اہل پنجاب تبدیلی کے خواہاں!

موجودہ دور میں  جس تیز رفتاری کے ساتھ مسائل سامنے آتے ہیں ،  ایشوز پیدا کیے جاتے ہیں  اور شہری متاثر ہوتے ہیں ،  اس سے کہیں  زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ان کو بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ ایشوز کا سامنے آنا اور بھلا دیا جانا ،  ایک باضابطہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جانے والا عمل ہے۔ جس کے لیے نہ صرف بے شمار دولت صرف کی جاتی ہے بلکہ غالباً اس کے لیے قیمتی دماغوں  کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب متاثرافراد وہ عوام ہوتے ہیں  جو درحقیقت دولت کے اعتبار سے خالی ہاتھ ،  معاشی اعتبار سے خستہ حال، مسائل کی سمجھ اور شعور کے لحاظ سے نابلد اور جذباتی اعتبار سے متشدد ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل پیدا کرنے والے،  مسائل کا رونا رونے والے،  مسائل کا تذکرہ کرنے والے،  مسائل کو پیش کرنے والے،  مسائل کے فروغ میں  مصروف عمل رہنے والے اور مسائل میں  اکثریت کو الجھانے والے، حالات اور واقعات سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ، اس کے باوجود وہ مسیحاکہلاتے ہیں  اور عوام کے خیر خواہ۔ موجودہ دور میں  جسے ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں ، اس دور میں  یہ کام مزید منظم،  منصوبہ بند اور کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ وجہ بہت سادہ سی ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں  ہمارے پاس اس قدر بڑے پیمانہ پر انفارمیشن حاصل ہو رہی ہے کہ ہم اس کو جذب کرنے، ہضم کرنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ واقعات  اورحادثات اس برق رفتاری سے ہمارے سامنے آرہے ہیں  کہ ہمیں  موقع ہی میسر نہیں  آتا کہ کسی بھی واقعہ یا حادثہ پر ہم کچھ دیر ٹھہر کر غور و فکر کر سکیں  اوراس سے نجات کا لائحہ عمل تیار کر سکیں ۔ اس صورتحال کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ بڑے سے بڑا واقعہ اور حادثہ اکثریت کے لیے معنی نہیں  رکھتا،  وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے خود اپنی ذات اور متعلقہ مسائل پر ہی متوجہ ہوتے ہیں ۔ تو وہیں  دوسرا پہلو یہ ہے کہ حالات کے پس منظر میں  اجتماعی سعی و جہد کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے برخلاف اس کے فرد خود اپنی ذات میں  منہمک ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ صورتحال کسی بھی قوم و ملت اور ملکی سطح پر موجود اجتماعیت کے لیے حد درجہ منفی ثابت ہوئی ہے اور ایسی ہی تمام صورتوں  میں  ڈکٹیٹر شپ کوپروان چڑھنے کے مواقع میسر آتے ہیں ۔ غور وفکر کرنے والے اور سوچنے سمجھنے والے دماغوں  کو اس سنگین صورتحال سے باہر نکلنا چاہیے۔ انفارمیشن کا حصول برائی نہیں  اس کے باوجود عملی میدان سے وابستگی حد درجہ ضروری ہے۔

 4؍جنوری 2017الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک کی پانچ ریاستوں  میں  اسمبلی الیکشن کروانے کا اعلان کیا۔ لیکن اس اعلان سے قبل ہی ان پانچ ریاستوں  میں  اسمبلی الیکشن کی تیاریوں  میں  تمام ہی سیاسی پارٹیاں  مصروف ہو چکی تھیں ۔ ان پانچ ریاستوں  میں  جن دو ریاستوں  کا الیکشن ملک اور اہل ملک کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے ،  ان میں  اول الذکر ریاست اترپردیش ہے تو وہیں  موخر الذکر پنجا ب ہے۔ کل پانچ ریاستوں  میں  کی 690اسمبلی حلقوں  میں  یہ انتخاب عمل میں  آنا ہے جس میں  16کروڑ ووٹرس حصہ لیں  گے۔ اس کے لیے ایک لاکھ پچیاسی ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں ، جہاں  الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ امن و امان کے ساتھ ووٹ دالے جا سکیں ۔ سیاسی پارٹیاں  اور سیاست داں جن کے نام پر ووٹ دالے جائیں  گے، کے ساتھ ساتھ NOTAکااختیار برقرار رکھا گیا ہے، جہاں  کسی بھی امید وار یا پارٹی کے پسند نہ آنے پر ‘ان میں  سے کوئی نہیں ‘کا اختیار حاصل ہے۔ گوا اور منی پور کے لیے الیکشن کمیشن نے 20-20لاکھ کی حد امیدواروں  کے اخراجات کے لیے طے کی ہے تو وہیں  پنجاب، اتراکھنڈ اور اترپردیش کے لیے28لاکھ۔ 690اسمبلی حلقوں  میں  403اترپردیش میں  ہیں  تو وہیں  117پنجاب کے تحت آتے ہیں ،  بقیہ 170اسمبلی حلقے تین ریاستوں میں  آتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اترپردیش کے بعد پنجاب ہی وہ بڑی ریاست ہے جس کے نتائج مستقبل قریب میں  ملک اور اہل ملک اور موجودہ حکومت ، سب کے لیے اہمیت کے حامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں  مرکزی سطح پر برسراقتدارحکومت اترپردیش کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے خاص انداز میں  سرگرم عمل ہے تو وہیں  پنجاب میں  کانگریس اپنی تمام صلاحتیں  صرف کیے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود یہ عجب اتفاق ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت بنتی نظر نہیں  آرہی ہے۔ سماج وادی پارٹی جو فی الوقت ریاست میں  برسراقتدار ہے وہ مستقبل میں  بھی حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے تو وہیں  اس  کی حریف بہوجن سماج پارٹی اس سے کہیں  زیادہ امید لگائے ہوئے کہ 2017میں  ریاست میں  اسی کی حکومت بنے گی۔ وہیں  دوسری جانب پنجاب میں  گرچہ کانگریس آخری دنوں  میں  ابھرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، اس کے باوجود عام آدمی پارٹی پر امید ہے کہ اس مرتبہ ریاست اترپردیش میں  حکومت وہی تشکیل دے گی۔ اور برسراقتدار شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کی حکومت جاتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں  مرکز میں  موجود بی جے پی کی حکومت کافی پریشان ہے، کیونکہ دونوں  ہی ریاستیں  اس کے لیے اہمیت رکھتی ہیں ۔

 2011کے اعداد و شمار کی روشنی میں  فی الوقت ریاست میں  58%فیصد سکھ،  38.5%ہندو،  1.9%مسلمان،  1.3%عیسائی اور 0.60%دیگر افراد رہتے بستے ہیں ۔ وہیں  دوسری جانب اگر کاسٹ کی بنا پر دیکھا جائے تو 22%او بی سی،  31.94%شیڈول کاسٹ(دلت) ، 41%فارورڈ کاسٹ اور 3.8%دیگر پائے جاتے ہیں ۔ وہیں  ریاست پنجاب سیاسی حالات پر نظر ڈالیں  تو معلوم ہوتا ہے کہ 2002میں  بی جے پی کو صرف 3اسمبلی سیٹوں  پر کامیابی ملی تھی،  برخلاف اس کے کانگریس کو 41اور شرومنی اکالی دل کو 62۔ وہیں  2007میں  پنجاب میں  بی جے پی کو پہلے کے مقابلہ آگے بڑھنے کا موقع ملا تھا اور یہ 3سیٹیں  بڑھ کر 19پر پہنچ گئیں تھیں ، جبکہ کانگریس کو 44اور شرومنی اکالی دل کو 48۔ لیکن 2012میں  بی جے پی کو گزشتہ کے مقابلہ چند سیٹوں  کا نقصان ہوااور 19سے گھٹ کربی جے پی 12پے آگئی،  وہیں  شرومنی اکالی دل کو 56اور کانگریس کو 46سیٹوں  پر کامیابی ملی۔ اس کے باوجود بی جے پی اور اکالی دل کے ملنے سے شرومنی اکالی دل کی حکومت تشکیل دی گئی اور ریاست میں  بی جے پی کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آتے رہے۔ لیکن موجودہ صورتحال اقتدار میں  موجود دونوں  ہی پارٹیوں  کے لیے الامنگ ہیں ۔ ریاست میں  جہاں  ایک جانب کانگریس اپنی تمام کوششوں  میں  مصروف عمل ہے اور اسے ایک بار پھر حکومت بنانے کا موقع مل سکتا ہے وہیں  عام آدمی پارٹی بھی اپنی تمام تر صلاحتیں  صرف کیے ہوئے ہے، اور اسے بھی پورے امید ہے کہ اس مرتبہ ریاست میں  اسی کی حکومت بنے گی،  ٹھیک اسی طرح جس طرح دہلی میں  انہوں  نے حکومت بنائی تھی اور دیگر قدیم ترین سیاسی پارٹیوں  کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

  ریاست میں  چوتھی بڑی سیاسی پارٹی ،  اپنے ووٹروں  کے اعتبار سے بہوجن سماج پارٹی ہے۔ جس نے 2012میں  اپنا ووٹ شیئر بڑی تیزی سے بڑھایا ہے۔ 15؍مارچ2016میں  نون شہر میں  ایک بڑی ریلی کے دوران جو دراصل بی ایس پی کے بانی شری کانشی رام کے یوم پیدائش پر منعقد کی گئی تھی،  مایا وتی نے برسراقتدارایس اے ڈی -بی جے پی حکومت کو دلت مخالف کہتے ہوئے اپنے 2017اسمبلی الیکشن کا آغاز کیا تھا ۔ مایا وتی نے برسر اقتدار حکومت پر الزام لگایا تھا کہ یہ دلت مخالف حکومت ہے وہیں ریاست میں  ابھرتی عام آدمی پارٹی کو بنیا بتایا تھا ، اور ان پر بھی الزام لگایا تھا کہ کیجری وال اور اس کی پارٹی ، دہلی میں  حکومت بنانے سے قبل دلت اور شیڈول کاسٹ مخالف سرگرمیوں  میں  ملوث رہے ہیں ۔ لہذا یہاں  بھی وہ قابل اعتبار نہیں  ہو سکتے۔ نیزمایاوتی نے اُسی موقع پر پنجاب کی تمام 117سیٹوں  پر الیکشن لڑنے اور کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے باوجود جہاں  وہ کسی نہ کسی حد تک اپنی سرگرمیاں  جاری رکھے ہوئے ہیں  وہیں  وہ اپنی تمام سرگرمیوں  کو اترپردیش پر فوکس کیے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ انہیں  امید ہے اس مرتبہ اترپردیش میں  ان کی حکومت تشکیل پائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ فی الوقت وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف پنجاب میں  بیان بازی سے گریز کرتی نظر آرہی ہیں ۔



⋆ آصف اقبال

آصف اقبال
آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔