آج کا کالم

آج کے بزنس اخباروں کا حال

رويش کمار

کچھ دن پہلے فنانشل ایکسپریس میں ایچ ڈی ایف سی کے سابق چیئرمین دیپک پاریکھ کا بیان چھپا تھا کہ نوٹ بندی سے معیشت کو بھاری جھٹکا لگے گا۔ آج اكونومك ٹائمز میں آئی سی آئی سی آئی کے سابق چیئرمین کے وی كامتھ کا بڑا سا انٹرویو چھپا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے اگلے چھ ماہ میں سود کی شرح میں ایک فیصد کی کمی آ جائے گی۔ بچت اکاؤنٹس پر بینکس سود کی شرح میں کمی کریں گے۔ مطلب جنہیں گھر لینے کے لئے لون لینا ہوگا انہیں ایک فیصد کم پر سود ملے گا اور جنہوں نے بچت پر بھروسہ کیا ہے انہیں کم سود سے کام چلانا پڑے گا۔ ان بینک گرووّں کے بیان کو غور سے پڑھيے۔ ایک وقت میں ایسی بات کرتے ہیں جیسے معیشت کی سچائی یہی ہے۔ سود کا اتار چڑھاؤ نوٹ بندی سے اتنا ہی منسلک ہے تب تو اسے معمول کےطور پر کیا جا سکتا ہے۔ كامتھ جی اس کو مثبت اثر بتا رہے ہیں۔ یہی ضمانت دے دیتے کہ نوٹ بندی کے بعد اب لون کے لئے سود ہمیشہ کے لئے سستا ہونے والا ہے۔ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم کی جھانےبازي کم ہونی چاہئے۔

 بہر حال كامتھ صاحب دعوی کرتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بہت سے اچھے نتائج آنے والے ہیں۔ ناقدین کے ساتھ ساتھ ان باتوں کو بھی دھیان سے سنا جانا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو ڈھائی لاکھ کروڑ کا فائدہ ہو گا۔ ابھی آپ نے کئی مقامات پر پڑھا ہوگا کہ نوٹ بندی فیل ہو رہی ہے کیونکہ جتنا پیسہ چلن میں تھا، اتنا واپس آ گیا اسلئےکچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔ مانا جا رہا تھا کہ 15 لاکھ کروڑ میں سے جتنا بینکوں میں نہیں آئے گا وہی حکومت کی بچت ہوگی۔ زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ کچھ نہیں بچے گا کیونکہ زیادہ تر پیسہ واپس آ گیا ہے۔ كامتھ صاحب کی رائے مختلف ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ حکومت کو ڈھائی لاکھ کروڑ ملنے والے ہیں۔ یہ بہت بڑی رقم ہے۔ اس سے وزیر اعظم مودی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

 دوسری طرف اکونومک ٹائمز نے اندرونی صفحات پر شائع کیا  ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے 300  کمپنیوں کی کمائی کا اندازہ گھٹ کر نصف رہ گیا ہے۔ جنوری کے بعد یہ اندازہ اور کم ہوگا۔ بروکر مانتے ہیں کہ آئی ٹی، فارما اور بینک کو چھوڑ باقی تمام شعبوں پر برا اثر پڑنے والا ہے۔ اکو نو مک اخبار کے پہلے صفحے پر ایک اور خبر ہے کہ ملازمتوں کا بازار مندا ہوا ہے لیکن ابھی تباہی نہیں آئی ہے۔ مندا پڑنے اور تباہی آنے کے درمیان کتنے لوگ بیکار ہو جاتے ہیں یا کام نہیں ملتا ہے، یہ کون بتائے؟ کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔ بیانات اور دعووں میں اتنا فرق ہے کہ لگ رہا ہے کہ مسلسل چیزوں کو مینج کیا جا رہا ہے۔ بہر حال تنقید اور تعریف دونوں یاد ركھيےگا۔ آگے چل کر دیکھیں گے کہ کون سی بات صحیح ہوتی ہے۔

 بزنس اسٹینڈرڈ کی پہلی خبر ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ  کی فتح اور ہندوستان میں نوٹ بندی کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گزشتہ ایک ماہ میں 33886 کروڑ روپیہ ہندوستانی بازاروں سے نکال لیا ہے۔ اگر امریکہ میں سود کی شرح بڑھتی ہے تو منافع کے چکر میں یہ لوگ اپنا پیسہ وہاں لے جائیں گے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہندوستان میں کوئی دھماکہ ہو رہا ہے اس لیے زیادہ کمائی کی لالچ میں یہ سارے یہاں پیسہ لگا رہے ہیں۔۔ لیکن فائنانس کیپٹل کی یہی رجحان ہوتی ہے۔ سود خور سرمایہ پائیدار نہیں ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے 2013 میں اتنا پیسہ نکلا تھا جب غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 51000 کروڑ نکال لیا تھا۔ ایکسپریس میں خبر ہے کہ نومبر میں مشترکہ فنڈ میں 36000 کروڑ روپے آئے ہیں۔ مشترکہ فنڈ والوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ ایک اور خبر ہے کہ امریکہ میں سود کی شرح بڑھنے کی وجہ سے سونے کی قیمت میں دس ماہ میں سب سے زیادہ گراوٹ آئی ہے۔ پھر اگلے صفحے پر یہ بھی خبر ہے کہ سونے کی قیمت میں گراوٹ آئی ہے تو زیورات کی خریداری بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی بازاروں میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے لگی ہیں۔ اس کا کیا اثر ہوگا وہ الگ سے تجزیہ کریں گے۔ كل ملاكر یہی لگتا ہے کہ اس بازارو دنیا میں اگر ایک چیز مستقل ہے تو وہ ہے اس کا عارضی کردار۔

بزنس اخبارات کو پڑھنا چاہئے۔ کون سا بازار گر رہا ہے اور کون سا چڑھ رہا ہے یہ سب اتنا موسمی ہوتا ہے کہ عام قاری کو مناسب طریقے سے سمجھنے میں وقت لگے گا۔ ایک کو جھٹکا لگتا ہے تو دوسرے کو فائدہ ہو جاتا ہے۔ نوٹ بندی کو لے کر جو خدشہ ہے اور جو امکان ہے دونوں ہی واضح نظر آ رہے ہیں۔ پھر بھی ساری باتوں کو پڑھيے۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ اس کا فوری اثر تو دکھائی دے رہا ہے کہ زیادہ تر اقتصادی سرگرمیاں تھم گئی ہیں۔ اب آگے بھی دیکھئے کہ روزگار کتنا بڑھتا ہے، حکومت کی آمدنی کتنی بڑھتی ہے، کتنے لوگ ٹیکس کے دائرے میں آتے ہیں، کن ریلیوں میں بغیر دو سو کا نوٹ دئے لوگ لائے جاتے ہیں۔ یہ سب دیکھئے۔  بدلتا  ہے تو سب کے لئے بدلے گا۔ نہیں بدلے گا تو وہی ہوگا ہٹ ہٹ مودی یا ہر ہر مودی۔ اس کے علاوہ تو لگتا ہے کہ کسی کے پاس کوئی کام نہیں بچا ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close