آج کا کالم

آخر کیا ہو رہا ہے اس میڈیا میں!

رويش کمار

اتنا بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے. بس جاننے کی ضرورت ہے کہ اس میڈیا میں کیا ہو رہا ہے. پھر آپ کو سمجھ آ جائے گا کہ آپ کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے. ڈرانے والے غالب ہوتے ہیں ، یہ بات صحیح ہے. پر اس کا کیا کریں گے جس کے پاس طاقت نہیں ہوتی مگر وہ ڈرتا نہیں ہے. میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں پھر آپ اسے اپنے دل میں رکھ لینا. دہلی جب آيے گا تو صحافیوں سے مليے گا. مل کر جو تجربہ ہو گا، اس کو ڈائری میں لكھيے گا. مجھے خط لكھيے گا. آپ دہلی میں دو طرح کے صحافی ملیں گے. ایک جو ڈرے ہوئے ہیں اور ایک جنہیں ڈرایا جا رہا ہے. جو ڈرے ہوئے ہیں ان میں دو طرح کے ڈرپوک ملیں گے. ایک جنہیں ڈرنے کی کافی قیمت مل رہی ہے، دوسرے جنہیں ڈر کے بدلے صرف ڈر ہی مل رہا ہے. دہلی کے صحافیوں کی حالت یہ ہے کہ کہہ دیجئے کہ آپ کا فون ریکارڈ ہو رہا ہے تو بات چیت ہی بند کر دیں گا. ریکارڈنگ کی بات سچ ہے یا نہیں مگر کوئی ریکارڈ کر رہا ہے، اس کا ڈر تو سچ ہے. راج کمل جھا کی اس بات کو کتنی بار دوهراؤں . پھر بھی ایک بار پڑھ لیں . کیا پتہ اب اس طرح کی بات کرنے والے لوگ ہی نہ رہیں .

راج کمل جھا نے کہا تھا، ” Its important especially in an age، and I turn 50 this year so I can say that، when we have a generation of journalists who are growing up in an age of retweets and likes. And they do not know that criticism from a government is a badge of honour. "

پوری دنیا میں میڈیا اقتدار کی گود میں کھیل رہا ہے. یہ میڈیا گودی میڈیا ہے. انگریزی میں اسے ایمبیڈیڈ جرنلزم کہتے ہیں . ٹی وی کے ذریعہ آپ کی خیال کو کنٹرول کیا جا رہا ہے. آخر کیا بات ہے کہ دو چار مسائل کے آس پاس ہی تمام چینل سال بھر بحث کرتے ہیں . دنیا بھر میں ٹی وی کو مینج کرنا اب حکومت اور انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے. میں بہت دنوں سے ایک متحرک اینیمیشن پر کام کر رہا تھا. ہمارے گرافکس آرٹسٹ ایشان نے من کے قابل بنا ہی دیا ہے تو سوچا آج بتا ہی دیتا ہوں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے.

ٹی وی کے سامنے بیٹھے ناظرین کے بارے میں کہا گیا کہ وہ طاقتور ہیں . اپنے ریموٹ سے طے کرتے ہے کہ کون سا چینل دیکھیں گے اور کیا دیکھیں گے. لہذا چینلز کی دنیا میں مقابلہ ہوتا ہے، مختلف خبروں کو لانے کے لیے کبھی طالبان تو کبھی 2012 میں دنیا ختم ہونے کے پروگرام آنے لگتے ہیں . ایک رپورٹر تو آسمان کی سیڑھی تک پہنچ گیا تھا. سارے چینل آہستہ آہستہ ایک سے ہونے لگے. آپ کو ایک تماشائی کے طور پر لاچار و مجبور ہو گیے۔ چینل تبدیل کرنا نہ کرنا ایک ہی بات ہو گیی. چاروں طرف وہی مسئلے، وہی دلیلیں . ایک بار ایجنڈا طے ہو گیا پھر سارے چینل اسی راہ پر چل پڑے. کیا یہ صرف اتفاق ہے کہ بہت سے چینل دو چار مسائل کے آس پاس ہی دن رات بحث کرتے رہتے ہوں . ٹی وی ایک اینٹ بنتی گیی. ٹی وی کے اوپر ٹی وی، چینل کے اوپر چینل. ناظرین کے آس پاس ایک کنواں بن گیا. کنویں کی دیوار اونچی ہوتی چلی گئی، وہ اس تاریک کنویں میں بند ہونے لگے. کنواں ابھی سرنگ ہونے لگا ہے، جہاں بیٹھے بیٹھے ناظرین کو اب دو چار باتیں ہی معلوم ہیں ، یا وہی معلوم ہے جسے بتائے جانے کا فیصلہ ہوا ہے. اس کنویں میں بند ناظرین کے ناظرین ہونے کا وجود مٹ جاتا ہے. آپ ناظرین نہیں رہ جاتے ہیں . میلے میں آپ نے موت کا کنواں دیکھا ہوگا ، یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں جمہوریت میں رائے عامہ کی موت کا کنواں ہے.

میڈیا کنٹرول کے دور میں ریموٹ کنٹرول کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے. پولینڈ میں  کبھی نہیں گیا، لگتا نہیں کہ کبھی جا بھی نہیں پاؤں گا. 1982 کا ایک واقعہ ہے. ہانیہ ایم فیڈرووچ کا لکھا ایک کاغذ ہے جس کا عنوان ہے THE WAR FOR INFORMATION: THE POLISH RESPONSE TO MARTIAL LAW. 12 دسمبر 1981 کی آدھی رات پولینڈ میں مارشل لاء لگا تھا. مطلب ایمرجنسی. کمیونسٹوں کی یہ ایمرجنسی تھی. اس ریسرچ کے ذریعہ اسے دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ جب اطلاعات پر حکومت کا کنٹرول ہو جاتا ہے تب معاشرے کے اندر کیسی رائے ہوتی ہے. کیا ناظرین کی ایک بات سنتے سنتے دماغ پک جاتا ہے اور اگر پک جاتا ہے تو وہ کیا کرتے ہیں .

پولینڈ میں جب ٹی وی پر ایک بات آنے لگی، حکومت کی بات، حکومت کی جی حضوری، تو لوگوں نے ایک نیا طریقہ نکالا. Swidnik اور Lublin نام کے شہر میں شام کے وقت لوگ اپنے ٹی وی سیٹ کو ونڈو کی طرف موڑ دیتے تھے، اور باہر گھومنے نکل جاتے تھے. ہزاروں لوگوں نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا. ٹی وی تو چل رہا ہوتا تھا مگر لوگ باہر ٹہل رہے ہوتے تھے. 36-37 سال پہلے کی عوام اتنی ہوشیار تھی. ناظرین کو یہی بتانا تھا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے. ناراض انتظامیہ نے بدلہ لینا شروع کر دیا. شام کے وقت بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ دیئے. جب اس سے بات نہیں بنی تو حکومت نے یہاں تک قوانین بنانے دیئے کہ شام کے وقت کتنے لوگ گلیوں میں گھومنے کے لیے نکلیں گے. تاکہ کچھ لوگ گھر بیٹھ کر ٹی وی پر پروپگنڈا دیکھ سکیں . نتیجہ یہ ہوا کہ اور بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر چہل قدمی کے لیے نکلنے لگے.

ہندی کا صحافی اتنا گلوبل ہوجائے، چلتا ہے. پٹنہ کے پروگرام میں پولینڈ کی مثال. پر دیکھئے ایک معاشرہ کس طرح حکومت کی خوشامد کرنے والی میڈیا سے لڑتا ہے. لوگ تب بھی میڈیا اور حکومت کا کھیل سمجھ رہے تھے، اب بھی سمجھ ہی رہے ہوں گے. پولینڈ میں لوگ اپیل کرنے لگے کہ اخبار نہ پڑھیں . اس وقت ایک نعرہ چلا کہ "Let the piles of unsold newspapers at the newsstands demonstrate our opposition to military rule”. مطلب نیوز اسٹینڈ پر اخبارات کو بغیر بکے پڑے رہنے دیجئے تاکہ انہیں سمجھ آ جائے کہ ہم ملٹری رول کی مخالفت کرتے ہیں . اس کا اثر ہوا. فوج کے کنٹرول میں شائع ہونے والے اخبار کو لوگوں نے خریدنا ہی بند کر دیا. پولینڈ کے عوام کو آج تک اپنا وہ ماضی یاد ہے.

2016 میں پولینڈ کی حکومت نے پریس کی آزادی کو محدود کرنے کے لئے کچھ قوانین بنائے. حکومت چاہتی تھی کہ چار پانچ ٹی وی چینلز کے رپورٹر ہی پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کریں . اپوزیشن نے کہا کہ یہ تمام معلومات روکنے کے طریقے ہیں تاکہ شہریوں کو پتہ ہی نہیں چلے کہ پارلیمنٹ میں کیا ہوا. اپوزیشن کی یہ بات عوام سمجھ گئی اور 13 دسمبر 2016 پارلیمنٹ کو گھیر لیا. اس دن پولینڈ میں مارشل لاء لگنے کی 56 ویں برسی تھی.

پیر کی صبح خبر آئی کہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹر ڈاکٹر پري رائے اور رادھکا رائے کے گھر پر سی بی آئی کے چھاپے پڑے ہیں . سی بی آئی نے بھی پریس ریلیز جاری کر بتایا کہ ایف آئی آر کی گئی ہے. گودی میڈیا کے کچھ حصے بغیر حقائق کی جانچ کئے اتاولے ہو گئے. وهاٹس اپ یونیورسٹی کے ذریعہ طرح طرح کی افواہ پھیلائی جانے لگی. آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر این ڈی ٹی وی کے بارے میں مسلسل افواہ پھیلائی جاتی رہتی ہے. صبح ہی این ڈی ٹی وی نے بیان جاری کر دیا تھا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں . فرضی معاملات سے نہیں ڈریں گے. شام کو ایک  بیان آیا جسے آپ یہاں کلک کر پڑھ سکتے ہیں .

‘لیڈر چاہے ہم پر جتنا بھی حملہ کریں ، ہم نے بھارت میں میڈیا کی آزادی کی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے.’ یہ آخری جملہ ہے اس بیان کا. اس میں ایک جملہ اپنی طرف سے شامل کر رہا ہوں . پولینڈ کے عوام کی طرح جنگ کا کچھ فرض آپ بھی ادا کیجیے. آپ میں سے بہت لوگوں نے اسے میڈیا کی آزادی پر حملہ تصور کیا ہے. آواز اٹھائی ہے. بہت سے صحافیوں نے اس کی مخالفت کی ہے.

بہت سے لوگوں نے وهاٹس اپ کر بتایا ہے کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کھیل کے ذریعہ کسے ڈرایا جا رہا ہے. یوگیندر یادو، سدھارتھ بھاٹیہ، هرتوش سنگھ بال، ایم کے وینو، راجدیپ سردیسائی، شعیب دانیال، پريو مالک، اوم تھانوي، رام چندر گرہا، اجے شکلا، یہ وہ لوگ ہیں جوسماجی  مسائل پر  لکھتے رہے ہیں ، بولتے ہیں . وزیر اعلی اروند کیجریوال اور وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی اس چھاپے ماری کو ڈرانے کی کارروائی قرار دیا ہے. ملک بھر سے عام سامعین نے بھی ٹویٹ کیا ہے. وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ اگر کوئی میڈیا میں ہے، غلط کام کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت خاموش بیٹھے گی، افسران اپنا کام کر رہے تھے اور اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے.

این ڈی ٹی وی نے اپنا جواب دے دیا ہے. جس شخص کی شکایت پر ملک کی عدالتوں نے نوٹس نہیں لیا، اس شخص کی شکایت پر سی بی آئی چھاپے مارنے چلی آئی جبکہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹر نے صاف کہا ہے کہ جس لون کی بات تھی، وہ لون چکا دیا گیا ہے. ویسے قانون کو یاد دلاتے چاہئے کہ چھ لاکھ کروڑ کا جو نان پرپھارمگ ایسیٹ ہے بینکوں کا، اس کے لئے بھی کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے. بہرحال یہ جو حملہ ہے وہ دراصل آپ پر ہے. آج یہ حملہ نہیں ہوتا تو میں وہ کرتا جس کے بارے میں ہفتہ سے سوچ رہا تھا.

آپ جانتے ہیں کہ بھارت کے دو بڑے ریاستوں ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کسان تحریک چلا رہے ہیں . پورے مہاراشٹر میں پیر کے دن کسان ہڑتال تھی. ان کسانوں کا مطالبہ وہی ہے جس سے حکومت بچ رہی ہے. کسان چاہتے ہیں کہ جتنی قیمت ہے اس میں پچاس ٹکا منافع جوڑ کر دام دینے کی ضمانت دے حکومت. بی جے پی نے اپنے منشور میں یہی وعدہ کیا تھا. یہی نہیں کسانوں کے سارے قرضے معاف ہوں . ایک مہینہ پہلے احمدنگر کے گاؤں كتابا کی گرام سبھا میں یہ تجویز پاس کی تھی. آہستہ آہستہ مہاراشٹر کے کئی دیہات کی گرام سبھاؤں میں تجویز پاس ہونے لگی اور ایک جون سے مہاراشٹر میں شدید کسان ہڑتال ہوئی. اس کے تحت کسانوں نے شہروں کو پھل، دودھ اور سبزی کی سپلائی روک دی. درمیان میں خبر آئی کہ ہڑتال ٹوٹ گئی ہے مگر اس ہڑتال کے كورڈنیشن کمیٹی کے ڈاکٹر اجیت نولے نے کہا کہ ہڑتال جاری ہے.

مدھیہ پردیش میں بھی کسانوں نے اسی طرح کی ہڑتال کی ہے. وہاں ہڑتال کے ختم ہونے کی خبر ہے. وہاں بھی کسان پوچھ رہے ہیں کہ منڈی میں ہم ایک روپے کلو پیاز کی قیمت  میں دیتے ہیں اور اسی کو ہم مارکیٹ سے بیس روپے کلو میں خریدتے ہیں . ایسا کیوں ہو رہا ہے. دعوے کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا مگر شاید ہی کوئی چینل کسانوں کے حق میں کھڑا ہوا ہوگا، حکومت سے پوچھا جائے گا کہ تین سال ہو گئے، آپ نے وعدہ کیا تھا کہ پیداواری لاگت میں پچاس فیصد منافع جوڑ کر دام دیں گے، وہ دام کب دیں گے . جب بھی ایسی آواز آتی ہے، نیشنل میڈیا کے سامنے دوسرے مسئلے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں . فوج کے مسئلہ پر بحث ہونے سے آپ شک بھی نہیں کریں گے کہ کسانوں کے مسئلہ پر بحث روکی گئی ہے. آپ کیا ہم بھی چاہتے ہیں کہ فوج کے مسئلہ پر ہی بحث ہو مگر اسی طرح روز عام آدمی سے منسلک سوالات قومی میڈیا سے باہر کر دیے جاتے ہیں . ایک شخص کو لے کر گھنٹوں بحث ہوتی ہے لاکھوں کسانوں کو لے کر ایک گھنٹہ بھی بحث نہیں ہوتی ہے. لہذا آپ کے لئے جاننا ضروری ہے کہ میڈیا میں کیا ہو رہا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close