آج کا کالم

آپ کی آمدنی اٹھنّی اور بی جے پی کی آمدنی چكرگھنّي

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

مارچ میں ختم سہ ماہی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ نفٹی سے جڑی چوٹی کی پچاس کمپنیوں کی آمدنی میں صرف 10 فیصد تک کا ہی اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ سال سے کم ہے. ایک رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ كارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کی سیلری میں 10 فیصد سے کم کی ہی اضافہ ہو گا. جب آپ کی اور ہماری بڑھوتری 10 فیصد پر رک جا رہی ہے تو پھر بی جے پی کی آمدنی 80 فیصد سے زیادہ کیسے ہو گئی؟

بھارتیہ جنتا پارٹی کی آمدنی میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے. 2015-16 میں بی جے پی کی آمدنی 570.86 کروڑ تھی. 2016-17 میں بی جے پی کی آمدنی034۔27 1، کروڑ ہو گئی ہے. اسی دوران کانگریس کی آمدنی 14 فیصد گھٹ گئی ہے. 2015-16 میں کانگریس کی آمدنی 261.56 کروڑ تھی، 2016-17 میں 225.36 کروڑ ہو گئی ہے. 2016-17 میں ترنمول کانگریس کی آمدنی 81.52 فیصد سے گھٹ گئی ہے.

فیصد کے حساب سے سب سے زیادہ بڑھت بی ایس پی نے حاصل کی ہے. بی ایس پی کی آمدنی 47.48 کروڑ سے بڑھ کر 173 کروڑ ہو گئی ہے. یہ بھی ایک دلچسپ تبدیلی ہے. بی ایس پی کو كورپوریٹ تو چندہ نہیں دیتا ہے. ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم نے سات قومی جماعتوں کے انکم ٹیکس ریٹرن کا تجزیہ کیا ہے. یہ صاف نہیں ہے کہ اس میں صوبائی یونٹس کی بھی آمدنی شامل ہوتی ہے یا نہیں.

پیسے کے حساب سے دیکھیں تو سارا اپوزیشن مل کر بھی بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے. نظریے کے تحت کئی اور تنظیمیں بھی ہیں جن کی آزاد آمدنی بھی گنی جانی چاہئے. حال ہی میں بی جے پی نے دہلی میں فائیو اسٹار ہیڈکوارٹر بنایا ہے. کچھ فلور پر تو پارٹی کے ریاستی عہدیداران بھی بغیر اجازت کے نہیں جا سکتے ہیں. ہیڈ کوارٹر کے پچھلے حصے میں پریس کے لوگوں کے لئے ایک ہال بنا ہے، جس سے منسلک چھوٹے کمروں میں پارٹی کے ترجمان بیٹھتے ہیں. پریس کے لوگ بھی بغیر اجازت کے ان منزلوں پر نہیں جا سکتے جہاں پر صدر یا سیکرٹری جنرل کا کمرہ ہے. ویسے وہاں کوئی نہ کوئی گیا ہی ہوگا، مگر آج تک کسی نے بھی وہاں کی تصویر پوسٹ نہیں ہے. تصویر نہیں لینے دی گئی ہو گی. نئے دفتر کو دیکھنے کا تجسس عام کارکنوں میں بھی ہوتا ہے مگر لفٹ مین اوپر جانے سے روک دیتا ہے.

بی جے پی کا فائیو اسٹار ہیڈکوارٹر کتنے کا بنا، اس کا پیسہ کہاں سے آیا، اس کا حساب انکم ٹیکس ریٹرن سے نہیں ملا ہے. کیا بی جے پی کے پاس دو قسم کی آمدنی ہے. بی جے پی نے ہر ریاست میں، ہر ضلع میں دفتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے. بہت سی جگہوں پر زمینیں خریدی گئیں ہیں. نوٹ بندي سے ٹھیک پہلے کے مہینے میں. کیا ان زمینوں کی تفصیلات بھی انکم ٹیکس ریٹرن میں ہے؟ ان سب جگہوں پر بھی تعمیراتی کام چل رہا ہے. اس کا خرچہ اور بجٹ کیا ہے، آپ نہیں جانتے ہیں. شاید آپ جان بھی نہیں سکتے. کیونکہ بی جے پی شفافیت پر یقین رکھتی ہے.

اگستا ویسٹ لینڈ هیلی كاپٹر کا معاملہ آپ بھول گئے ہوں گے. 2013-14 کے سال میں یہ خوب چھایا رہتا تھا. سی بی آئی گزشتہ دنوں اٹلی کی عدالت میں ثبوت پیش نہیں کر پائی اور اہم ملزم بری ہو گئے. اس کیس کے سلسلے میں سابق ایئر مارشل ایس پی تیاگی گرفتار کئے گئے. بڑا ہنگامہ مچا. میڈیا نے انہیں مجرم کی طرح دیکھا. آج تک سی بی آئی الزام ثابت نہیں کر پائی ہے. اپوزیشن نیتاؤں کے گھر سی بی آئی اور ای ڈی کے حکام کو جانے سے فرصت نہیں ہے.

ایکسپریس میں خبر شائع ہوئی ہے کہ سی بی آئی ایس پی تیاگی کی ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گی. 9 دسمبر 2016 کو تیاگی گرفتار کئے گئے تھے. ٹرائل کورٹ نے کچھ دنوں بعد ضمانت دے دی کہ سی بی آئی یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ رشوت کے طور پر کتنے پیسے دیے گئے اور کب دیے گئے. دسمبر 2016 میں سی بی آئی اس کی مخالفت میں ہائی کورٹ چلی گئی تھی. اب سی بی آئی ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گی. جس کیس کو ہم کبھی هیڈلان کے طور پر دیکھا کرتے تھے، وہ دو سال بعد کہیں کونے میں شائع ہوا ہے. 2 جی معاملے میں اب گھوٹالے سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ اگر گھوٹالہ ہوا تھا تو پھر چار سال میں سی بی آئی گھوٹالہ ثابت کیوں نہیں کر پائی. یہی سب سے بڑا دھوکہ ہے.

3 اپریل کو دی وائر کی روہنی سنگھ اور 6 اپریل کو دی كونٹ کی پونم اگروال نے ریلوے کے وزیر پیوش گوئل سے متعلق ایک معاملے پر رپورٹ شائع کی ہے. روہنی کی کہانی پونم آگے لے گئی ہیں. انہوں نے ان کاغذات کو سامنے لایا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پیوش گوئل کی بیوی سیما گوئل کی کمپنی اٹركون ایڈوائزرز کو بغیر ضمانت کے لون دیے گئے.وائر نے بتایا تھا کہ شرڈي انڈسٹری 650 کروڑ کے لون کی ڈفالٹر ہو گئی ہے. جولائی 2010 تک پیوش گوئل اسی کمپنی کے چیئرمین تھے. كونٹ کی پونم اگروال بتاتی ہیں کہ جس کمپنی نے سیما گوئل کی کمپنی کو لون دیا ہے وہ آپ کے اکاؤنٹ میں بتاتی ہے کہ 12 فیصد سود پر دیا ہے لیکن لون لینے والی اٹركون ایڈوائزرز اپنے اکاؤنٹ میں بتاتی ہے کہ 7.85 فیصد سود پر لون ملا ہے. ایسا کیوں؟ انٹركون کمپنی 2016-17 کے بہی كھاتے میں یہ بھی نہیں بتاتی ہے کہ اسے 3 کروڑ کا بغیر ضمانت والا لون کہاں سے ملا ہے. پونم اگروال نے سوال پوچھا ہے مگر جواب نہیں آیا ہے.

کانگریس پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ سیما گوئل کی کمپنی نے گزشتہ دس سال میں جتنا سرمایہ لگایا ہے اس پر 3000 گنا زیادہ منافع کمایا ہے. بی جے پی نے انکار کیا ہے اور پیوش گوئل نے بھی. یہی الزام اپوزیشن کے کسی لیڈر پر لگتا تو ای ڈی اور سی بی آئی کے افسران میڈیا کے ساتھ پہنچ گئے ہوتے. پیوش گوئل پر الزام لگا تو صرف تردید سے کام چل گیا. نہ استعفی نہ تحقیقات. دوسری بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کسی بھی صورت میں معاملہ انجام تک تو پہنچتا ہی نہیں ہے. آپ دیکھئے کہ کیسے کیسے کھیل ابھی تک چل رہے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close