خصوصیہندوستان

26؍نومبر: یومِ آئین بھارت

مرزاعبدالقیوم  ندوی

پیارے بچو:آپ جس اسکول میں پڑھتے ہیں، وہاں کے کچھ قوانین وضوابط ہوتے ہیں، جیسے آپ کے اسکول کا یونیفارم، اسکول کا وقت، اساتذہ کے گھنٹے، کلاس میں پابندی سے حاضری، اسکول کی فیس، سالانہ، شسماہی، سہ ماہی امتحانات وغیرہ، صدرمدرس، اسی طرح کلرک، ہرایک کا اپنا کام وذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جب چھوٹے سے اسکول کے لیے اتنے سارے قوانین ہوتے ہیں تو ہمارے اتنے بڑے عظیم الشان ملک بھارت کے لیے جس کی آبادی ایک سو 35کروڑ ہے، اس کے لیے کسی قانون و ضابطہ و دستورکا ہونا ضروری ہے۔

بھارت کے  دستو کا نفاذ 26جنوری 1950میں عمل میں آیا تھا۔ اس کی ایک تاریخ ہے، جو مختصراَ پیش کی جارہی ہے۔

دستور سازکمیٹی کی تشکیل :

11؍دسمبر1946کودستورسازکمیٹی کی میٹنگ میں ڈاکٹر راجندر پرساد کو صدر چنا گیا جو آخر تک اس عہدے پرفائز رہے۔ دستورساز کمیٹی کے ممبران کا انتخاب ریاستی اسمبلیوں کے منتخبہ ممبران نے کیا تھا۔ جس کے ممبران میں ڈاکٹرراجندرپرشاد کے علاوہ، پنڈت جواہرلال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردارولبھ بھائی پٹیل، ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکرشامل تھے۔

اس ’’دستور سازکمیٹی ‘‘ نے 2سال 11ماہ 18دنوں میں جملہ 114نشستیں منعقد کیں۔ جن میں صحافیوں اور عوام کو شامل ہونے کی مکمل آزادی تھی۔ دستور کی تکمیل کے بعداس پرسبھی 248پارلیمانی ممبران نے دستخط کیے، جن میں 15خواتین بھی شامل تھیں۔ بھارت کے دستور کودنیا کاسب سے بہترین لکھا ہوا دستور مانا جاتاہے۔ دستو ر کی اصل کاپی کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظام کے تحت اسے  ’’ہیلیم ‘‘ کے اندر ڈال کرپارلیامنٹ کی لائبریری میں محفو ظ کردیاگیا ہے۔ ایک اورخاص بات یہ ہے کہ دستورہندکو چھاپا نہیں گیا بلکہ اس کی کتابت کی گئی اور ویسے ہی محفوظ رکھاگیا۔ دستورکوہندی اورانگریزی دونوں زبانوں میں لکھا گیا تھا۔ اور یہ دستوراپنی خوبیوں و طوالت کے سبب دنیا کے بہترین دستور میں شما ر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ انسانی حقوق کی آفاقی اہمیت ہے ہمارے آئین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں بھرپور گنجائش رکھی گئی ہے۔

’’تین شیر‘‘ جو ہمارا جو قومی نشان ہے، اسے سارناتھ میں آشوک اعظم  نے بنوایاتھا، اس نشان کو26؍جنوری 1950میں قومی نشان کے طو ر پرتسلیم کیا گیا۔

26نومبر 2015سے ہر سال  26؍ نومبر کوہم ’’یوم ِآئین‘‘کے طور پر مناتے ہیں۔ جس میں آئین سے متعلق عوام میں بیداری و آگاہی اور اس کے احترام وغیرہ سے متعلق مختلف نوعیت کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ بھارت کا آئین دنیا کا سب سے طویل آئین ہے۔ جس میں 395 دفعات (articles)، 22ابواب(chapters)، 12ضمیمے(schedus)، اور 02تتمے(appndix)ہیں، اور 1,17369 الفاظ شامل ہیں۔ آئین اپنی67 سالہ سفر میں 123مرتبہ ترمیم (constiutional amendments)کے مرحلوں سے گزرا ہے۔ جس میں آخری مرتبہ  11اگست2018قومی  پسماندہ کمیشن کوآئینی درجہ دینے کے لیے ترمیم کی گئی۔

دستور کی تمہید  میں کہاگیا ہے کہ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی  سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ  بنائیں گے  اور اس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں گے:

انصاف، سماجی معاشی اورسیاسی ;

آزادی خیال، اظہار، عقیدہ ، دین اورعبادت ;

مساوات بہ اعتبار حیثیت اور موقع اوران سب میں اخوت کو ترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اور قوم کے اتحاد اور سا  لمیت کا تیقن ہو اپنی آئین سازاسمبلی میں آج چھبیس نومبر، 1949کویہ آئین ذریعہ  ہذا اختیار کرتے ہیں، وضع کرتے ہیں  اوراپنے آپ پر نافذکرتے ہیں۔ ‘‘

آسان لفظوں میں کہا جائے تو ہمارا آئین بھارت کو ایک مکمل خود کفیل، سماج وادی، سیکولر، جمہوری ملک بنانا چاہتاہے اور  دستور کے مطابق، یہاں تمام شہریوں کو سماجی، معاشی، سیاسی انصاف کے ساتھ نظریاتی وشخصی نیزعقیدہ ومذہب، عبادات کی آزادی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ دستور ترقی و دیگر معاملات میں سب کویکساں مواقع، ہر فرد کو برابری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتاہے۔ ہمارا ملک کسی ایک مذہب و تہذیب کی نمائندگی نہیں کرتا اور ناہی یہاں کسی طرح کے تعصب کی اجازت دیتاہے۔

دستور کے مطابق شہریوں کو جو بنیادی اور اہم حقوق حاصل ہیں ان میں ووٹ دینے کا حق شامل ہے۔ اس کے علاوہ  پسماندہ طبقات و جماعتوں کے لیے ملک کے دستورساز ایوانوں میں نمائندگی کے لیے نشستیں محفو ظ رکھی گئی ہیں۔       ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب، عقید ے اور زبان پر قائم رہنے، عمل کرنے اور تبلیغ واشاعت کی اجازت حاصل ہے۔ ملک کا کوئی بھی شہری کہیں بھی بود و باش اختیار کرسکتاہے۔ دستور نے یہ بھی حق دیا ہے کہ ہم آزادی کے ساتھ اپنی بات کو پیش کرسکتے ہیں۔ بولنے، لکھنے کی آزادی ہمیں حاصل ہے۔ مرد، عور ت، بچے، بوڑھے سب کے حقوق دستورمیں قلم بند ہیں، انسانوں کے ساتھ جانوروں، پیڑ، پودوں، کھیت کھلیانوں، دریا، سمندر، ندیاں، تالاب کے بھی حقوق و قوانین ہیں۔ جس طرح ملک کے بڑے شہر وں میں رہنے والوں کو حقوق حاصل ہیں، اسی طرح دوردرازاور جنگلوں میں رہنے بسنے والے آدیواسیوں کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں۔

پیار ے بچو: جس طرح ہمارے دستور نے ہمیں ہر طرح کے حقوق وآزادی دی ہے، اسی طرح ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے دستورو قوانین کا احترام کریں اور اس کے تحفظ کا خیال رکھیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مرزا عبدالقیوم ندوی

قومی ترجمان آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close