آج کا کالم

آخر غیر ملکی میڈیا نے کیوں نظر انداز کر دی مودی کی تقریر؟

رويش کمار

 سويذرلینڈ کے داووس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی افتتاہی تقریر کو ہندوستانی میڈیا نے نمایاں طور دکھایا ہے. یہ اور بات ہے کہ کسی نے ان کی تقریر کے تضادات کو چھونے کی ہمت نہیں کی. اگر بھارت کے لئے داووس میں بولنا اتنا اہم تھا تو کیا آپ نہیں جاننا چاہیں گے کہ دنیا کے اخبارات نے اس تقریب کو کیسے دیکھا ہے. آخر بھارت میں جشن اسی بات کا تو من رہا ہے کہ دنیا میں بھارت کا ڈنکا بج گیا.

کیا بھارتی میڈیا کی طرح غیر ملکی میڈیا بھی وزیر اعظم مودی کی تقریر سے گدگد تھی؟ آپ ان کی ویب سائٹ پر جائیں گے تو مایوسی ہاتھ لگے گی. اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ غیر ملکی میڈیا بھارتی میڈیا کی طرح صرف اپنے وزیر اعظم کی تقریر تک ہی گدگد ہے. ان کی ویب سائٹ پر دوسرے وزرائے اعظم کی تقریر کی بھی بحث ہے. اس حساب سے ہندوستان کے وزیر اعظم کی تقریر کا ذکر کم ہے. ہے بھی تو سطحی انداز سے.

میں نے اس کے لئے كوارڈذ ڈاٹ کوم، بلومبركونٹ ڈاٹ کوم، گارڈین اخبار، نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھا کہ وہاں مودی جی کی افتتاحی تقریر کی کیسی رپورٹنگ ہیں. داووس میں مسلسل دوسرے سال ایشیا کو اچھا مقام ملا ہے. گزشتہ سال چین کے وزیر اعظم نے وہاں افتتاحی تقریر کی تھی.بلوم برگ كونٹ ویب سائٹ نے وزیر اعظم مودی کے بیان کو کافی اچھے سے دکھایا ہے. کم از کم یہاں آپ کو پتہ چلتا ہے کہ مودی نے کہا کیا ہے. اس ویب سائٹ پر ان کے بیان کے کسی حصے پر تنقید نہیں کی گئی ہے. بلوم برگ ایک کاروباری ویب سائٹ ہے.

qz.com نے وزیر اعظم مودی کے بیان کو اس طرح سے دیکھا ہے جیسے انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کی کھلی تنقید کر دی ہے. مودی کی تقریر کے ٹھیک پہلے ٹرمپ نے چین سے درآمد کیے جانے والے سولر پینل پر 30 فیصد درآمد کی فیس لگانے کا فیصلہ کیا تھا. اسے سن رکشن وادی قدم کے طور پر دیکھا گیا جس کا اشارہ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں کیا ہے. اس ویب سائٹ پر بھی مودی کی تقریر کا ٹھیک ٹھاک حصہ چھپا ہے.

الجزیرہ کی ویب سائٹ پر بھی مودی کی تقریر کا کوریج ہے. تقریر کے ساتھ دوسرے بیان بھی ہیں جو ان کی تنقید کرتے ہیں. الجزیرہ نے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ کے ایگزکیٹو ڈائریکٹر کینتھ راتھ کا ایک ٹویٹ چھاپا ہے. کینتھ راتھ نے کہا ہے کہ مودی کہتے ہیں سب ایک پریوار ہیں، انہیں بانٹیے مت، لیکن یہ بات تو مودی کے حامی ہندو قوم پرستوں کے ٹھیک الٹ ہے.

واشنگٹن پوسٹ نے مودی کی تقریر کو خاص اہمیت نہیں دی ہے. صرف اتنا لکھا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی خاتون منیجنگ ڈائریکٹر لگارد نے مودی کے بیان پر چٹکی لی ہے کہ ان کے منہ سے لڑکیوں کے بارے میں سنتے تو اچھا لگتا. ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ كارپوریٹ گورنینس میں خواتین کی شرکت بڑھائے جانے کی جو بحث دنیا میں چل رہی ہے، اس پر بھی وزیر اعظم بولتے تو اچھا رہتا.

گارڈین اخبار نے وزیر اعظم مودی کے بیان کو کم اہمیت دی ہے بلکہ کینیڈا کے وزیر اعظم کے بیان کو لیڈ اسٹوری بنائی ہے. اسی اسٹوری میں نیچے کے ایک پیراگراف میں بھارت کے وزیر اعظم کی تقریر کا چھوٹا سا حصہ چھاپا ہے. کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ كارپوریٹ زیادہ سے زیادہ خواتین کو کام دیں اور جنسی استحصال کی شکایات پر سنجیدگی سے پہل کرے. بہت زیادہ ایسے كارپوریٹ ہو گئے ہیں جو ٹیکس بچاتے ہیں، صرف منافع ہی کماتے ہیں اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کرتے ہیں. اس طرح کی عدم مساوات بہت بڑا خطرہ پیدا کرتی ہے.

نیویارک ٹائمز نے لمبی رپورٹ کی ہے. وزیر اعظم مودی کے گلوبلائزیشن کے خلاف سن رکشن وادی قوتوں کے ابھار کی وارننگ اور حقیقت کا تقابل کیا ہے. رپورٹر بالکل ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہے. اخبار نے لکھا ہے کہ مودی کی تقریر میں زیادہ تر باتیں گلوبلائزیشن کو لے کر تھیں جو گزشتہ سال چین کے وزیر اعظم کے افتتاہی تقریر میں تھیں.

نیویارک ٹائمز نے اس بات پر زیادہ زور دیا ہے کہ خود بھی تو وزیر اعظم نے کئی چیزوں کی درآمد کو محدود کیا ہے. ٹی وی، فون کی درآمد کو محدود کیا گیا ہے. رپورٹر نے ایپل پر درآمد کی فیس بڑھانے کا ذکر ہے. آپ جانتے ہیں کہ ایپل امریکی مصنوعات میں سے ہے. بھارت کے میڈیا کی کسی بھی رپورٹ کو پڑھیں، شاید ہی آپ کو ایک آئٹم کا پتہ چلے جس کی برآمد پر کسی ملک نے پابندی لگا دی ہو اور جسے لے کر بھارت میں ہو رہے نقصان کے بارے میں اسے پتہ ہو. درآمد کے پر فیس لگا دی ہو اور بھارت کو نقصان ہو رہا ہو. خالی جئے جئے کار چھاپ کر بھائی لوگ نکل جاتے ہیں.

ویسے مودی کے سن رکشن وادی بیان کی تنقید میں نیویارک ٹائمز میں کوئی سنجیدہ دلیلیں نہیں دی ہیں. ایک دو فیصلے کی بنیاد پر مودی کو سن رکشن وادی گھوشت کرنا ٹھیک نہیں ہے. کر سکتے ہیں مگر تنقید کے لئے وسیع حقائق اور منطق سے کریں تو اچھا رہے گا. اخبار نے سولر پینل کی درآمد پر 70 فیصد فیس لگانے کی بھارت کی تیاری پر تنقید کی ہے. ٹرمپ نے بھی امریکہ میں سولر پینل کی درآمد پر 30 فیصد فیس لگا دی ہے. یہ سولر پینل چین سے درآمد کئے جاتے ہیں.

گارڈین نے لکھا ہے کہ اس سے امریکہ میں000 23 نوکریاں چلی جائیں گی اور صاف ستھری توانائی کے پھیلاؤ کو دھکا لگے گا. بھارت میں سولر پینل پر درآمد کی فیس لگانے کے بارے میں میں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا بھی ہے.

CNN MONEY نے لکھا ہے کہ داووس میں دو ہی برننگ ٹاپك ہیں. جان لیوا موسم اور ٹرمپ. اس ویب سائٹ پر وزیر اعظم مودی کا سن رکشن وادی قوتوں والے بیان کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی ہے. لگتا ہے انہیں ان کی تقریر میں کچھ نہیں ملا. سي این این منی نے لکھا ہے کہ داووس میں كارپوریٹ اس خدشہ اور بے چینی میں ہیں کہ ٹرمپ کیا بولیں گے. ہر طرف اسی کی بحث ہے.

آپ بھی وزیر اعظم کی تقریر سنیے. دھیان سے دیکھئے کہ اس میں اقتصادی دنیا سے متعلق کیا ہے. ریڈ ٹیپ کی جگہ ریڈ كارپوریٹ ہے. یہ سب بات تو وہ تین سال سے بول رہے ہیں. آپ کو برا لگے گا لیکن آپ وزیر اعظم کی تقریر میں بھارت کی تشریح دیکھیں گے تو وہ دسویں کلاس کے مضمون سے زیادہ کا نہیں ہے. بھارت کے تئیں کچھ خصوصی پلوں کا ذکر کر دینے سے مضمون بن سکتا ہے، تقریر نہیں ہو سکتی. ضرور بہت سے لوگوں کو اچھا لگ سکتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے سامنے بھارت کیا ہے، اسے رکھا. ایسا کیوں ہے جب بھی کوئی لیڈر بھارت کی تشریح کرتا ہے، دسویں کے مضمون کے موڈ میں چلا جاتا ہے. یہ مسئلہ صرف مودی کے ساتھ نہیں، دوسرے رہنماؤں کے ساتھ بھی ہے. گورو گیان تھوڑا کم ہو. وزیر اعظم کو اب وسودھیو كٹبكم اور سروے بھونتو سكھینا سے  آگے بڑھنا چاہئے. ہر تقریر میں یہی ہو ضروری نہیں.

غیر ملکی میڈیا کو کم سے کم وزیر اعظم کے جمہوریت والے حصے کو اہمیت دے سکتا تھا. وہ حصہ اچھا تھا. ضرور اس کے ذکر کے ساتھ سوال کئے جا سکتے تھے. دو ماہ سے بھارت کے چینلز پر ایک فلم کے رلیز ہونے کو لے کر بحث ہو رہی ہے. جگہ جگہ فساد پھیلائے جا رہے ہیں. ایک ذات کو ذات پات اور مذہب کا كاكٹیل گھول کر نشے کو نیا رنگ دیا جا رہا ہے. راجستھان کے ادے پور میں ایک قتل کے ملزم کی حمایت میں لوگوں کا گروپ عدالت کی چھت پر بھگوا پرچم لے کر چڑھ جاتا ہے اور خوف سے کوئی بولتا نہیں ہے. سپریم کورٹ کے چار چار سینئر جج چیف جسٹس کے خلاف پریس کانفرنس کر رہے ہیں. ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں جمہوریت کو چیلنج مل رہا ہے، غیر ملکی میڈیا کے ادارے وزیر اعظم مودی کے اس تقریر کو اہمیت دے سکتے تھے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close