خصوصیصحت

31؍ مئی: عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی

حقیقت میں تمباکو نوشی  نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور اس سیڑھی پر چڑھنے والا انسان یا تو کسی موذی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے یا بعض اوقات اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔

محمد اسعد فلاحی

پوری دنیا میں تمباکو سے ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے 1987 میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے رکن ممالک نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے ذریعے 7 اپریل، 1988 سے ایک دن تمباکو نوشی کے انسداد  کے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال 31 مئی کو ’عالمی یوم انسداد تمباکو ڈے‘  (World No Tobacco Day) منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تمباکو نوشی کے استعمال سے ہونے والے نقصانات اور خطروں سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی یہ اس سمت میں ایک اچھی پیش قدمی ہے۔

ہر سال 31 مئی کے دن مختلف جگہوں پر مختلف پروگرام کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو تمباکونوشی سے صحت پر پڑنے والے نقصان کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ بھارت میں بھی عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہے، لیکن لاغر قانونی نظام کے چلتے اس پر کوئی عمل نہیں ہو پا رہا ہے  اور آپ لوگوں کو عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کرتے ہوئے خوب خوب  دیکھتے ہیں ۔ اس کی  ایک وجہ یہ  بھی ہے کہ  بھارت میں تمباکو نوشی روکنے کے لیے چند چھٹ پٹ قوانین تو بنا دیے گئے ہیں اور عوام کو  تمباکو نوشی کے خطرات سے گاہے بگاہے آگاہ بھی کیا جا رہا ہے،  لیکن حکومت اس  جان سنجیدہ نہیں ہے، اور نہ ہی وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت قانونی کارروائی کرتی ہے۔

دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی اس پر فکر ظاہر کی ہے اور اس کے تدارک کے لیے اس کی  اپنی سی کوشش جاری ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال تقریبا 5 ملین لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔ جن میں تقریبا 1.5 ملین خواتین شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد مرد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن کچھ ممالک کی خواتین میں تمباکو نوشی کے رجحان تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پورے دنیا میں سالانہ 50 لاکھ سے زیادہ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ا گر اس مسئلہ کو کنٹرول کرنے کی سمت میں کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا تو 2030 تک تمباکو کے استعمال سے مرنے والے افراد کی تعداد سالانہ 80 ملین سے زائد ہو جائے گی۔ تمباکو نوشی کے استعمال سے لوگوں اوسطاً کی عمر کم ہو رہی ہے۔ آج دنیا کی مشینی اور مادی زندگی میں کینسر موت کی دوسری وجہ ہے اور سگریٹ اس بیماری میں مبتلا ہونے کا ایک اہم عنصر ہے۔

تمباکو نوشی کا اثر اتنا مہلک ہے کہ نشہ چھوڑنے کے بعد بھی اس کا اثر ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے بہتر ہےکہ لوگوں کو اس کے چنگل میں پھنسنے سے روکا جائے۔ تمباکو کے خوفناک اور مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے ہم لوگوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ  ہم لوگوں کو اس سے دور رکھنے کی کوش کریں ۔ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور اسے صرف حکومت کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو لے کر سنجیدہ نظر نہیں ہے۔ نہ ہی وہ نشہ آور چیزوں کے خلاف کوئی موثر اور جرات مند اقدام کرتی نظر آرہی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس مسئلے میں سنجیدہ ہے تو اسے صنعت کاروں کے دباؤ سے آزاد ہو کر اور پیسوں کی حوس سے اپنے آپ کو آزاد کرتے ہوئے اور ملک کے لاکھوں کروڑوں شہریوں کو  مختلف قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ کرنے کے لیے، سختی سے قوانین کا نفاذ کرنا ہوگا اور تمام نشہ آور چیزوں کو بین کر دینا ہوگا۔

یہ بھی انتہائی دکھ کی بات ہے کہ  بڑے بڑے جاہ و منصب اور پیسے والے، خصوصا بھارتی فلم انڈسٹری کے کئی بڑے اداکار اور اداکارائیں ، صرف چند کوڑیوں کے لیے تمباکو، سگریٹ، شراب، گٹکے وغیرہ  کا کھل کر ایڈوٹیزمنٹ کرتے ہیں۔ برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمباکو کے اشتہارات دیکھنے سے نوعمر بچوں میں تمباکو نوشی شروع کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ 38 فیصد نوجوان، تمباکو کے اشتہارات دیکھنے سے تمباکو نوشی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہیں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو کے اشتھارات پر پابندی ہے اور مواصلات کے کسی بھی ذریعہ پر تمبا کو اور اس جیسی کوئی دوسری نشہ آور چیز کا اشتہار نہیں دکھایا جا سکتا ہے اور فلموں میں بھی تمباکو نوشی یا دوسری کسی تمبا کا استعمال کرتے وقت قانونی انتباہ دکھایا جانا ضروری ہے۔ اس کے باوجود کھلے اور پوشیدہ طور پر تمباکو کی تشہیر دھڑلے سے چل رہے ہے اور ان کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہے۔

تمباکو نوشی ایک ایسی سماجی برائی ہے جس کو آج کل نوجوان نسل فیشن کے طور پر اختیار کرتی جارہی ہے، یہ جانے بغیر کے اس کے کتنے خطرناک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں ۔ تمباکو نوشی کی جڑیں لوگوں میں اتنی گہری ہوگئی ہیں لوگوں کو اس کی قیمت جانی اور مالی نقصان کی شکل میں چکانی پڑتی ہے۔ حقیقت میں تمباکو نوشی  نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور اس سیڑھی پر چڑھنے والا انسان یا تو کسی موذی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے یا بعض اوقات اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔

مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close