آج کا کالم

آٹا چاہئے یا ڈاٹا؟

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی 

جی ہاں صاحبو ملک کے ایک سو بیس کروڑ عوام کی جانب سے بہار کے سابقہ وزیر اعلیٰ اور اپنی پرمزاح باتوں سے سرخیوں میں رہنے والے لالو پرساد یادو نے ملک کے مایہ ناز صنعت کار اور ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی سے یہ سوال کیا ہے کہ ملک میں آٹا(غریب و امیر کی بنیادی غذا) تو مہنگا ہوتا جارہا ہے اور بات کرنے کا موصلاتی ڈاٹاسستا ہوتا جارہا ہے۔ یہ سوال مکیش امبانی کے صنعتی ادارے ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے ملک بھر کے عوام کے لئے ان کی JIOنامی مواصلاتی خدمات کو اگلے تین ماہ تک مفت فراہم کرنے اور آگے سارے ہندوستان میں ٹیلی فون پر مفت بات کرنے کی سہولت کے انقلابی اعلان کے بعد کیا گیا۔ آج کیا بچہ کیا بڑا کیا بوڑھا سب ریلائنس JIO کی سم مفت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ آفر ہی کچھ اس طرح ہے کہ 5ستمبر تا31دسمبر JIO سم رکھنے والے سبھی فورجی اسمارٹ فون صارفین کو مفت میں فورجی انٹرنیٹ ‘تین سو سے ذائد ایچ ڈی ٹیلی ویژن چینل‘مسیجنگ اور مفت کالنگ کی سہولت دی گئی ہے۔ JIO نام سے مواصلات کی دنیا میں قدم رکھنے کے اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان کے مواصلاتی میدان میں انقلاب برپا ہوگیا اور ریلائنس کی سالانہ جنرل باڈی میٹنگ میں جب مکیش امبانی نے اپنی تقریر کے دورانJIO کے مختلف پیکیجوں کا اعلان کیا تو کہا جاتا ہے کہ اس ایک تقریر سے ملک کی دیگر مواصلاتی کمپنیوں کو کروڑوں روپئے کا نقصان ہوگیا۔ اور ایرٹیل‘آئڈیا‘اور بی ایس این ایل کے بشمول تمام مواصلاتی ادارے اپنے اپنے پیکیجوں پر نظر ثانی کرتے نظر آئے۔ مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے لئے بھی تین ماہ تک فورجی سرویس کے تحت مفت خدمات فراہم کرنے کے پیچھے بیس ملین روپیوں سے ذائد کے اخراجات بتائے جارہے ہیں۔ لیکن JIO کے افتتاح کے دوسرے دن جب ملک بھر کے اخبارات میں مکیش امبانی کی کمپنی کے بڑے بڑے اشتہارات کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم مودی جی کی تصویر شائع ہوئی۔ اور اسی دن پٹرول کی قیمت میں تین روپئے کا اضافہ ہوا تو تجزیہ کاروں نے اندازہ لگالیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ یہ بات اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ مکیش امبانی اور موجودہ بی جے پی حکومت میں ملی بھگت ہے اور مودی سرکار کی بہت سی پالیسیاں دراصل صنعت کاروں کو فائدہ پہونچانے کی غرض سے بنائی جاتی ہیں۔ عام انتخابات کے بعد حکومت نے اچھے دن آنے کی جو بات کہی تھی اب عوام ان کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ وہ اچھے دن کبھی نہیں آئیں گے۔ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی جی کے تمام بیرونی دوروں کے اخراجات امبانی جی اٹھاتے ہیں۔ جب مودی جی JIO کے اشتہار کے ساتھ نظر آئے تو ریلائنس نے صفائی دی کہ ملک بھر کے عوام کو مفت مواصلاتی سہولت فراہم کرنا دراصل حکومت کے ڈیجیٹل انڈیا پراجکٹ کا حصہ ہے جب کہ ہندوستان مواصلاتی میدان میں ترقی کرے گا۔ لیکن ایک کاروباری ادارے کی تائید میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کا اپنے آپ کو پیش کردینا ہندوستانی جمہوریت کے لئے کچھ اچھی مثال نہیں ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ لالو یادو کے ساتھ کانگریس نے بھی وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک خانگی ادارے کی تشہیر میں لگ گئے اور یہ بھی واضح کیا کہ JIO کے اشتہار کے لئے وزیر اعظم کی تصویر کے استعمال کی اجازت وزیر اعظم کے دفتر سے بھی نہیں لی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امبانی اینڈ کمپنی کا وزیر اعظم پر کس قدر اثر و رسوخ ہے۔ لالو یادو نے جو سوال اٹھایا کہ ملک کے عوام کے لئے ڈاٹا سے کہیں اہم آٹا ہے۔ یہ بات ہندوستان کی معیشت پر نظر ڈالنے سے صد فیصد درست ثابت ہوتی ہے۔ آج بھی ہندوستان کی 70%عوام دیہات میں رہتی ہے۔ جہاں بھلے ہی گزشتہ دو دہائیوں میں اس قدر ترقی ہوئی کہ برقی‘سڑک اور پانی کا انتظام ہوگیا۔ لیکن ناکافی بارش‘کسانوں کے قرضہ جات کی عدم ادائیگی کے سبب بڑھتے خود کشی کے واقعات اور حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کے سبب آج بھی ہندوستان کے عوام کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ‘کپڑا اور مکان ہے۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی میں مواصلات کے شعبے کو جس قدر عام کیا گیا کہ سیل فون جو ابتدا میں طبقہ امرا ء کی ضرورت تھا اور فی کال 12روپئے لئے جاتے تھے وہ آہستہ آہستہ متوسط طبقہ اور اب عام آدمی کی ضرورت بن گیا ہے۔ لیکن فی سکنڈ ایک پیسے کی قدر سے عوام اپنی ضرورت کے تحت فون استعمال کر رہے تھے۔ اب مکیش امبانی کے JIO نے مفت کالس کی سہولت اور کم قیمت میں انٹرنیٹ ڈاٹا کی فراہمی کے اعلان سے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ہم ہندوستانیوں کے کو کس قدر اطلاعات یا معلومات کی ضرورت ہے۔ JIO کے ذریعے جیسے ہی مفت فورجی انٹرنیٹ کی سہولت مل گئی ہمارے ملک کے مستقبل کی امید سمجھا جانے والا نوجوان طبقہ اپنے ہاتھوں میں فون لئے دیوانہ ہوگیا۔ اکثر نواجوانوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ وہ مفت انٹر نیٹ سے فلمیں دیکھیں گے۔ گیمس ڈاؤن لوڈ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس سے تعلیم کو عام کریں گے۔ اس طرح مکیش امبانی نے اگلے تین ماہ تک ہندوستان کی نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت کی طرح انٹرنیٹ کی لعنت میں مبتلا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس پر ملک کے دانشوروں کی جانب سے مباحث ہونے چاہئیں کہ پہلے ہی مخرب اخلاق جنسی مواد پر مبنی فلمیں دیکھنے سے صحت اور اخلاقی اعتبار سے برباد ہونے والی نوجوان نسل کا اگلے تین ماہ بعد کیا حشر ہوگا۔ کاروباری ادارے پہلے مفت میں کوئی چیز پیش کرتے ہوئے اس کی عادت ڈالتے ہیں۔ اور جب عادت لت کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو عوام کی جیبیں خالی کراتے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں آج بھی خام تیل کی قیمت کم ہے لیکن ہندوستان میں اس کی قیت میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے اس کے بدلے بڑی کمپنیوں کو مراعات دیتے ہوئے اس طرح کے تماشے سامنے لائے جارہے ہیں۔ مکیش امبانی کے ارادوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ وہ اگلے تین ماہ تکJIO کی خدمات مفت فراہم کرتے ہوئے ملک کے 90%عوام کو اپنے نیٹ ورک کے تحت لانا چاہتے ہیں۔ اگر ہندوستان کے 900کروڑ عوام ہر ماہ سو روپئے کا JIO ریچارج بھی کرائیں تاکہ انہیں مفت بات کرنے کی سہولت مہینہ بھر ملتی رہے تو اس سے سیدھے سیدھے ریلائنس کو ماہانہ 90ہزار کروڑ کا کاروبار ہوگا۔ یہی وجہہ ہے کہ مارکٹ میں موجود دیگر مواصلاتی گروپس اپنی بقاء کے لائحہ عمل طے کرنے میں لگ گئے ہیں۔ لیکن ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں آج بھی عوام کے لئے معلومات سے کہیں زیادہ دیگر ضروریات زندگی متوازن غذا‘صاف پانی‘اچھی صحت اور اچھی تعلیم کی ضرورت ہے۔ ریلائنس نے کئی طریقوں سے غریبوں کی معیشت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ جب کہ ریلائنس اسٹورز کے نام سے کسانوں کی جانب سے فروخت کی جانے والی ترکاری اور پھلوں کو بھی وہ اپنے کھیتوں کی فصلوں کے فروخت کے ذریعے نقصان پہونچاتا رہا ہے۔ ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کافی ترقی کی ہے اور انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام میں بہتری سے حکومت کے کام کاج اور دیگر کاموں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ ویڈیو کانفرنس کی سہولت نے فاصلے گھٹائے ہیں۔ دیہی سطح سے لے کر شہر اور ریاستوں کی ترقی کا ریاست اور مرکز کو بروقت علم ہوا۔ می سیوا مراکز سے عوام کو بہت سہولت ملی۔ وقت کی بچت اور کام کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ فون کی سہولت نے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کردیا اور اب دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی۔ اس کے باجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کی حکومت اور بڑے کاروباری ادارے عوام کی بنیادی سہولتوں کی ترقی کی جانب خیال کریں۔ مواصلاتی دنیا میں اطلاعات کی فراہمی کی ٹیکنالوجی 2Gاور3Gسے ترقی کرتے ہوئے اب4GLTEتک آگئی ہے۔ اور ڈاٹا کی منتقلی میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ پہلے سست رفتاری سے ڈاٹا منتقل ہوا کرتا تھا اور اس کی منتقلی کے اخراجات بھی زیادہ ہوا کرتے تھے۔ لیکن LTE(Long Term Evolution) ٹیکنالوجی آنے کے بعد ڈاٹا تیز رفتاری سے منتقل ہونے لگا۔ اس کے مثال ایک پائپ کی طرح ہے کہ پہلے پائپ کا سائز چھوٹا ہوا کرتا تھا اور اس میں سے منتقل ہونے والا ڈاٹا بھی سست رفتاری سے منتقل ہوا کرتا تھا۔ 4GLTE کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 3G سے دس گنا زیادہ ڈاٹا کو منتقل کرتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ3G کے زمانے میں جیسے قیمتیں زیادہ تھیں 4GLTE مزید مہنگا ہوتا لیکن امبانی کمپنی نے ٹیکنالوجی کا جال ایک مرتبہ بچھانے اور اس سے پیسا کمانے کا ایک طریقہ ڈھونڈا ہے۔ لیکن اسے ابھی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب کہ فون کی دیگر کمپنیاں JIOسے آنے والے بے تحاشہ کالس کو ڈراپ کر رہی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ انہیں ملنے والے فی کال14پیسے سے زیادہ پیسا چاہئے۔ جب کہ امبانی نے انہیں انتباہ دیا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اب سے لے دسمبر تک امید ہے کہ آدھا ہندوستانJIO کے رابطے یا یوں کہئے اس کے جال میں پھنس جائے گا۔ ایسے میں سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مفت خدمات سے نوجوان نسل کو بگڑنے سے بچانے کی کوشش کریں۔ اسکول اور کالجوں میں اساتذہ اس ٹیکنالوجی کا تعلیم کے فروغ میں استعمال کریں۔ 4GLTE خدمات کو استعمال کرتے ہوئے آن لائن لیکچرز اور یوٹیوب سے تعلیم سے متعلق ویڈیوز طلبا کو دکھانے کا اہتمام کریں۔ طلبا کو اس جانب سے متوجہ کیا جائے کہ وہ انٹر نیٹ خدمات کو معلومات کے حصول اور تعلیم کے فروغ کے لئے استعمال کریں۔ گوگل کا دعوی ہے کہ یہاں سب کچھ ملتا ہے اور حقیقیت یہ ہے کہ انسانی سوچ کی ہر معلومات اس وقت مواد اور ویڈیو اور آڈیو کی شکل میں موجود ہے۔ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ فیصلہ کرلے کے لئے اس وقت اس کے لئے کیا ضروری ہے اور کیا فضول ہے۔ فیس بک اور واٹس اپ کے محتاط استعمال کی مہم چلائی جائے۔ مخرب اخلاق ویٹ سائٹس کے استعمال کو ترک کرنے کی مہم چلائی جائے۔ ہندوستان کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ ایک آزاد خیال معاشرہ ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستان ہرزمانے میں مشرقی اقدار کا ملک رہا ہے لیکن جب سے مواصلاتی انقلاب آیا ہے لوگ فون سے اس قدر لگے بیٹھے ہیں کہ نہ انہیں اپنے بوڑھے اور بیمار والدین کو دیکھنے کی فرصت ہے اور نہ عزیز و اقارب سے ملنے کی فرصت۔ اب گھر میں باب بیٹے اپنے خیالات فیس بک اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے پیش کر رہے ہیں۔ ایک ہی گھر میں لوگ اجنبی بنے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ we are the most connected people with most disconnected society.ان حالات میں سماجی زندگی ٹوٹ رہی ہے جسے بچانے کی ضرورت ہے۔ انسان پانی میں ڈوب رہا ہے لوگ اسے بچانے کے بجائے اس کے ڈوبنے کی ویڈیو بنا کر فیس بک پر اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک مرتبہ پھر فطرت کے اصول کی جانب لوگ مڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ جملے بھی مشہور ہوئے کہ لوگ قرآن کو اتنا کھول کر نہیں دیکھتے کہ اللہ ان سے کیا کہہ رہا ہے اس کے برخلاف فیس بک اور واٹس اپ کو اتنی مرتبہ کھولتے ہیں کہ کس نے کیا کہا اور اس کے اسٹیٹس پر کتنے لائک ہیں۔ لوگ گھروں میں جاکر سلام کلام کرنے کے بجائے دریافت کر رہے ہیں کہ آپ کا وائی فائی پاس ورڈ کیا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کے دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مباحث کے ذریعے اس بات کی وضاحت کردیں کے حد سے زیادہ معلومات بھی نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔ فیس بک پر ہی شرانگیزی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں پر حملے ہورہے ہیں۔ بچوں پر اس کے مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ خبر آئی کہ چھوٹے بچوں نے جانوروں کو زندہ جلادیا معلوم ہوا کہ وہ اس بات کو انٹرنیٹ پر دیکھیں ہیں۔ خود کشی کے بڑھتے واقعات پھانسی لینے کے واقعات میں اضافہ بھی معلومات کے حد سے زیادہ فراہم کرنے کا ہے۔ اب مطالعے کا شوق اور کھیل کود کا شوق سب ختم ہوگیا ہے اور ہماری نوجوان نسل یہ سب چھوٹے اسکرین پر کر رہی ہے۔ اس لئے لالو یادو نے جو سوال اٹھایا تھا کہ ہمیں ڈاٹا نہیں آٹا چاہئے اس جانب حکومت اور تجارتی گھرانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں انٹرنیٹ کے محتاط استعمال کی تحریک چلانا بے حد ضروری ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل کی حفاظت ہوسکے اور ہندوستان کی مشرقی قدروں کی پاسداری برقرار رہ سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close