسی سایہ دار مقام پر پہنچ کر ہوسکتا ہے کہ وہ ان تمام تعلیمات کا لحاظ نہ رکھ سکیں اور سوچیں کہ چلو یہاں تو جو چاہے کرسکتے ہیں ؟ غالباً اس طرح کی صورت کے لیے رسول اللہؐ کی یہ خاص نصیحت ہے:

لاَ تَنْزِلُوْاعَلٰی جَوَادِّ الطَّرِیْقِ وَلاَ تَقْضُوْا عَلَیْھَا الْحَاجَاتِ (حضرت جابر بن عبد اللّٰہ ؓ- ابن ماجہ)

راستے کے درمیان مت اترو اور نہ وہاں اپنی ضروریات پوری کرو۔

پانی کی آلودگی (water pollution)سے بچا ؤ: تمام طرح کی آلودگیوں میں پانی کی آلودگی کی صورت حال بگڑتی چلی جارہی ہے۔اس کے لیے ایک تو ڈرینج کا ناقص نظم اور فیکٹریوں اور مختلف کیمیائی کمپنیوں کے فضلہ کابے دریغ دریا ؤں میں مل جانا ہے تو دوسری جانب لوگوں کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے کہ جب چاہے جو چاہے پانی میں پھینک دیا۔ اگر کسی ٹھہرے ہوئے پانی کے ذخیرے جیسے تالاب با ؤلی وغیرہ کو کوڑے دان نہیں سمجھنا چاہیے کہ جب چاہے جو چاہے چیزیں ان میں ڈال دو؟ ٹھہرے ہوئے پانی کے ذخیروں کی آلودگی زیادہ تر اسی وجہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہؐ ایسے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو سخت ناپسند فرماتے ہیں :

نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنْ اَنْ یُّـبَالَ فِیْ الْمَائِ الرَّاکِدِ (حضرت ابوقتادہ ؓ- نسائی)

 رسول اللہ ﷺ نے ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ ماحولیات کاتحفظ درحقیقت ایک مخصوص مزاج اور فکر سے تعلق رکھتا ہے جس کا اصل سرچشمہ خالق کی مرضی کے مطابق زندگی گذارنا ہے۔زمین کو پاک و صاف رکھنے کے لیے خالق ارض و سما کی یہی ہدایت تمام انسانوں کے لیے ہے:

وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ….(الاعراف:۵۶)

اور زمین پربگاڑ پیدا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے۔

اورجب خالق کے حکم پر زمین سے انسان کا ایسا اصلاحی تعلق قائم ہوجاتا ہے تو وہ یہاں پائی جانے والی ہر چیز کو اسی تعلق کی بنیاد پر بڑی اپنائیت سے دیکھے گا جیسے وہ اپنے گھر میں موجود کسی چیز کو دیکھتا ہے۔ رسول اللہؐ نے جبل احد کو دیکھ کر فرمایا:

ھَذٰا اَحَدٌ جَبَلٌ یُّحِبُّنَا وَ نُحِبُّہٗ (ترمذی)

یہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے

خدا پر ایمان اصل میں اس کی مخلوقات سے بھلائی کا سلوک کا تقاضہ کرتا ہے۔خدا کی فرمانبرداری کا دعوی مخلوق سے حسن سلوک سے ہی سچ مانا جاتا ہے۔دین اسلام انسان کے اندر دنیا سے ایسا ہی معنوی تعلق قائم کرتا ہے اور اس کو یہ باضابطہ حکم دیتا ہے۔

… سِیْرُوْافِیْ الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ….

  زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ خدانے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے پھراللہ دوبارہ زندگی بخشے گا۔(العنکبوت : ۲۰)

لہٰذا جب ہم ماحولیات کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب خدا کی مکمل فرمانبرداری ہوتا ہے۔بلاشبہ ماحولیات کا تحفظ ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔

 صحت و تندرستی (Health Science)

health

بہترصحت کے لیے اچھی غذا ؤں کے استعمال کے ساتھ مزاج میں اعتدال ضروری ہے۔جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ صحت کا بہتر معیاربرقرار رکھنے کے لیے بری عادتوں اور نشہ آور چیزوں سے مکمل طور پر بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں :

 قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ مَااَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَـقَلِـیْـلُہٗ حَرَامٌ (حضرت جابرؓ- ترمذی)

  رسول اللہؐ نے فرمایا جس چیز کا زیادہ استعمال نشہ کا سبب بنے اس کا تھوڑا استعمال بھی حرام ہے۔

 ایک اورحدیث میں ہیکُلُُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ مَااَسْکَرَ الْفَرْقُ مِنْہُ فَمِلْأُ الْکَفِّ مِنْہُ حَرَامٌ- ہر نشہ آ ور چیز حرام ہے جس کی ایک فرق (portion)بھر سے نشہ ہو اس کا ایک چلو بھر بھی حرام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ الحسوۃ منہ حرام- اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔

اس میں بڑا بلیغ اشار ہ اس حقیقت کی جانب ہے جس طرف اکثر ذہن نہیں جاتے۔خرابی اکثر چھوٹے پیمانے پر ہی شروع ہوتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اپنا مقام بنالیتی ہے۔کسی نشہ آ ور چیز کا استعمال بہت تھوڑ ی مقدار میں بھی ہونے لگے تووہ بلامبالغہ آدمی کو غلام بنادیتی ہے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو ایک گھونٹ یا چلو کی بات نہیں بلکہ ھل من مزید والا معاملہ ہوتاہے۔اس لیے مہلک خرابیوں کے لیے رتی برابر بھی جگہ مہیا نہیں ہونی چاہیے۔ نشہ آور چیزوں کی عادت سے چھٹکارا دلانے (de-addiction) کے لیے مصروف لوگوں کا کہناہے کہ نشہ جیسی بری لت کی تین حالتیں (stages) ہوتی ہیں ایک یہ کہ کسی لذت کو حاصل کرنے یا غم غلط کرنے کے لیے نشہ آور چیز کا استعمال شروع ہوتا ہے (use) ۔ دوسرا یہ کہ جب استعمال ہوتا رہے تو نشہ ہی سے پیسوں اور صحت کی بربادی سے استحصال ہونے لگتا ہے (abuse) پھر ان دونوں حالتوں سے گذرتے گذرتے آدمی کو نشہ کی لت پڑ جاتی ہے (addiction)۔ اس حالت سے نکل آنا آسان نہیں ہوتا۔اس حدیث کے ذریعہ دراصل اس گھنا ؤنی برائی کی جڑ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے اور اس کے بالکل پہلے اسٹیج کے ابتدائی مرحلہ کے قریب بھی نہ جانے کی تاکید کی گئی ہے۔

 قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ (حضرت عبد اللّٰہ بن عمرؓ- ترمذی)

 رسول اللہؐ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

شراب کی روک تھام: شراب کا اس کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے کہ آج اس کے مضر اثرات سے بین الاقوامی سطح پر کوششیں ہورہی ہیں ۔ اور ملک و ریاست کو خاص ہدایات دی جارہی ہیں کہ عوام میں شراب کے مضر اثرات سے متعلق شعور کی بیداری کی پالیسی و پروگرام بنائیں ۔ لیکن اس سلسلہ میں زیادہ تر زور شراب نہ پینے پر دیا جاتا ہے۔مختلف قسم کی بیماریوں اور اخلاقی برائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے شراب چھوڑنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔لیکن یہ کوششیں ناقص معلوم ہوتی ہیں کیونکہ اگر کسی سماجی برائی کے ازالہ کے لیے پورے سماج کو اگر مخاطب نہ بنایا جائے تو اس سماجی برائی کا مکمل ازالہ ممکن نہیں ۔دیکھیے سیرت رسول ؐ سے ہمیں کیا راہنمائی ملتی ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے:

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ لَعَنَ اللّٰہُ الْخَمْرَوَشَارِبَھَاوَسَاقِیـَھَاوَبَائِعَھَاوَمُبْتَاعَھَاوَعَاصِرَھَاوَمُعْتَصِرَھَاوَحَامِلَھَاوَالْمَحْمُوْلَۃَ اِلَیْہِ (ابوداؤد)

رسول اللہ ؐنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت فرمائی ہے اور اس پر بھی جو اسے پیے پلائے بیچے خریدے بنائے بنوانے لگائے اٹھائے اور اٹھوانے لگائے۔

 ڈرگس کا استعمال ممنوع: اس طرح ڈرگس کے استعمال کا معاملہ ہے۔ شراب سے متعلق جو ممانعت اور لعنت بیان ہوئی ہے اسکا اطلاق ڈرگس کی تمام قسموں پر ہوتا ہے۔ معاشرہ میں ممانعت کے ان اصولوں کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے:

نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنْ کُلِّ مُسْکَرٍ وَّ مُفْتِرٍ (حضرت ام سلمۃ ؓ- ابوداؤد)

رسول اللہ ؐ نے منع فرمایاہر نشہ آور چیز سے اور مفتر سے۔

 مفتر کے معنی ایسی چیز کے ہیں جس کے استعمال سے سستی طاری ہوجاتی ہے۔اگر اس ضمن میں توجہ دی جائے تو نئی نسل چاہے کسی بھی سطح کی ہو اس سے محفوظ رہے گی ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ پڑھے لکھے اور باصلاحیت نوجوان اور کھلاڑی بھی مختلف قسم کے ڈرگس کے استعمال کی وجہ سے مجرم قرار دیے جارہے ہیں اور بعض کھلاڑیوں سے تو جیتے ہوئے طمغے اور انعامات بھی واپس لیے گئے ہیں جب وہ ڈوپنگ ٹیسٹ کے ذریعہ قصور وار پائے گئے۔

انسانی رویے Behavioral Science

behaviour

سخت اور تنگ لباس کی ممانعت: آج کل ٹھوس تنگ اور سخت قسم کے کپڑوں سے بنے لباس زیب تن کرنے کا فیشن عام ہے۔ اخلاقی نقطہ نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے کپڑے اپنے مقاصد میں پورے نہیں اترتے نہ حیا کا لحاظ ہوتا ہے اور نہ ہی جسمانی ساخت کے لیے کسی صورت مناسب لگتے ہیں اور لباس زیب تن کرنے سے شخصیت کے جاذب نظر بننے کا پہلو بھی دب کر رہ جاتا ہے۔اس ضمن میں حضرت علیؓ کی روایت کردہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

 نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ؐ عَنْ لُبْسِ الْقَسِیِّ وَالْمُعَصْفَرِوَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّھَبَ وَعَنْ قِرَآئَ ۃِ الْقُرْآنِ فِیْ الرُّکُوْعِ (حضرت علیؓ- مسلم)

رسول اللہؐ نے قسی اور کسم کا رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے۔اور سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن مجید پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

قسی کے معنی سخت موٹے اور ٹھوس کے ہیں ۔یعنی ایسا کپڑا نہیں پہننا چاہیے جو بہت موٹا اور سخت ہو۔جیسے stone cloth, hard jeans وغیرہ ۔ ایسے لباس پہننے سے آسانی سے اٹھنا بیٹھنا اور سہولت سے کام انجام دینا ممکن نہیں ہوتا۔ وضو بنانے اور نماز پڑھنے میں بھی دشورای ہوسکتی ہے۔

مُعَصْفَر- یہ ایک قسم کا پھول (safflower, false saffron)کا پودا ہے جس کی دنیا کے بیشتر مقامات پرکاشت کی جاتی ہے اس سے رنگا کپڑا پہننے سے منع کیا گیا ہے۔غالباً اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ کپڑے کو رنگنے کے لیے اس پھول کے اوپری حصہ سے رنگنے کا مادہ (dyestuff)تیار کرلیا جاتا ہے جو گہرے لال رنگ کا ہوتا ہے اس کے استعمال سے کپڑے کا رنگ گہرا لال یا زغفرانی ہوجاتا ہے۔لباس سے جو خوبصورتی اور وقار مطلوب ہے اس کپڑے کے استعمال سے وہ متاثر ہوجاتا ہے۔

مرد سونا نہ پہنے – اس حدیث میں مردوں کو سونا پہننے سے منع کیا گیا ہے۔بعض احادیث میں سونے کی تانت سے دانتوں کو باندھنے کی گنجائش کا ذکر ملتا ہے۔علاوہ اس کے سونا مردوں پر حرام ہے۔اسکی ایک سیدھی سی وضاحت تو یہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ منع فرماتے ہیں اس لیے بلاچوں و چرا رک جانا چاہیے۔تاہم اس کے حرام کرنے میں جو حکمتیں ہیں ان میں اخلاقی پہلو نمایاں محسوس ہوتے ہیں ۔سونا چونکہ ایک قیمتی دھات ہے اس لیے اس کے استعمال سے دولت کا بے جا صرف دنیا سے رغبت تکبر و غرور اور بننے سنورنے کی خواہش دل میں گھر کرلینے کے امکانات ہیں ۔ان تمام بری خصلتوں سے حفاظت حرام قرار دیے جانے میں پنہاں ہے۔اس کا ایک اوراخلاقی پہلو بھی بڑا خاص ہے جس کی اما م ابن القیم نے اعلام الموقعین میں وضاحت فرمائی ہے کہ زیور سے اپنے کو آراستہ کرنا ایک عورت کو زیبا دیتا ہے جو اسکے نرم و نازک مزاج اور مطلوبہ رول سے عین مناسبت بھی رکھتا ہے اس لحاظ سے مرد وں پر سونا حرام کرناقرین از حکمت معلوم ہوتا ہے۔

سواری پر ضرورت سے زیادہ خرچ نہ ہو- موٹر بائیک اور کار وغیرہ کی آرائش بھی اب ایک آرٹ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ صاحب استطاعت لوگ نہ صرف بے دریغ نئی نئی گاڑیاں خریدتے ہیں بلکہ انہیں طرح طرح سے سجانے اورسنوارنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔2014میں auto accessoriesکا کاروبار 33بلین ڈالر کا رہا۔(source: globe newswire) اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میدان میں کس قدر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ دولت کے صحیح استعمال اصراف سے پرہیز اورضرورت سے زیادہ آرام طلبی سے بچا ؤ کے لیے رسول اللہؐ کا یہ ارشاد مبارک چشم کشا ہے۔حضرت براء بن عازبؓفرماتے ہیں کہ:

اَنَّ النَّبِیَّ ؐ نَھٰی عَنِ الْمِـیْـثَرَۃِ الْحَمْرَآئِ (ابوداؤد نسائی)

نبی ؐنے سرخ رنگ کے ریشمی زین پوش سے منع فرمایا ہے۔

مِـیْـثَـرَۃ- ایک قسم کی ریشم کی قالین ہے جو گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے(saddle cloth, cushion) تاکہ سواری کرنے میں آرام ملے اس سے روکا گیا ہے۔یعنی سواری پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ناپسندیدہ ہے۔کار اور موٹر بائک وغیرہ کے لیے غیر ضروری ڈیکوریشن بھی اسی طرح ممنوع ہے جس سے غرور و تکبر اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت کابے جا استعمال ظاہر ہوتاہے۔

سر کے بال کٹوانے کا صحیح طریقہ – سر پر بال رکھنے کے سلسلہ میں رسول اللہؐ کی خاص نصیحتیں ہیں ۔ آپؐ نے بالوں کو سلیقے سے رکھنے کی خاص تلقین فرمائی ہے ۔ حضرت ابوقتادہ ؓ نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ میرے بال کندھوں تک ہیں کیا میں ان میں کنگھی کروں ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور ان کی ٹھیک دیکھ بھال بھی کرو (موطاامام مالک)۔ آج کل بالوں کے رکھنے اور کتروانے کا ایک عجیب سا رجحان چل پڑا ہے۔بطور فیشن اور اظہار مسرت کے لیے سر کے بالوں کو مخصوص طریقے سے ترشوانا سرمیں نقشے پھول اورمختلف ڈیزائنس بنوانا معمول بنتا جارہا ہے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے:

اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ؐ نَھٰی عَنِ الْقَزَعِ (بخاری)

رسول اللہؐ نے قزع سے منع فرمایا ہے۔

قزع کے معنی سر کے کچھ بال کتروانا اور کچھ کو چھوڑ دینا۔اس کے مختلف طریقے ہوتے ہیں سر کے بیچوں بیچ بال رکھنا(tuft of hair) اور بقیہ حصہ سے بالکل نکال دینا کانوں کے اوپر اور اطراف سے بالوں کو باریک ترشوانا اور بقیہ سرپر بال یوں ہی چھوڑ دینا۔یہ اور اس طرح کے دیگر طریقے اختیار کرنے سے منع کیا گیاہے۔ انسان کی عظمت اور شرف کے منافی یہ بات ہوگی کہ وہ اپنی چال ڈھال اور حلیہ سے اس کے وقار کے برعکس کوئی وضع قطع اختیار کرے۔حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا۔

فَنَھَاھُمْ عَنْ ذَالِکَ وَقَالَ اِحْلِقُوْا کُلَّہٗ اَوِتْرُکُوْا کُلَّہٗ (مسلم)

آپؐ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ یا تو پورے بال کٹا ؤ یا پھر انہیں ایسے ہی چھوڑ دو ۔

اختتامیہ

muhammad3

دین اسلام میں عبادت کا ایسا ہی جامع و ہمہ گیر تصور ہے ۔نہ صرف پوجا پاٹ عبادت کا جز ہیں بلکہ مخلو ق کی خدمت کا ہر کام زندگی کے ہرمیدان کو انسانوں کے لیے فائدہ مند بنانے کی تمام کوششیں عبادت بن جاتی ہیں جب وہ خالص خدا کی خوشنودی کے لیے انجام دی جائیں ۔ذاتی اصلاح اور معاشرہ کی بھلائی کے لیے کیا جانے والا ہر کام نماز و روزہ جیسا مقدس عمل بن جاتا ہے ۔اس مضمون میں سائنس کے بعض پہلو ؤں سے متعلق رسول اللہؐ کی جن تعلیمات کا ذکر کیا گیا ہے ان سے آپ نے اسی حقیقت کوبخوبی سمجھ لیا ہوگا۔ اللہ کے رسولؐ تمام انسانوں کے لیے انتہائی شفیق و مہربان تھے آپ ؐ نے انسانوں سے اپنے تعلق کا اظہار اس طرح فرمایا ہے:

 یٰٓا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا رَحْمَۃٌ مُّھْدَاۃٌ (مسلم)

اے لوگو میں تمہارے پا س رحمت اور بڑا قیمتی تحفہ بناکر بھیجا گیا ہوں

اوریہ بھی فرمایا کہ:

 اے لوگو! تمہاری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے کوئی شخص مجھ سے بہتر چیز لے کر نہ آیا ہوگا۔میں تمہارے لیے دین اور دنیا کی سعادتیں لے کر آیا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تمہاری پیشانیوں کو اس کے آستانہ عالیہ پر سجدہ ریز ہونے کی دعوت دوں ۔اور تمہارے دلوں سے اس کے ماسوا پرستش کا خیال باطل نکال دوں ۔پس تم سب لوگ بت پرستی اور شرک سے باز آجا ؤ۔خالص اللہ کی بندگی کو اپنا شعار زندگی قرار دو۔ اپنے خیالات اور افعال کی اصلاح کرو۔کون ہے جو میری اس دعوت حق پر لبیک کہے اور مجھے اس کی نشر و اشاعت میں مدد دے۔

رسول اللہؐ کی تعلیمات پر عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کے پیش نظرہونا چاہیے۔ اس مضمون میں صرف ایک شعبہ سے متعلق آپؐ کے ارشادات کا ذکر کیا گیا ہے۔اگرانسان اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں امن و سکون قائم رہے تو اس کے سامنے رسالت مآب ؐ کی تعلیمات ہیں جو اسے دعوت فکر و عمل دیتی ہیں ۔ خالق کائنات نے اپنے رسول ؐ کوانسانوں کو ہر طرح کی غلامی کے بوجھ سے آزاد کرانے اور امن و سکون کی زندگی فراہم کرنے کے لیے بھیجا ہے:

…یَأْمُرُہُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَاہُمْ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبَآئِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ إِصْرَہُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْْہِمْ…(الاعراف:۱۵۷)

وہ انہیں نیکی کا حکم دیتاہے بدی سے روکتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پرسے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

[box type=”download” align=”” class=”” width=””]یہ مضمون ای بک کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

[button color=”red” size=”medium” link=”http://mazameen.com/wp-content/uploads/2016/12/guidance-from-seerah-and-science.pdf” icon=”” target=”false”]Download E-Book[/button][/box]

مزید دکھائیں

محمد عبداللہ جاوید

مضمون نگار انگریزی و اردو کے معروف قلم کار ہیں۔ تعلیم کے اعتبار سے موصوف ڈبل ماسٹرز ہیں: اول نیوکلیئر اینڈ انرجی فزکس میں اور دوم سوشیالیوجی میں۔ علاوہ ازیں عربی، مطالعات ِاسلامی اور تقابل ِادیان پر بھی آپ وسیع و عمیق مطالعہ رکھتے ہیں۔ آپ کے خاص موضوعات اسلامی افکار، تعلیم، سائنس، عمرانیات، سماجی علوم ،شخصیت کا ارتقا، وسائل انسانی کی تنظیم اور حالات حاضرہ ہیں۔ موصوف ان دنوں مختلف سماجی فورمز پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ اپنے ایک نجی تحقیقی ادارہ - اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ - کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی تربیت اور ان میں سائنسی و تحقیقی رجحان پیدا کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔ قرآن و حدیث اور سیرت رسول ص پر آپ کی چھ کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ان کے علاوہ تربیت وتنظیم، دعوت ، تعلیم ، شخصیات اور مختلف سماجی مسائل پر کئی کتا بچے اور مضامین بزبان اردو و انگریزی ملکی وبین الاقوامی اداروں سے شائع ہوئے ہیں۔
Back to top button
Close